قرآن پر عمل: ایک منفرد تجربہ

ایک خاتون اچھے مشاہرے پر ملازم تھی۔ ایک طویل انتظار کے بعد اس کی شادی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اولاد کی نعمت سے نوازا۔ وہ اپنے بچوں کے درمیان ایک خوش گوار احساس لیے زندگی بسر کر رہی تھی… مگر ایک روز ایسا ناخوش گوار واقعہ پیش آگیا جو اکثر گھروں میں پیش آتا ہے، یعنی شوہر کے ساتھ ناچاقی کا حادثہ۔ خاتون کے خیال میں اس کا شوہر بعض اہم گھریلو ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھا۔ اس نے بہت سے وعدے کیے مگر کوئی ایفا نہ ہوا۔ پھر خاتون نے بھی وہی کیا جو عمومی طور پر آج کی عورتیں کرتی ہیں۔ اس نے شوہر کا گھر چھوڑا اور میکے میں جاکر رہنا شروع کر دیا۔ جاتے ہوئے یہ تک کہہ گئی کہ تم وعدہ پورا کروگے تو مجھے واپس لاسکوگے۔

پھر دن گزرتے رہے، شوہر تنہا رہا، البتہ شیطان اس کا ساتھی تھا۔ شیفان اس واقعے کو اس کے لیے بہت اہم بنا کر اسے غیرت دلاتا رہا، اس کو عدم مردانگی کا طعنہ دیتا رہا کہ وہ بیوی کی بغاوت کو بھی نہیں کچل سکا۔ شوہر بیوی سے یہ کہتے ہوئے ملا کہ: گھر آکر اپنی تمام ذاتی اشیا لے جاؤ۔ شوہر نے اس کے لیے وقت مقرر کر دیا اور خود اتنا وقت گھر سے باہر رہا۔ آخر میں یہ کہا: آج کے بعد تو اس گھر میں داخل نہیں ہوسکتی۔ خاتون شوہر کے ساتھ جس گھر میں رہائش پذیر تھی وہ اس کے شوہر کے والد کیجائیداد تھی۔ خاتون نے ایک دفعہ تو سوچا کہ میں اور میرے بچے اس گھر کے سوا کہاں گزارا کریں گے کیوں کہ اپنے والدین کے ساتھ تو میں بچوں سمیت رہ نہیں سکوں گی۔ پھر اس نے اپنی ساس سے ملاقات کی اور اس سے شکایت کرنا چاہی مگر بدقسمتی سے وہ بھی الٹا الزام تراشی کرنے لگی کہ میرے بیٹے نے تو یہ سب کچھ تنگ آکر کیا ہے۔ خاتون کو یقین نہیں آرہا تھا کہ میں جو کچھ سن رہی ہوں یہ حقیقت ہے۔

خاتون کے والدین کو اس واقعے کا علم ہوا تو والد غضب ناک ہوکر بولا: کیا اس کا شوہر یہ رشتہ لینے اس کے والدین کے گھر نہیں آیا تھا؟ اب ایسے اہم مسئلے میں وہ لڑکی کے والد سے رجوع کیوں نہیں کرسکتا؟ فضا خاصی ناسازگار ہوگئی تھی۔ سب کا خیال تھا کہ جو کچھ ہوا ہے یہ بڑی رسوائی ہے، اس کا ازالہ اس مرد سے طلاق لے کر ہی ہوسکتا ہے۔ بالآخر طلاق ہوگئی۔

خاتون کے تعلقات ایک تحریکی ساتھی کے ساتھ تھے۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر اس سے رابطہ کیا اور آہ و بکا کے بعد ذرا پرسکون ہوئی تو اپنی داستان سنانے لگی اور اسے اپنے اور اپنے بچوں کے اوپر ہونے والے ظلم کی انتہا قرار دیا۔ تحریکی ساتھی نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اپنی رحمت سے اس طرح کی مشکلات کے حل کے لیے ہمیں ایک دستور عطا کیا ہے۔ تم دونوں کا یہ عمل کتاب اللہ اور سنت رسول پر پیش کرتے ہیں تاکہ حقیقت میں دیکھ سکیں کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون؟ خاتون کے سانس بحال ہوئے اور وہ ہر لفظ کو بڑے غور اور توجہ سے سننے کی کوشش کر رہی تھی۔

تحریکی ساتھی نے کہا: تونے اپنا گھر کیوں چھوڑا جب تو اپنے شوہر سے ناراض تھی؟ تجھے معلوم نہیں کہ وہ ایک مشکل مرحلے میں ہے، یعنی طلاق دے چکا ہے۔ رجعی طلاق میں عورت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنا گھر چھوڑ دے۔ یہ اللہ سبحانہ کا حکم ہے، فرمایا:

