اللہ کی رحمت

ہمارے گھر کے نزدیک ہی ایک مسجد واقع تھی۔ وہاں ہم سب بھائی نماز پڑھنے جاتے۔ قرآن شریف بھی مولوی صاحب سے پڑھتے۔ مسجد کی کوئی لگی بندھی آمدنی نہیں تھی۔ مولوی صاحب کو گھروں سے دونوں وقت کھانا آجاتا۔ وہ بچوںکو قرآنی تعلیم دیتے تو اتنی رقم مل جاتی کہ روزمرہ کا خرچ چل جائے۔ رمضان شریف میں ختم قرآن کے موقع پر تمام محلے سے چندہ اکٹھا ہوتا۔ یوں بھی مولوی صاحب کی اچھی خاصی مدد ہو جاتی۔ سستا زمانہ تھا، گزر بسر آسانی سے ہو جاتی۔

مسجد میں ایک نمازی باقاعدگی سے آتے۔ان کا نام پیراں تھا۔ میں ان کی شخصیت اور خدمات کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی کہ مسجد میں سب سے پہلے آئیں، اذان دیں، تکبیر کہیں اور باجماعت نماز ادا کریں۔ چاہے بارش ہو، آندھی یا طوفان آئے، ان کے معمولات میں کبھی فرق نہ آتا۔ وہ صبح فجر کے وقت سب سے پہلے اذان دیتے۔ پھر تمام گلیوں میں آواز لگاتے پھرتے کہ’’ اے ایمان والو! نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ نماز نیند سے بہتر ہے۔‘‘

بعض گھروں کے دروازوں پر دستک بھی دیتے۔ اکثر لوگ نیکی کی دعوت پہ لبیک کہتے اور مسجد کا رخ کرتے۔ بعض دنیادار خوابِ خرگوش کے مزے لیتے رہتے۔ نماز مغرب سے پہلے وہ مسجد کے صحن کی صفائی کرتے اور صفیں بچھاتے۔ ہفتے میں ایک روزپوری مسجد اچھی طرح پانی سے دھوتے۔ دروازے اور کھڑکیاں خوب صاف کرتے۔ وہ یہ سب کام بغیر کسی لالچ اور معاوضے کے انجام دیتے۔

وہ مولوی صاحب کے کھانے وغیرہ کا بھی انتظام کرتے تھے۔ کسی دن کہیں سے کھانا نہ آتا، تو اپنے گھر سے لا دیتے۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی، شاید اسی لیے ان کی زندگی کا مقصد مسجد کی خدمت کرنا اور لوگوں کو نیکی کی طرف بلانا بن گیا۔ وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ کسی سرکاری دفتر میں بطور کلرک ایمانداری سے ڈیوٹی انجام دینے کے بعد سبکدوش ہوئے تھے۔

وہ آرام و سکون سے زندگی گزار رہے تھے۔ نہ انھیں دولت کی ہوس اور نہ ہی بہتر مستقبل کی فکر، وہ اللہ پر توکل رکھتے۔ ہر جگہ نیکی کی ترغیب دیتے اور دعوت حق پہنچاتے تھے۔ دینی معاملات اور مسائل میں کبھی نہ الجھتے۔

کچھ دنوں سے لوگوں نے دیکھا کہ پیراں نماز پڑھنے نہیں آرہے۔ مسجد کے نمازی ان کی غیرحاضری محسوس کرتے ہوئے گھر پہنچے۔ معلوم ہوا کہ وہ سخت بیمار ہیں‘ حتیٰ کہ چارپائی سے بھی نہیں اٹھ سکتے۔ چند دن بعد ہم چند نمازی ان کے گھر تیمار داری کرنے پہنچے۔ ہمیں دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے۔ ہم نے ان کی خیروعافیت دریافت کی اور کہا کہ ہمارے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے۔

انھوں نے کہا ’’میرا بھتیجا گھر کے نزدیک ہی رہتا ہے۔ وہ میری خبرگیری کر رہا ہے اور بہت خیال رکھتا ہے۔ آپ سب لوگوں سے بس یہی درخواست ہے کہ دعا کریں، میرا خاتمہ بالخیر ہو جائے اور باقی منزلیں آسان ہو جائیں۔‘‘

