دین کی دعوت کا جذبہ

حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ خود اپنے اسلام لانے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی حقانیت بٹھا دی اور میں سمجھ گیا کہ محمدؐ سچے نبی ہیں تو میں نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ کرلیا۔ اس کے بعد مجھے ساتھی کی تلاش ہوئی تو سب سے پہلے میں صفوان بن امیہ کے پاس گیا اور اسے اپنے دل کی کیفیات سے آگاہ کیا۔ اس نے جواب دیا کہ اگر مکہ میں میرے علاوہ سب لوگ بھی مسلمان ہوجائیں تب بھی میں اسلام قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ میں نے دل میں کہا کہ یہ ابھی تک بدر میں اپنے باپ اور بھائی کا قتل نہیں بھولا۔ پھر میںنے عکرمہ بن ابی جہل سے بات کی، اس نے بھی وہی جواب دیا جو صفوان نے دیا تھا۔ میں نے سوچا یہ ابھی تک اپنے باپ کا قتل نہیں بھولا۔ پھر میں عثمان بن طلحہ سے ملا، لیکن بات زبان پر لانے سے پہلے سوچا کہ اس کا باپ، بھائی اور چچا احد میں قتل ہوئے تھے، یہ تو ہرگز میری بات نہیں مانے گا۔ لیکن پھر بالآخر میں نے اس سے دل کی بات کر ہی ڈالی۔ عثمان نے فورا میری بات قبول کرلی اور ہم نے مل کر حضورﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہونے کا فیصلہ کرلیا۔‘‘ (الرحیق المختوم)

حضرت خالدؓ کے اس واقعہ سے دعوت کے تناظر میں یہ مفید نکتہ ہاتھ آتا ہے کہ بعض اوقات داعی کسی کے بارے میں خوش گمانی میں مبتلا ہوتا ہے لیکن وہ دعوت قبول نہیں کرتا جب کہ اس کے برعکس بعض اوقات داعی کا اپنا گمان غلط ثابت ہوتا ہے اور جس شخص سے اسے خیر کی امید نہیں ہوتی وہی خیر کا علم بردار بن جاتا ہے۔

اس پس منظر میں اگر ہم غور کریں تو ہمیں اپنے ارد گرد بہت سے ایسے لوگ نظر آتے ہیں جنہیں ہم دعوت کے قابل نہیں سمجھتے۔ کسی کو محض اس لیے نظر انداز کردیتے ہیں کہ اس کا تعلق کسی خاص سیاسی گروہ سے ہے اور کسی کو اس لیے کہ وہ کسی خاص مذہبی طبقہ فکر سے تعلق رکھتا ہے۔ انسان کی یہ ظاہری پوزیشن ہمیں اس بات پر دعوت پہچانے سے پہلے ہی قائل کرلیتی ہے کہ اسے تو دعوت قبول نہیں کرنی۔ گویا ہماری طرف سے اس پر بغیر سنے ہی دعوت کا دروازہ بند کر دیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے دل و دماغ پر قفل چڑھ چکے ہیں اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ حالاںکہ شاید پردہ ہماری آنکھوں پر پڑ ہوتا ہے۔

اس کے برعکس داعی کی پوزیشن بالکل مختلف ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی سیرت پر نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں تو خود ان کے گھر میں اس دعوت کا انکار موجود ہوتا ہے۔ چناں چہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد، حضرت نوح کے بیٹے اور حضرت لوط کی بیوی نے دعوت قبول نہیں کی اور کہیں فرعون کے دربار میں اس کا بااعتماد ساتھی اور اس کی بیوی اپنی سلیم فطرت کی بنیاد پر یہ دعوت قبول کرلیتے ہیں۔

انبیاء علیہم السلام کی سیرت اس پر شاہد ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے زمانے میں بہت وسیع اور بڑے پیمانے پر دعوت کی اس سرگرمی کو سر انجام دیا۔ سورۂ نوح میں ان کے دعوتی عمل کی رپورٹ ان الفاظ میں نقل کی گئی:

’’نوح نے عرض کیا، اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو پکارا، لیکن میری پکارنے ان لوگوں کے فرار میں ہی اضافہ کیا اور جب بھی میں نے ان کو بلایا تاکہ تو انہیں معاف کردے، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا۔ پھر میں نے انہیں ہانکے پکارے دعوت دی۔ پھر میں نے علانیہ بھی ان کو دعوت دی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا۔‘‘ (نوح:۵-۹)

حضرت نوح علیہ السلام کی اس مختصر روداد میں ایک داعی کے لیے نصیحت کا بہت کچھ سامان ہے۔ ایک طرف داعی کی تڑپ، جذبہ اور ان تھک کوششیں اور دوسری طرف قوم کا استکبار اور فرار کہ سن کر ہی نہیں دے رہے اور یہ سلسلہ ساڑھے نو سو سال تک یوں ہی چلتا رہتا ہے، تا آنکہ اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے۔

دعوت کی اس سرگرمی کی مثال پانی سے لدے ہوئے بادلوں سے دی جاسکتی ہے جو اپنے پورے آب و تاب اور گھن گرج سے موسلا دھار برستے ہیں اور جب برستے ہیں تو اس کی پروا نہیں کرتے کہ کون سا قطعہ زمین بنجر ہے اور کون سا زرخیز۔ کون سی کھیتی جی اٹھے گی اور کہاں یہ پانی جمع ہوکر جوہڑ بن جائے گا۔ یہی حال قلوب و اذہان کی سرزمین کا بھی ہے۔ کوئی تو اس پکار کو آب حیات سمجھ کر جذب کرلیتا ہے اور کوئی اس سے روگردانی کر کے خود اپنے ہی لیے موت کا سامان مہیا کرلیتا ہے۔

