سونف

سونف

سونف کا زردی مائل سبز پودا پورے برصغیر میں کاشت کیا جاتا ہے۔ سونف کا کیمیائی تجزیہ بتاتا ہے کہ اس کے ایک سو گرام میں 6.3 فیصد رطوبت، 9.5 فیصد پروٹین، دس فیصد چکنائی، 13.4 فیصد معدنی اجزا، 18.5 فیصد ریشہ اور 42.3 فیصد کاربو ہائیڈ ریٹس پائے جاتے ہیں۔ اس کے معدنی اور حیاتیاتی اجزا میں کیلشیم، فاسفورس، فولاد، سوڈیم، پوٹاشیم، تھایامین، ریبو فلا دین، نایا سین اور وٹامن سی شامل ہیں۔ اس کی غذائی صلاحیت 370 کیلوریز ہے۔

شفا بخش قوت اور طبی استعمال پودے کے پتے ہاضم اور بھوک بڑھانے والے ہوتے ہیں۔ سونف کی مختلف اقسام ہیں چناں چہ اس میں پائے جانے والے تیل کے خواص بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اس کا ذائقہ خوشگوار ہوتا ہے۔ پودے کے پتے رطوبتیں بڑھاتے ہیں، چناں چہ ان کے استعمال سے پیشاب کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

سونف میٹھی، مسہل، مقوی باہ اور خون کا اخراج روکنے میں موثر ہے۔ اس کا استعمال معدے کی گیس خارج کرتا، بلغمی مواد کے اخراج کو بڑھاتا اور سانس کی نالیوں کو صاف کرتا ہے۔ سونف کے خشک بیجوں سے کشید کیا ہوا تیل خوشبو دار، ہاضم، مفرح اور اینٹھن دور کرنے والا ہے۔ اسے اصلاحِ معدہ کے لیے تیار کی جانے والی مختلف ادویہ میں ضرور شامل کیا جاتا ہے۔

نظام ہضم

سونف کا استعمال نظام ہضم کے لیے بہت مفید ہے۔ چھوٹے بچوں کو کاربو ہائیڈ ریٹ ہضم کرنے کے لیے تھوڑی مقدار میں دینا بہتر ہے۔ ایک چمچ سونف ایک سو ملی لیٹر پانی میں ابال کر (نصف گھنٹہ تک جوش دے کر) ٹھنڈا کر کے پینا بدہضمی میں بھی سود مند ہے۔ کھانا کھانے کے بعد تھوڑی سی سونف چبانا سانس کی بو، بدہضمی، قبض اور قے سے نجات دلاتا ہے۔ سونف کو شکر کے ساتھ کھانا زیادہ مفید ہے۔

دماغ کی کمزوری

اسے دور کرنے کے لیے سونف بہت مفید چیز ہے جس سے کئی طرح کے نسخہ بنائے جاتے ہیں۔ چند ایک درج ذیل ہیں:

سونف مقوی دماغ

سونف چھ ماشہ اور مصری چھ ماشہ۔ دونوں کو باریک پیس کر سفوف بنا لیں۔ اس میں سات بادام تھوڑا کوٹ کر ملا دیں۔ رات کو سونے لگیں تو یہ دوا گرم دودھ کے ہمراہ استعمال کریں اور اس کے بعد پانی ہرگز نہ پئیں۔ اتنی مقدار روزانہ استعمال کرتے رہیں۔ چالیس دن میں دماغ اتنا طاقت ور ہو جاتا ہے کہ کمزور نظر والے کو عینک کی حاجت نہیں رہتی۔

غنودگی یعنی نیند کی زیادتی

اگر ہر وقت طبیعت سست رہتی ہو اور نیند ہی کی طرف مائل رہے، تو اس حالت کو بھکانے کے لیے بھی سونف لا جواب ہے۔ سونف چہ ماشہ کو آدھ سیر پانی میں جوش دیں۔ جب آدھ پاؤ رہ جائے تو اتار کر اس میں نمک دو ماشہ ملا کر صبح و شام پلائیے۔ بہت مفید ہے۔

مقوی بصر خوراکی نسخہ

سونف بند نظر کھولتی ہے اور نظر تیز کرتی ہے۔ اس سے عینک بھی اتر سکتی ہے۔ تین نسخے درج ذیل ہیں:

۱- سونف کو نرم چوٹ سے کوٹ لیں تاکہ اس کا چھلکا اتر جائے۔ رات کو اس میں دو تولہ اور نازک طبع لوگ ایک تولہ سالم پانی یا دودھ کے ساتھ لیں۔ ان شاء اللہ نظر چیل کی مانند تیز ہوجائے گی۔

