2

دیرینہ دوست کے نام

چوں کہ میں جانتا ہوں تم ہمیشہ کی طرح عیش میں ہو گے، اس لیے تمھاری خیریت دریافت نہیں کروں گا۔ رہی میری خیریت تو اس سے تم کبھی بے خبر رہے ہی نہیں۔ ہاں! تم ہمیشہ سے یاروں کے یار تھے۔ ہر دم دوستی پر آمادہ! یوں تو ہم بچپن سے دوست رہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ اس دوستی میں اتنی شدت آ جائے گی، میں جانتا نہ تھا۔ زندگی کے چالیس سال گزارنے کے بعد اچانک میں تم سے قطع تعلق کا فیصلہ کر لوں گا، یہ بھی میرے وہم و گمان میں نہ تھا۔ ایسا کیسے ہو سکتا تھا!

ہم نے سارا بچپن گرمی کی دوپہروں میں گلیوں میں ساتھ کھیلتے گزارا۔جب ہم بڑی بی کے باورچی خانے سے آلو کے پراٹھے چراتے جو اس نے اپنے اکلوتے پوتے کے لیے سنبھال کر رکھے ہوتے تھے، تو وہ کیسا واویلا مچاتی۔ بچپن کی ساری شرارتیں اور مہمات ہم نے مل کر انجام دیں لیکن تم سدا کے چالاک تھے۔ ہمیشہ چھلاوے کی طرح غائب ہو جاتے اور میں پکڑا جاتا۔

اور وہ شاہد یاد ہے، کیسا بدھو ہوتا تھا۔ میں، علی، ساجد اور تم! ہم سب مدرسے کے باہر ہر دوسرے تیسرے روز اپنے بستے یہ کہہ کر اس کے حوالے کرتے کہ وہ ان کا خیال رکھے۔ ہم بھنے چنے لے کے ابھی آئے، پھر مل کے کھائیں گے۔ وہ بچارا بھی شاید چنوں کے لالچ میں بھری دھوپ بستوں کی چوکیداری کرنے لگتا۔ جب ہم چوکڑیاں بھرتے گھر پہنچ جاتے تب اسے ہوش آتا۔ وہ سارے بستے گھسیٹتا ہوا نہ صرف گھر پہنچتا بلکہ ہم سب کو فرداً فرداً دروازے پہ بستہ دے کر جاتا۔

میں آج تک سمجھ نہیں پایا کہ کیا وہ واقعی ایسا ہی بے وقوف تھا یا بنتا تھا؟ آخر اتنی سیدھی سی بات اس کی سمجھ میں کیوں نہ آتی تھی؟ کیا وہ چنوں کے چند دانوں کے لالچ ہی میں بھری دھوپ میں کھڑا رہتا تھا؟ نہیں! مجھے ایسا نہیں لگتا۔ وہ کچھ اور تھا… کچھ اور جو اسے دھوپ میں کھڑا رکھتا۔ پتا نہیں کیا؟

تمھارا کیا خیال ہے؟ تم یقینا جانتے ہو۔ لیکن بتائو گے نہیں، میں جانتا ہوں اور بستہ دیتے وقت وہ عجیب ملامت بھری نظروں سے مجھے دیکھتا، تو میرا دل ڈوب جاتا۔ جیسے کہہ رہا ہو ’’مجھے تم سے یہ امید نہ تھی۔‘‘ حالانکہ اسے ہم سے یہی امید ہونی چاہیے تھی۔ لیکن وہ واقعی احمق نہ تھا، احمق تو ہم تھے لیکن تب مجھے اس بات کی سمجھ نہ تھی۔

ابا کو تم سے سخت چڑ تھی۔ ان کا خیال تھا کہ ان کا بیٹا تمھاری وجہ سے دن بدن آوارہ ہوتا جا رہا ہے اور وہ یقینا ٹھیک سوچتے تھے۔

دادی کو تو تم سے اللہ واسطے کا بیر تھا۔ ہاں! اللہ واسطے کا بیر۔ مگر میں کیا کرتا، تم تھے ہی اتنے نٹ کھٹ، شوخ، زندگی سے بھرپور۔ تمھارے بنا زندگی بالکل بے رنگ لگتی۔ تب گھر کی فضا میں بلاوجہ گھٹن محسوس ہوتی۔ ہر دم نظریں دروازے پر لگی رہتیں۔ دل چاہتا، دروازہ توڑ کے اس گھٹن زدہ فضا سے باہر نکل جائوں۔ اڑ کر تمھارے پاس آ پہنچوں۔ پھر سازشیں ہوں، ایڈونچر اور تھرل ہو۔

تب ہم کیسے ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔ میں تمھیں اور تم مجھے خوش رکھنے کے لیے کیا کچھ نہ کرتے۔ ایک دوسرے کی خواہش پوری کرنا جیسے ہمارا نصب العین بن گیا تھا۔ بلکہ تمھاری محبت کے سامنے اپنی اکثر ہیچ نظر آتی۔ تم تومیری ہر خواہش پوری کرنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دیتے۔ میری ہر خواہش پوری کرنے کے لیے بے چین رہتے۔ ہم نفس کی تمنا پورا کرنے کے لیے منصوبے بناتے اور اسے پورا کر کے ہی دم لیتے…جائز یا ناجائز۔ ہاں!

