لفافہ

حجاب کے نام

حجاب کا اِشو

اکتوبر کا شمارہ بہت اچھا لگا ۔ حجاب سے متعلق تحریریں نوجوان لڑکیوں کو حوصلہ دینے والی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی اور غیر مسلم دنیا میں جہاں حجاب شدید قسم کی تنقیدوں اور قانونی پابندیوں کی زد میں ہے وہیں خود مغربی دنیا میں ایسے زبردست تائید اور حمایت حاصل ہورہی ہے۔ فرانس، برطانیہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں جہاں حجاب پر قانونی پابندیوں کو نافذ کیا جارہا ہے وہیں خواتین کی قابل ذکر تعداد ایسی ہے جو غیر مسلم ہونے کے باوجود اس کی حمایت میں سوشل میڈیا میں اور سڑکوں پر اتر آئی ہیں۔ انٹرنیٹ پر غیر مسلم خواتین نے حجاب کی حمایت میں گروپ بنائے ہیں اور اسکارف پہن کر اپنی تصویریں اپ لوڈ کی ہیں۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک حیرت انگیز منظر تھا جسے میڈیا نے بھی کور کیا کہ غیر مسلم خواتین نے سروں پر اسکارف پہن کر مسلم خواتین اور بچیوں کو جو حجاب میں ملبوس تھیں گلدستے پیش کیے اور حجاب کے موضوع پر ان کے ساتھ یک جہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔

آسٹریلیا جسے ملک میں، جہاں مسلم خواتین کا پیچھا کیا جانا اور ان پر نازیبا کلمات کے ذریعہ غصہ نکالنا عام ہوتا جارہا ہے، یہ رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ مغرب کی حکومتیں اگرچہ اس کے خلاف ہیں مگر پورا معاشرہ اس کے خلاف نہیں۔ وہاں پر ایسی تعداد بھی موجود ہے جو اسے قابل ستائش سمجھتی ہے اور اس کے اظہار کے لیے وہ سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ سڑکوں پر بھی آنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

میں مسلم لڑکیوں اور خواتین کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ اب حجاب پچھڑے پن اور دقیانوسیت کی علامت نہیں بلکہ تعلیم یافتہ شریف اور باعزت ہونے کی علامت بن گیا ہے۔اس لیے مسلم خواتین کے لیے اس پر شرمندگی یا مدافعت کا رویہ اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ڈاکٹر سمیہ نوشین

بذریعہ ای میل

مضمون پسند آیا

اکتوبر کا رسالہ بہت پسند آیا۔ ’منفی جذبات کو مثبت شکل دیجئے! بہت پسند آیا۔ دراصل ہم اکثر منفی رویے کی رو میں بہ جاتے ہیں اور سوچنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہ مضمون عملی رہنمائی کرتا ہے۔ عورت کے بناؤ سنگار کی شرعی حیثیت اچھا ہے۔ موجودہ زمانے میں جہاں نت نئے کاسمیٹکس اور سامان بناؤ سنگار ہیں، اس بات کی ضرورت ہے کہ جائز اور ناجائز کے سلسلہ میں رہنمائی کی جائے۔ امید ہے کہ آئندہ بھی اس پر رہنمائی ملتی رہے گی۔

عالیہ امان (اورنگ آباد)

بذریعہ ای۔ میل

رسالہ اچھا لگا

ستمبر کے حجاب میں گھر کا بہترین انتظام: مگر کیسے؟ بہت اچھا لگا۔قرآن کی معاشرتی تعلیمات ایسا مضمون ہے جو ہم سے عمل کا تقاضہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر سوچنے کی بھی دعوت دیتا ہے کہ ہمارا دین ہمیں کیاتعلیم دیتا ہے اور آج ہم کہاں پہنچ گئے ہیں۔

وحید الزماں ، دھنباد (جھارکھنڈ)

ایک تجویز

ماہنامہ حجاب اسلامی پابندی سے مل رہا ہے۔ اور اس کے مشمولات پر نظر رہتی ہے۔ ہمارے یہاں بہنیں اسے پسند کر رہی ہے اور اس کے مضامین اجتماع میں بھی پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔

گزشتہ کئی سالوں سے حجاب اسلامی کا کوئی خاص نمبر کیوں شائع نہیں ہوا؟ جبکہ ’’مسلم خاتون اور اس کی شخصیت کا ارتقاء‘‘ ہمارے یہاں بہت پسند کیا گیا تھا۔

میرا مشورہ ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر ایک ایسا خصوصی نمبر شائع کریں جو موجودہ زمانے میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے میدان میں ایک رہنما ہو۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو سال میں ایک دو بار خصوصی مضامین کا گوشہ شائع کریں تاکہ خواتین اس سلسلہ میں رہنمائی حاصل کرسکیں۔

امید ہے کہ میری تجویز پر غور کیا جائے گا۔

ام عبد اللہ

حیدر آباد

[ام عبد اللہ صاحبہ! خصوصی نمبر کی اشاعت بڑی محنت اور سرمایہ چاہتی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ہر سال ایک خصوصی نمبر شائع کریں مگر مالی اخراجات دیکھ کر رہ جاتے ہیں۔ دعا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ جلد ہمیں توفیق دے۔]

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply