فیصلہ

پینلل انسپکشن (معائنہ) کے بعد پرنسپل روم میں پورے اسٹاف کی نگاہیں ماسٹر جاوید صاحب کی طرف لگیں تھیں کہ دیکھیں جاوید صاحب ندیم کے لیے کیا سزا ٹھہرا کرتے ہیں ادھر ندیم بھی چپ چاپ کھڑا تھا اور دل ہی دل میں کانپ رہا تھا پتہ نہیں مجھے کیا سزا دی جاتی ہے اور میرا کیا انجام ہوتا ہے۔

میٹنگ میں سب اپنی اپنی رائے دے رہے تھے۔ ماسٹر سنیل صاحب کا کہنا تھا میں اس ندیم کو درجہ تین سے جانتا ہوں جب اس کے پتا اس کو اسکول لے کر آئے تھے۔ داخلہ کرانے کے بعد ماسٹر جاوید صاحب کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ دے گئے تھے اور صرف اتنا کہا تھا میں اس کو پڑھانا چاہتا ہوں اور میرے پاس کچھ نہیں ہے میں صرف ایک رکشا پلر ہوں۔ جاوید صاحب نے بھی پوری ذمہ داری سے کہا تھا بس تم اب جاؤ اسکول میں یہ ہمارا بیٹا ہے اور گھر میں تمہارا۔ اس بات کو آج پانچ سال ہوگئے ہیں، ماسٹر صاحب اس کا پورا خرچہ اٹھا رہے ہیں۔ اس کے باپ کبھی مہینے دو مہینے میں نظر آجاتے ہیں اور جب ملتے ہیں تو بڑے احسان مندی سے پیش آتے ہیں پتہ نہیں اس ندیم کو کیا ہوا جو اس نے ایسی حرکت کی۔ اس کو سزا ضرور ملنی چاہیے۔

ماسٹر ارشاد نے بات کو مزید آگئے بڑھاتے ہوئے کہا: میں اس بچے کی تعلیم کے بارے میں تو زیادہ نہیں جانتا بس اتنا جانتا ہوں میں نے اس کے تن پر کبھی میلے کپڑے نہیں دیکھے۔ یہ تو صورت شکل سے پڑھنے ہی والا لڑکا لگتا تھا۔ اب کیا کہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا اسے کیا ہوگیا۔

ماسٹر شمشاد اور شری دلیپ سنگھ نے بھی اس کی تائید کرتے ہوئے کہا، جہاں ہمیں ندیم کے تمیز سلیقے پر تعجب تھا وہیں اس پر بھی تعجب تھا کہ اتنی اچھی جرسی اور مضبوط جوتا یہ تو ہم اپنے بچے کو بھی نہیں پہنا پاتے کہاں ایک رکشا پلر کا لڑکا اچھی خاصی ڈریس میں رہتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے ساتھیوں کو بھی اس پر انگلی اٹھاتے ہوئے دیکھتے ’’کہو ندیم یہ جرسی کہاں سے اڑائی ہے اور یہ جوتا کون سی مسجد سے صاف کیا ہے۔‘‘ ایسی کچھ پوچھ گچھ پر ندیم کو ہم نے یہی کہتے سنا یہ سب تمہارے ماسٹر جاوید صاحب کی مہربانی ہے۔ کچھ پتہ بھی ہے وہ اپنے وقت کے حاتم طائی ہیں تم لوگ ان کے قریب جاکر تو دیکھو۔ دیکھتے نہیں ہو ہاف ایئرلی میں میں نے پورے کلاس کو ٹاپ کیا ہے سالانہ میں انشاء اللہ پورے کالج کو ٹاپ کروں گا۔

ماسٹر لکشمی پرشاد بولے جب بات یہاں تک ہے تو سمجھ میں نہیں آتا پینل کے سامنے وہ کیوں چپ سادھے کھڑا رہا اور جب پینل کے ایک ممبر نے یہ پوچھا کہ کیا تمہارے ماسٹر صاحب تمہیں پڑھاتے نہیں ہیں تو اس نے یہ کہہ دیا جی صاحب۔ اگر ہمیں ماسٹر صاحب نے پڑھایا ہو تا تو ہم یوں گونگے بنے کیوں کھڑے رہتے۔ پینل کے جب ایک دوسرے ممبر نے پوچھا کون سے ماسٹر صاحب ہیں وہ تو اس ندیم کے بچے نے صرف جاوید صاحب کا نام لے دیا۔ میرا تو جی یہ چاہ رہا ہے اس کے ٹکڑے اڑادوں۔ لکشمی پرشاد بیت لے کر کھڑے بھی ہوگئے لیکن پرنسپل صاحب نے ان کو بہت سختی سے روک دیا۔

