مشورہ حاضر ہے!

٭ میرے چہرے پر بہت خشکی تھی۔ تین ماہ پہلے ڈاکٹر کو دکھایا۔ دوا استعمال کرنے سے ماتھے، چہرے اور ناک پر باریک باریک لکیریں پڑ گئی ہیں۔ چہرہ بدنما لگتا ہے میری شادی نہیں ہوئی ہے۔ میں چہرے پر لکیروں کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔ ہومیو پیتھک علاج سے چہرے کے کھجاؤ میں کمی آئی ہے، مگر لکیروں میں نہیں۔ کچھ لگاتی ہوں تو یہ لکیریں اور نمایاں ہو جاتی ہیں۔ مجھے بتائیے میں کیا کروں؟

* چہرے کی جلد بڑی حساس ہوتی ہے۔ کوئی بھی کریم یا تیل لگایا جائے تو نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ آئل آف والے لگانے سے آپ کو تکلیف ہوئی۔ آئل اصلی تھایا نقلی، یہ اللہ جانتا ہے۔ دکان دار نمبر دو مال بڑے اعتماد سے فروخت کرتے ہیں۔ آپ نے ایک بات نہیں لکھی کہ صابن کون سا استعمال کرتی ہیں۔ صابن کی وجہ سے بھی چہرہ خسک ہو جاتا ہے اور جلد متاثر ہوتی ہے۔ اب آپ بیسن سے چہرہ دھونا شروع کیجئے۔ ایک چمچ بیسن میں پانی ملائیے اور گاڑھا پیسٹ بنا کر چہرے پر لگائیے۔ چار منٹ بعد انگلیوں سے چہرے پر اوپر کی طرف مساج کیجیے۔ ابٹن کی طرح مل کر تازہ پانی سے منہ دھوئیے۔ چہرے پر بہت خشکی ہو تو بیسن میں پانی کے بجائے دودھ یا چند قطرے زیتون کا تیل ملائیے اور پھر چہرے پر مساج کر کے پانی سے دھوئیے۔ آپ دن میں دو تین بار بیسن سے منہ دھو سکتی ہیں۔

کنوار گندل یا گھیکوار منگائیے۔ اس کی شاخ پانی سے دھوئیے اور بیچ میں سے کاٹ کر چمچ سے گودا نکالئے۔ ایک چمچ گودا بہت ہے۔ یہ گودا چہرے پر لگائیے اور پندرہ منٹ بعد تازہ پانی سے منہ دھوئیے۔ اس کے لگانے سے چہرے کو نقصان نہیں ہوتا۔ دن میں ایک بار لگائیے، آپ کو فرق محسوس ہوگا۔

آلو بخارے بازار میں آج کل مل جاتے ہیں۔ روزانہ کھائیے۔ خشک آلو بخارے کی چٹنی بھی آپ کے لیے مفید ہے۔ کھیرا، سلاد، ٹماٹر، پیاز اور لیموں روزانہ کھائیے گا۔

٭ مصیبت یہ ہے کہ ہمارے وہاں برسات کے دنوں میں سب کی آنکھیں دکھنے آجاتی ہیں۔ گھر میں ایک آدمی کی آنکھ خراب ہو تو باری باری پورا گھر آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اب پھر برسات کا موسم ہے۔ پانی چڑھ رہا ہے اور ہمارے گاؤں میں پانی بھی آجائے گا۔ ساتھ میں بیماریاں بھی۔ کوئی احتیاطی تدبیر بتائیے۔

* برسات کے بعد ہونے والی گرمی، حبس، سیلاب کے بعد عموماً بیماریاں پھیل جاتی ہیں۔ آشوب چشم بھی متعدی مرض ہے۔ ایک مخصوص جرثومے سے یہ پھیلتا ہے اور بڑا تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔ تیز روشنی اور دھوپ برداشت نہیں ہوتی۔ آنکھوں کی جلن اور کھٹک سے بے چینی ہوتی ہے۔ آنکھیں چپک جاتی ہیں، جب بھی کسی کو آشوب چشم ہو اسے چاہیے کہ بڑی احتیاط کرے۔ آنکھیں بالکل نہ ملی جائیں۔ آنکھ جب بھی صاف کریں، ہلدی میں رنگے کپڑے سے کیجیے۔ کپڑا خراب ہو تو اسے زمین میں دبایا جلا دیجئے۔ آنکھ پر مکھی نہ بیٹھنے دیجئے۔ اپنے ہاتھ بار بار دھوئیے۔ تیز دھوپ سے بچئے۔ عینک ہو تو وہ لگائیے۔

