میاں بیوی کا رشتہ

ازدواجی زندگی کی شروعات دو اَن جان اور مختلف المزاج افراد کے باہم رہنے سے ہوتی ہے اس لیے اس میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو اگر آغاز میں ہی روک لیا جائے تو یہ خوب صورت رشتہ کبھی کمزور نہیںپڑتا۔ سمجھ دار جوڑے اس نازک رشتے کو نقصان پہنچانے والے عوامل سے باخبر بھی رہتے ہیں ہمیشہ ان سے بچتے بھی رہتے ہیں کیوں کہ جب کوئی گھر ٹوٹتا ہے تو فوری طور پر صرف شوہر اور اس کی بیوی متاثر نہیں ہوتے بلکہ اولاد اور دیگر خاندان والے بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ یوں معاشرے پر بھی اس کا برا اثر پڑتا ہے۔

رشتہ ازدواج میں منسلک مرد اور عورت بظاہر ایک چھوٹا سا خاندان ہوتے ہیں مگر ان کی اس نجی زندگی سے معاشرے کو کتنا گہرا تعلق ہے ہم اکثر اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اگر میاں بیوی کے درمیان ناچاقی اور جھگڑا پایا جاتا ہو تو معاشرے میں اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سمجھ دار اور دور اندیش اور دانا لوگ اپنے ان تعلقات کو ہمیشہ تر و تازہ رکھتے ہیں۔ وہ ایسے اصول اپناتے ہیں جو انہیں کبھی بوریت اور کاہلی کا شکار نہیں ہونے دیتے۔

ہمارے معاشرے میں شادی شدہ مرد اور خاتون دونوں پر اس رشتے کو رکھنے کے لیے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیوں کہ یہاں عام طور پر دو خاندانوں کے ملنے کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے یہی چیز ہے کہ پسند کی شادی کرنے والے جوڑے یہاں عموماً اپنا یہ حسین رشتہ زیادہ دیر تک نبھا نہیں پاتے۔ لڑکی اپنے بہن بھائی، ماں باپ سب کچھ چھوڑ کر لڑکے کے گھر چلی آتی ہے اگر لڑکے والے پہلے سے رشتے دار نہ ہوں تو اسے ایک اجنبی گھرانے اور ماحول کو اپنانا ہوتا ہے۔ یہاں اس کا شوہر اس کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ اس لیے شوہر کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کو گھریلو حالات سے واقفیت حاصل کرنے میں مدد دے۔

ساس بہو کا جھگڑا اس خطے کی ایک پرانی روایت ہے لیکن سمجھ دار بہو اپنے اچھے اطوار اور خدمت گزاری سے نہ صرف ساس بلکہ تمام سسرال کو اپنا گروید بنا لیتی ہے۔ بعض اوقات ساس بہو کے جھگڑے تمام کوشش کے باوجود سمت نہیں پاتے اور گھر میں فساد کی سی فضا بن جاتی ہے۔ ایسے میں شوہر کو بیوی اور اپنے گھر والوں میں اعتدال کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر اس کا جھکاؤ کسی ایک جانب زیادہ ہو جائے تو اس کی زندگی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب کچھ ایسے کم فہم لوگ بھی ہوتے ہیں جو تمام تر سہولتوں کے باوجود رشتے کو نبھا نہیں پاتے ایسے میں مسائل پیچیدہ ہو جاتے ہیں، یہ پیچیدگی اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جب لڑکی یا لڑکے کے والدین میں سے کوئی یا دونوں اس میں مداخلت کرنے لگیں۔ ایسے میں معاملہ دو خاندانوں کی ’انا‘ کی شکل اختیار کر جاتا ہے اور نبھاؤ مشکل ہو جاتا ہے۔ جب کوئی ازدواجی تعلق ٹوٹتا ہے تو اس کا سب سے برا اثر بچوں پر پڑتا ہے کیوں کہ ایک خاندان کے ٹوٹنے سے بچے سب سے زیادہ متاثرہوتے ہیں اور بیک وقت بہت محرومیوں کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں۔

شوہر کو چاہیے کہ اپنی تمام مصروفیات کے باوجود بیوی اور بچوں کو بھی مناسب وقت دے۔ شریک حیات کو کبھی کبھار پھول یا کوئی تحفہ دینا بھی اس تعلق میں خوشگوار احساس پیدا کرسکتا ہے۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا رازدار ہونا چاہیے۔

اگر بیوی اپنے سسرال میں کسی قسم کے مسائل کا شکار ہے تو اسے چاہیے کہ اپنی والدہ، بہنوں اور دیگر رشتہ داروں سے سسرال کی باتیں کرنے کے بجائے شوہر سے ہر بات کرے۔ شوہر کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بات کو تحمل اور برد باری سے سن کر جواب دے اور دوستانہ رویہ اپناتے ہوئے سمجھائے۔ کھانے پینے کی اشیاء میں بھی ایک دوسرے کی پسند کا خیال رکھنا چاہیے اور تفریح کے لیے بھی وقت نکالنا چاہیے۔ خاص طور پر شوہر کو انی بیوی کی کسی بات پر کتنی ہی ناراضگی کا اظہار بچوں کے سامنے ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔

شادی کے بندھن کو اچھے انداز میں نبھانا ایک جوڑے کی اہم ذمہ داری ہے۔ کیوں کہ میاں بیوی کے مابین تعلق جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے گا۔ کیوںکہ یہ رشتہ ایسا رشتہ ہے جو جتنا مضبوط ہے اس سے زیادہ نازک بھی ہے۔ اس کے ٹوٹنے کے بعد دو بارہ جوڑنا انتہائی مشکل کام ہے، لہٰذا میاں بیوی کی اولین کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اپنی زندگی کو آسان بنائیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
فائزہ عمر

Leave a Reply