زندگی ریٹائرمنٹ کے بعد

ہمارے یہاں کچھ سرکاری نوکریوں کی عمر کی حد ساٹھ(۶۰) سال ہے اور کچھ میں پینسٹھ (۶۵)سال اورملٹی نیشنل کمپنیوں یا بعض دوسرے اداروں میں ڈائریکٹر وغیرہ کی ستّر( ۷۰) سال ہے۔ اس کے بعد آدمی کو ریٹائر کر دیا جاتا ہے۔

ریٹائرمنٹ میں نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی نوکری سے ریٹائر ہونے کے بعدعملی طور پر کچھ کرتا نہیں بلکہ زندگی کے بقیہ سال صرف اللہ، اللہ کر کے گزارنا چاہتا ہے اور بس۔ یہ بھی عجیب بات ہے اللہ اور موت کی یاد ریٹائرمنٹ کے بعد آتی ہے۔

سمجھتے ہیں کہ داڑھی رکھنا اور عبادت کرنا بڑھاپے کا عمل ہے۔ جب ساٹھ سال گزارنے کے بعد سب کچھ کر لیتے ہیں یا پھر مسجد کا خصوصی اہتمام ،داڑھی کا بڑھا لینا ،خیرات و زکوٰۃ میں دلچسپی سماجی خدمت اور لوگو ں یا بچوں کو پکڑ پکڑ کر سمجھانا اور روک ٹوک مچانا ان کا معمول بن جاتا ہے۔

اکثر بزرگ اس رویہ کو اس لیے اختیار کرتے ہیں کہ ماضی کے گناہوں کی تلافی کی جاسکے۔یہ بھی مگر بڑا عجیب لگتا ہے کہ جانتے بوجھتے ایسا عمل آخر کیا ہی کیوں جائے کہ بعد ازاں اس کی تلافی کرنی پڑے اور اگر اس دوران بیچ ہی میں رخصت ہو گئے تو اس کا موقع بھی نہیں ملے گا۔جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ بیماری سے پہلے صحت کو،مشغولیت سے پہلے فرصت کو،تنگ دستی سے پہلے فراخی کو ،بڑھاپے سے پہلے جوانی کو اور موت سے پہلے زندگی کو۔

(المستدرک علی الصحیحین:۴ /۳۰۲)

حقیقت یہ ہے کہ جس عمر میں لوگ ریٹائر ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیں ،وہی وقت معاشرے اور ملک کو کچھ واپس دینے کا ہوتا ہے کیونکہ ریٹائر ہونے کے بعد انسان بہت ساری پابندیوں سے آزاد ہو جاتا ہے اور وہ زیادہ بہتر طریقے سے اپنی دلچسپی کے میدان میں باآسانی خدمات انجام دے سکتا ہے۔

ویسے بھی جب آدمی خود کو ریٹائر سمجھ کر گھر میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ بے شمار ذہنی و جسمانی بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے کیوں کہ وہ خود کو بے کار اور دوسروں کے لیے ایک بوجھ سمجھتا ہے اورقدرت کا اصول ہے کہ جب کوئی انسان اپنے کو بے کار اور دوسروں پر بوجھ سمجھ بیٹھے تو وہ ذہنی ،جسمانی اور جذباتی طور پر ختم ہونے لگے گا ۔

خصوصاً اس وقت جب بیٹے اور بیٹیاں ان کوپوچھتے نہ ہوں تو گھر کی محبت اور توجہ سے محروم ہو جاتے ہیںتو ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے بیشتر بزرگ نہایت ہی غصہ ور اور تلخ طبیعت کے مالک ہو جاتے ہیں۔

قرآن و حدیث میں اس سلسلے میں جگہ جگہ رہ نمائی کی گئی ہے کہ انسان اس دنیا میں بیٹھ کر صرف اللہ ،اللہ کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے ،بلکہ اسے اس دنیا میں مختلف طرح کے کام بھی انجام دینے ہیں۔ ارشادِ ربانی ہے:

’’اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔‘‘ (الروم:۲۳)

ایک اور جگہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

’’اور دن کو معاش کا وقت بنایا۔‘‘ (النبا:۱۱)

ان آیات میں عمر کی کوئی قید نہیں لگائی گئی ۔اس لیے کہ نہ تو دین اور دنیا کوئی الگ الگ چیز ہے اور نہ ہی دنیا حاصل کرنے میں کوئی عمر متعین کی گئی ہے۔دنیا کو دین کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق حاصل کرنا بھی عبادت ہے۔اگر ہم پیغمبرانہ زندگی کا جائزہ لیں تو تمام پیغمبر کسی نہ کسی طرح کا پیشہ اپنائے ہوئے تھے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو پوری دنیا کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔آپؐ نبی تھے اور دین کی تبلیغ و اشاعت کا عظیم فریضہ آپؐ کو انجام دینا تھا، لیکن اس کے باوجودآپؐ نے دنیاوی کاموں میں بھی حصہ لیا ۔گھر کے سارے کام آپؐ خود انجام دیتے تھے۔مسجد نبوی کی تعمیر میں آپؐ نے بذاتِ خود ۵۳ سال کی عمر میں حصہ لیا ،خندق کی کھدائی میں آپؐ نے بھی صحابہ کرامؓ کے ساتھ حصہ لیا۔اسی طرح تمام صحابہ کرامؓ محنت و مشقت کر کے روزی کماتے تھے۔وہ جہاں ایک طرف نمازیں پڑھتے اور ذکر و اذکار کرتے تھے وہیں دوسری طرف تجارت، کھیل، سیر و تفریح وغیرہ کرتے تھے اور یہ ان کے نزدیک کوئی معیوب بات بھی نہیں تھی۔ان کے یہاں ریٹائرمنٹ کا کوئی تصور نہ تھااور نہ ہی عمر کبھی ان کی ترقی کی راہ اور کام کو انجام دینے میں رکاوٹ بنی ۔حضرت ابوایوب انصاریؓ نے اسّی( ۸۰) سال کی عمر میں جہاد کیا تھا۔

ان آیات و حدیث سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہبی نظام ہے جو دنیا و آخرت اور جسمانی و روحانی دونوں نظام کو ایک ساتھ لے کر چلتا ہے اور جس میں ریٹائرمنٹ کا کوئی تصور نہیں ہے کیوں کہ اس کے بعد زندگی ختم نہیں ہو جاتی اور نہ ہی کام ختم ہوتے ہیں۔اس لیے جب تک انسان کی صحت ،طاقت اور غوروفکر کرنے کی صلاحیت باقی ہو اس وقت تک اسے حسبِ استطاعت سرگرم رہنا چاہیے۔ جو لوگ پوری جوانی سے لے کر ساٹھ پینسٹھ سال کی عمر کو اللہ یاد سے غافل ہوکر گزارتے ہیں ان کے لیے تو گویا ریٹائرمنٹ زندگی کی سرگرمیوں کا اختتام نہیں بلکہ شروعات ہوتی ہے۔ اور انہیں بقیہ زندگی اس شعور کے ساتھ گزارنی چاہیے۔

ریٹائر منٹ کے بعد کے کام

یہ بات اہمیت نہیں رکھتی ہے کہ آپ نے کتنی لمبی عمر پائی بلکہ اہم بات یہ ہے کہ آپ نے اپنی زندگی کو کہاں اور کس طرح کھپایا؟ اور اسی کوقیامت کے دن پوچھا جائے گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اللہ رب العزت کے پاس سے اس وقت تک نہیں ہٹ سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزو ں کے متعلق نہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے عمر کس چیز میں صرف کی،جوانی کہاں خرچ کی،مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور جوکچھ سیکھا اس پر کتنا عمل کیا۔ (ترمذی)

