مثالی خاتون

مسلمان عورت جو شرف و منزلت اور ’’خیر النساء‘‘ کا مرتبہ حاصل کرلیتی ہے، وہ در حقیقت ایسی عورت ہے جو قابل استطاعت ہر نیک کام کرتی ہے، اور نیکی کے کاموں میں دوسروں پر سبقت لے جاتی ہے۔ قرآن کریم نے نیکی کے دائرے میں ایسے اعمال میں مقابلہ کرنے کی ترغیب دلائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوش نودی تک پہنچاتے ہیں اور جنت سے سرفراز کرتے ہیں۔
’’لہٰذا معاملہ کرنے والوں کو اسی میں معاملہ کرنا چاہیے۔‘‘
اس کے برعکس اگر مقابلہ فانی دنیا کا مال و متاع جمع کرنے میں ہو تو اس قسم کے مقابلے کی قرآن مجید اور نبی امینﷺ نے شدید مذمت کی ہے۔
قرآن مجید نیکو کار بنانے، نیکی کی جزا اور اسلامی معاشرے پر نیکی کے اثرات بنا کر حسن عمل کی دعوت دیتا ہے۔ ذرا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر غور کیجیے:
’’اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ منہ پھیرتا ہے، لہٰذا تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔‘‘ (البقرۃ:۱۴۸)
اس آیت میں نیک کام کرنے میں جلدی، اس کی ترغیب دلانے اور دعوت دینے کا پیغام ہے۔ بہت ممکن ہے کہ تم یہ سوال پیدا ہو کہ اس میں جلدی کرنے کی دعوت کیوں دی گئی ہے؟ در اصل خیرکے کاموں میں مقابلے کا ذکر نہایت شیریں اور مفید ہے۔ قرآن مجید نے ہمیں اس امر کی ترغیب دلائی ہے اور خیر کی طرف پوری قوت سے دعوت دی ہے کیوں کہ زندگی غیر مامون اور عمر نامعلوم ہے جب کہ خاتمہ بہرحال لازمی ہے۔ جو کام آج ممکن ہے وہ کل ناممکن بن سکتا ہے۔ آج (دنیا) عمل کی جگہ ہے اور کوئی حساب کتاب نہیں ہے جب کہ کل (آخرت میں) صرف حساب ہوگا اور عمل کرنے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔
بھلائی کے کاموں میں جلدی اور اس میں سبقت لے جانا، ان اسباب میں سے ہے جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام کے احوال ٹھیک کردیے، اور انہی اسباب کی بدولت ان کے لیے ان کی زوجہ محترمہ کی اصلاح کی اور ان کی دعا قبول فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’بے شک وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے، ہمیں رغبت اور خوف کے زیر اثر پکارتے تھے۔‘‘ (الانبیاء:۹۰)
جب فرصت اور موقع سے فائدہ نہ اٹھایا جائے تو وہ حسرت و ندامت کا باعث بن جاتا ہے۔ ممکن ہے آج ہماری دسترس میں کچھ اسباب موجود ہوں لیکن وہ کل میسر نہ آسکیں، پس جلدی کرو، آج اور ابھی نیکی کی فصل بونی شروع کرو تاکہ کل فرحت بخش فصل کاٹ سکو۔ حق یہ ہے کہ کل پر نظر رکھنے والے کے لیے کل بہت قریب ہے۔
اب چند آیات قرآنی پر غور کیجیے، یہ آیات مقدسہ ہمیں نیک کام کرنے اور ان میں جلدی اختیار کرنے کی تعلیم دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نیک کاموں کی اقسام اور نیک کام کرنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے:
’’اور اپنے رب کی بخشش اور اس کی جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ وہ لوگ جو خوشی اور تنگی کے موقع پر خرچ کرتے ہیں، غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور اللہ نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (آل عمران:۱۳۳)
اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخل اور کنجوسی اور اس کے برے اثرات سے ڈرایا ہے اور احسان و کرم کی فضیلت بیان کی ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:
’’اور تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھ ہلاکت (کے کاموں) میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (البقرۃ:۱۹۵)
کیا اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ عالی سے اپنی راہ میں خرچ کرنے، غصہ پی جانے اور لوگوں کو معاف کردینے والوں کی تعریف، نیکی کے کاموں میں آگے بڑھنے کی دعوت نہیں ہے؟
کیا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مغفرت و بخشش کے حصول کے لیے فوراً کوشش کرنے کا حکم، خیر اور بھلائی کے امور میں سبقت کرنے کی تاکید نہیں ہے؟ اور کیا جنت میں داخلہ نیک کاموں میں مسابقت کرنے پر موقوف نہیں ہے؟ جب کہ قرآن کریم میں اللہ کا یہ فرمان بھی پڑھتی ہیں:
’’چناں چہ انہوں نے جو کچھ کہا، اس کے عوض اللہ تعالیٰ انہیں ایسے باغات دے گا جن کے نیچے نہریں رواں دواں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ نیکی کرنے والوں کی جزا ہے۔‘‘ (المائدۃ:۸۵)
یہاںیہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے کیا کہا تھا جس کی بدولت وہ جنت کے وارث بن گئے؟ لیکن قطع نظر اس کے کہ انہوں نے کیا کہا، کیا انجام کار یہ نہیں کہ ان کے قول سے اللہ ان سے راضی ہوگیا۔ حق یہ ہے کہ ان آسمانی جملوں میں ہمارے لیے بڑی نصیحت اور فائدہ مضمر ہے تاکہ تم بھی ہر اس قول و عمل میں مسابقت کریں جو رب کی رضا اور خوش نودی کا باعث ہے۔
خیر اور بھلائی کے کام بے شمار ہیں جن میں مسلمان عورت کو سبقت لے جانے کی تمنا دامن گیر ہوتی ہے، مثلا:
* دکھی مسلمان عورتوں کے دکھ دور کرنا، خیر میں مسابقت ہے۔
* غریب مسلمان عورتوں کے قرض ادا کرنا، بھلائی میں مسابقت ہے۔
* کھانا کھلانا اور بھوکوں کی بھوک مٹانا، خیر میں مقابلہ کرنا ہے۔
* مسلمان بہنوں کی ضروریات پوری کرنے میں جلدی کرنا بھی خیر میں مسابقت ہے۔
* غصہ پی جانا اور اچھے اخلاق اپنانا بھی نیک کاموں میں مسابقت ہے۔
* راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی نیک کاموں میں مسابقت ہے۔
* قرآن مجید حفظ کرنا اور اس کی تلاوت کرنا بھی خیر میں مسابقت ہے۔
* اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح بیان کرنا بھی بھلائی کے کاموں میں مسابقت ہے۔
* نیکی کے کام بتانا بھی کارِ خیر میں پیش قدمی ہے۔
* طالب علم کو علم سکھانا اور خود سیکھنا بھی نیکی میں مسابقت ہے۔
* رات کو نما پڑھنا جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہیں، دراصل نیکی میں مسابقت ہے۔
* سنتوں اور نوافل کی پابند کرنا بھی خیر میں مسابقت کرنا ہے۔
نیکی کے کام بے شمار اور اس کے طریقے متعدد ہیں، لہٰذا ہمیشہ اور ہر حال میں نیک عمل کرنا چاہیے۔ موت آنے سے پہلے نیکی کے کاموں میں جلدی کرنی چاہیے اور خیر و بھلائی کے کاموں میں سبقت لے جانے والی عورت، اللہ تعالیٰ کے نزدیک ’’خیر النساء‘‘ یعنی بہترین خواتین میں سے ایک ہے۔***

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: مجدی فتحی السید ترجمہ: محمد اجمل فاروقی

Leave a Reply