اسلام- عصمتِ نسواں کا محافظ

دور کا ایک بہت بڑا سماجی مسئلہ، خواتین کی عزت و آبرو کی پامالی اور عصمت دری ہے۔ کوئی جگہ ان کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ گھر ہو یا دفتر، پارک ہو یا بازار، ٹرین ہو یا بس، ہر جگہ ان کی عصمت پر حملے ہو رہے ہیں اور انھیں بے آبرو کیا جا رہا ہے۔ کبھی معاملہ عصمت دری پر رْک جاتا ہے، تو کبھی ظلم کی شکار خاتون کو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ کسی دن کا اخبار اٹھاکر دیکھ لیجیے، عصمت دری کی بہت سی خبریں اس میں مل جائیں گی۔ ان میں سے کچھ ہی معاملے عدالتوں تک پہنچ پاتے ہیں۔اور جو پہنچتے ہیں، ان میں بھی عدالتی پیچیدگیوں کی وجہ سے فیصلہ آنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں اور بہت کم مقدمات میں مجرموں کو سزا مل پاتی ہے۔

اسلامی سزاے زنا کا مطالبہ

یہ واقعات اب اتنی کثرت سے پیش آنے لگے ہیں کہ ان کی سنگینی کا احساس ختم ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن انھی کے درمیان کبھی کوئی درد ناک واقعہ رونما ہوتا ہے تو عوام بیدار ہوجاتے اور اس کے خلاف سراپا احتجاج بن جاتے ہیں۔ اس موقعے پر ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے مختلف تجاویز سامنے آتی ہیں، مثلاً مجرموں کو سرِ عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیاجاتا ہے، سخت سے سخت قوانین بنانے کی بات کی جاتی ہے، کڑی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور مضبوط سیکورٹی فراہم کرنے پر زور دیا جاتا ہے، لڑکیوں کو جوڈو کراٹے سیکھنے اور خود حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں بعض اطراف سے ایک آواز یہ بھی سنائی دیتی ہے کہ زنا کی وہ سزا نافذ کی جائے جو اسلام نے تجویز کی ہے۔ اسی بات کو بعض لوگ ان الفاظ میں کہتے ہیں کہ سزاے زنا کے لیے عرب ملکوں جیسا قانون بنایا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مطالبے ان لوگوں کی طرف سے بھی ہوتے ہیں، جو اسلام کے شدید مخالف ہیں۔

آبرو ریزی کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت سے سخت قانون بنانے کی بات کی جائے، یا اسلامی سزاے زنا کو نافذ کرنے کی تجویز رکھی جائے، دونوں مطالبے جذباتیت کے مظہر اور سنجیدگی سے محروم ہیں۔ کتنا ہی سخت قانون بنا لیا جائے، اس سے جرائم کا بالکلیہ خاتمہ ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے معاشرے کو پاکیزہ بنانے کی تدابیر اختیار کی جائیں اور جو چیزیں افراد کو غلط کاموں پر ابھارتی اور جرائم کے ارتکاب کی جانب مائل کرتی ہیں، ان پر پابندی عائد کی جائے۔ قانون جرائم کو روکنے میں معاون تو ہوسکتا ہے، لیکن محض قانون سے ان کا سدِّ باب ناممکن ہے۔ اگر جرائم کے تمام محرکات اور ترغیبات کو علی حالہٖ باقی رکھا جائے اور محض کوئی سخت تر قانون منظور کرلیا جائے تو جرائم میں تو کوئی کمی نہیں آئے گی، البتہ قانون کے غلط انطباق اور استعمال کے اندیشے بڑھ جائیں گے۔

اسی طرح اسلام کے کسی ایک قانون کو نافذ کردیا جائے اور اس کے دیگر احکام پر عمل نہ کیا جائے، تو اس سے بھی مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہوسکتے۔

