غیبت:بدترین گناہ

اے ایمان والو! زیادہ گمانوں سے بچا کرو، بیشک بعض گمان (ایسے) گناہ ہوتے ہیں (جن پر اخروی سزا واجب ہوتی ہے) اور (کسی کے عیبوں اور رازوں کی) جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم اس سے نفرت کرتے ہو اور (اِن تمام معاملات میں) اللہ سے ڈرو،بےشک اللہ توبہ کو بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔(سورۃ الحجرات،۱۲)
اس آیت میں ایک بڑی شخصی کمزوری اور معاشرتی برائی اور اس کی سنگینی کا ذکر ہے جس سے ہم سب لوگ متاثر ہی نہیں بلکہ اس برائی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
آج ہمارے معاشرے میں متعدد اقسام کی بیماریاں سرایت کرگئی ہیں،ان بیماریوں میں سے ایک اہم بیماری غیبت ہے ۔ یہ ایسی بیماری ہے جو عوام ہی نہیں، بلکہ سماج کے بااثر اور ذی شعور طبقے کو بھی لاحق ہوگئی ہے اور اس با ت کا انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ان سے کوئی اس قدر مذموم حرکت سرزد ہورہی ہے جسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے جیسا قرار دیا گیا ہے۔
سب سے پہلے تو یہ جان لیا جائے کہ غیبت کسے کہتے ہیں ،تاکہ اس سے بچنا ممکن ہو سکے؟ غیبت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کے سامنے کسی کی ذاتی برائیوں اور کوتاہیوں کا اس طور پر تذکرہ کیا جائے ،جب وہ اسے سنے تو برا جانے ،جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا ’’تم جانتے ہو کہ غیبت کیاہے ؟‘‘ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اپنے مسلمان بھائی کاذکر اس طرح کرناکہ وہ اسے ناگوار گزرے‘‘، لوگوںنے کہا: اگروہ برائی اس میں موجود ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگراس کے اندر وہ برائی موجود ہوتو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ برائی اس کے اندر موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔‘‘(صحیح مسلم)
غیبت ایک بھیانک جرم ہے اور اس کے معاشرے پر بڑے خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کیونکہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے عیوب کی تشہیر کرکے اس کی آبروریزی کی جائے ،حالانکہ یہ سراسر حرام ہے،لیکن اگر کسی شخص میں کوئی ایسی برائی موجود ہو جس سے دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں لوگوں کو اس شخص کی برائی سے مطلع کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔مثلاً کسی نے اپنے گھر سے کسی خانساماں یا ڈرائیور کو چوری یا غیر اخلاقی سرگرمیوں کی وجہ سے نکال دیا ہے اور اسے یہ پتا چل چکا ہے کہ اس خانساماں یا ڈرائیور کو اس کے کسی پڑوسی یا رشتے دار نے اپنے پاس ملازم رکھ لیا ہے تو ایسی صورت میں اس پر اپنے پڑوسی یا رشتے دار کو اس کی عادت سے مطلع کرنا ضروری ہے۔
یہاں جس غیبت کی ممانعت کی بات ہو رہی ہے ،وہ کسی مسلمان کی ذاتی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی تشہر کر کے اس کی آبروریزی کرنا ہے۔جسے اللہ تعالیٰ نے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں موجود ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں غیبت کو مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دے کر اس فعل کی کراہیت کا احساس دلایاہے ،مردار کا گوشت کھانا بجائے خود نفرت کے قابل ہے ،اور وہ گوشت بھی کسی جانور کا نہیں ،بلکہ انسان کا ہو اور انسان بھی کوئی اورنہیں خوداپنا بھائی ہو۔ قرآن کریم نے غیبت سے منع کیا اور ہمارے سامنے ایک ایسی چیز کا تصور پیش کیا جس کے تصور سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسے بھائی کا تصور پیش کیا جو اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہے۔
معاشرے پر اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ افراد کے دل آپس میں ایک دوسرے سے پھٹ جاتے ہیں اور نفرت و عداوت جنم لیتی ہے۔ باہمی خوشگوار تعلق کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور تعاونِ باہمی، خیرخواہی اور باہمی الفت و اتحاد کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ جبکہ اسلام اور اس کی تعلیمات ان خوبیوں کا تحفظ اور فروغ چاہتے ہیں۔
غیبت کے بے شمار اسباب ہو سکتے ہیں، غصے کی حالت میں ایک انسان دوسرے انسان کی غیبت کرتا ہے۔لوگوں کی دیکھا دیکھی اور دوستوں کی حمایت میں غیبت کی جاتی ہے۔ انسان کو خطرہ ہو کہ کوئی دوسرا آدمی میری برائی بیان کرے گا، تو اسے لوگوں کی نظروں سے گرانے کے لئے اس کی غیبت کی جاتی ہے۔ کسی جرم میں دوسرے کو شامل کر لینا حالانکہ وہ شامل نہ تھا، یہ بھی غیبت کی ایک صورت ہے۔
انسان کی شخصی کمزوریاں اسے اتنا شدید نقصان نہیں پہنچاتیں جتنا غیبت اس کی شخصیت اور آخرت کو نقصان دیتی ہیں۔ یہ بیماری انسان کو سماج میں رسوا اور آخرت میں مفلس بنانے کے لیے کافی ہے۔ انھی اثرات و نتائج کی وجہ سے اسے اس قدر گھناؤنا عمل قرار دیا گیا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ بیماری جتنی سنگین ہے اسی قدر لوگ اس سے غیر محتاط بھی نظر آتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ سماج کا ہر فرد اس سے آگاہ رہے اور اپنے آپ کو اور اپنی آخرت کو محفوظ بنانے کی فکر کرے۔

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer

One comment

Comments are closed.