3-jan-gjhgjhjh

لاک ڈاؤن اور حجاب اسلامی

گذشتہ چند مہینوں میں لاک ڈاؤن کے دوران کووڈ -19 کے سبب دنیا نے کیا کچھ جھیلا، اور خاص طور پر ہمارے ملک ہندوستان میں لوگوں پر کیا گزری اس کا ہر شخص گواہ ہے۔ انسانی زندگی جیسے قید میں تبدیل ہوگئی تھی اور معاشی زندگی ٹوٹ پھوٹ کی ایسی شکار ہوئی کہ ابھی تک پٹری پر نہیں آسکی ہے۔
آپ کا اور ہمارا ’حجاب اسلامی‘ بھی اس وباء کے بعد کے حالات سے اسی طرح متاثر ہوا جس طرح ملک کا ہر شہری، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ کہ معاشی زندگی تو کئی ماہ پہلے ہی سرکنے لگی تھی مگر حجاب اسلامی کے نکالنے کی صورت پیدا نہ ہوسکی۔ اس کی بنیادی وجہ ملک میں معاشی بدحالی تھی جس کے سبب رسالے کے مارکیٹنگ ایگزیکٹیوز کام کے لیے نہیں جاسکے اور جہاں گئے وہاں سے اشتہارات کا حصول ممکن نہ ہوسکا جو رسالے کے لیے ضروری تھا۔ جبکہ اللہ کے فضل و کرم کے نتیجے میں نومبر 2003ءجب سے حجاب اسلامی دہلی سے جاری ہوا، سترہ سال کی اس مدت میں کبھی ایک شمارہ بھی ناغہ نہ ہوا تھا۔ اب اپریل 2019ء کے بعد ہم جنوری 2020ء کا شمارہ آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے قابل ہوسکے ہیں حالانکہ اندیشے اور مشکلات ابھی بھی سامنے ہیں۔
ان آٹھ مہینوں میں ہم نے اور ہمارے کارکنان نے بڑے شدید حالات کا سامنا کیا ہے اور چیلنجز ابھی بھی قائم ہیں۔ حجاب اسلامی ہی کیا پورے ملک کے پرنٹ میڈیا کی حالت نہ گفتہ بہ ہے۔ بڑے بڑے اخبارات کا کیا حال ہے آپ انھیں دیکھ کر ہی سمجھ سکتے ہیں۔کیونکہ عام پرنٹ میڈیا سے الگ ہٹ کر حجاب اسلامی ایک تعمیری اور اصلاحی مشن ہے اور اس کے دس ہزار سے زیادہ قارئین اس مشن کے حصے دار ہیں، اس لیے ہم یہ امید کرتے ہیں کہ کسی بھی مشکل وقت کے چیلنجز کا ہم سب مل کر مقابلہ کرسکیں گے اور اس مشن کو جاری رکھیں گے۔ ان شاء اللہ!
لاک ڈاؤن سے پہلے جو حجاب اسلامی کے خریدار حضرات رہے ہیں ہم نے ان کی مدت خریداری ناغہ کی مدت یعنی آٹھ ماہ آگے بڑھا دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن خریداروں کے جتنے شمارے اپریل 2019ء تک باقی تھے وہ جنوری 2020ء سے اتنے ہی آگے بڑھا دیے جائیں گے۔
اب جبکہ ہم اپنے تمام خریداران کو میگزین ارسال کررہے ہیں انہیں یہ سمجھ لیناچاہیے کہ لاک ڈاؤن کی مدت میں نہ ملنے والے رسالوں کا نقصان انہیں نہیں دیا جائے گا۔
ڈاک کا نظام پہلے ہی سے بہت سست واقع ہوا تھا، اب اس میں مزید کمزوری کا پورا امکان ہے، اس لیے ہم اپنے قارئین حضرات سے یہ درخواست کریں گے کہ وہ اس شمارے کے ملنے یا نہ ملنے کی اطلاع ادارے کو آفس کے نمبر پر ضرور دیں تاکہ ہمیں اطمینان ہوجائے اور نہ ملنے کی صورت میں رسالہ دوبارہ ارسال کیا جاسکے۔