جنس کے تعلق سے مختلف رویّے

ہر انسان میں بنیادی طور پر تین طرح کی خواہشات پائی جاتی ہیں: کھانے کی خواہش، پینے کی خواہش اور جنسی خواہش۔ کوئی بھی انسان ہو، چاہے وہ دہریہ ہو یا سیکولر، یا اس کا کسی مذہب سے تعلق ہو، بہ حیثیت انسان اس کے اندر ان فطری خواہشات کا پایا جانا لازمی ہے۔ جنس کے تعلق سے مختلف رویّے اختیار کیے گئے ہیں۔

کچھ لوگوں نے جنسی خواہش کو دبانے اور کچلنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے یہ تصور پیش کیا کہ جنسی خواہش کو دبا کر ہی انسان کی نجات ممکن ہے۔

اس کے بالمقابل کچھ لوگوں نے جنس کے معاملے میں ہر طرح کی آزادی کی وکالت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے، اس لیے اس کو یہ حق حاصل ہے کہ جس طرح چاہے اپنی جنسی خواہش پوری کرلے، خواہ اس کے لیے وہ کتنا ہی غیرفطری طریقہ کیوں نہ اختیار کرے۔

اس بے مہار آزادی نے انسانی معاشرے کو جانوروں کے باڑے میں تبدیل کردیا۔ اس کے نتیجے میں انارکی، انتشار، فتنہ و فساد او رقتل و غارت گری کو خوب فروغ ملا۔ زنا بالجبر کے واقعات کثرت سے پیش آنے لگے، جنسی بیماریاں۔ عالمی سطح پر ہونے والے سروے رپورٹوں سے ظاہر ہے کہ ایڈز کے متاثرین میں ۸۰فی صد سے زائد افراد کو یہ مرض جنسی آوارگی کے نتیجے میں لاحق ہوا ہے۔

اسلام کا نقطۂ نظر

جنس کے بارے میں تیسرا نقطۂ نظر وہ ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر افراط اور تفریط کے درمیان ہے۔ اسلام نہ تو جنسی جذبے کو دبانے اور کچلنے کی ترغیب دیتا ہے اور نہ انسان کو کھلی چھوٹ دے دیتا ہے کہ جس طرح اور جہاں چاہے اس کی تسکین کرلے۔ وہ ہر انسان کو اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کا حق دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی اسے کنٹرول کرنے کی راہ دکھاتا ہے۔

نکاح کی پابندی

اسلام نے جنسی خواہش کی تکمیل کو نکاح کا پابند بنایا ہے اور اس سے ماورا کسی طرح کا تعلق رکھنے کو حرام قرار دیا ہے۔ اس نے مردوں اور عورتوں دونوں پر سخت پابندی عائد کی ہے کہ وہ نکاح کے علاوہ باہم کسی طرح کا جنسی تعلق نہ رکھیں۔ قرآن میں ہے:

اس طرح کہ تم (مرد) ان (عورتوں) سے باقاعدہ نکاح کرو، یہ نہیں کہ علانیہ زنا کرو یا پوشیدہ بدکاری کرو۔(المائدہ۵:۵)

وہ (عورتیں) پاک دامن ہوں، نہ کہ علانیہ بدکاری کرنے والیاں، نہ خفیہ آشنائی کرنے والیاں۔(النساء￿ ۴:۵۲)

اسلام نے زنا کو ایک سنگین سماجی جرم قرار دیا ہے اور اسے گھناونااور برا فعل کہتے ہوئے اس سے دْور رہنے کی ہدایت کی ہے۔(بنی اسرائیل۷۱: ۲۳)۔ (المومنون۳۲:۵۔۶)

اسلام کی نظر میں جتنا سنگین جرم زنا بالجبر ہے، اتنا ہی سنگین جرم زنا بالرضا بھی ہے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

نکاح کی ترغیب اور اسے آسان بنانا

اسلام چاہتا ہے کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد کوئی بھی لڑکا یا لڑکی بغیر نکاح کے نہ رہیں، بلکہ جلد از جلد نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں۔ چنانچہ وہ ان کے سر پرستوں کو اس کی طرف متوجہ کرتا اور ان کا نکاح کرادینے کی تلقین کرتا ہے۔ زمانۂ نزولِ قرآن میں غلامی کا رواج تھا، مردوں اور عورتوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ قرآن نے حکم دیا کہ نہ صرف اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے نکاح کی فکر کرو، بلکہ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کا بھی نکاح کرادو:’’تم میں سے جو لوگ مجرّ د ہوں اور تمھارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ان کے نکاح کردو‘‘۔(النور۴۲:۲ ۳)