زمانہ عدت میں ’’نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو، اور نہ وہ خود نکلیں، الا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا۔‘‘

لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب عورت کو پہلی طلاق دی جاتی ہے تو وہ فوراً اپنے میکے چلی جاتی ہے۔ یہ غلط اور حرام ہے کیوں کہ اللہ کا حکم ہے کہ نہ تم انہیں گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود وہاں سے نکلیں۔ استثنائی صورت ہے تو صرف یہ کہ وہ عورت کسی بے حیائی کا ارتکاب کرے۔ پھر فرمایا: ’’یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا۔‘‘ (الطلاق:۱)

اس کے بعد اس حکم کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’تم نہیں جانتے، شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی) کوئی صورت پیدا کردے۔‘‘ (الطلاق:۱)۔ لہٰذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ حدود اللہ کا خیال رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کریں۔ شرعی امور و احکام کو معاشرتی اور ذاتی روایات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام اس مشکل کے حل کے لیے کیسے راہ نکالتا ہے۔ فرمایا: ’’اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے۔‘‘ (النساء:۳۵)

یہاں یہ بات صرف شقاق (بگاڑ) کے خدشے کی ہے۔ اگر یہ خدشہ نظر آجائے تو اس سے ڈرنا چاہیے اور اس وقت دو حکم (ثالث)، ایک عورت کی طرف سے اور ایک مرد کی طرف سے مداخلت کریں۔ ان دونوں کا مقصد اصلاح ہو۔ اب میاں بیوی لازماً ایک ہی گھر میں رہیں گے۔ یہ دونوں ثالث ان کے پاس اصلاح اور صلح و صفائی کی غرض سے جائیں گے، جہاں یہ دونوں میاں بیوی مقیم ہوں گے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا احساس بھی ہوگا کہ وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا۔

یہ اس معاملے کے حل کی قرآنی صورت ہے۔ اب اس صورت حال کو پیدا کرنا مرد و عورت کو الگ الگ رکھ کر ممکن نہیں، نہ ٹیلی فون پر گفتگو کے ذریعے اس نتیجے پر انہیں پہنچایا جاسکتا ہے۔ لیکن آج کل یہی ہوتا ہے، جس کا نتیجہ کچھ نہیںنکلتا ہے۔ چناں چہ تحریکی ساتھی نے اس سے کہا کہ تو کیوں غضب ناک ہوکر اپنا گھر چھوڑ آئی؟ اس گھر کو تیرا گھر تو اللہ تعالیٰ نے قرار دیا ہے۔ عورت اپنے میکے کی طرف نہیں جاسکتی خواہ اس کے اور شوہر کے درمیان بگاڑ کا خدشہ ہی کیوں نہ ہو، بلکہ وہ اپنے گھر میں جم کر رہے اور اصلاح کی پوری کوشش کرے۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ آئے گا، یعنی اس کی ذاتی کاوش کے بعد اگلا مرحلہ ثالثوں کی کوشش کا ہوگا۔ نہ تم نے یہ کیا ہے اور نہ تمہارے شوہر نے۔ خاتون نے بڑی انکساری سے پوچھا: تو پھر اب اس کا حل کیا ہے؟ تحریکی ساتھی نے جواب دیا: اپنے گھر واپس چلی جاؤ۔ اس نے کہا: یہ تو مشکل ہے۔ مجھے جو کچھ کہا گیا ہے، میرے جانے کے بعد اب وہ کیسے مجھے برداشت کریں گے؟ میں اس صورتِ حال میں خود اپنی عزت کوکیسے رسوائی سے دو چار کرسکتی ہوں؟