امید کی جاتی ہے کہ قارئین حجاب اسلامی کا تعاون ہمیں پہلے سے زیادہ حاصل رہے گا جس کی ضرورت بھی ہے۔ یہ واضح کردینا بھی مناسب ہے کہ فی الحال مالی خسارے کو کم سے کم رکھنے کی غرض سے اس ماہ کے رسالے میں 16 صفحات کم دیے جارہے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی خوش خبری دی جاسکتی ہے کہ آئندہ دو تین ماہ میں آپ کو ایک شاندار ’خصوصی‘ شمارہ بھی ملنے والا ہے جس سے ہم یہ توقع کرسکیں گے کہ لاک ڈاؤن کے دوران جو کچھ ہمیں پڑھنے کو نہیں ملا، اس کی بھرپائی اس شمارے کے مضامین اور مشمولات یقینا کریں گے۔ آپ انتظار کیجیے، اگلے ماہ اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
کسانوں کی تحریک
کئی ماہ پہلے پارلیمنٹ میں بغیر بحث کے صرف صوتی ووٹ کے ذریعہ حکومت نے زرعی اصلاحات کی غرض سے جو تین بل پاس کیے تھے، ان کی مخالفت میں پورے ملک میں کسانوں کی تحریک گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہے۔ ہریانہ، پنجاب، راجستھان، اترپردیش اور ملک کی دیگر ریاستوں سے آئے کسان دہلی کے باڈروں پر مسلسل احتجاج کررہے ہیں، جبکہ کسانوں کا یہ احتجاج دیگر ریاستوں میں ضلعی و ریاستی سطحوں پر بھی کیا جارہا ہے۔
ان تینوں قانونوں کا خلاصہ اگر بیان کیا جائے تو یہ ہے کہ ایک قانون کسان کو ملنے والی MSPیعنی کم از سپورٹ پرائس کا خاتمہ کرنے کا اندیشہ ذہن میں پیدا کررہا ہے۔ اسی طرح دوسرا قانون کنٹریکٹ فارمنگ کا تصور دیتا ہے اور ایک اور قانون ’جمع خوری‘ جو اب تک اخلاقی اور قانونی جرم قرار دیا جاتا تھا، اسے قانونی بناتاہے۔ کسانوں کی مانگ یہ ہے کہ ان تینوں قوانین کو فوراً واپس لیا جائے۔ جبکہ حکومت اس بات سے انکار کرتے ہوئے کسانوں کو یہ بھروسہ دلانے کی کوشش کررہی ہے کہ یہ قوانین بہت اچھی طرح سوچ سمجھ کر بنائے گئے ہیں اور گزشتہ دسیوں سال سے جاری زرعی نظام کی اصطلاحات میں کارگر ہیں، جن سے کسانوں کا فائدہ ہے اور یہ وہی اصلاحات ہیں جن کا کسان گزشتہ دسیوں سال سے مطالبہ کرتے آئے تھے۔ اسی اختلاف کے سبب حکومت اور کسانوں کے درمیان ایک ’ٹکراؤ‘ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ کسان اپنی مانگ پر بہ ضد ہیں اور حکومت قوانین واپس نہ لینے کی سوچ پر اڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور کسانوں کے درمیان ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی۔ تینوں قوانین کا ڈرافت دیکھ کر کوئی بھی یہ اندازہ بخوبی لگاسکتا ہے کہ حقیقت میں یہ قوانین ہیں کیا۔ جبکہ کسان حکومت کے گزشتہ رپورٹ کارڈ کو دیکھ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت اس سلسلے میں اسی طرح کی جملہ بازی کررہی ہے جیسی اس نے 15 لاکھ روپئے کے سلسلے میں کی اور جیسی ’دیش نہیں بکنے دوں گا‘ کے بارے میں کی۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ قوانین کسانوں کو سرمایہ دار گھرانوں کے ہاتھ فروخت کرنے کی کوشش ہیں۔