بڑا گوشت، مسور کی دال، بینگن، مرچ مسالے سے پرہیز کیجیے۔ بورک پاؤڈر پانی میں ملا کر اس سے آنکھ دھوئیے۔ بورک نہ ملے تو نیم کے پتے پانی میں ابال کر اس سے آنکھ صاف کیجیے۔ صاف ستھری برف صاف کپڑے میں رکھ کر چورا کیجیے۔ اس کی پوٹلی آنکھوں پر پھیریے، جلن اور سوجن کم ہوگی۔

گلاب کا عرق آنکھوں میں روزانہ تین چار بار ڈالا جائے۔ مریض احتیاط سے رہے تو دوسرے لوگ بیماری سے محفوظ رہیں گے۔

برسات کے دنوں میں ہیضہ بھی پھیلتا ہے۔ روزانہ غذا میں سرکہ اور پیاز شامل کیجیے۔ روزانہ دو تین پیاز کاٹ کر اس میں آدھی گڈی پودینے کے پتے ملائیے۔ دو لیموں نچوڑیے اور نمک ملا کر دوپہر کے کھانے میں بطور سلاد استعمال کیجیے تاکہ ہیضہ نہ ہو۔ پیاز کاٹ کر وبا کے دنوں میں کمرے میں رکھئے۔ اس کی بو بھی ہیضے کے دنوں میں مفید ہے۔ اگر آپ کے گاؤں میں ڈسپنسری ہے تو ڈاکٹر سے پوچھ کر خود کچھ دوائیاں شہر سے منگا کر گھر میں رکھئے۔ تاکہ بوقت ضرورت کام آسکیں۔ آپ کی تھوڑی سی احتیاط سے برسات کے موسم میں ہونے والی بیماریوں سے گھر کے لوگ محفوظ رہیں گے۔

٭میرے چار بچے ہیں۔ بڑا بچہ قرآن پاک پڑھ چکا ہے جب کہ تین بچے ابھی پڑھ رہے ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے بچوں کو معنوں کے ساتھ قرآن پڑھاؤں تاکہ سمجھ میں آجائے۔ میں نے قرآن شریف خود بھی پڑھا ہے، مگر ترجمہ نہیں۔ آسان زبان میں ترجمے کے ساتھ کوئی سستا سانسخہ مل جائے تو بتائیے تاکہ میں خود بھی پڑھ سکوں اور بچوں کو بھی پڑھا سکوں۔

٭ میری شادی کو چار سال ہوچکے ہیں۔ شوہر لندن میں ہیں اور سسرال والے یہاں۔ شادی کے دو سال بعد شوہر ایک ماہ کے لیے آئے تھے۔ اب دو سال سے فون پر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر مجھے ٹال دیتے ہیں۔ میں سسرال میں رہتی ہوں۔ میری ساس، نندیں اور دیور ساتھ رہتے ہیں۔ عجیب قسم کا گھٹا گھٹا ماحول ہے جو خرچہ آتا ہے وہ ساس کے پاس ہوتا ہے۔ کبھی کبھار مجھے وہ سو دو سو روپے پکڑا دیتی ہیں، حالاں کہ خرچہ ہزاروں میں بھیجا جاتا ہے۔ مجھے خرچ کی بھی پروا نہیں اور نہ گھر والوں کی سرد مہری کی مگر اپنے شوہر کا بہت احساس ہوتا ہے۔ دو سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے علیحدگی کے لیے۔ وہ مجھے وہاں بلاتے ہیں نہ خود آتے ہیں۔ شادی کے وقت انہوںنے کہا تھا کہ چھ ماہ بعد تمہیں لندن بلوا لوں گا، لیکن اب طرح طرح کے بہانے بناتے ہیں۔ میرے والدین بھی پریشان ہیں۔ یہ مسئلہ کس طرح حل ہوگا؟ براہِ کرم آپ بتائیے میں کیا کروں؟