ایک موقعے پر آپؐ نے سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:’’جو شخص نکاح کرنے پر قادر ہو، پھر بھی نکاح نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔ (دارمی)

رسول اللہؐ نے نکاح کی صرف ترغیب ہی نہیں دی، بلکہ اسے آسان بنانے کے صریح احکام دیے ہیں۔ آپ? نے فرمایا:’’سب سے بہتر نکاح وہ ہے جو بہت سہولت سے انجام پا جائے‘‘۔ (ابوداؤد)

اسلامی عقائد تربیت کا اہم ذریعہ

اسلام کے بنیادی عقائد انسان کی بھرپور تربیت کرتے ہیں اور اسے زندگی کے کسی معاملے میں بہکنے سے بچاتے ہیں۔ ان عقائد پر ایمان سے آدمی کی زندگی سنورتی ہے اور اس میں پاکیزگی آتی ہے۔ خاص طور پر دو عقائد کا کردار اس معاملے میں بہت نمایاں ہے:

اللہ تعالیٰ ہرجگہ موجود ہے: اسلام یہ تصور دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرجگہ موجود ہے اورہر انسان کو دیکھ رہا ہے۔ وہ کوئی کام چاہے علانیہ کرے یا چھپ کر، کسی کھلی جگہ کرے یا بند کمرے میں یا کسی تہہ خانے میں، کوئی بات زور سے کہے یا کسی کے ساتھ سرگوشی کرے، کسی غلط کام کا ارتکاب روے زمین پر کرے یا سمندر کی تہوں میں جاکر، کوئی لفظ زبان پر لائے یاکوئی خیال اس کے دل میں آئے یا محض آنکھوں سے اشارہ بازی کرے، اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کی خبر ہوجاتی ہے۔ چند آیات کا ترجمہ درج ذیل ہے:

اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔ (الحدید۷۵:۴)

خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے، سب سے وہ واقف ہے، درخت سے گرنے والا کوئی پتّہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو۔(الانعام۶: ۹۵)

وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی، تمھارے کھلے اور چھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بھلائی تم کماتے ہو اس سے خوب واقف ہے۔‘‘(الانعام :۳)

جذبۂ حیا کا فروغ

اسلام نے ہر فرد کے اندر حیا کا جذبہ ابھارا ہے۔ یہ جذبہ اسے بے حیائی کے کاموں سے روکتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’سابقہ زمانوں کی ایک پیغمبرانہ بات یہ ہے کہ اگر تم میں حیا نہ ہو توجو جی میں آئے کر بیٹھوگے۔ (بخاری)

ایک موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا: اپنے اعضاے ستر اپنی بیوی کے علاوہ اور کسی کے سامنے نہ کھولو۔ انھوں نے سوال کیا: اے اللہ کے نبی?، اگر کوئی شخص کسی جگہ تنہا ہو اور وہاں دوسرا کوئی نہ ہو تو کیا تب بھی وہ اپنے اعضاے ستر کو چھپائے رہے؟ آپ? نے جواب دیا: انسانوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے حیا کی جائے‘‘۔ (ابوداؤد)

معاشرے کی پاکیزگی کے لیے احتیاطی تدابیر

اسلام نے افراد کے لیے جنسی آسودگی فراہم کرنے کے ساتھ معاشرے کی پاکیزگی قائم رکھنے کے لیے مختلف احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔ یہ تدابیر افراد کو جرائم کا ارتکاب کرنے سے باز رکھتی ہیں اور جنسی جرائم کے تمام ممکنہ چور دروازوں کو بند کرتی ہیں۔ یہ تدابیر درج ذیل ہیں:

