اللہ کے شکر گزار بنئے!

نسیم نے اس کے گھر جانے کی ٹھان لی۔ دونوںڈرائنگ روم میں بیٹھے سنجیدگی سے بات کرنے لگے۔ وسیم نے بڑے ہی محبت کے انداز میں نسیم سے بجھے بجھے رہنے کی وجہ جاننا چاہی۔ پہلے تووسیم ادھر اْدھر کی بات کر کے ٹالنے کی کوشش کرنے لگا‘ مگر گہرے دوست کے بے حد اصرار پر بولا:

’’بھائی! ہمیں کاروبار کرتے کرتے چھے سال ہو چکے۔ چند ماہ سے محسوس کر رہا ہوں کہ جیسے ترقی رک سی گئی ہے۔ گاہکوں کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔ لگتا ہے، کمائی سے برکت ہی اٹھ چکی۔ جتنی مرضی عرق ریزی کر لوں نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ گھر میں سب ہی صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں مگر ایسے لگتا ہے جیسے برکت اْٹھتی جا رہی ہے۔‘‘

وسیم نے پوچھا ’’نسیم بھائی! یہ بتائو‘ اللہ کا کرم ہونے کے باوجود شکرانے کے چند نفل ادا کیے ہیں یا نہیں؟نسیم فوراً بات کی تہ تک پہنچ گیا، بولا: ’’واقعی اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں کوتا ہی ہوئی ہے۔ اب یہ کبھی نہ ہو گا۔‘‘وسیم نے کہا ’’بھئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے ہی وہ پھلتی پھولتی ہیں۔ تب اللہ بندے کی ہر آسائش اور رزق کی حفاظت ہی نہیں کرتا بلکہ برکت بھی ڈالتا چلا جاتا ہے۔‘‘

نسیم نے اْسی دن نہ صرف خود شکرانے کے نفل پڑھے بلکہ غربا میں وسیع پیمانے پر سامان خور و نوش بھی تقسیم کرایا۔شکر کی برکت سے جلد ہی اس کا کاروبار پھر چل پڑا اور گاہک بڑی تعداد میں آنے لگے۔

شکر ایک قسم کی عبادت ہے۔انسان ہوش کی آنکھ کھولے تو اْسے سب سے پہلی نصیحت یہی ملتی ہے کہ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بنے۔ خدا کے ساتھ ان دو ہستیوں کا بھی جو اْسے وجود میں لانے کا باعث بنیں یعنی والدین! سورۂ لقمان میں فرمایا گیا ہے ’’میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالانا‘ میری ہی طرف پلٹنا ہے۔‘‘ (۴۱) یہ حقیقت ہے کہ ’’انسان اگر شکر کرے تواللہ بھی اسے پسند کرتا ہے۔‘‘

سورۃ البقرہ میں فرمایا گیا ہے ’’لہٰذا تم مجھے یاد کیا کرو‘ میں تمھیں یاد کیا کروں گا۔ میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا۔‘‘

حضور پاکؐلمبی لمبی رکعات پڑھتے اور رات بھر اللہ کے حضور کھڑے رہتے۔ ایک صحابیؓ نے عرض کی: ’’یارسول اللہؐ آپؐ کے تو اللہ تعالیٰ نے اگلے پچھلے قصور معاف کر دیے پھر آپﷺ اتنی زیادہ عبادت کیوں کرتے ہیں؟‘‘

جواب آیا ’’تو کیا میں اپنے رب کا شکرگزار بندہ بن کر نہ دکھائوں؟‘‘

اسی طرح ایک روایت میں حضور پاکؐنے فرمایا کہ چار چیزیں جس آدمی کو مل گئیں‘ سمجھو اسے دنیا اور آخرت کی سب خیر مل گئی:

(۱)شکرگزار دل (۲)ذکر کی گرویدہ زبان (۳)(ہر وقت اللہ کا ذکر زبان پر رہنا) ‘مصیبت کے وقت صابر بدن اور (۴)بیوی جواپنی ذات میں یا اس کے مال میں کسی خیانت کی روادار نہ ہو۔‘‘

حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ ایک مسلمان جب کوئی اچھا اورمہنگا لباس خرید کر زیب تن کرے اور ساتھ ہی اللہ کی حمد اورتعریف اور شکرگزاری کرتا رہے‘ تو اْس کی قمیص گھٹنوں تک بھی پہنچ نہیں پاتی کہ اس کی بخشش ہو جاتی ہے۔‘‘ سبحان اللہ۔