ماسٹر عشرت بولے میں تو اس کو اپنے اسکول کا سب سے اچھا اسٹوڈینٹ سمجھتا تھا ، ہاں کچھ دنوں سے ایسے بمل اور شریف کے ساتھ کافی دیکھ رہا تھا۔ سوچتا تھا اللہ خیر کرے ان شرارتی بچوں سے اس نے کہاں دوستی کرلی۔ کہیں یہ اس کو خراب نہ کردیں۔ میری رائے تو یہ ہے کہ ماسٹر جاوید اس سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں۔ اس کی طرف بالکل توجہ نہ کریں دو ہی دن میں اس کو پتہ چل جائے گا بھوک کی مار کیا ہوتی ہے۔ برف کی ڈلی اور انگارے میں فرق ہے۔ سایہ کسے کہتے ہیں اور چلچلاتی دھوپ کیا ہوتی ہے۔ ایک دو دن جب باپ کے ساتھ یہ بھی رکشا چلائے گا تو دن میں تارے نظر آجائیں گے۔ ا س کے باپ سے صاف کہہ دیا جائے تمہارے بیٹے نے یہ نمک حرامی کی ہے اب اس کا خرچہ خود اٹھاؤ میرا اس سے کچھ واسطہ نہیں۔‘‘

اب پرنسپل صاحب کی باری تھی وہ کیا کہتے ہیں۔ سب اسٹاف کی باتیں سن کر پرنسپل صاحب نے کہا کہ اس کا نام کاٹنا تو مناسب نہیں رہے گا یہ تو اس کے مستقبل کو بالکل ہی برباد کردے گا۔ البتہ اب فیصلہ ماسٹر جاوید صاحب کے ہاتھ ہے جو بڑی غور سے سب کی باتیں سن رہے تھے۔ سب خاموش ہوگئے اور ماسٹر جاوید صاحب کی طرف دیکھنے لگے دیکھیں یہ کیا فیصلہ سناتے ہیں۔ ادھر ندیم بھی گردن جھکائے کھڑا تھا اور بار بار دروازے کی طرف دیکھتا تھا مگر دروازہ اندر سے پوری طرح بند تھا اور باہر دروازے پر دونوں چپڑاسی بھی نگرانی کے لیے بٹھا دیے گئے تھے۔ نہ کوئی اندر آسکتا تھا اور نہ کوئی اندر سے باہر جاسکتا تھا۔

بہرحال تھوڑی خاموشی کے بعد ماسٹر جاوید صاحب اپنی کرسی سے اٹھے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد بولے میں پرنسپل صاحب اور اپنے تمام ساتھیوں کا بے حد شکر گزار اور احسان مند ہوں کہ پینل کے سامنے میری جو سبکی ہوئی اس کو اپنوں نے پورا پورا محسوس کیا اور میں ندیم کی کیفیت بھی دیکھ رہا ہوں جو ایک گھنٹے سے یہاں کھڑا ہے اور بالکل پیلا ہوگیا ہے، میں نے جو اس کے لیے سزا تجویز کی ہے وہ یہ ہے کہ میں آپ سب کے سامنے ندیم کو معاف کرتا ہوں اور جو کچھ میں اس کی مدد کرتا تھا اس میں پچاس روپے کا اور اضافہ کرتا ہوں۔

ماسٹر جاوید صاحب ابھی اپنی بات پوری بھی نہیں کر پائے تھے کہ ندیم ایک دم ان کی گود میں گر پڑا اور دونوں اس طرح مل رہے تھے جیسے کوئی بے قصور قیدی برسوں کی جیل کاٹ کر اپنے باپ سے مل رہا ہو۔

سارا اسٹاف ماسٹر صاحب کے فیصلہ پر عش عش کر رہا تھا اور ماسٹر صاحب کو اس بے مثال فیصلے پر مبارک باد دے رہا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد داؤد نگینہ

Leave a Reply