* آپ کا مفصل خط ملا۔ آپ کی پریشانی بجا ہے۔ جب سے شادی ہوئی ہے آپ چار سال میں کل دو ماہ اپنے شوہر کے ساتھ رہی ہیں۔یہ آپ کے ساتھ زیادتی ہے۔ آپ کے شوہر لندن میں جہاں رہتے ہیں وہاںکسی سے پتہ کروائیے کہ آیا وہ تنہا رہتے ہیں ۔ اب روایتی شرم بالائے طاق رکھ کر فون پر اپنے شوہر سے بات کیجیے کہ وہ خود آکر آپ کو لے جائیں یا بلوائیں۔ چار سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے، انہوں نے آپ کے گھر والوں سے بھی کہا تھا کہ چھ ماہ بعد لندن بلوالوں گا۔ آپ سسرال میں بھی اپنا مسئلہ گاہے بگاہے سب کے سامنے پیش کیجیے اور خصوصی طور پر ساس سے کہیے کہ میںلندن جانا چاہتی ہوں۔ آپ بالکل خاموش رہیں گی تو کسی کو بھی احساس نہیں ہوگا۔

باہر کے رشتوں ناتوں میں یہ بڑی قباحت ہے۔ اکثر و بیشتر دھوکا ہوتا ہے۔ لوگ یہاں اگر شادی کرلیتے ہیں اور پھر تنگ کرتے ہیں۔ انہیں خود سوچنا چاہیے کہ اپنی شریک حیات کو یوں تنہا چھوڑ دینا کہاں کا انصاف ہے۔

آپ کسی سے ملتی جلتی نہیں۔ آپ لکھتی ہیں میری صحت بھی گرتی جا رہی ہے۔ اپنے آپ کو بدلیے۔ ڈاکٹر سے رجوع کیجیے وہ جو ٹانک لکھ کر دے وہ استعمال کیجیے اور اپنے اعزہ و اقارب سے میل جول رکھیے۔ ملنے جلنے سے بہت فرق پڑے گا۔ آپ کی تنہائی دو رہوگی۔ خود کو نارمل رکھنے کی بھرپور کوشش کیجیے۔

آپ نے اب تک اپنے شوہر سے پرزور اصرار نہیںکیا۔ شاید وہ اسی وجہ سے خاموش ہوں۔ آپ خط میں لکھئے اور فون پر بھی اصرار کیجیے۔ آپ کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ نماز کی پابند رہیے۔ روزانہ صبح کی نماز کے بعد قرآن پاک پابندی سے پڑھئے۔ یسین پڑھ کر دعا مانگئے، اس سے آپ کو ذہنی اور روحانی سکون حاصل ہوگا۔ دعا میں بہت اثر ہوتا ہے، انشاء اللہ آپ کا مسئلہ جلد ٹھیک ہوجائے گا۔

٭ نیل پالش مسلسل لگانے سے میرے ناخن خراب ہوگئے ہیں۔ ان پر لکیریں پڑ گئی ہیں اور سب سے بری بات یہ کہ وہ ٹوٹنے لگے ہیں۔ کمزور ناخن ہوجائیں تو کہیں پر بھی لگ جائیں تو ان میں نسان پڑ جاتا ہے۔ پھر انہیں کاٹنا پڑتا ہے۔ کوئی ٹوٹکا بتائیے جس سے ناخن صحیح رہیں اور جلدی بڑھ جائیں تاکہ ان پر نیل پالش اچھی لگے۔

* کیلشیم کی کمی سے بھی ناخن خراب ہو جاتے ہیں۔ بڑی بوڑھیاں کہا کرتی تھیں کہ لہسن ہاتھ سے چھیلا کرو، ان سے ناخن مضبوط ہوتے ہیں۔ آپ تھوڑی سی مہندی لے کر ان میں جو کا سرکہ ملائیے۔ یہ مہندی ناخنوں پر ہفتے میں تین بار لگانے سے بھی فرق پڑے گا۔

نیل پالش سے آپ کے ناخن خراب ہو رہے ہیں، آپ پالش لگانا چھوڑئے کبھی کبھار شادی بیاہ یا کسی تقریب میں نیل پالش لگائیے۔ بعد میں ریموور سے اتار دیجیے۔