تحریکی ساتھی نے کہا: سبحان اللہ، کیا تجھے شروع میں ہی یہ اندازہ نہیں ہوا کہ اسی طرح کی کیفیت میں تو اللہ تعالیٰ کوئی راستہ نکالے گا۔ پھر بات یہ ہے کہ یہی ابلیس کا مسئلہ تھا۔ وہ بھی ہماری طرح جانتا تھا کہ اللہ ایک ہے۔ زمین و آسمان کی حکومت اس کے ہاتھ میں ہے۔ وہ یہ سب کچھ جانتا تھا مگر جب اللہ نے اپنی بادشاہت میں زمین پر ایک خلیفہ بنانا چاہا تو یہاں شیطان نے اعتراض کر دیا۔ آج اپنے گرد و پیش میں ہم بھی یہی کچھ دیکھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ایک ہے، وہی نگہبان و نگراں ہے۔ ہم اسمائے حسنیٰ کا ورد کرتے ہیں، اپنے خالق و مالک کے لیے نماز ادا کرتے اور روزہ رکھتے ہیں۔ کبھی صدقہ و خیرات بھی کردیتے ہیں۔ خالق اور معبود کے ساتھ اپنی محبت کا واشگاف اظہار کرتے ہیں۔ لیکن جونہی اس خالق اور معبود کا کوئی ایسا قانون ہمارے سامنے آتا ہے جو ہماری عادات سے ٹکراتا ہو، ہماری خواہشات کے برعکس ہو، تو اس کے نفاذ کی بات ہمارے اوپر سکتہ طاری کردیتی ہے۔ جب ہمارا عمل یہ ہے تو پھر ہم معبود کی ربوبیت اور الوہیت کے کیوں کر قائل ہوسکتے ہیں؟ اس کے حکم کو سن کر کیوں اس پر عمل کرنا لازمی نہیں سمجھتے؟ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے والد نیک آدمی ہیں، آپ ان سے کہیں کہ وہ آپ کے شوہر کو بلائیں اور اس کی بات سنیں۔ اگر وہ اس کے ساتھ گفتگو میں کسی حل پر نہ پہنچ سکیں تو مرد کے خاندان سے کسی ثالث کو بلالیں، اور اس کے ساتھ بیٹھ کر اس بکھرتے ہوئے خاندان کو یک جا کرنے کی کوئی سبیل نکالیں۔

خاتون کے شوہر کو بلایا گیا تو اس نے آکر خاتون کے والد سے کہا کہ یہ اب آپ کی بیٹی ہے، یعنی میں اس کو طلاق دے چکا ہوں۔ والد اس کو رسوم و رواج کے مقابلے میں قرآن کی تعلیمات سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس نے کہا کہ اس حالت میں تمہیں اپنی بیوی کو اپنے گھر میں رکھنا چاہیے کیوں کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ خاتون کے والد نے اللہ کا وہ دستور اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا، جس دستور کی بنیاد پر اس کی بیٹی اس مرد کی بیوی قرار پائی تھی۔ سورہ طلاق کی پہلی آیت اس کے سامنے رکھی۔

نوجوان نے آیت دیکھ لی مگر کہتا رہا کہ ہم تو ایسا نہیںکریں گے، مطلقہ لڑکی اپنے والدین کے گھر میں ہی رہتی ہے، شوہر کے گھر میں نہیں۔ طلاق کے بعد اب وہ کیسے میرے پاس رہ سکتی ہے؟ خاتون کے والد نے مومنانہ وقار کے ساتھ کہا: ایک گھنٹہ قبل میں بھی تمہاری طرح ہی سوچ رہا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے صحیح راہ کی طرف میری رہ نمائی کردی اور میں نے فیصلہ کیا کہ اب اپنی عمر کا اختتام اس آیت کے نفاز پر کروں۔ تم یہ خیال نہ کرو کہ یہ فیصلہ میرے لیے کوئی آسان تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اس کے احکام ہیں جس کی ہم نے تمہارا نکاح کرتے ہوئے اطاعت کی تھی۔

معاملہ شوہر کے ہاتھ میں چلا گیا۔ وہ بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا اور بیوی اس کے گھر سے اپنی ذاتی اشیا اتھا کر واپس لانا چاہتی تھی۔ گویا معاملہ ایسا معمولی تھا کہ کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ لیکن اب مرد اپنے گھر والوں سے کیا کہے۔ اس پر اس کی والدین کا ردعمل کیا ہوگا۔ طلاق کے بعد وہ گھر میں کیسے رہ سکے گی؟ نوجوان نے خاتون کے والد سے کچھ مہلت مانگی کہ وہ سوچ بچار کرلے ، پھر جواب دے گا۔

خاتون نے تحریکی ساتھی سے یہ ساری صورتِ حال بیان کی تو اس نے خاتون کو اپنے گھر چلے جانے کا مشورہ دیا۔ اس کے شوہر سے بھی کہا کہ وہ بیوی کو گھر لے آئے، کیوں کہ بہرحال یہی خاتون کا گھر ہے۔ خاتون کیدل میں جنگ برپا تھی کہ وہ کیسے ایک بار پھر سسرال جائے گی؟ ان کا ردعمل کیا ہوگا؟ تحریکی ساتھی نے اس کو کثرت کے ساتھ ذکر الٰہی کرنے اور اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت ایاک نستعین پڑھنے کو کہا۔ بالآخر خاتون اپنے بچوں کو لے کر اپنے گھر چلی گئی۔

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ رمضان ترجمہ: ارشاد الرحمن

Leave a Reply