اور یہی وہ بات تھی جو میں نے کبھی سوچی ہی نہیں۔

کالج میں بھی ہم نے کوئی شوق اور رنگینی ہاتھ سے نہ جانے دی اور پھر ہاسٹل میں توجیسے کھلی چھوٹ مل گئی۔ اْف! جب میں پہلی مرتبہ تمھارے ساتھ سینما دیکھنے گیا تو میرا دل بلیّوں اچھل رہا تھا۔ لگتا تھا ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔ جب ہیرو ہیروئن کے قریب آتا مجھے بلاوجہ ٹھنڈے پسینے آنے لگتے۔ لیکن سینما کے ہفتہ وار باقاعدہ چکر نے میرا ڈر کافی حد تک کم کر دیا۔ اب میں آرام سے فلم دیکھ سکتا تھا۔ نہ دل پسلیاں توڑنے کی کوشش کرتا، نہ دھڑکن بے ترتیب ہوتی۔

میں ان دنوں کس قدر خوش رہنے لگا تھا۔ اب میں جھینپو سا دیہاتی لڑکا نہیں رہا تھا۔ میرا خیال تھا کہ میری شخصیت دن بدن نکھرتی جا رہی ہے۔ اب میں کسی بھی لڑکی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آسانی سے بات کر سکتا تھا، بالکل شہری لڑکوں کی طرح! یا ان فلمی ہیروئوں کی طرح جو ہیروئن سے بات کرتے وقت ذرا نہ گھبراتے اور بڑی بے باکی سے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی محبت کا یقین دلاتے۔ لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ میری آنکھیں بے باک نہیں بے حیا ہو گئی ہیں۔ ان میں شرم نہیں رہی تھی۔ پہلے مجھے جو ہر راہ چلتی لڑکی بہن لگتی تھی، اپنی محبوبہ لگنے لگی۔ لیکن تب یہ سمجھ نہ تھی۔

کچھ دن قبل ہی میں نے قرآن میں ’’خطوات الشیطٰن‘‘ کی تفسیر ’’شیطان کے قدم‘‘ پڑھی۔ تفسیر میں لکھا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہ جنھیں تم گناہ نہیں سمجھتے، انھیں خطوات الشیطٰن کہتے ہیں یعنی شیطان کے قدم! واقعی! جانے کب، کیسے بچپن کی چھوٹی چھوٹی شرارتیں، ماںباپ کو ستانا، چھوٹے موٹے فیشن، چند ایک فلمیں، سگریٹ سے شراب تک کا سفر طے کرتی گئیں اور مجھے پتا ہی نہ چلا۔ اور جب پتا چلا تو سب ختم ہو چکا تھا۔ میں راکھ کے ایک ڈھیر کے سوا کچھ نہ رہا تھا۔ نہ علم، نہ ہنر، نہ ایمان، نہ حیا، میرے ہاتھ خالی تھے، بالکل خالی۔

مجھے یہ سمجھنے میں چالیس سال لگ گئے کہ تم میرے دوست نہیں دشمن تھے۔ حالانکہ یہ سامنے کی بات تھی۔ دادی کہتے کہتے مر گئی ’’وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ ابا کی زبان ڈانٹتے اور نصیحتیں کرتے کرتے اکڑ گئی، ان کی لاٹھی بھی بے اثر ثابت ہوئی۔ لیکن میں وہاں ہوتا توپلٹتا؟ میں تو کسی الف لیلوی دنیا میں بس رہا تھا۔ جہاں جوش تھا، خوشیاں تھیں، دوسرے کی خوشیاں اپنے کھاتے میں ڈالنے کا حق تھا۔ ہر بات اور ہر خواہش جائز تھی۔ کوئی حرام حلال کاٹنٹا نہ تھا۔ ہر شے جس کی تمنا ہوتی، چھیننے کا حق تھا۔ ساری دنیا اپنی دسترس میں تھی۔

ہوش تو تب آیا جب میری بیٹی کا جسم دن بدن برہنہ ہوتا گیا۔ پہلے اس کے کپڑے تنگ ہوئے، میں نے دھیان نہ دیا۔ پھر اس کی آستینیں غائب ہوئیں، مجھے پتا نہ چلا۔ آنکھیں اس قدر عادی جو تھیں۔ پھر میرا بیٹا نشے میں دھت عین فجر کے وقت آنے لگا۔ پہلے وہ دیر سے آتا۔ میں نے دھیان نہ دیا۔ آخر یہی تو دن تھے زندگی سے لطف اندوز ہونے کے! پھر وہ شراب پینے لگا۔ میں نے نظر انداز کیا۔ یہ امرا کی محض ایک علامت ہی تو تھی۔ لیکن جب دھیان دیا تو سب ختم ہو چکا تھا۔