اللہ نے خود فرمایا ہے ’’اگر تم شکرگزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا۔‘‘ اسی لیے کہاگیا ہے کہ نعمت کا تحفظ کرنے اور نعمت کوبچا رکھنے والی چیز کوئی ہے تو وہ شکر ہے۔ شکر وہ چیز ہے جو کھوئی ہوئی نعمت کو بھی لوٹا لائے۔

ہمیں اللہ کی دی ہوئی ہر چھوٹی سے چھوٹی نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ جو چھوٹی سہولت و نعمت پر شکر گزار نہیں بنتا‘ اسے بڑی نعمت ملنے پر بھی شکر کا موقع نہیں ملتا… تندرستی، چلنا پھرنا، صحیح بولنا، دیکھنا اور کانوں سے سننا، یہ سب شکرگزاری کے ہی دائرے میں آتے ہیں۔ ہم تو اللہ کاصرف آنکھوں جیسی ننعمت عطا کرنے کا شکرادا نہیں کرسکتے، بے شک تمام عمر سجدے میںپڑے اس کا شکر ادا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔

اللہ کی ہر نعمت بلکہ انسان کا سانس لینا اور پھر باہر نکالنا بھی اسی کی رضا اور توفیق ہے۔ یہ بھی شکرگزاری کے لائق ہے۔ اللہ کی شکرگزاری کرتے رہنا چاہیے تاکہ انسان اللہ کی ہر ہر نعمت پر شکر ادا کرنے کی عادت میں گم رہے اور کسی بھی وقت غافل نہ ہو۔

بیوی بچوں‘ عزیزوں اور اردگرد کے احباب کا شکر ادا کرنے کی عادت ڈالیے۔ ہر لمحہ‘ ہر قدم اور ہر سانس کے ساتھ شکر ادا کرنے کی ازلی عادت بالآخر انسان کو اللہ کا شکرگزار بندہ بنا دیتی ہے۔ یہ یاد رکھیے‘ اْس وحدہ لاشریک کا شکر ادا کرو گے تو اپنا فائدہ ہے‘ وگرنہ اْسے اس کی کیا ضرورت؟‘‘lllنے اس کے گھر جانے کی ٹھان لی۔ دونوںڈرائنگ روم میں بیٹھے سنجیدگی سے بات کرنے لگے۔ وسیم نے بڑے ہی محبت کے انداز میں نسیم سے بجھے بجھے رہنے کی وجہ جاننا چاہی۔ پہلے تووسیم ادھر اْدھر کی بات کر کے ٹالنے کی کوشش کرنے لگا‘ مگر گہرے دوست کے بے حد اصرار پر بولا:

’’بھائی! ہمیں کاروبار کرتے کرتے چھے سال ہو چکے۔ چند ماہ سے محسوس کر رہا ہوں کہ جیسے ترقی رک سی گئی ہے۔ گاہکوں کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔ لگتا ہے، کمائی سے برکت ہی اٹھ چکی۔ جتنی مرضی عرق ریزی کر لوں نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ گھر میں سب ہی صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں مگر ایسے لگتا ہے جیسے برکت اْٹھتی جا رہی ہے۔‘‘

وسیم نے پوچھا ’’نسیم بھائی! یہ بتائو‘ اللہ کا کرم ہونے کے باوجود شکرانے کے چند نفل ادا کیے ہیں یا نہیں؟نسیم فوراً بات کی تہ تک پہنچ گیا، بولا: ’’واقعی اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں کوتا ہی ہوئی ہے۔ اب یہ کبھی نہ ہو گا۔‘‘وسیم نے کہا ’’بھئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے ہی وہ پھلتی پھولتی ہیں۔ تب اللہ بندے کی ہر آسائش اور رزق کی حفاظت ہی نہیں کرتا بلکہ برکت بھی ڈالتا چلا جاتا ہے۔‘‘

نسیم نے اْسی دن نہ صرف خود شکرانے کے نفل پڑھے بلکہ غربا میں وسیع پیمانے پر سامان خور و نوش بھی تقسیم کرایا۔شکر کی برکت سے جلد ہی اس کا کاروبار پھر چل پڑا اور گاہک بڑی تعداد میں آنے لگے۔