۲- سونف باریک پیس کر اس میں ہم وزن شکر ملا دیں۔ رات کو ایک تولہ یہ مرکب گائے کے دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔

۳- بادام سات عدد، سونف ایک تولہ اور مصری دو تولہ سیدھی چوٹ سے کوٹ کر رات کو نیم گرم دودھ سے کھلائیں۔ مریض کو ہدایت کردیں کہ وہ اس کے بعد پانی ہرگز نہ پئے۔ ان شاء اللہ چالیس روز میں نظر تیز ہوجائے گی، حتی کہ بعض اشخاص کو عینک کی حاجت نہیں رہے گی۔

منہ کی بدبو

منہ میں بدبو آنا ایک بدنما عیب ہے۔ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ صاحب عقل اور خوش شکل ہوتے ہیں، مگر لوگ ان کے پاس بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے، کیوں کہ ان کے منہ سے بدبو آتی ہے۔ اگر وہ سونف منہ میں چباتے رہیں تو بدبو دور ہوتی ہے اور سانس خوشبودار ہو جاتی ہے۔

کھانسی

سونف ایک تولہ آدھ سیر پانی میں جوش دیں۔ جب پاؤ بھر پانی باقی رہے تو اس میںایک تولہ شہد ملا کر صبح و شام پلائیں۔ ہر قسم کی کھانسی میں مفید ہے۔ اگر شہد نہ مل سکے تو نمک ایک ماشہ شامل کر کے بھی پلایا جاسکتا ہے۔

معدے کی بیماریاں

سونف معدے کو درست کرنے اور اس کو طاقت ور بنانے کے لیے لاجواب چیز ہے۔ اس سے معدہ کی تقریباً تمام بیماریاں دو رہوجاتی ہیں۔ ذیل میں چند ایک نسخہ پیش ہیں جو دیکھنے میں معمولی چٹکلوں کی حیثیت رکھتے ہیں مگر فوائد میں بیش بہا ہیں:

۱- سونف کو ذرا سا کوٹ کر رکھیں تاکہ اس کا چھلکا اتر جائے اور اس کے چاول نکل آئیں۔ اس میں سے دو پھانکے پانی سے لیا کریں۔ معدے کی گرانی دور ہوجائے گی۔

۲- سونف ۲۰ تولہ، سیاہ نمک پانچ تولہ، دونوں کو باریک پیس کر کپڑ چھان کریں اور ڈبے میں حفاظت سے رکھیں۔ اس میں سے چار پانچ ماشہ دن میں دو بار یعنی صبح و شام پانی سے کھلایا کریں۔ اس سے بدہضمی، بھوک کی کمی، کھٹے ڈکاروں کا آنا وغیرہ سب امراض دور ہو جاتے ہیں۔

۳- پانچ تولہ سونف کو پندرہ تولہ گل قند میں ملادیں اور اس میں سے صبح و شام پانچ پانچ تولہ خوب چبا کر کھائیں۔ تمام امراض معدہ کے لیے بڑی فائدہ مند دوا ہے۔

قبض

یہ تمام بیماریوں کی ماں ہے۔ اسے دور کرنے کے لیے سونف عجیب و غریب اور عمدہ چیز ہے جسے کئی طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔

۱- سونف ۱۰ تولہ، شکر سرخ ۱۰ تولہ باریک پیش کر ملا لیں اور سنبھال کر رکھیں۔ خوراک دو تولہ ہمراہ گرم دودھ یا ویسے ہی کھا کر سوجائیں۔

۲- سونف پانچ تولہ اور گل قند ۲۰ تولہ، سونف کو باریک پیس کر گل قند میں ملا دیں اور پانچ تولہ رات کے وقت گرم دودھ سے یا ویسے ہی کھلادیں۔ اعلیٰ درجہ کی قبض کشا ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس سے عارضی طور پر قبض کشائی ہوتی ہے بلکہ دائمی قبض بھی دور ہو جاتا ہے۔

۳- سونف کے چاول نکال کر انہیں باریک پیسیں اور ان کو تمام دن مغز گھیکوار یعنی کنوار گندل کے پانی سے کھرل کر کے رتی وزن کی گولیاں بنالیں۔ رات کے وقت تین سے پانچ گولی گرم دودہ سے دیں۔