بڑے ناخن فیشن میں داخل ہیں۔ ایسا فیشن کس کام کا جس سے یہ خراب اور بدنما ہوجائیں۔ ان کی وجہ سے جراثیم غذا کے ساتھ جسم کے اندر پہنچتے ہیں۔ ناخن سخت ہو کر سیاہ بھی ہو جاتے ہیں۔ آپ ناخن بڑھائیے نہیں۔ صحت مند، گلابی اور چمکتے ناخن اچھے لگتے ہیں۔ کیلشیم کھائیے اپنی غذا میں دودہ شامل کیجیے۔ مہندی اور سرکہ ملا کر لگائیے۔ مہندی کا رنگ اچھا نہیں لگتا تو مہندی کے تھوڑے سے پتے سرکے میں ابال چھان کر رکھئے۔ اس محلول میں روز پانچ منٹ کے لیے ناخن ڈبوئیے۔

ناخن تھیک نہ ہوں تو ڈاکٹر کو دکھائیے۔ خراب ناخن کسی آنے والی بیماری کا پیش خیمہ بھی ہوسکتے ہیں۔

نرم ناخن توانائی اور جسمانی قوت میں بہت کمی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ پتلے کمزور اور شکستہ ناخن کمزور اور اعصابی بے چینی کی علامت ہیں۔ سردی کے موسم میں کچھ لوگوں کے ناخن تیزی سے ٹوٹتے ہیں۔ معدنیات کی کمی سے ایسا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سے مشورہ کر کے کیلشیم لیا جائے اور اپنی غذا میں تھوڑی سی تبدیلی کی جائے تو یہ مسئلہ بہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین معاینہ کر کے ناخن کی رنگت، ساخت اور وضع قطع سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ مریض کو کن مسائل کا سامنا ہے۔ پھر وہ دوا تجویز کر دیتے ہیں۔

٭ گھنے بالوں کا مسئلہ کچھ زیادہ ہی نظر آرہا ہے۔ کئی خطوط مردوں اور عورتوں کے آئے ہیں جن کے بال گر رہے ہیں۔ اچھے سے اچھے شیمپو اور صابن کے استعمال کے بعد بھی بالوں کی نشو و نما نہیں ہو رہی۔ کچھ کا مسئلہ ہے کہ بالوں کی چمک ختم ہوگئی ہے اور وہ ٹوٹ رہے ہیں۔ باوجود احتیاط کے بال لمبے نہیں ہوتے اور بے جان نظر آتے ہیں۔

* بالوں کی خوب صورتی کا تعین ان کی لمبائی اور ان کے گھنے پن سے کیا جاتا ہے۔ کچھ خواتین کے گھنیرے بال دیکھ کر رشک آتا ہے۔ چھدرے بالوں والی خواتین چاہتی ہیں ان کے بال گھنے ہوجائیں۔ ان کو معلوم نہیں بالوں کا گھنا ہونا موروثی ہوتا ہے۔ پیدائشی طور پر کم بال ہوں تو ان کو احتیاط کے ساتھ دیکھ بھال کر کے سنبھالا جاتا ہے۔ باریک بال ہوں تو ان کو آپ گرنے سے بچا سکتے ہیں۔

ناقص غذا، خراب پانی، سوڈے والے صابن اور خراب شیمپو استعمال کرنے سے بھی بال گرتے ہیں۔ کوئی غم لاحق ہو تو ا سسے بھی بال گرنے شروع ہو جاتے ہیں۔ بچے کو دودھ پلانے کے دوران بھی غذا کی کمی سے بال تیزی سے گرتے ہیں جو لوگ سر میں بالکل مساج نہیں کرتے، ان کے بال بھی بے رونق اور خشک ہو جاتے ہیں۔

بال انسانی شخصیت کی کشش کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ کشش برقرار رکھنے کے لیے بالوں کی دیکھ بھال بہت ضروری ہے۔ ذہنی تناؤ اور دباؤ سے وہ سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں ٹی وی اور اخبارات میں نت نئے شیمپو کے اشتہار آتے ہیں۔ ان سے متاثر ہوکر خواتین انہیں استعمال کرتی ہیں، اور بسا اوقات نقصان اٹھاتی ہیں۔

