بچہ اور والدین کی ذمہ داری

اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اولاد کی تر بیت کو والدین کی اہم ذمہ داری قرار دیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کو اولا د کی صورت میں نعمت دے تو اس پر لازم ہے کہ ان کی صحیح تر بیت کریں، والدین بچے کے مربی ہوتے ہیں جسمانی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی۔ جب والدین بچوں کی تر بیت اچھی طرح کرتے ہیں تو پھر بچوں کے جسم ہی نشو ونما نہیں پاتے بلکہ ان کے دل ودماغ کی صلاحیتیں بھی کھلتی ہیں۔کسی دانشوروں کا مقولہ ہے:

’’جو شخص اپنے بچوں کو ادب سکھاتا ہے وہ دشمن کو ذلیل وخوار کرتا ہے۔‘‘

’’جو شخص بچہ کو بچپن میں ادب سکھاتا ہے وہی بچہ بڑا ہو کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔‘‘

لہٰذا والدین کو بچوں کی تر بیت سے ذرا بھی غفلت نہیں برتنی چاہئے۔یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے وہ کسان جو اپنے کھیت پر محنت نہیں کرتا، اس کے کھیت میں بہت سی ایسی خود رو گھاس اُگ آتی ہیں جو اس کی اصل فصل کو خراب کر دیتی ہیں اسی طرح والدین جب بچے کی تربیت کا خیال نہیں کرتے تو بچے کے اندر بہت سے برے اخلاق پیدا ہو جاتے ہیں جو اس کی اصل شخصیت کو بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔‘‘

بنیادی طور پر بچے کی شخصیت پر تین چیزوں کے اثرات پڑتے ہیں۔سب سے پہلے اس کے والدین اور گھر یا خاندان کا اثر، پھراس کی گلی کوچے کا اثر اور پھر جس مدرسے یا اسکول میں وہ پڑھنے جاتا ہے اس کا اثر پڑتاہے۔ لیکن والدین کی بنیادی ذمہ داری نبتی ہے کہ وہ بچوں کے لیے صحیح تربیت کے ساتھ ساتھ صحیح راستہ متعین کرنے میں ان کی رہنمائی اور معاونت کریں۔

بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود:

بچے کی زندگی کا پہلا مسکن ماں کی ٹھنڈی ، میٹھی اور شفقت بھری گود ہوتی ہے۔آغوشِ مادر کے ان برسوں میں ماں بچوں کے لیے رہنما کا کام کرتی ہے۔ اس لئے ماں کی تربیت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ماں کو اپنے بچے کی تربیت کا خیال اسی دن سے رکھنا چاہئے جس دن بچہ پیدا ہو،بلکہ یہ خیال ان کو حاملہ ہونے کے وقت سے ہی ہونا چاہئے ۔بچے کی پیدائش کے بعد ماں کے ذمہ مندرجہ ذیل ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:

بچے کو ماں کا تحفہ:

جب اللہ تعالیٰ کے اذن سے بچے کی ولادت ہوتی ہے تو ماں باپ کیلئے یہ انتہائی خوشی کا موقع ہوتا ہے، اس خوشی کے بدلے بچے کے واسطے ماں کا پہلا تحفہ اس کا اپنا دودھ ہوتا ہے۔ ماں کو چاہئے کہ وہ بچے کو اپنا دودھ ضرور پلائے۔ ہاں اگر دودھ کم ہو یا طبی طور پر ٹھیک نہیں، نقصان دہ ہو تو یہ اور بات ہے لیکن اگر ماں کا دودھ بچے کیلئے ٹھیک ہے تو اس سے بہتر غذا بچے کو اور کوئی نہیں مل سکتی۔ ہر ماں کو چاہئے کہ وہ بچے کو ضرور اپنا دودھ پلائے تاکہ بچے کے اندر ماں کی محبت وعظمت آجائے، اگر ماںدودھ ہی نہیں پلائے گی تو ماں کی محبت و شفقت کا اثر بچے کے اندر کیسے پیدا ہو گا…؟ عام طور پر بہت سی مائیںاپنی رعنائی (Smartens)کو مدنظر رکھتے ہوئے بچے کو دودھ پلانے سے گھبراتی ہیں اور شروع ہی سے بچے کا انحصار ڈبہ بند دودھ پررکھتی ہیں لہٰذا جب ڈبے کا دودھ پی کر بچے بڑے ہوتے ہیں تو ماں کی ممتا ان میں اثر پذیر نہیں ہوتی، بلکہ وہ ماں کو ایک دائی کے طور پر تصور کرتے ہیں۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎

طفل سے بوآئے کیا ماں باپ کے اطوار کی

دودھ ڈبے کا پیا تعلیم ہے سر کا رکی

ایک لطیفہ مجھے یاد آتا ہے کہ’’ ایک ماں اپنے بیٹے سے ناراض ہوئی کہنے لگی بیٹے! تم نے میری بات نہ مانی تو میں کبھی بھی تمہیں اپنا دودھ معاف نہیں کرونگی۔ اس نے مسکراکر کہا ، امی ! میں تو ڈبے کا دودھ پی کر بڑا ہواہوں آپ نے تو مجھے اپنا دودھ پلایا ہی نہیں مجھے معاف کیا کریں گی…؟‘‘

ہنسنے کی بات نہیں ہے واقعی ایسا ہی دیکھا جا رہا ہے کہ، ڈبوں کے دودھ کے اثرات اور ہوتے ہیں اور ماں کے دودھ کے اثرات کچھ اورہی ہوتے ہیں۔

پیدا ئش کے بعد تہنیک :

جب بچے کی پیدائش ہو تو بچے کی تہنیک کروانا سنت ہے۔ تہنیک یہ ہے کہ کسی نیک بندے کے منہ میں کوئی چپائی ہوئی کھجور یا شہد ہو تو ایسی کوئی چیز بچے کے منہ میں ڈالنا ۔چنانچہ یہ تہنیک کسی نیک بندے سے کر وانی چاہئے۔ اس کی بہت ساری بر کات دیکھی گئی ہیں۔

تہنیک کے بعد اذان واقامت :

تہنیک کروانے کے بعد بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان کے اندر اقامت کہی جاتی ہے یہ اللہ رب العزت کا نام ہے جو بچے کے دونوں کانوں میں کہا جاتا ہے۔ سبحان اللہ ! چھوٹی عمر میں بچہ ابھی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا مگر اس کے کانوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بلندی اور عظمتوں کے تذکرے کروادیئے گویا اللہ کی عظمت سکھا دی گئی اور یہ ایک (پیغام) پہنچا دیا گیا کہ جس طرح دنیا کے اندر اذان ہوتی ہے پھر اقامت ہوتی ہے اور اقامت کے بعد نماز پڑھنے میں تھوڑی دیر ہوتی ہے بالکل اسی طرح اے بندے تیری زندگی کی اذان بھی کہی جا چکی ہے تیری زندگی کی اقامت بھی کہی جا چکی ہے۔تیری زندگی نماز کے مانند ہے اور نماز تو ہمیشہ امام کے پیچھے پڑھی جاتی ہے ایک شرعی طریقے سے پڑھی جاتی ہے تو یہ ایک پیغام ہے کہ اگر تو اپنی زندگی کو بھی صحیح گزارنا چاہتا ہے تو شریعت کے طریقہ کو اپنا لینا اور نبی ﷺکو زندگی کی نماز کا امام بنا لینا پھر تیری نماز قبول ہو جائیگی اور با لآخر تجھے قبر میں جانا ہی ہے۔ تو یہ ابتدا میں اللہ رب العزت کا پیغام اس طرح اس بچے کے ذہن میں پہنچا دیا جاتا ہے، کہ تو مسلم ہے اور تیری زندگی کا ہر لمحہ اسلام کے تابع ہونا چاہیے۔

بچے کا اچھا نام رکھنا :

پیداش کے بعد جلد از جلد بچے کا اچھا سا نام رکھا جائے جیسے اللہ رب العزت کو ’’عبد‘‘ سے شروع ہونے والے نام پسند ہیں۔ عبد اللہ اور عبد الرحمن نام سب سے زیادہ پسند ہیں، اسی طرح عبد الرحیم نام پسند ہے، تو ایسے نام رکھیں کہ قیامت کے دن جب پکارے جائیں تو اللہ رب العزت کو اس بندے کو جہنم میں ڈالتے ہوئے حیا محسوس ہو۔ اللہ تعالیٰ محسوس فر مائیں یہ میرا بندہ میرے رحمت والے نام کے ساتھ پکارا جاتا رہا اب اس کو جہنم میں کیسے ڈالوں ۔آج کل ماں باپ نئے ناموں کی خوشی میں ایسے اُلٹے سیدھے نام رکھتے ہیں جو بے معنیٰ ہو جن کے معانی کا نہ ان کو پتا نہ کسی اور کو پتا، مہمل قسم کے نام رکھ دیتے ہیں یہ بچے کے ساتھ زیادتی ہے۔ بچے کے حقوق میں سے ہے ایک حق یہ ہے کہ اس کا ایک اچھا سا نام رکھا جائے۔ ماں باپ کو چاہئے کہ بچے کا ایسام نام رکھیں کہ جب بچہ بڑا ہو اور اس کا نام پکارا جائے تو اسے خوشی ہو۔

بچے کا عقیقہ کرنا :

بچے کی ولادت کے بعد جلد ہی عقیقہ کرنابھی سنت ہے بیٹے کیلئے دو اور بیٹی کے لئے ایک بھیڑ ۔یہ خوشی کا اظہار ہے پھر خود بھی کھائیں، رشتے داروں کو بھی کھلائیں اور غریبوں کو بھی اس میں ضرور یاد رکھیں۔ lll (جاری)

شیئر کیجیے
Default image
ابو محمد حمزہ

Leave a Reply