حجاب ہر عورت کا حق ہے یومِ حجاب کا پیغام

ستمبر کا مہینہ اپنے ساتھ شہید ’’مروہ الشربینی‘‘ کی یاد لاتا ہے جن کو ’’شہیدۂ حجاب‘‘ کا لقب دیا گیا۔ ان کا جرم اس کے سوا کیا تھا کہ وہ اپنے شعارِ اسلامی حجاب کو اتارنا نہیں چاہتی تھیں! غیر مسلم معاشرہ جس کو اپنی آزاد خیالی پر ناز ہے اور جو اپنے سیکولر اور لبرل ہونے کا بھی دعوے دار ہے۔ اس کو کپڑے کا ایک ٹکڑا برداشت کرنا مشکل ہوگیا۔ لہٰذا عین عدالت کے کمرے میں انہیں جج کے سامنے شہید کر دیا گیا۔

کپڑے کا یہ ٹکڑا جس کو حجاب کہتے ہیں، مسلم خواتین کا شعار ہے لیکن متعدد مسلم اور غیر مسلم لوگ جو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں وہ اس کے لیے نامناسب الفاظ ہی نہیں بلکہ نا مناسب اور ردعمل کا بھی اظہار کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں حجاب ظلم و ستم اور تقسیم کا نشان ہے۔ اسلام میں تو حجاب پر بحث و مباحثے کی گنجائش نہیں… لیکن مغربی ممالک میں حجاب اسلام کے بارے میں بحث کا ایک آسان ہدف سمجھا جاتا ہے اور اسے لے کر اسلام کو ہدف تنقید ہی نہیں بدنام بھی کیا جاتا ہے۔

حجاب کا عالمی دن ۴ ستمبر کو منایا جاتا ہے اس کا مقصد اس کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ یہ دن غیر مسلم خواتین کو بھی دعوت دیتا ہے کہ وہ روایتی حجاب پہن کر دیکھیں اور اس کے خوش گوار اثرات کو محسوس کریں۔

غیر مسلم معاشرے میں حجاب استعمال کرنے کی تحریک کی ابتدا نیویارک میں ایک خاتون نے کی جس کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا۔ ’’فاطمہ خان‘‘ جس نے سماجی رابطے کی ویٹ سائٹس کے ذریعے اس تحریک کو منظم کیا اور جس نے پوری دنیا میں مسلم اور غیر مسلم خواتین کو متاثر کیا۔

حجاب کا دن غیر مسلم خواتین کے علاوہ ایسی مسلم خواتین کے لیے بھی ایک موقع ہے جو عام طور پر حجاب استعمال نہیں کرتیں، حالاں کہ اس کی افادیت سے واقف ہیں اور دل میں اس کو استعمال کرنے کی خواہش رکھتی ہیں لیکن برسر عام استعمال کرنے میں جھجکتی ہیں۔

فاطمہ خان بتاتی ہیں کہ جب وہ گیارہ سال کی عمر میں بنگلہ دیش سے نیو یارک آئیں تو ان کے ساتھ حجاب کے استعمال کے باعث برا سلوک روا رکھا گیا۔ وہ نیو یارک کے اسکول میں پڑھتی تھیں، انہیں ’’حجابی لڑکی‘‘ کہا جاتا تھا۔ جب وہ مڈل اسکول میں تھیں تو انہیں ’’بیٹ وومن‘‘ یا ’’ننجا‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ پھر ستمبر ۲۰۰۱ء آیا اور اس وقت وہ کالج میں تھیں تو انہیں اسامہ بن لادن یا دہشت گرد کہا جانے لگا۔

مغرب کا معاشرہ حجاب کے بارے میں انتہائی غلط فہمی کا شکار رہا ہے، لہٰذا انہوں نے اس کے لیے مثبت مہم چلانے کا سوچا۔ انہیں یقین ہے کہ ان کی مہم خواتین کے لیے مثبت اثرات کا سبب بنے گی۔ پوری دنیا میں اس بارے میں حمایت موجود ہے۔ برطانیہ، آسٹریلیا، ہندوستان، فرانس اور جرمنی کے درجنوں افراد نے ان سے رابطہ کیا ہے۔

برطانیہ کی نو روچ یونیورسٹی کی اکیس سالہ طالبہ جیسی روڈز ایک ایسی ہی غیر مسلم لڑکی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ان کی دوست نے انہیں حجاب پہننے کا موقع فراہم کیا، پھر اس کے بعد انہوں نے اس کا استعمال شروع کیا۔ جیسی کے مطابق ان کی دوست نے انہیں اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ حجاب استعمال کرنے کے لیے مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے اور ظاہری طور پر ہر عورت کے لیے ایک حفاظتی حصار ہے۔ جیسی ان ہزاروں غیر مسلم خواتین میں سے ایک تھیں جنہوں نے حجاب کے پہلے عالمی دن کے موقع پر حجاب پہنا۔ جیسی بتاتی ہیں کہ پہلے دن حجاب کے استعمال پر ان کے والدین ان کے لیے فکر مند تھے کہ کہیں ان پر حملہ نہ ہوجائے۔ وہ خود بھی اس بارے میں فکر مند تھیں۔ تاہم جب انہوںنے مسلسل آٹھ روز تک حجاب استعمال کیا تو انہیں اس کے مثبت پہلوؤں کے بارے میں پتا چلا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اب میں ہمیشہ حجاب پہننے کی کوشش کرتی ہوں، تاہم میرے خیال میں ایک غیر مسلم عورت ہونے کی وجہ سے یہ اب محض ایک فیشن نہیں ہے کیوں کہ اب مجھے اس کے مثبت پہلو معلوم ہیں۔‘‘

سوشل میڈیا پر اس مہم کو لے کر چلنے والوں کا خیال ہے کہ حجاب کے ساتھ محکوم کے لفظ کا استعمال زیادتی ہے اور وہ اس لفظ کے استعمال پر تنگ آگئے ہیں۔ خواتین کی اکثریت جن میں نو عمر بھی ہیں اور ادھیڑ عمر اور بوڑھی خواتین بھی، اس دعوے کو مسترد کرتی ہیں کہ خواتین حجاب کا استعمال اپنے خاندان والوں کی زبردستی اور اصرار پر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق حجاب کا عالمی دن منانے کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ خواتین حجاب کا استعمال اپنی مرضی سے کرتی ہیں اور اس کے لیے انہیں ہر معاشرے میں مکمل آزادی ہونی چاہیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
غزالہ عزیز

Leave a Reply