٭ نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم: اسلام نے مردوں اور عورتوں دونوں کو حکم دیا ہے کہ وہ بدنگاہی سے بچیں اور آبرو کی حفاظت کریں۔ قرآن میں ہے:

اے نبیؐ! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔(النور۴۲:۰۳)

اور اے نبی، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔(النور۴۲:۱ ۳)

٭ نامحرم کے ساتھ تنہائی میں رہنے کی ممانعت: اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ کوئی مرد یا عورت کسی نامحرم کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے۔ اس کی بہت سخت الفاظ میں ممانعت آئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا:’’کوئی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ رہے،کیوں کہ اس صورت میں ان کے ساتھ تیسرا لازماً شیطان ہوگا۔‘‘ (ترمذی)

٭ آزادانہ اختلاط کی ممانعت: اسلام مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط پسند نہیں کرتا۔ وہ چاہتا ہے کہ مرد اور عورتیں گھل مل کر نہ رہیں،اس لیے کہ مخلوط طور پر رہنے سے ان میں صنفی جذبات ابھرنے کا امکان رہتا ہے اور یہ چیز بسا اوقات بدکاری تک پہنچا سکتی ہے۔

ایک مرتبہ اللہ کے رسولؐ نے دیکھا کہ کچھ عورتیں سڑک کے درمیان مردوں کے ساتھ گھل مل کر چل رہی ہیں۔ آپؐ نے انھیں ٹوکا اور فرمایا: ’’پیچھے ہٹ جاؤ، تمھارا راستے کے درمیان میں چلنا مناسب نہیں۔ کنارے ہوکر چلا کرو‘‘۔ (ابوداؤد)

٭ بغیر محرم عورت کے سفر پر پابندی: اسلام کی ایک ہدایت یہ ہے کہ کوئی عورت اپنے شوہر یا محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ عورتیں جہاں رہتی ہیں وہاں تو وہ اپنی ضروریات کے لیے تنہا نکل سکتی ہیں، لیکن دور کی مسافت پر تنہا جانا ان کے لیے روا نہیں ہے۔ اللہ کے رسول? نے ارشاد فرمایا ہے:’’کوئی عورت، جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ بغیر محرم کے ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر کرے۔‘‘(بخاری، مسلم)

٭ بن سنور کر نکلنے کی ممانعت: اسلام نے حکم دیا ہے کہ کوئی عورت سج دھج کر گھر سے باہر نہ نکلے اور نہ باہر نکلتے وقت خوشبو لگائے۔ اس لیے کہ اگر وہ ایسا کرے گی تو اجنبی مردوں کی نگاہیں اس کی جانب اٹھیں گی اور ان کے صنفی جذبات مشتعل ہوں گے، اس وجہ سے اس پر دست درازی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

٭ لباس ساتر ہو: اسلام کا ایک حکم یہ ہے کہ عورتیں ایسا لباس پہنیں جو ان کے پورے جسم کو (سوائے چہرہ اور ہاتھ کے) چھپانے والا ہو۔ نہ ان کا سر کھلا ہو، نہ گریبان چاک ہو اور نہ لباس اتنا شفاف ہو کہ ان کا بدن جھلکتا ہو۔ قرآن میں ہے:’’عورتیں اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں‘‘ (النور۴۲:۱۳)

ایک مرتبہ آپؐ نے بہت سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:’’بہت سی عورتیں ایسی ہیں جو لباس پہنے ہونے کے باوجود عریاں ہوتی ہیں۔ وہ دوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اوردوسروں کی طرف خود مائل ہونے والی ہوتی ہیں، ان کے سر بختی اونٹوں کے کوہان کی طرح اْٹھے ہوتے ہیں۔ وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہ پائیں گی، حالاں کہ اس کی خوشبو کافی فاصلے سے محسوس ہوگی۔‘‘ (مسلم)

٭ پردے کا خصوصی حکم: عورتوں کو ایک خصوصی حکم یہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ غیرمردوں کے سامنے اپنی زینت کا اظہار نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں، بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے‘‘(النور۴۲:۱۳)۔اس آیت میں صرف اس زینت کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے، جو خود بہ خود ظاہر ہوجائے، اور جس کے چھپانے پر عورت کا اختیار نہ ہو۔ ’’اس سے صاف مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو خود اس کا اظہار اور اس کی نمایش نہیں کرنی چاہیے، البتہ جو آپ سے آپ ظاہر ہوجائے۔