شکر ایک قسم کی عبادت ہے۔انسان ہوش کی آنکھ کھولے تو اْسے سب سے پہلی نصیحت یہی ملتی ہے کہ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بنے۔ خدا کے ساتھ ان دو ہستیوں کا بھی جو اْسے وجود میں لانے کا باعث بنیں یعنی والدین! سورۂ لقمان میں فرمایا گیا ہے ’’میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالانا‘ میری ہی طرف پلٹنا ہے۔‘‘ (۴۱) یہ حقیقت ہے کہ ’’انسان اگر شکر کرے تواللہ بھی اسے پسند کرتا ہے۔‘‘

سورۃ البقرہ میں فرمایا گیا ہے ’’لہٰذا تم مجھے یاد کیا کرو‘ میں تمھیں یاد کیا کروں گا۔ میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا۔‘‘

حضور پاکؐلمبی لمبی رکعات پڑھتے اور رات بھر اللہ کے حضور کھڑے رہتے۔ ایک صحابیؓ نے عرض کی: ’’یارسول اللہؐ آپؐ کے تو اللہ تعالیٰ نے اگلے پچھلے قصور معاف کر دیے پھر آپﷺ اتنی زیادہ عبادت کیوں کرتے ہیں؟‘‘

جواب آیا ’’تو کیا میں اپنے رب کا شکرگزار بندہ بن کر نہ دکھائوں؟‘‘

اسی طرح ایک روایت میں حضور پاکؐنے فرمایا کہ چار چیزیں جس آدمی کو مل گئیں‘ سمجھو اسے دنیا اور آخرت کی سب خیر مل گئی:

(۱)شکرگزار دل (۲)ذکر کی گرویدہ زبان (۳)(ہر وقت اللہ کا ذکر زبان پر رہنا) ‘مصیبت کے وقت صابر بدن اور (۴)بیوی جواپنی ذات میں یا اس کے مال میں کسی خیانت کی روادار نہ ہو۔‘‘

حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ ایک مسلمان جب کوئی اچھا اورمہنگا لباس خرید کر زیب تن کرے اور ساتھ ہی اللہ کی حمد اورتعریف اور شکرگزاری کرتا رہے‘ تو اْس کی قمیص گھٹنوں تک بھی پہنچ نہیں پاتی کہ اس کی بخشش ہو جاتی ہے۔‘‘ سبحان اللہ۔

اللہ نے خود فرمایا ہے ’’اگر تم شکرگزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا۔‘‘ اسی لیے کہاگیا ہے کہ نعمت کا تحفظ کرنے اور نعمت کوبچا رکھنے والی چیز کوئی ہے تو وہ شکر ہے۔ شکر وہ چیز ہے جو کھوئی ہوئی نعمت کو بھی لوٹا لائے۔

ہمیں اللہ کی دی ہوئی ہر چھوٹی سے چھوٹی نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ جو چھوٹی سہولت و نعمت پر شکر گزار نہیں بنتا‘ اسے بڑی نعمت ملنے پر بھی شکر کا موقع نہیں ملتا… تندرستی، چلنا پھرنا، صحیح بولنا، دیکھنا اور کانوں سے سننا، یہ سب شکرگزاری کے ہی دائرے میں آتے ہیں۔ ہم تو اللہ کاصرف آنکھوں جیسی ننعمت عطا کرنے کا شکرادا نہیں کرسکتے، بے شک تمام عمر سجدے میںپڑے اس کا شکر ادا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔

اللہ کی ہر نعمت بلکہ انسان کا سانس لینا اور پھر باہر نکالنا بھی اسی کی رضا اور توفیق ہے۔ یہ بھی شکرگزاری کے لائق ہے۔ اللہ کی شکرگزاری کرتے رہنا چاہیے تاکہ انسان اللہ کی ہر ہر نعمت پر شکر ادا کرنے کی عادت میں گم رہے اور کسی بھی وقت غافل نہ ہو۔

بیوی بچوں‘ عزیزوں اور اردگرد کے احباب کا شکر ادا کرنے کی عادت ڈالیے۔ ہر لمحہ‘ ہر قدم اور ہر سانس کے ساتھ شکر ادا کرنے کی ازلی عادت بالآخر انسان کو اللہ کا شکرگزار بندہ بنا دیتی ہے۔ یہ یاد رکھیے‘ اْس وحدہ لاشریک کا شکر ادا کرو گے تو اپنا فائدہ ہے‘ وگرنہ اْسے اس کی کیا ضرورت؟‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
جاوید احمد صدیقی

Leave a Reply