پہلے زمانے میں سرسوں کی کھل سے سر دھویا جاتا اور سرسوں کا تیل سر پر لگایا جاتا تھا۔ اس سے بال سیاہ، چمکیلے اور گھنے رہتے تھے، سفید بھی نہیں ہوتے تھے۔ بادام کی کھل سے بھی بال دھوئے جاتے اور ناریل کا تیل لگایا جاتا تھا۔ بنگال میں ناریل کا تیل استعمال کرنے سے بال بے حد لمبے اور پرکشش ہوتے ہیں۔ چمیلی کے تیل میں مختلف جڑی بوٹیاں ملا کر تیل بنایا جاتا تھا۔ آنولے اور ریٹھے سے بھی سر دھویا جاتا، بیری کے پتے پیس کر سر دھونے سے بھی بال مضبوط اور گھنے ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ساری باتیں ختم ہوئیں۔ اب خشک بالوں کے لیے کریم شیمپو، چکنے بالوں کے لیے لیمن شیمپو، سادے بالوں کے لیے شیمپو، بے شمار اقسام کے دستیاب ہیں۔

اب ڈاکٹر کہتے ہیں بالوں کے لیے وٹامن اے، بی، سی، ڈی، ای ، کلورین، سلفر، آئیوڈین اور زنک ضروری ہے۔ حیاتین ی ایک خاص مقدار بالوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ تازہ سبزیاں، سلاد اور پھل کھانے سے بالوں کو وٹامن وغیرہ کی مطلوبہ مقدار مل جاتی ہے۔ وٹامن کی گولیاں کھانے کے بجائے اگر آپ غذا پر زور دیں تو سارے مسئلے حل ہوجاتے ہیں۔ تازہ ہوا، اچھی غذا اور بالوں کی مناسب دیکھ بھال سے بال گرنے بند ہوجاتے ہیں۔ ہومیو پیتھک علاج سے بھی بالوں کا گرنا بند ہو جاتا ہے۔

سب سے آسان اور بے ضرر علاج آملہ ہے۔ رات کو مٹھی بھر آنولے ایک پیالے میں بھکو دیجئے۔ صبح آنولے مل کر چھلنی میں چھان لیجئے۔ پانی سر میں لگائیے اور چند منٹ مساج کیجئے، پھر سادہ پانی سے دھو لیجئے۔ ایک ماہ کے استعمال سے آپ بالوں میں نمایاں چمک اور نرمی محسوس کریں گے۔

خواتین ماش ایک پاؤ، آنولہ آدھ پاؤ، سیکا کائی آدھ پاؤ اور میتھی کے بیج دو چمچ لے کر باریک پیس لیجئے۔ جب سر دھونا ہو تو آدھ گھنٹہ پہلے تھوڑا سا یہ سفوف پانی میں بھگو دیجئے، پھر اس سے سر دھوئیے۔ آپ کے بال گھنے اور مضبوط ہوں گے۔

چینی طبیب سوئیوں کے ذریعے بھی گنجے پن کا علاج کرتے ہیں، اور اس سے فائدہ بھی ہوتا ہے۔ جڑی بوٹیوں کے بے شمار تیل ملتے ہیں جو بالوں کے لیے بے انتہا مفید ہوتے ہیں۔ گھریلو طور پر بنائے گئے تیل میں عموماً آملہ، چھڑیلہ، ناگر موتھا اور دوسری جڑی بوٹیاں ڈالی جاتی ہیں۔ بازار کے تیل چنداں مفید ثابت نہیں ہوتے۔ ان سے بہتر ہے سادہ سرسوں کا خالص تیل، یا ناریل کا خالص تیل لے کر سر میں لگائیں، بالوں کو فائدہ ہوگا۔

بالوں کی صحت کے لیے سب سے مفید چیز یہ ہے کہ آپ پابندی سے نماز پڑھئے۔ سجدہ کرنے سے دوران خون سر کی جانب ہوتا ہے اور اس سے بھی بال مضبوط ہوتے ہیں۔ اعصابی اور ذہنی تناؤ نماز ہی سے دور ہو تا ہے۔ تناؤ ختم ہوگا تو آپ کے بالوں کی صحت روز بروز بہتر ہوگی۔

بال دو چار ہفتوں میں نہیں بڑھ جاتے۔ آپ اطمینان اور سکون سے وقت گزاریے۔ آملے سے سر دھوئیں اور تیل کا مساج کیجیے۔ آپ کو خود ہی اس بے ضرر علاج سے فائدہ محسوس ہوگا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

Leave a Reply