دوسری طرف کچھ لوگوں نے، جو حکومت کے حمایتی تصور کیے جاتے ہیں، اس طرح کی بے بنیاد باتیں کہنی اور میڈیا میں پھیلانی شروع کردیں کہ جو کسان احتجاج کررہے ہیں وہ دراصل کسان ہیں ہی نہیں بلکہ وہ خالصتانی اور ماؤوادی ہیں اور چین و پاکستان کی شہ پر ایسا کررہے ہیں۔ یہ باتیں حکومتی سطح پر بھی بعض ذمہ دار حضرات کی جانب سے کہی گئی ہیں جن کے سبب کسانوں کے درمیان ایک الگ قسم کے بے چینی پیدا ہوئی اور ہوسکتا ہے کہ اس قسم کی غلط بیانی ہی ٹکراؤ کا سبب بنی ہو یا مستقبل میں بن جائے۔ کچھ لوگ اسے مذہبی رنگ دے کر کسانوں کے احتجاج کے بجائے ’سکھوں‘ کا احتجاج باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یوپی، راجستھان اور ہریانہ کے احتجاج کرنے والے کسان ’سکھ‘ برادری کے نہیں ہیں،وہ محض کسان ہیں اور کسانوں کے مفاد کے تحفظ کے لیے جمع ہوئے ہیں اور ہورہے ہیں۔
کسان’ملک کا اَن داتا‘ کہا جاتا ہے اور زراعت سے ہندوستان کی ستر فیصد کے قریب آبادی وابستہ ہے۔ معاشی نظریہ سے یہ بڑی اکثریت کی روزی روٹی اور روزگار کا ذریعہ ہے اور ایسے وقت میں جب کہ معیشت تباہ حال ہے اور جی ڈی پی منفی رخ پر سفر کررہی ہے زراعت کے سیکٹر کو کسی بھی قسم کا نقصان ملک کی معیشت اور ملک کی بڑی آبادی کی ’زندگی‘ کو بھک مری کے کگار پر لاکھڑا کرسکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ملک کی معیشت کا ہر طرح سے تحفظ کیا جانا چاہیے۔ ایسے میں سنگھو بارڈر پر احتجاج میں شریک ایک 13 سالہ لڑکی کے الفاظ بڑے اہم ہیں جو اس نے ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہے کہ وہ اتنی چھوٹی ہیں! پھر یہاں کیوں آئی ہیں؟ اس کا جواب تھا کہ یہ اصل چیلنج تو آنے والی نسلوں کے لیے ہی ہے اور انہی کی زندگی کو تباہ کرنے والا ہے اور ہم ہی وہ اگلی پہلی نسل ہیں جو اس سے متاثر ہونے جارہی ہے۔
’لَو جہاد‘ کے خلاف قانون
نام نہاد ’لَو جہاد‘ کے خلاف جیسے ہی اترپردیش کی حکومت نے ’آرڈیننس‘ جاری کیا ویسے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی دیگر ریاستوں کے درمیان اس طرح کی قانون سازی کے لیے ’ہوڑ‘ جیسی کیفیت دیکھنے کو ملنے لگی، جبکہ اترپردیش کی ہائی کورٹ پہلے ہی اپنے ایک فیصلے میں یہ کہہ چکی تھی کہ کسی بھی بالغ لڑکے یا لڑکی کو اپنی پسند کی شادی سے نہیں روکا جاسکتا اور اب آج کل ہی میں مرادآباد ضلع کے ایک مسلم خاندان کے دو بھائیوں کو ضمانت دیتے وقت بھی یوپی ہائی کورٹ نے اسی طرح کی بات کہی اور اس قانون کی ’صحت‘ کے سلسلہ میں داخل ایک عرضی پر سنوائی کے لیے اگلی تاریخ دے دی۔
اس بات سے کوئی مشکل ہی سے انکار کرسکے گا کہ اس قانون کا یوپی میں بڑے پیمانے پر ایک مذہبی طبقہ کو ٹارگیٹ کرنے کے لیے بھرپور استعمال کیا گیا اور اس کے ذریعہ مذہبی منافرت پیدا کی گئی۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس قانون کا مقصد ہی یہ تھا اور ایسا ہی ہوا بھی۔