اس سارے پس منظر میں اگر ہم خود اپنے داعیانہ کردار کا جائزہ لیں تو نہ وہ تڑپ اور دل سوزی نظر آتی ہے جو داعی کے لیے متاعِ حیات ہے اور نہ ہی اس درجے میں کوششیں اور کاوشین نظر آتی ہیں۔ ہم جس گھر میں روز و شب گزارتے ہیں وہ گھر ہماری دعوت سے برسوں نابلند رہتا ہے۔ جو نسل ہماری گود میں پروان چڑھتی ہے، وہ نسل ہماری پکار نہیں سن سکتی۔ ہم جس محلے میں رہتے ہیں وہاں انسانوں کا جم غفیر اس متاع بے بہا سے محروم ہے۔ ہم جہاں کاروبار و ملازمت کرتے ہیں، وہاں بھی اس دعوت کا سراغ نہیں ملتا۔

تاریخ شاہد ہے کہ جس معاشرے یا ماحول میں دعوت کا فریضہ پوری تن دہی اور آب و تاب سے انجام دیا جائے وہاں دو میں سے ایک نتیجہ نکلنا لازم ہے۔ یا تو لوگ دل و جان سے یہ دعوت قبول کرلیتے ہیں اور تن من دھن سے قافلہ راہ حق کے راہی بن جاتے ہیں اور یا پھر اس کے مخالف بن کر اس کی راہ روکنے میں اپنا تن من دھن لگا دیتے ہیں لیکن ان دونوں میں سے کوئی بھی نتیجہ نہ نکل رہا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ داعی اس دعوت کی سرگرمی سے باز آچکے ہیں۔

توسیع دعوت کے اس تناظر میں سب سے پہلے ہمیں اپنے دل کی خبر لینی چاہیے۔ اپنا شوق اور اس لگن کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اپنے اخلاص اور نیت کو پرکھنا چاہیے۔ اس سلسلے میں مثال انبیاء، صلحا اور شہدا کی صورت میں موجود ہے۔ کسی نہ کسی درجے میں اس مثال کا اتباع کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔

اس کے بعد اپنے گھر کی فکر کرنی چاہیے۔ اپنے بیوی بچوں، والدین اور اعزہ و اقرباء پر نظر دوڑانی چاہیے۔ (و انذر عشیرتک الاقربین) اس پہلے قدم پر ہی داعی کو دعوت کے بے شمار مواقع نظر آئیں گے۔ بہت سارے جیتے جاگتے قیمتی انسانوں سے واسطہ پڑے گا، جن میں سے کوئی ایک بھی سنور جائے تو آدمی کی دنیا و اخرت کی نجات کے لیے کافی ہے۔ اس پہلے حصار میں ہی اگر یہ دعوت موثر طریقے پر پہنچ جائے تو اسلامی تحریک کی قوت میں کئی گنا اضافہ عین ممکن ہے۔

اب آگے چلتے چلے جائیں۔ قدم قدم پر داعی حق کا سامنا انسانوں کے جم غفیر سے ہوتا ہے۔ لوگ ملاقات کرتے ہیں، معاملات کرتے ہیں، دکھ درد اور غمی خوشی میں شرکت کرتے ہیں۔ غور کیجئے کتنے انسان ہیں اور ان میں سے کتنوں تک پورے اخلاص، اہتمام اور محبت کے ساتھ دعوت پہنچائی گئی ہے اور اگر خدا نخواستہ نہیں پہنچائی گئی تو اس وقت ہمارا حال کیا ہوگا۔ جس کا تصور کرتے ہی نبی مہربانؐ زار و قطار رو پڑے تھے۔

عبد اللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہؐ کی خدمت اقدس میں موجود تھا کہ ارشاد ہوا: عبد اللہ! قرآن سناؤ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ! آپؐ صاحب قرآن ہیں، میں آپ کو قرآن سناؤں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں، آج میں قرآن سننا چاہتا ہوں۔ میں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سورہ النساء کی تلاوت شروع کی۔ جب اس آیت پر پہنچا: فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلاَئِ شَہِیْدًا (النساء:۴۱)

’’اور اس وقت کیا منظر ہوگا جب ہم ہر قوم میں سے ایک گواہ لاکھڑا کردیں گے اور (اے نبی) آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنائیں گے۔‘‘

آواز آئی عبد اللہ بس کرو! میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ ؐزار و قطار رو رہے تھے اور آپؐ کی داڑھی مبارک آپ کے آنسوؤں سے تر تھی۔

دعوت کا یہی شوق اور جواب دہی کی ہی تڑپ تھی جس کا جیتا جاگتا مظاہرہ چشم انسانیت نے دیکھا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے اپنے سامنے موجود ایک لاکھ سے زائد مجمع پر نظر دوڑائی اور فرمایا: ’’جو یہاں موجود ہے، اس کا یہ کام ہے کہ میرا یہ پیغام ان تک پہنچائے جو موجود نہیں ہیں۔‘‘ اور پھر پہلی صدی ہجری کے اختتام سے پہلے (جو کہ دراصل دورِ صحابہؓ ہے) یہ دعوت تین براعظموں تک پھیل گئی۔

یہی وہ مشنری جذبہ تھا جس سے صحابہ کرامؓ سرشار تھے اور ان کے قدم مسلسل بڑھ رہے تھے۔ یہی جذبہ آج ہم میں مفقود ہے اور ہمارے قدم رک گئے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد وقاص

Leave a Reply