وہ خطوات الشیطٰن کی مکمل تفسیر بن کر میرے سامنے آ گئے۔ وہ ’’میرے‘‘ بچے تھے۔ وہ ایسے نہ ہوتے تو کیسے نکلتے؟ وہ جو کرتے، سوکم تھا۔ میں انھیں کیا کہتا؟ کیسے کہتا؟ کس منہ سے کہتا؟ یہ میرا اپنا بویا ہوا بیج تھا اور اسے مجھے ہی تو کاٹنا ہے۔ اس ببول کے درخت کا ایک ایک کانٹا مجھے اپنے ہاتھ سے چننا ہے، چاہے میرے ہاتھ کتنے ہی لہولہان ہو جائیں۔

زندگی کس قدر عجیب ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ ہم عجوبہ ہیں۔ ہمارا دل بھی کس قدر عجیب ہے! کب کیا مانگ بیٹھے، کب کس کا ساتھ چھوڑ دے، کب کس گلی کا کتا بنے، کب کس در کا گدا بن جائے۔ کچھ پتا نہیں چلتا۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ سب پتا چلتا ہے۔ کون سی گلی دلدل کی طرف جاتی ہے اور کون سا راستہ منزل تک جاتا ہے، ہمیں علم ہوتا ہے۔ مگر یہ دل، نہیں! دل نہیں مجھے نفس کہنا چاہیے۔ نفس امارہ! ہاں وہی نفس امارہ جو صرف برائی کی خواہش کرتا ہے جس کی خواہشات لامحدود اور بے لگام ہیں۔ جسے ہم دونوں نے مل کر پوجا۔ دل سے اپنا معبود تسلیم کیا۔ اور ساری زندگی پر محیط ایک ایسا طویل سجدہ اسے کیا کہ اب چاہنے کے باوجود نہ سر اٹھایا جاتا ہے نہ کمر ہی سیدھی ہونے پر آمادہ ہے۔ لیکن میں یہ سب تمھیں کیوں بتا رہا ہوں؟ تم تو سب جانتے ہو۔

تم میرے ساتھ جتنا کھیلنا چاہتے تھے تم نے جی بھر کے کھیلا اور میں تمھارے ہاتھ کا کھلونا بنا رہا۔ کس کی مرضی سے؟ اپنی مرضی سے۔ میں نہیں جانتا، اپنی تکلیف اور فریاد لے کے کس کے پاس جائوں؟ میں اپنا لہو کس کے ہاتھ پہ ڈھونڈوں اور اپنے لاشے کا بوجھ کس کے کاندھے پہ پھینکوں؟ میں اپنا مجرم آپ ہوں اور قاتل بھی! میں نے خدا کے واضح کردہ دوراستوں میں سے غلط راستہ خود چنا جو رنگین مگر تباہی کا تھا۔ کیا آج میں خدا سے سوال کر سکتا ہوں کہ میرے ساتھ جو ہو رہا ہے کیوں ہوا؟ کیا میں تم سے… اپنے بدترین دشمن سے یہ سوال کر سکتا ہوں؟کیا زندگی کے ایسے موڑ پر ہمیں سوال کرنے کا اختیار ہے؟ یقینا نہیں۔

جو بھی ہے، اب میں یہ بھیانک کھیل، تمھیں، اپنے بچوں کی زندگی سے نہیں کھیلنے دوں گا۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اس عزم کے لیے نہایت حقیر ہوں۔ اسی لیے کہوں گا کہ اگر اللہ نے چاہا تو!

میں جانتا ہوں میں یہ کام تنہا نہیں کر سکتا۔ مجھے اس قادر مطلق کی مدد لینی ہو گی جو ساری طاقت رکھتا ہے۔ جس کی ساری خدائی ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے… تم پر بھی۔ میں اس سے مدد لوں گا اور اس غفور الرحیم سے مغفرت طلب کروں گا۔ ہر چند کہ میرے گناہ سمندر کے جھاگ برابر ہیں مگر میں اس سے اعانت کی استدعا ضرور کروں گا۔

آج سے ہمارے راستے الگ ہیں۔ ہر چند کہ تم قبر تک میرا ساتھ نہ چھوڑو گے کہ روز ازل تم اس کی مہلت لے چکے۔ مگر میں بھی اسی ذات سے تمھارے خلاف مدد مانگتا رہوں گا جس نے تمھیں مہلت دی، ہمیں توبہ کی توفیق بخشی اور یقینا وہ پلٹنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔

دیرینہ دوست، ابلیس ملعون کو ملے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سائرہ صلاح الدین

تبصرہ کیجیے