اس لیے ہم سب کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے اور اگر ان سب کا شروع میں نہیں حق ادا کر سکے تو ریٹائرمنٹ کے بعد اب جو فرصت ملی ہے اس کو غنیمت جانا جائے اور سب کاحق ادا کیا جائے۔چند اہم کام درج ذیل ہیں۔

صحت کا خصوصی خیال رکھنا

اسلام مسلمانوں کو دوسروں کے مقابلے میں نمایاں اور ممتاز دیکھنا چاہتا ہے۔اس لیے وہ لباس اور صحت پر بھی خصوصی توجہ دیتا ہے کہ ایک مومن کا جسم پر کشش اور طاقت ور ہو۔ویسے بھی صحت اچھی رہے گی تب ہی انسان کچھ کر سکے گا۔ظاہر ہے ایسا اس وقت ہی ممکن ہوگا جب انسان کھانے پینے میں اعتدال سے کام لے اور یہی اسلام کو مطلوب بھی ہے۔ارشادِ ربانی ہے:

’’کھاؤ ،پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو ،اللہ تعالی حد سے بڑھنے والے کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (الاعراف:۳۱)

حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں :

’’کھانے پینے میں زیادتی سے بچو،کیوں کہ بسیار خوری سے جسم میں خرابی آتی ہے ،بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور نماز میں تساہلی اور سستی پیدا ہو جاتی ہے۔کھانے پینے میں میانہ روی سے کام لو کیوں کہ اس سے جسم درست رہتا ہے ،بیماری نہیں آتی ۔اللہ تعالی پیٹو اور موٹے شخص کو پسند نہیں کرتا،آدمی اس وقت تک ہر گز ہلاک نہیں ہوتا جب تک اپنی شہوت کو اپنے دین پر ترجیح نہ دے‘‘۔ (کنزالعمال:۸/۴۷)

دینی علوم میں اضافہ

اگر نوکری کے درمیان مصروفیت نے دینی تعلیم سے روکے رکھا تھا تو اس عمر میں اس کو جاننے اور سیکھنے کی کوشش کی جائے اور عمر اس میں رکاوٹ نہ بنے ۔امام ابوعمرو بن علاءؒ سے کسی شخص نے سوال کیا :

آدمی کو کب تک علم حاصل کرتے رہنا چاہیے؟ فرمایا: ’’جب تک اس کی زندگی وفا کرے۔‘‘ (جامع بیان العلم لابن عبد البر:۱/۹۶)

اسی طرح امام عبداللہ بن المبارکؒ سے کسی نے پوچھا : آپ کب تک علم حاصل کرتے رہیں گے؟ فرمایا: مو ت تک،اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ جو بات میرے حق میں مفید ہو اسے اب تک نہ حاصل کر سکا ہوں۔ (جامع بیان العلم لابن عبد البر:۱/۹۶)

’’اور دعا کروکہ اے پروردگار!مجھے مزید علم عطا فرما۔‘‘ (طہ:۱۱۴)

گھر کا ماحول خوش گوار رکھنا

ریٹائر افراد کا زیادہ تر وقت گھر میں ہی گزرتا ہے ۔عمر کے تقاضے کی وجہ سے ان میں برداشت کا مادہ کم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ گھر کی عورتوں، بچوں اوردیگر افراد پر وقت بے وقت ناراض ہوتے رہتے ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے ہیں ۔اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔بہتر ہوگا کہ ان کی نفسیات کو سمجھیں اور بجائے سختی،ڈانٹ ڈپٹ اور جبر و تشدد کے شفقت،محبت ،ہمدردی اور خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ورنہ حقیقتاًیہ ہوگا کہ آپ کی موجودگی میں تو مؤدب بن کر رہیں گے، لیکن غیر موجودگی میں ہر وہ کام ہوگا جسے آپ ناپسند کرتے ہیں۔

ساتھ ہی بچوں ،بچیوں کو اپنی بات کہنے کی پوری آزادی دی جائے، ان کے تمام معاملات کو دوست سمجھ کر حل کیا جائے اور انعام و اکرام کے ذریعہ ان کے اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔اس سے وہ خوش بھی رہیں گے اور دل سے خدمت و احترام کریں گے۔

