مسلمان

تم تو مسلمان ہو۔۔۔؟

’’ہاں۔‘‘

’’ یعنی کہ دیش دروہی۔اِسی لئے توہم تم کو دستخط نہیں کرنے دیں گے اِس پر۔‘‘

’’تم نے مسلمان مانا مجھ کو۔۔۔۔؟‘‘

’’پکّا مسلمان۔‘‘

’’وہ مسلمان نہیں جومالک ،حاکم اور اپنے ملک کا وفا دار نہ ہو۔‘‘

’’تو پھر اپنے ملک کی ہار پر گولے کیوں داغتے ہو،آتنک کیوں مچاتے ہو۔۔۔؟‘‘

’’یہ سب تم کرتے ہو ،مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے۔‘‘

’’تو پھر بندے ماترم کیوں نہیںکہتے۔۔؟‘‘

’’ہم کہتے نہیں ،کرتے ہیں۔‘‘

’’کب کرتے ہو۔۔؟‘‘

’’تم دیکھتے نہیںکہ ہم چوبیس گھنٹوں میں پانچ وقت کرتے ہیں،یعنی کہ بیاسی بار سجدے،اسی زمین پرتو۔‘‘

’’سجدہ کیا زمین کو کرتے ہو۔۔۔؟‘‘

’’نہیں، زمین کو نہیں،زمین کے پیدا کرنے والے کو۔‘

’’زمین کو کیوں نہیں۔۔۔؟‘‘

’’سجدہ تو ہم اُس کو کرتے ہیں ،جس نے زمین کو پیدا کیا،ہم سب کو پیدا کیا۔‘‘

’’زمین ہماری ماں ہے ،اس کو سجدہ کرو۔‘‘

’’ہمارے مذہب میں سجدے کی اجازت تو اُس ماں کو بھی نہیں،جس ماں نے ہم کو پیدا کیا۔ہم صرف ایک خدا کومانتے ہیں،جس نے ساری دنیا بنائی،بس۔‘‘

’’بس اِسی لیے تو غدّار ہو ملک کے۔دیش دروہی۔‘‘

’’اِتیہاس دیکھو۔۔!ملک کے لیے خون بہایا ہے ہم نے۔جانیں دی ہیں ،جانیں،ہمیشہ ہمیشہ۔پڑھو بھی تو اتیہاس کو۔‘‘

’’کچھ بھی سہی ،لیکن ہم تم کو اِس پر دستخط نہیں کرنے دیں گے۔‘‘

اور ہم اِس پر دستخط کرکے رہیں گے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ آگے بڑھااور کچھ لوگوں نے ایک جُٹ ہو کراُسے پیچھے دھکیل دیا۔اور ’’ماں تجھے سلام‘‘ ابھیان کی گاڑی آگے بڑھ گئی۔

’’یہ نفرت وہ آج ہی سے نہیں، بچپن سے سہتا چلاآرہاتھا۔وہ اس نفرت کے بارے میں اکثر سوچتا،کہ آخر یہ نفرت ہے، تو ہے کیوں۔۔؟ خالق نے توساری کائنات سب کے لیے بنائی ہے۔وہ توسبھی کو پسند کرتا ہے۔اگر وہ کسی کو پسند نہ کرتا تو اُسے بناتاہی کیوں۔۔؟اُس نے تو انسان بنائے ہیں۔ہندو یا مسلمان تھوڑے ہی بنائے ہیں۔یہ جو آج سب کچھ دکھائی دے رہا ہے،صرف اقتدار کے لیے ہی تو ہے۔یہ زمین کے بٹوارے ،شور شرابے،یہ ہندو، وہ مسلمان،یہ ہند، وہ پاکستان ،نفرتیں، خون خرابے، سب کرسیوں کے لیے ہی تو ہیں۔یہ آج انسان سے حیوان بن گیا ہے، اقتدار کے لیے ہی تو،ہے نا۔۔۔!۔ورنہ تو سب ایک ہیں،کچھ بھی تو فرق نہیں ،ایک دوسرے میں۔سارے کے سارے انسان ہیں۔ہاں انسان جب جب انسانیت سے گراتوخدا نے اوتار بھیجے۔اور ان اوتاروں نے انسانیت سے گرے ہوئوں کوپھرانسانیت کی ڈگر پرلے جانے کی کوششیں کیں۔انسان اگر انسانیت سے نہ گرا ہوتا تو شاید کسی اوتارکی ضرورت نہ ہوتی۔خدا تو اپنے بندوں کوانسان بنا کر ہی رکھنا چاہتا ہے۔اُس نے تو سبھی کو بنایا ہے ۔اُسے یہ نفرتیں، یہ خون خرابے ،پسند ہی کب ہیں،وہ تو سب کو ایک دیکھنا چاہتا ہے۔وہ کب چایتا ہے کہ ایک بندہ اُس کے بنائے ہوئے دوسرے بندے سے نفرت کرے، اُس کا خون بہائے۔