ہم بین المذاہب شادی کو سماجی اور دینی ہر دو اعتبار سے غلط اور نامناسب تصور کرتے ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں اور ساتھ ہی اس بات کو بھی تسلیم نہیں کرتے کہ درحقیقت ’لَو جہاد‘ نام کا کوئی وجود ہندوستانی معاشرے میں ہے بھی۔ اس کے برخلاف یہ ایک سماجی اور معاشرتی مسئلہ ہے جس کا سبب والدین کی اولاد کی تربیت اور ذہن سازی میں ناکامی ہے اور اس کے مختلف اسباب گنائے جاسکتے ہیں۔ بین المذاہب شادیوں کو جس طرح ایک مذہبی طبقے کے سرمنڈھ کر نفرت کی سیاست کا کھیل کھیلا جارہا ہے وہ ملک کے سماجی و معاشرتی تانے بانے بکھیرنے کا ذریعہ ہے اور ایسا نہیں کیا جانا چاہیے۔
’لوجہاد‘ کو اگر حقیقی تناظر میں دیکھا جائے یہ ’برعکس لو جہاد‘ ہے۔ یہ ’برعکس لو جہاد‘ مسلم لڑکوں کے ذریعہ غیر مسلم لڑکیوں کو ’’پھنسانے‘‘ کا نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ واقعات اس کے شاہد ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس قانون کے ذریعے جو بھی ٹارگٹ بنے وہ اقلیتی طبقہ کے افراد اور خاندان تھے اور اس کے شر سے وہی متاثر بھی ہوئے، لیکن ہمارے خیال میں اس شر کے بطن سے اقلیتی طبقہ کو ایک خیر بھی حاصل ہوا اور مزید ہوگا۔اس پر ہم چند باتیں عرض کرنی چاہتے ہیں۔
ایک آئی اے ایس جو ٹاپرس کی فہرست میں تھے اور خاصے’اسلامی‘ تھے، ٹریننگ کے دوران اپنی ایک کلیگ کے ہاتھوں دل گنوا بیٹھے اور پھر وہی ’برعکس لوجہاد‘ ہوا۔ اسی طرح ایک اور آئی اے ایس جو ٹاپرس کی فہرست میں تھے اور جن کا اب طلاق کا معاملہ میڈیا میں بھی آیا، ٹریننگ کے دوران اسی طرح ایک ’یا دو‘ فیملی کی ٹاپر آئی اےایس کے ہتھے چڑھ گئے۔ یہ بھی ’برعکس لوجہاد‘ ہوا۔ ایک اور مثال میرے پڑوس کی ہے جہاں ایک نوجوان ملک کی ممتاز کمپیوٹر کمپنی میں منیجر کے عہدے پر کام کرتے تھے ایک ’’شرما‘‘ فیملی کی لڑکی سے ’متاعِ دل‘ ہار بیٹھے۔ یہاں بھی وہی ہوا۔ گھر والوں نے لاکھ سمجھایا مگر ’محترمہ کا جاود‘ سر چڑھ کر بولا۔
ہم نے عرض کیا ہے کہ اس شر سے کچھ خیر برآمد ہوگا اور وہ یہ کہ پڑھے لکھے، تعلیم یافتہ اور معاشی اعتبار سے خوش حال لڑکے جو چھن جایا کرتے تھے اور جس کے سبب پڑھی لکھی مسلم لڑکیاں شادیوں کے سلسلے میں معاشرتی دشواریوں کا شکار ہوتی تھیں وہ سلسلہ تو کم ہوگا۔ ہم جانتے ہیں کہ اس طرح کے معاملات کی کیفیت ’آٹے میں نمک‘ سے بھی کم رہی ہوگی اور یقینا ہے بھی مگر ہمیں اس پر اطمینان ہے کہ اس طرح مسلم معاشرہ اس کیفیت سے بھی محفوظ ہوسکتا ہے اور اس طرح کی شادیوں سے ہونے والے خاندانی اور معاشرتی مسائل سے بھی بچ سکتا ہے اور پڑھی لکھی مسلم لڑکیوں کو ’ان کا حق‘ دلانے میں بھی معاون ہوگا اور والدین کو اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ بھی بنے گا۔
شمشاد حسین فلاحی

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے