دنیا میں سونا کتنا ہے؟

ذرا خود کو ایسا زبردست ولن سمجھیے جو دنیا میں موجود تمام سونے پر قابض ہو جاتا ہے۔ پھر آپ طے کرتے ہیں کہ اس سونے کو مکعب (Cube)کی شکل دی جائے۔ کیا کئی سو کلومیٹر موٹی اور لمبی ؟ جی نہیں‘ آپ نے غلط اندازہ لگایا۔ ماہرین کا کہنا ہے دنیا بھر کے سونے کو مکعب کی شکل دی جائے‘ تو وہ بآسانی ایک گھر میں سما جائے گا۔ درج ذیل حقائق دلچسپ انکشاف کرتے ہیں۔

دنیا میں ہر سال قریباً پانچ کروڑ ٹرائے اونس سونا کانوں سے نکالا جاتا ہے۔ (ایک ٹرائے اونس برابر 31.103گرام یا 2.488تولہ)۔ سونے کی کثافت اضافی 19.3 (Specific gravity)ہے۔ یعنی وہ پانی سے 19.3کلو زیادہ وزن رکھتا ہے۔ گویا ایک لیٹر سونا 19.3کلو وزنی ہوتا ہے۔

ایک لیٹر مکعب (Cube)چاروں طرف سے 10سینٹی میٹر (چار انچ)سائز رکھتا ہے۔ اور ایک کلو سونا 32.15ٹرائے اونس پر مشتمل ہوتا ہے۔ گویا دنیا میں ہر سال اتنا سونا نکلتا ہے جس کامکعب چودہ فٹ لمبا چوڑا ہو گا۔ گویا کانوں سے نکلنے والا سالانہ سونا ایک عام کمرے میں بآسانی سما سکتا ہے۔

درج بالا مکعب کا وزن 1,555.219کلو ہو گا۔ یہ سطریں قلم بند ہوتے وقت عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی کلو قیمت 44,531ڈالر تھی۔ گویا ہر سال کانوں سے قریباً 69ارب 255کروڑ ڈالر کا سونا نکالا جاتا ہے۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 69کھرب 225 ارب روپے بنتی ہے۔ یہ رقم زیادہ ہے مگر اسے غیرمعمولی نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً امریکا میں اس سال محکمہ تعلیم کا بجٹ 71کھرب روپے ہے جب کہ امریکی افواج کو 672کھرب روپے دیے گئے۔ اسی طرح بھارت کا جنگی بجٹ 39کھرب روپے جبکہ پاکستان کا ساڑھے چھ کھرب روپے رہا۔

کتنا سونا نکل چکا؟

تاہم یہ اندازہ لگانا کٹھن مرحلہ ہے کہ معلوم انسانی تاریخ میں کانوں سے کتنا سونا نکالا جا چکا۔ اس ضمن میں ماہرین مختلف اندازے لگاتے ہیں۔ مثلاً ایک ماہر نے یہ تخمینہ لگایا کہ پچھلے دو سو برس سے پانچ کروڑ اونس سالانہ سونا نکل رہا ہے۔

بظاہر یہ مقدار زیادہ لگتی ہے۔ مگر یہ ملحوظ خاطر رہے کہ قدیم مصریوں اور جنوبی امریکا کے باشندوں نے بڑی مقدار میں کانوں سے سونا نکالا تھا۔ مثلاً صرف توتخ آمن کے مقبرے ہی سے 1.5ٹن سونا نکلا۔ لہٰذا درج بالا سونے کی مقدار مناسب لگتی ہے۔

اب پانچ کروڑ کو دو سو سے ضرب دیجیے۔ دس ارب سونے کا مکعب چاروں طرف سے قریباً 25میٹر 82)فٹ(لمبا چوڑا ہو گا۔ گویا یہ مکعب ہاکی کے 25فیصد میدان میں بآسانی سما جائے گا۔