بدکاری کے محرکات پر پابندی

درج بالا احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ اسلام نے ان چیزوں پر بھی پابندی عائد کی ہے جو بدکاری پر ابھارنے والی اور مردوں اور عورتوں میں صنفی جذبات برانگیختہ کرنے والی ہیں۔

* شراب حرام ہے: بدکاری کی تحریک پیدا کرنے والی ایک اہم چیز شراب ہے۔ شراب کے بارے میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ وہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ شراب سے آدمی کے صنفی جذبات برانگیختہ ہوتے ہیں اور رشتوں کی تمیز اٹھ جاتی ہے۔ انھی وجوہ سے اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا ہے۔

٭ فحاشی کی ممانعت: اسلام معاشرے میں فحاشی کی اشاعت کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ وہ ان تمام چیزوں پر پابندی عائد کرتا ہے جن کے ذریعے بے حیائی اور عریانی عام ہو، گندی باتوں اور گندے کاموں کا پرچار ہو، جنھیں دیکھ کر اور سن کر عوام کے صنفی جذبات بھڑکیں اور برائی اور بدکاری کی جانب ان کا میلان ہو۔ جو لوگ معاشرے میں فحاشی پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں، اسلام انھیں درد ناک سزا کی وعید سناتا ہے۔ قرآن میں ہے:’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا کے مستحق ہیں‘‘۔(النور۴۲:۹۱)

زنا کی کڑی سزا

ان تمام تعلیمات اور ہدایات کے بعد، جو فرد اور معاشرے کی تربیت سے متعلق ہیں، آخر میں اسلامی قانون اپنا کام کرتا ہے۔ ان تمام کوششوں کے باوجود معاشرے میں کچھ ایسے بدخصلت افراد ہوسکتے ہیں جو بدکاری میں ملوّ ث ہوجائیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اسلام درد ناک سزا تجویز کرتا ہے۔ وہ قانون یہ ہے:’’زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو ۰۰۱کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ اور ان کو سزا دیتے وقت اہلِ ایمان کا ایک گروہ موجود رہے‘‘۔(النور۴۲:۲)

تطہیرِِ معاشرے کا آزمودہ نسخہ

معاشرے کو پاکیزہ رکھنے کے لیے اسلام کی یہ تعلیمات محض نظری نہیں ہیں، بلکہ ان پر عمل ہوچکا ہے اور دنیا نے ان کے اثرات کا اپنی کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔ عرب کا معاشرہ فسق و فجور کے دلدل میں غرق تھا، برائی کو برائی نہیں سمجھا جاتا تھا، عصمت و عفّت کے کوئی معنیٰ نہیں تھے، شراب ان کی گھٹّی میں پڑی تھی۔ اسلام کی ان تعلیمات کے نتیجے میں ان کی زندگیاں پاکیزہ ہوگئیں، اخلاقی قدروں کو ان کے درمیان فروغ ملااور عورت کو عزت و توقیر حاصل ہوئی۔ بعد کے ادوار میں جہاں جہاں ان تعلیمات پر عمل کیا گیا اور ان احکام کو نافذ کیا گیا وہاں وہاں معاشرے پر ان کے خوش گوار اثرات مرتب ہوئے۔ آج بھی جو لوگ معاشرے میں برائیوں کو پنپتا دیکھ کر فکرمند ہیں اور آبروریزی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے اسلامی سزا کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور اسے نافذ کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اگر وہ سنجیدہ ہیں تو انھیں پورے اسلامی نظامِ معاشرت کو قبول کرنا اور اسلام کی تمام تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا، تبھی مطلوبہ فائدے حاصل ہوسکتے ہیں، برائیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے اور معاشرے کی پاکیزگی قائم رکھی جاسکتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

Leave a Reply