2

غزل

پتہ پتہ سہما ہے، لرزاں ڈالی ڈالی ہے

وہ جو ننگ گلشن تھا، آج چمن کا مالی ہے

برق وشرر کی حرکت سے سہمے ہیں ہیں مرغان چمن

جانے کس کے نشیمن پر، بجلی گرنے والی ہے

دل کے بند دریچوں پر خوف نے ڈیرے ڈالے ہیں

امن کا سورج ڈوبا ہے، رات بڑی ہی کالی ہے

کانٹا بن کر پھول چبھے، وقت بر ا وہ آیا ہے

پردے میں تعمیر کے اب، گلشن کی پامالی ہے

خون سے پھر معصوموں کے، ہولی کھیلی جائیگی

تیغ ستم پھر قاتل نے، ہاتھوں میں سنبھالی ہے

بدلا ایسا رنگ چمن، چھائے ہرسو زاغ وزغن

نعرہ ہے خوش حالی کا، رقص کناں بدحالی ہے

سوچیں کیا ہے اپنی خطا، ہوش میں آئیں اہل چمن

درد ہوا ہے اور سوا، کیسی ہم نے دوا لی ہے

پردے غفلت کے آخر، چاک کریگا کون ضیاؔ

اقبالؔ نہیں، آزاد ؔ نہیں، نہ شبلیؔ ہے، نہ حالیؔ ہے

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن ضیاؔ مدنی

تبصرہ کیجیے