لیکن درج بالا مقدار سے سبھی ماہرین اتفاق نہیں کرتے۔ بعض کا خیال ہے کہ پچھلے پانچ ہزار برس میں پچیس لاکھ ٹن سونا نکل چکا۔ (ایک ٹن برابر ایک ہزار کلو)۔ بعض ماہرین کے خیال میں یہ مقدار محض پونے دو لاکھ ٹن ہے۔ پچیس لاکھ ٹن کا طلائی مکعب 59میٹر 166)فٹ(لمبا چوڑا ہو گا۔ درج بالا تخمینہ برطانیہ کے ایک ادارے‘ گولڈ سٹینڈرڈ انسٹی ٹیوٹ کا ہے۔ یہ ادارہ سونے کی ماہیئت و خرید و فروخت پر تحقیق کرتا ہے۔ اس کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر دنیا بھر میں تجوریوں‘ الماریوں اور ڈبوں میں محفوظ سونا نکال لیا جائے‘ تو اس کا وزن 25لاکھ ٹن بنے گا‘ا گرچہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ محض اندازہ ہے۔

اچھی اور بری خبر

سب سے پہلے اچھی خبر! امریکی جیالوجیکل سروے کا اندازہ ہے کہ دنیا کی کانوں میں اب بھی 52ہزار ٹن سونا محفوظ ہے اور حضرت انسان آنے والی صدیوں میں اْسے بھی نکال لیں گے۔ یاد رہے‘ فی الوقت سب سے زیادہ سونا چین میں نکلتا ہے۔ 2012ء میں وہاں سے 370ٹن سونا نکالا گیا۔ اس کے بعد آسٹریلیا (250)‘ امریکا (230)‘ روس (205)‘ جنوبی افریقا (170)‘ پیرو (165)‘ کینیڈا (102)اور انڈونیشیا (95)کا نمبر آتا ہے۔ پچھلے سال کل 2700ٹن سونا نکالا گیا تھا۔

بْری خبر یہ ہے کہ سونے کا استعمال اب انقلابی تبدیلی سے گزرنے لگا ہے۔ پچاس ساٹھ برس قبل تک جتنا بھی سونا نکلتا تھا‘ وہ کسی نہ کسی شکل میں قابل استعمال رہتا تھا۔ لیکن اب لاکھوں الیکٹرونکس اشیا میں سونے کے ذرات استعمال ہو رہے ہیں۔ چونکہ ان ذروں کو دوبارہ حاصل کرنا بڑا مہنگا عمل ہے۔ لہٰذا ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ طلائی ذرات مٹی کچرے میں مل کر ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جائیں گے۔

گویا تاریخ انسانی میں پہلی بار سونا اب واقعی ’’استعمال‘‘ ہونے لگا ہے۔ واضح رہے‘ دنیا میں سب سے زیادہ سونا ملک بھارت میں درآمد کیا جاتا ہے۔

پچھلے سال بھارتیوں نے ’’860ٹن‘‘ سونا درآمد کیا تھا اور اس سال ماہ مئی تک وہ 500ٹن منگوا چکے ہیں۔ بھارتی حکومت بھارتیوں کی سونے سے محبت پر خاصی پریشان ہے کیونکہ اْسے قیمتی زرمبادلہ خرچ کرکے سونا منگوانا پڑتا ہے۔ اسی لیے اس سال بھارتی حکومت نے سونے کی درآمد پر لگا ٹیکس 6فیصد سے بڑھا کر 8فیصد کر دیا ہے تاکہ بھارتیوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

سونے سے بھی مہنگا معدن

جی ہاں پلاٹینیم سونے سے زیادہ مہنگا معدن ہے۔ عالمی منڈی میں ایک کلو پلاٹینیم کی قیمت 48113 ڈالر 48) لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ اس کی کثافت اضافی 21.45ہے یعنی یہ معدن پانی سے 21.45گنا زیادہ وزنی ہے۔

پلاٹینیم بیسویں صدی میں نکلنا شروع ہوا۔ ہر سال کانوں سے قریباً 36لاکھ ٹرائے اونس پلاٹینیم نکلتا رہا ہے‘ تو اب تک نکلا ہوا سارا معدن 6.3میٹرمکعب میں آئے گا۔ یہ مکعب بھی صرف ایک گھر میں سما جائے گا۔ واضح رہے‘ پلاٹینیم کی کانیں روس‘ امریکا‘ جنوبی افریقا‘ کینیڈا اور کولمبیا میں واقع ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
شمس الدین

Leave a Reply