کاش

محلے کا سخی گھرانا، سب ان کی شرافت اور سخاوت کی قسم کھاتے، آج اسی گھر میں میاں بیوی اللہ کے حضور میں گڑگڑاتے ہوئے گریہ و زاری کر رہے تھے، اے اللہ! ہم سے ضرور کوئی گناہ کبیرہ سرزد ہوا اسی کی وجہ سے دو دن سے کسی سائل نے گھر کا رخ نہیں کیا بھلا ہم کیسے حلق تر کریں، بیوی روتے ہوئے اقرار کیے جا رہی تھیں، میرے اللہ میں دنیاوی کاموں میں اتنی الجھی رہی کل نماز عصر وقت ڈھلنے سے تھوڑی دیر قبل ادا کی، ادھر شوہر توبہ کرتے بارگاہِ الٰہی میں اقرارِ جرم کر رہے تھے، ہاں میرے کریم آقا کل سستی اور کاہلی کے سبب نماز فجر میں تکبیر اولیٰ میں نہ شریک ہوسکا تونے نہیں تو کون میرا جرم معاف کرے گا، مالک سے بخشش کی بھیک مانگ رہے تھے، مالک کو رحم آہی گیا۔

ابھی چند لمحے بھی نہ گزرے کسی نے دستک دی، کیا دیکھتے ہیں ایک پریشان حال شخص کھڑا ہے، اس نے اپنا تعارف یوں کروایا، میاں جی! میں آپ کا پڑوسی مجھے محسن کہتے ہیں مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے بہو دواخانے میں درد زہ سے تڑپ رہی ہے، اس غریب کو تکلیف نے اپنے نرغے میں لے رکھا ہے، آنسو تھم نہیں تھے اور کہا، مجھے قرض نہٰں چاہیے، ذرا آپ کو تکلیف ہوگی میرے ساتھ بازار چلیں، کوئی ساہوکار یہ سونے کی چیز لینے کو تیار نہیں وہ میری حالت پر ترس کھا کر کہتے ہیں، دیکھ زمانہ بہت خراب ہے آج کل پولیس کے دھاوے بکثرت ہو رہے ہیں،جاؤ کسی صاحب ثروت کو بطور ضمانت لے آؤ۔ میاں جی آپ کے سوا اور کون اس نازک وقت میں ہماری مدد کو آئے گا، یہ کہتے ہوئے بے اختیار رو پڑا، ادھر وہ پردہ سے سب سن رہی تھیں، ہچکیوں پر قابو پاتے ہوئے کہا، اے جی گیرج سے کار نکالنا لو میں آئی۔

تھوڑی دیر میں تینوں دوا خانہ میں تھے، جہاں محسن کی بیوی بے چینی سے انتظار کر رہی تھی، مرزا صاحب کی اہلیہ نے محسن کی بیوی کے ساتھ کاؤنٹر پر گئیں اور بل ادا کیا اور کچھ اڈوانس رقم بھی۔ ابھی دس بارہ منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے آپریشن تھیٹر سے ہیڈ نرس مسکراتے ہوئے باہر نکلی، محسن سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تمہیں پوتی مبارک ایسی مبارک باد محسن کی بیوی دیتے ہوئے کہی چاند سا پوتا تمہیںمبارک ہو، ہاں زچہ اور بچے سب خیریت سے ہیں دو تین قدم آگے بڑھی اور تین قدم پیچھے آکر کہا میں یہ بتانا بھول گئی By the grace of god ڈیلیوری نارمل ہوئی۔ مرزا صاحب اور اہلیہ نے دونوں کو مبارک باد دیتے ہوئے جاتے جاتے کہا۔ میاں جی محسن آپ ہماری پڑوسی ہیں ہمٰں خدمت کا موقع دینا۔

گھر پہنچ کر دونوں سجدہ ریز ہوئے اور اقرار جرم کیا، اے مولائے کریم ہم نے پڑوسی کی داد رسی نہ کی یہ ہمارا گناہ کبیرہ تو اپنی رحمت سے معاف کردے اور بلک بلک کر بچوں کی طرح روتے رہے، تب کانوں میں سائل کی آواز آئی، اے اللہ کے نیک بندو بھوکے کو دو لقمے کھانا کھلانا دو دن سے بھوکا ہوں۔ یہ سننا تھا کہ مرزا صاحب نے بجلی کی طرح دوڑ کر سائل کا پکڑا ہاتھ دھلوایا تب تک صاحب خانہ نے دستر خوان چن دیا، مرزا صاحب دوانوں کی طرح سائل کی رکابی یہ کہتے ہوئے ایک لقمہ لیجئے یہ کباب سیخ، ایک نوالہ پلاؤ دیکھو یہ روٹیاں آپ ہی کے ہیں۔ اس نے کہا پھر یہ میٹھا کس کے لیے وہ بھی حاضر دستر خوان ہوا سائل نے جاتے جاتے دعا دے گئے۔ اے دو جہانوں کے مالک صاحب خانے نے میرا ہاتھ دھلوا دیا اپنے دستر پر ہمہ اقسام کے پکوان سے سیر ہوکر کھلایا، میرے مولا تو روز قیامت تو اپنے دستر خوان پر ان کی ضیافت کرنا اور ڈھیر ساری دعائیں دیتے ہوئے مشک و عنبر سے سارا گھر مہک گیا، جیسا اچانک آنے والے نظروں سے اوجھل ہوگئے ادھر میاں بیوی خوشی سے پاگل ہوئے جا رہے تھے، نہ جانے کتنے بار سجدہ شکر ادا کیا۔

کاش یہ ہم سب میں بھی ہو تو دنیا بدل جائے۔ آمین۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد مصطفی علی انصاری

Leave a Reply