یہ سن کر میں نے کہا ’’بھائی پیراں! آپ کیوں فکر کرتے ہیں؟ آپ نے زندگی بہت اچھی گزاری۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد پورے ادا کیے۔ آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی جس کے لیے آپ ناجائز طریقے سے دولت کماتے۔ کوئی جائداد نہیں بنائی۔ حق حلال کی کمائی کھائی ہے۔ نماز روزے کی پابندی کی فکر تو میرے جیسے دنیا دار کو ہونی چاہیے۔ ہم خدا جانے دن میں کتنی بار دنیا داری کے لیے جھوٹ سچ بولتے ہیں۔

پیراں نے کہا ’’میں محض عبادت ہی نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی نگاہ ِ کرم کی وجہ سے ہی جنت میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے ایک حکایت سنائی کہ ایک آدمی وفات پا گیاجس کے اعمال میں بظاہر کوئی گناہ شامل نہ تھا۔ فرشتوں نے اس سے پوچھا کہ تم اپنے اعمال کی بنا پر جنت میں جانا چاہتے ہو یا اللہ کی رحمت کی بنا پر؟

آدمی کو اپنے اعمال پر بڑا اعتماد تھا۔ اس نے فرشتوں سے کہا کہ جب میرے عمل ٹھیک رہے ہیں تو میں صرف انہی کی بنا پر جنت میں جائوں گا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی یہ شیخی پسند نہ آئی۔ حکم ہوا کہ اس پر دوزخ کی کھڑکی کھول دی جائے۔ جب اسے سخت تپش پہنچی، تو کہنے لگا، مجھے بچائو اورپانی پلائو۔ فرشتوں نے پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو؟اس شخص نے کہا، مجھ سے ساری زندگی کے اعمال لے لو اور خدا کے لیے ایک کٹورا پانی کا پلا دو۔

چناںچہ اس کے اعمال لے کر پانی دے دیا گیا۔ پانی پی کر اسے سکون ہوا۔ لیکن جلد ہی تپش کے باعث اسے پھر پیاس لگی، تو پھر چیخنے چلانے لگا کہ اس عذاب سے بچائو۔ فرشتوں نے پھر پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو؟ اس آدمی نے کہا، میرے پاس وہی اعمال ہیں، ان کے علاوہ کچھ نہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ جن اعمال پر تمھیں اتنا غرور اور گھمنڈ تھا، ان کی حیثیت پانی کے ایک کٹورے جتنی تھی۔

وہ آدمی بڑا گڑگڑایا اور عرض کی ’’یا اللہ میں غلطی پر تھا۔ میں تیری رحمت کا ہی طلبگار ہوں۔ میں تجھ سے معافی کا خواستگار ہوں۔‘‘ آخر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آیا اور اسے بخش دیا گیا۔

واپسی پہ میں سوچتا رہا کہ پیراں کم پڑھے لکھے انسان ہیں لیکن ان کی سوچ کتنی بلند اور اعلیٰ ہے۔ اس واقعے کے چند روز بعد مجھے ایک کام سے باہر جانا پڑا۔ چند دن بعد واپس آیا تو پتا چلا کہ پچھلے جمعہ کے بعد ان کا جنازہ ہوا جس میں بے شمار لوگ شریک ہوئے۔ تدفین کے وقت ابرِ رحمت چھا گیا اور ہلکی ہلکی پھوار پڑنے لگی۔ یہ ان کے جنتی ہونے کی گواہی تھی۔ سچ ہے کہ انسان کو نیکیوں کا صلہ مرنے کے بعد یقینا ملتا ہے، مگر عاجز بندے کو تب بھی رحمتِ الٰہی کا طلب گار ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رب کائناب کی رحمت اور کرم سے نوازے۔ (آمین)lll

شیئر کیجیے
Default image
حبیب اشرف صبوحی

Leave a Reply