3

حجاب حوصلے اور بہادری کی علامت

دنیا میں قوموں کا بگاڑ عموماً دو شکلوں میں ہوتا ہے۔ ایک دولت کے معاملے میں غلط رویہ، اور دوسرے عورت کا درست مقام متعین نہ کرنا۔ لیکن ہر بگاڑ کی اصل وجہ خدائی ہدایت سے انحراف ہے۔ دنیا میں جتنے بھی فساد و بگاڑ ہم دیکھتے ہیں ان کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے عقل کا رشتہ آفاقی تعلیمات سے کاٹ دیا ہے جس کے نتیجے میں انسانی عقل کے بنائے ہوئے قانون جنہیں وحی الٰہی کی روشنی حاصل نہیں ہوتی، افراط و تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں۔

حجاب قرآن و سنت کی راہ نمائی میں عورت کے لیے بہترین انعام ہے۔ اس کی قدر و قیمت کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوگا جب ہم اس معاشرے کی عورت کو دیکھیں جہاں حجاب نہیں ہے۔ وہاں کے قوانین عورت کو آزادی کا پروانہ تو دے سکتے ہیں لیکن تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔ ہر سال بڑھتے ہوئے جرائم بتاتے ہیں کہ ان کے پاس عورت کی عزت و آبرو کی حفاظت کا کوئی عملی طریقہ نہیں۔ مغرب کی یہ عورت مشرق کے حجاب کو ایک پابندی اور اس کی خود مختاری میں رکاوٹ سمجھتی لیکن اگر اسے مشرقی عورت کے تحفظ اور گھر کی ملکہ کی حیثیت کا علم ہو جائے تو وہ واپس آنے کو تیار ہوجائے گی۔ معروف برطانوی صحافی ایوان ریڈی کا کہنا ہے ’’میں حجاب کرنے والی مسلمان خواتین کو دباؤ کا شکار سمجھتی تھی۔ میرا خیال تھا کہ قرآن (نعوذ باللہ) ان کو مارنے اور بیٹی کو دباؤ میں رکھنے کی تعلیم دیتا ہے، لیکن مجھے تو حجاب میں آزادی کا پیغام ملا اور مغرب کے سیاست داں جو حجاب کے خلاف بول رہے ہیں وہ حقیقت میں حجاب کے اسلامی تصور کو جانتے نہیں، وہ اپنی جہالت اور تکبر کی وجہ سے کم عمری کی شادیوں، خواتین سے زیادتی اور غیرت کے نام پر قتل اور زبردستی کی شادیوں کا الزام اسلام کو دیتے ہیں حالاں کہ یہ ثقافتی روایتیں ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

بہت سے ممالک کے مسلمان اور مسلم حکومتیں ان مسائل سے لاتعلق بنی ہوئی ہیں، حالاں کہ اسلام کا حجاب مسلم معاشرہ کی ترقی اور بقا کا ذریعہ ہے۔ اسلام نہ عورت کو گھر میں قید کرتا ہے نہ محبوس کر کے رکھتا ہے بلکہ عورت کو اس کے دائرۂ کار میں پوری آزادی، سہولیات اور تحفظ فراہم کرتا ہے اور حجاب کے ساتھ باہر نکلنے پر اس کی عزت اور توقیر میں اضافہ کرتا ہے۔

ایک جاپانی نو مسلم خولہ گاتا حجاب کے بارے میں کہتی ہیں کہ میرا حجاب مجھے مستعد اور آمادہ کرتا ہے کہ ’’ہوشیار ہوجاؤ‘‘ تمہارا طرزِ عمل ایک مسلم کی طرح ہونا چاہیے‘‘ جس طرح پولیس کا ایک سپاہی اپنی وردی میں اپنے پیشے کا خیال رکھتا ہے اسی طرح میرا حجاب بھی میری مسلم شناخت کو تقویت دیتا ہے۔

نوبل انعام جیتنے والی ایک لڑکی توکل کرمان سے پوچھا گیا کہ آپ حجاب کیوں پہنتی ہیں جب کہ باشعور اور تعلیم یافتہ ہیں؟ تو اس نے کہا: ’’آغاز میں انسان بالکل برہنہ تھا، جب اسے شعور ملا تو اس نے سب سے پہلے اپنے جسم کو ڈھانپا۔ آج جو حجاب کرتا ہے وہ انسانی سوچ اور انسانی تہذیب کے اعلیٰ ترین مقام پر ہے۔ یہ قدامت پسندی نہیں۔ اگر انسان پرانے وقتوں کی طرح کپڑے اتارنا شروع کردے تو یہ قدامت پسندی ہے۔‘‘