یہی سب سوچتے ہوئے تواُس نے اپنی زندگی میں عہدکررکھا تھا کہ وہ انسانیت کی ڈگر پر چل کرآپس میں محبت سے رہنے کی ترغیب دے گا۔لیکن اُسے تو بچپن سے نفرتیں ملی ہیں،اُس نے توسب سے محبت کی، لیکن لوگوں نے اسے مسلمان کہہ کر نظرانداز کیا۔وہ تو ایک باراپنے ایک دوست سوشیل کمار دیکچھت کی خاطر اپنی ماں سے بھی عید کے روز اُس وقت لڑا تھا، جب وہ سوئیاں کھا رہا تھا،اور اُس کے دوست دیکچھت نے اُسی کے پیالے میں سوئیاں کھانے کی کوشش کی تھی، جس پراُس کی ماں نے اُس کے سامنے سے یہ کہتے ہوئے پیالہ اُٹھا لیا تھا،’’نہیں بیٹا، یہ سوئیاں ہندو نہیں کھاتے۔‘‘اور دیکچھت کے ناراض ہو کر چلے جا نے پر وہ ماں سے لڑاتھا،جس پر ماں نے اُسے بتایا تھا کہ جس برتن میں سیکڑوں بار میٹ پک چکا ہے تو میںاُس برتن میںپکی سوئیاں اُس پنڈت کو کیسے کھالینے دیتی ،اب میں جب کورے برتن منگا کر پکائوں ،اور کورے پیالے میںنکال کر دوں، تب تم دونوں ایک ساتھ ایک ہی پیالے میں کھالینا۔پھر ماں نے دوسرے ہی دن کورے برتن منگاکر سوئیاں پکائیںاورجب اُس نے یہ سب دیکچھت کوبتایا توپھردونوں نے بڑی محبت سے ایک ساتھ سوئیاں کھائیں۔

کارگل کی جنگ چھڑتے وقت فوج میں بھرتی کے دوران یہ کہتے ہوئے کچھ لوگوں نے اُسے لائن سے باہر کردیا تھا کہ وہاں کیا پاکستان کی طرفداری میں پلٹ کر مجھ ہی کو مارے گا، غدّار کہیں کا۔اُسی دوران وہ ہر روزکارگل میں سرحد پر خون خرابہ ٹی ،وی پر دیکھ کریہ سوچتے ہوئے پریشان رہتا کہ وہ اپنے ملک کے کس طرح کام آئے۔

ایک روزنیوز میں تھا کہ سرحد پر گھائل ہوئے دیش کے جوانوں کوبچانے کے لیے خون کی بے حد ضرورت ہے ۔دیش پریمی اپنے ملک کے جوانوں کو خون دینے کے لیے ملیٹری ہسپتال فوراً پہنچیں۔اس خبرکے ساتھ جب وہ ہسپتال پہنچا تووہا ںاُس کے علاوہ خون دینے والااور کوئی نہ تھا ۔اُس نے گھوم پھر کر ہسپتال کا جائزہ لیا۔بہت سے جوان بے ہوش پڑے تھے اور کافی تعداد میں درد سے تڑپ رہے تھے،وہ ڈاکٹروں سے رابطہ کر کے اپنانام شری رام بتاکر اُن کے کہنے پرخون دینے کے لیے میز پر لیٹ گیا۔ نرس اُس کا خون لینے کے لیے ڈرپ لگا کر مریضوں میںالجھ گئی۔ نرس نے یک کے بعد دیگرے اُس کا تین بوتل خون لینے کے بعد ڈرپ نکالنے کی کوشش کی، توکسی مریض کے کراہنے کی آواز سن کر اُس نے مزید خون دینے کی التجا کی۔ نرس نے اُس کی ضد پرہاف بوتل خون اور لینے کے لیے ڈرپ چالو کی اور وہ دوسرے مریضوں کی جانب چلی گئی۔ اُس نے آہستہ سے ڈرپ کی اسپیڈ بڑھا کر چادر سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔

نرس کی کرب ناک آوازپر ڈاکٹرنے جلدی سے اُس کے بیڈ کے قریب آکرنبض ٹٹولی ،چہرے سے چادر ہٹا کر آنکھ کی پتلی دیکھی اور چہرے کو چادر سے پھر ڈھاپ کر ڈرپ نکالی تو کلائی پر مسلمان لکھا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حنیف سید

One comment

Leave a Reply