فوائد

اس سے دائمی قبض دور ہوتا ہے۔

اسہال یعنی دست: اگر پاخانہ پتلا اور بار بار آئے، اسے اسہال یا دستوں کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ سونف چھ ماشہ کو پاؤ گھر پانی میں گھوٹ لیں اور کپڑے میں چھان کر دن میں دو سے تین بار قدرے مصری ملا کر پلادیں۔ دستوں کو روکنے والی ٹھنڈائی ہے۔

دودہ کی کمی

ان نسخوں کے استعمال سے چندایام میں دودھ وافر پیدا ہو جاتا ہے۔

۱- سونف ۲۰ تولہ اور کھانڈ ۲۰ تولہ خوب باریک پیس کر سفوف بنائیں اور ہر روز صبح و شام ایک تولہ سے ڈیڑھ توکہ تک ہمراہ گرم دودھ دیا کریں۔

۲- ایک توکہ سونف کو آدھ سیر پانی میں جوش دیں، آدھ پاؤ پانی باقی رہنے پر چھان کر آدھ سیر گائے کے گرم دودھ میں ملا کر اور حسب ضرورت چینی ملا کر صبح و شام پلانے سے بچے والی عورت میں کافی دودھ پیدا ہونے لگتا ہے۔

زخم

زخموں کے علاج میں لاپروائی کرنے سے اکثر بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ سونف کا مرہم زخموں کے بھرنے میں خوب کام آتا ہے۔ طریقہ یہ ہے:

سونف دو تولہ کوٹ کر دو سیر پانی یں جوش دیں۔ جب ایک سیر پانی باقی بچے تو اسے کسی لوٹے میں ڈال کر سرد ہونے دیں۔ جب معلوم ہو کہ اب نیم گرم رہ گیا ہے تو اس کی دھار باندھ کر زخم پر ڈالیں اور کسی صاف روئی وغیرہ سے زخم صاف کرتے رہیں۔ تمام پانی ختم ہونے پر روئی کا ٹکڑا اوپر رکھ دیں تاکہ پانی کو جذب کر کے زخم خشک کردے۔ بس اسی طرح روزانہ صاف کرنے سے زخم جلد بھر جاتے ہیں اور بگڑنے نہیں پاتے۔

ناسور

اگر زخم بہت پرانا ہوگیا ہو اور اس میں سے پیپ وغیرہ جاری ہو، تو وہ ناسور کہلاتا ہے۔ اسے ختم کرنے کے لیے یہ روغن بنا کر استعمال کرائیں۔ ان شاء اللہ ناسور دور ہوجائے گا:

روغن سونف ایک تولہ، کافور تین ماشہ، کار بالک ایسڈ بیس قطرے۔ تینوں کو ملا کر آمیزہ بنائیں اور اس میں بتی تر کر کے زخم کے اندر رکھ دیں۔ بتی اندر نہ جاسکے تو کپڑے کی گدی تر کر کے زخم کے اوپر رکھ دیں۔ چند روز میں زخم پوری طرح بھر جاتا ہے۔

گرمی دانے یعنی پت

گرمی اور برسات کے دنوں میں بدن پر چھوٹے چھوٹے دانے نکل آتے ہیں۔ ان میں بعض اوقات ایسا درد ہوتا ہے گویا ان میں سوئی چبھوئی ہو۔ درد دور کرنے کے لیے چار تولہ سونف کو پانی کے گھڑے میں بھگو دیں اور صبح اس سے نہائیں یا روغن سونف آٹھ حصہ، روغن سرسوں کے آٹھ حصے میں ملا کر اس آمیزے کی مالش کریں۔

ذیابیطس

خشک سونف اور خشک آملہ دونوں برابر وزن لے کر باریک پیس کر کپڑے سے چھان لیں اور چھ چھ ماشے صبح و شام تازہ پانی کے ساتھ کھلائیں۔ ذیا بیطس دور کرنے کے لیے بہت مفید دوا ہے۔

جوئیں

سونف کا تیل ایک حصہ، تلوں کا تیل چار حصہ، دونوں کو ملا کر سر میں لگانے سے جوئیں دور ہوجاتی ہیں۔

پسلی کا درد: سونف خشک ایک تولہ، پیپل دو ماشے۔ دونوں کو کوٹ کر آتھ سیر پانی میں جوش دیں۔ آدھ پاؤ پانی باقی رہنے پر چھان کر ایک ماشہ سیندھا نمک ملا کر پلانا پسلی کے درد کو دور کرتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حکیم محمد عبد اللہ

Leave a Reply