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ دور نبوی سے لے کر آج تک حجاب مسلمان عورت کا بنیادی فریضہ رہا ہے۔ وہ حجاب کسی جبر، کسی فیشن کے طور پر یا مردوں کی سختی اور پابندی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اللہ کے حکم اور قانون کی وجہ سے کرتی ہے۔ باہر سے دیکھنے والے کو ہوسکتا ہے اس میں قید یا جیل خانہ نظر آتا ہو لیکن اسلام کے اندر رہنے والا اس میں سکون، خوشی، آزادی اور تحفظ پاتا ہے۔

دورِ جدید میں عورت کو ہدف بنا کر اس کے بنیادی حق کو چھین لینے کی عالمی سازشیں ہو رہی ہیں، بالخصوص نقاب والی عورت کو دہشت گرد، غیر مہذب بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

ثمر قند و بخارا کی تاریخ شاہد ہے کہ کس طرح وہاں جبراً خواتین کو گھروں سے نکالا گیا، ان کے پردے اتروائے گئے، نقاب اور ردے پر پابندی لگائی گئی… اور چوراہوں پر یہ کام ہوتا تھا کہ عورت کے نقاب نوچے جاتے اور چوٹیاں کاٹی جاتیں۔

فرانس کے وزیر داخلہ نے کہا کہ اسکارف عورتوں کو کم تر بنا دیتا ہے۔ فرانسیسی معاشرے میں خواتین کو پاسپورٹ کی تجدید کروانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شمالی عراق میں طالبات کو اسکارف پہننے پر ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے۔ اسکولوں میں باحجاب لڑکیوں کی تضحیک کی جاتی ہے۔ پردہ کرنے والی خواتین کو ملازمتوں کے لائق نہیں سمجھا جاتا۔

ڈنمارک میں اسکارف سے نمٹنے کی یہ صورت نکالی گئی کہ مقابلہ حسن کی طرز پر مقابلہ اسکارف کروا دیا گیا تاکہ ایک مذہبی علامت کو اس کی تقدیس سے محروم کر دیا جائے۔

برطانوی حکومت نے سب سے شرم ناک طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے ایک نام نہاد مسخرے کی خدمات حاصل کرلیں تاکہ وہ حجاب کا تمسخر اڑائے۔

۱۹۶۸ء میں ترکی کے قانون کے مطابق خواتین سر نہیں ڈھانپ سکتی تھیں۔ ایک رکن پارلیمنٹ کو صرف اس لیے حلف لینے سے روک دیا گیا کہ اس نے اسکارف پہنا ہوا تھا۔ سیکولر پارلیمنٹ کے ارکان ۳۰ منٹ تک چلاتے رہے ’’آؤٹ… آؤٹ۔‘‘ ایک طالبہ قانون سے بغارت کرتے ہوئے جب سر ڈھانپ کر یونیورسٹی گئی تو اسے ادارے سے باہر کر دیا گیا۔

جب ۸۰ سال کے بعد اسکارف پہننے کی اجازت ملی تو ترکی کے اخباروں نے لکھا کہ اسکارف پہننے کی اجازت دینا درست نہیں، اس سے دینی رجحان پیدا ہوگا، اسکارف کے استعمال سے ذہنی نشو و نما پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور خطرہ ہے کہ اسکارف کی اجازت… چادر تک جا پہنچے گی۔

ان تمام پابندیوں، تعذیب کے باوجود اسکارف کرنے والی خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اب حجاب حوصلے اور بہادری کی علامت بن چکا ہے۔ حکمراں اس اضافے پر حیران ہیں۔ وہ مغربی معاشرے میں مسلم عورت کی بڑھتی ہوئی دینی بیداری اور شعور کو دیکھ کر خوف زدہ ہیں۔

بلاشبہ ان کے لیے یہ خطرے کی بات ہے کہ ڈھائی فٹ کا یہ کپڑا اسکارف وہ قوت رکھتا ہے جس سے پارلیمنٹ میں قانون سازی کروائی جاسکتی ہے یا ترکی میں تین فٹ کا کپڑا حکومت کی برطرفی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس وقت اس نام نہاد آزاد معاشرے میں حجاب کو برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک مضبوط نظریاتی قوت کے ساتھ خواتین میدان عمل میں آئیں اور مغرب کی بے وجہ تنقیدوں کا عملی جواب فراہم کر کے یہ ثابطت کردیں کہ پردہ پچھڑے پن کی علامت نہیں بلکہ عورت کے تحفظ اور وقار کی علامت ہے اور آج کے اس دور میں جہاں عورتوں کے خلاف جرائم کا سیلاب ہے، اس کی شدید ضرورت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حمیرا خالد

تبصرہ کیجیے