موجودہ دور میں عموماً والدین جاب پر ہوتے ہیں اور وہ صبح کے نکلے شام کو لوٹتے ہیں تو گھر کے بچوں اور بچیوں کی صحیح تربیت نہیں ہو پاتی ہے ۔اس کمی کو گھر کے ریٹائر افراد پوراکر سکتے ہیں۔وہ ان کے کتب و رسائل،دوست احباب،خواہشات ،محفلوں، موبائل اورانٹرنیٹ کی سرگرمیوں سے خصوصی توجہ دیںتاکہ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کام یاب ہو سکیں ۔اسی کو قرآن نے کہا: ’’ائے ایمان والو! بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے۔‘‘ (التحریم:۶)

بعض بزرگوں کا خیال ہوتا ہے کہ بچوں اور بچیوں سے ہنسی مذاق یا کھیل کود نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ اس سے وہ ان کی نظر میں کم حیثیت ہو جائیں گے یاان کی صحیح تربیت نہیں ہو پائے گی۔ یہ غلط سوچ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسوں اور بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے۔ایک مرتبہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

جس کا کوئی بچہ ہو اسے اس کے ساتھ کھیل کود کرنا چاہیے۔(کنز العمال:۴۵۴۱۳)

اس سے بچوں میں خود اعتمادی آتی ہے اور ان کے اندر بھی رحم اور ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

ایک اور جگہ آپ ؐ نے فرمایا:

’’ ہر وہ امر جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے خالی ہو غفلت ہے یا بھول، سوائے چار باتوں کے۔تیر اندازی کے ہدف کے درمیان دوڑنا،گھوڑے کی تربیت کرنا، تیراکی سیکھنا اور گھر والوں کے ساتھ خوش وقتی کرنا‘‘(الطبری:۶)

عورتوں کے ساتھ بھی محبت اور شفقت سے پیش آنے کی اسلام نے تعلیم دی ہے اور اس پر ثواب بھی بتایا ہے۔ حدیثِ نبوی ہے:

تم اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوئے جو کچھ بھی خرچ کرو گے اس پر تمہیں اجر ملے گا،یہاں تک کہ اس لقمہ پر اجر پاؤ گے جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو گے۔

ہمارے یہاں تو یہ انا کے خلاف بات ہو جائے گی۔ (بخاری:۴۴۰۹)

رشتے داروں کے حقوق ادا کرنا

اگر نوکری اور مصروفیت نے رشتہ داروں سے دور کر دیا تھا تو اب جو فرصت ملی ہے تو ضروری ہے کہ ان کے حقوق ادا کیے جائیں اور ان کے کام آیا جائے۔قرآن کریم میں رشتہ داری نبھانے اور اس کا خیال رکھنے کی مختلف مقامات پر تعلیم دی گئی ہے۔ارشادِ ربانی ہے:

’’اور اس اللہ سے ڈرو،جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے(اپنے حق)مانگتے ہو اوررشتہ داری اور قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔‘‘ (النساء:۰۱)

ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

’’رشتہ داروں کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق اور فضول خرچی نہ کرو۔ (بنی اسرائیل:۲۶)

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (مسلم:۲۵۵۶)

ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا:

بغاوت اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں جو اس لائق ہو کہ اس کا ارتکاب کرنے والے کو اللہ تعالی آخرت میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دے۔ (ترمذی:۲۵۱۱)

صلہ رحمی کے مختلف طریقے ہیں جیسے مال سے مدد کرنا، خیرخواہی، ہمدردی اور محبت سے پیش آنا، ملاقات کرنا،مسکرا کر خوش دلی سے ملنا،سلام کرنا، تحفہ دینا،تعاون و ایثار کرنا اورعیادت کرنا وغیرہ۔اس میں پہلے ماں پھر والد پھر قریب ترین رشتے داروں کا خیال رکھا جائے گا۔نبی کریمؐ نے فرمایا:

اللہ تعالی تمہیں ماؤں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے،پھرماؤں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے،پھرماؤں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے، پھر باپوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے،پھر قریب ترین رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے۔(ابن ماجہ:۳۶۶۱)

اللہ کے رسولؐ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا:

’’رشتوں کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘

رفاہِ عامہ کے کام

صحیح معنوں میں ایک مسلمان شخص لوگوں کا خیر خواہ ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے ہر ممکن کام آتا ہے۔جیسا کہ حدیثِ نبوی ہے:

’دین خیر خواہی کانام ہے۔‘ (صحابہ کہتے ہیں)ہم نے عرض کیا :کس کے لیے؟فرمایا:اللہ کے لیے ،اس کی کتاب،اس کے رسول،مسلمانوں کے ائمہ اور عام مسلمانوں کے لیے۔ (مسلم:۵۵)

ایک اور جگہ آپؐ نے فرمایا:

’’آدمی کو چاہیے کہ اپنے بھائی کی مدد کرے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم،اگر ظالم ہو تو اس کو ظلم سے باز رکھے، یہی اس کی مدد ہے اور اگر مظلوم ہو تو اس کی مددکرے۔‘‘ (مسلم:۲۵۸۴)

ریٹائر افراداپنے پیشے ،وقت ،سہولت اور جمع خرچ کے لحاظ سے محلے اور آس پاس کے علاقوں میں رفاہ عامہ کے کام انجام دے سکتے ہیں۔جسیے غریب کے بیٹی کی شادی میںمدداور کم زوروں کی تعلیمی ترقی (پروفیشنل اور غیر پروفیشنل )، قانونی،مالی امداد، حکومت کے ذریعہ ملنے والی اسکیموں کی جان کاری اور معلومات ان کے مستحقین تک پہنچانا، صحت سے متعلق بیداری اور مسابقاتی امتحانات کی تیاری اور ناخواندگی و جہالت میں وہ اہم اور کلیدی رول ادا کر سکتے ہیں۔

خواتین جو بطور ٹیچر ریٹائر ہوئی ہوں وہ اپنے گھر،محلے اورآس پڑوس کی طالبات یا بڑی عمر کی ناخواندہ خواتین کو بھی تعلیم دیں تاکہ کم از کم وہ دین کی بنیادی باتیں پڑھ اور سیکھ سکیں۔ایسے ہی کمپیوٹر،سلائی کڑھائی اور کوکنگ وغیرہ کی بھی تعلیم دی جا سکتی ہے۔ بلکہ ریٹائرڈ مرد و خواتین کیوں کہ پنشن کی وجہ سے مالی اعتبار سے مطمئن ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنی ژلاحیتوں کو زیادہ یکسوئی کے ساتھ سماج کی خدمت میں لگا سکتے ہیں۔ اور مسلم سماج تو یوں بھی تعلیم و معیشت کے ہر دو میدانوں میں پسماندندہ سماج ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مرد و خاتون عمر کے اس مرحلہ میں آکر سماجی خدمت اور تعلیمی ترقی و بیداری کا ایک مستقل ادارہ بن جائے اور اپنے آس پاس کے ماحول کو اپنی کوششوں اور تجربہ کے ذریعہ تبدہ کردے۔ ان رفاہِ عامہ کے کاموں کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ مرنے کے بعد بھی فاعل کو اس کا ثواب ملتا رہے گا۔جیسا کہ حدیث نبوی ہے:

جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل موقوف ہو جاتا ہے مگر تین چیزوں کاثواب جاری رہتا ہے ۔ایک صدقہ جاریہ کا،دوسرے اس کے علم کا جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں ،تیسرے نیک اولاد کا جو اس کے لیے دعا کرے۔ (مسلم:۴۲۲۳)lll

شیئر کیجیے
Default image
اسامہ شعیب علیگ

Leave a Reply