3

خطبہ حجۃ الوداع

تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ہم اس کی حمدوثنا کرتے ہیں، اور اسی سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں اور اسی کی جناب میں ہم توبہ کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس کی شرارتوں اور اعمال کی برائیوں سے اللہ جل شانہٗکی پناہ چاہتے ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا کرے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جس کو وہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت پر نہیں لاسکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسولؐ ہیں۔

اللہ کے بندو! میں تم کو وصیت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی، اور تمھیں آمادہ کرتا ہوں اس کی اطاعت پر، اور میں بہتر بات (حمد و ثنا) سے اپنے کلام کا افتتاح کرتا ہوں۔

وصال کی خبر: (حمدوستائش کے بعد) لوگو! میری بات سنو! تمھیں زندگی ملے گی، میں (آج) تم لوگوں سے صاف صاف باتیں کرتا ہوں، اس لیے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میں اور آپ لوگ میرے اس سال کے بعد میرے اس مقام پر آئندہ کبھی باہم جمع نہ ہوسکیں گے (یعنی میرا وصال ہوجائے گا)۔

دجال: ایک حقیقت: پھر آپؐ نے مسیح دجال کا طویل ذکر فرمایا، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو مبعوث فرمایا، اس نے اپنی اْمت کو دجال سے ڈرایا۔ چنانچہ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا۔ اسی طرح ان کے بعد آنے والے تمام انبیا علیہم السلام نے اپنی اپنی اْمت کو اس سے خوف دلایا۔ بلاشبہ وہ تمھارے درمیان نکلے گا، پس تم پر اس کی کوئی حالت مخفی نہ رہے، پس پوشیدہ نہ رہے تم پر یہ بات کہ وہ دائیں آنکھ سے کانا ہوگا، گویا کہ وہ آنکھ گردش کرنے والا انگور کا دانہ ہے۔ خبردار! تم پر اس کی کوئی حالت مخفی نہ رہے، (اس کے بعد دومرتبہ تاکیداً فرمایا) کہ یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ تمھارا پروردگار کانا نہیں ہے۔

جان و مال کا احترام: لوگو!آج کون سا دن ہے؟ تمام حاضرین نے جواب دیا: یوم محترم۔ پھر آپؐ نے دریافت فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے؟ سب نے کہا: بلدمحترم۔ اس کے بعد آپؐ نے دریافت فرمایا کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ سب نے کہا کہ یہ ماہِ محترم ہے۔ آپؐ نے فرمایا: بلاشبہ تمھارے خون اور تمھارے مال، تمھاری عزتیں، تمھارے ابدان اور تمھاری اولاد باہم ایک دوسرے کے لیے محترم ہیں۔ یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو، اسی طرح جیسے تمھارا آج کا دن تمھارے اس مہینے میں، تمھارے اس شہر میں واجب الاحترام ہے۔ بلاشبہ تم عنقریب اپنے رب سے جاملو گے، پھر وہ تم سے تمھارے اعمال کے بارے میں بازپْرس کرے گا۔ سنو! میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ (راوی کہتے ہیں کہ) ہم نے جواباً عرض کیا: ہاں پہنچا دیا، آپؐ نے فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔

امانت داری و حق پرستی: جس شخص کے پاس کسی کی کوئی امانت ہو اْسے چاہیے کہ اس کی امانت ادا کرے، قرض ادا کیا جائے، عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کی جائے۔ دودھ کے لیے گالی ہوئی اْونٹنی دودھ سے استفادے کے بعد واپس لوٹائی جائے، اور ضامن ضمانت کا ذمہ دار ہے۔

رسومِ جاہلیت کی تنسیخ: خبردار! تمام اْمورِ جاہلیت میرے ان قدموں کے نیچے پامال ہیں، اور ہر سودی معاملہ کالعدم ہے، اور تمھیں اپنی اصل پونجی لینے کا حق ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر کوئی ظلم کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ سودی معاملے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اور جو سود میرے چچا حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب کا وصول طلب ہے، سب سے پہلے میں وہ تمام کا تمام ختم کرتا ہوں۔ اور عہدِ جاہلیت کے خون بہا ساقط ہیں، اور جو قصاص جاہلیت اپنے خاندان کا وصول طلب ہے، یعنی ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا خون بہا، سب سے پہلے میں اْن سے دست بردار ہوتا ہوں (ان کے خون کا انتقام نہیں لیا جائے گا) جو کہ قبیلہ بنولیث میں زیرپرورش تھے، کہ قبیلہ ہذیل کے آدمیوں نے ان کو قتل کردیا۔

اور تمام آثارِ جاہلیت، خوں بہا، پانی اور کسی کی طرف مال کا جھوٹا دعویٰ سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے پامال ہیں، البتہ بیت اللہ شریف کی تولیت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کا منصب برقرار رہے گا، اور قتلِ عمد پر قصاص ہے، اور شبہ عمد جو لاٹھی یا پتھر سے قتل کیا جائے، اس میں سو اْونٹ کی دیت ہے۔ پس جس نے تعدّی کی وہ اہلِ جاہلیت میں سے ہے۔ سنو! کیا میں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا؟ اے اللہ! گواہ رہ۔

قوم کو نصیحت: اے جماعت قریش! یہ نہ ہو کہ (قیامت میں) تم دنیا کا بوجھ اپنی گردنوں پر اْٹھاکر لائو اور لوگ (سامان) آخرت لے کر آئیں۔ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمھارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔

اے قریشیو! اللہ تعالیٰ نے تم کو جاہلیت کی نخوت اور غرورِ نسب سے پاک کردیا ہے۔

انسانی مساوات و معیارِ فضیلت: لوگو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ ایک ہے۔ سب کے سب آدم علیہ السلام (کی اولاد ہو) اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے (پیدا کیا گیا ہے)۔ (پھر آپؐ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی) اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت (آدم و حوا علیہما السلام) سے پیدا کیا ہے اور تمھیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ خداترس ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا دانا اور بڑا باخبر ہے۔ نہ کسی عربی کو عجمی پر برتری حاصل ہے اور نہ کوئی عجمی کسی عربی پر فضیلت رکھتا ہے، نہ سیاہ فام سرخ فام پر فوقیت رکھتا ہے، نہ سرخ فام سیاہ فام پر۔ فضیلت و برتری کا معیار صرف تقویٰ پر ہے۔ کیا میں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا؟ اے اللہ! تو گواہ رہ۔ حاضرین نے جواب دیا: ہاں۔

ابلیس کی مایوسی: لوگو! حقیقت یہ ہے کہ شیطان قطعی مایوس ہوچکا ہے اس بات سے، کہ کبھی اس کی تمھاری اس سرزمینِ عرب میں پرستش کی جائے، لیکن وہ اس بات پر راضی ہے کہ عبادت کے سوا دوسرے ان اعمال میں اس کی اطاعت کی جائے جن کو تم (گناہ کے اعتبار سے) معمولی خیال کرتے ہو۔ اپنے دین کے معاملے میں اس سے چوکنا رہو۔

اسلامی تقویم: لوگو! امن کے مہینے کو ہٹاکر آگے پیچھے کردینا کفر میں اضافہ کرنا ہے۔ اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں کہ ایک سال تو اْس (مہینے) کو حلال سمجھ لیتے ہیں، اور دوسرے سال حرام، تاکہ ادب کے مہینوں کی جو خدا نے مقرر کیے ہیں، گنتی پوری کرلیں۔ پس اس طرح جسے خدا نے حرام کیا ہے اس کو حلال کرتے ہیں اور جسے اللہ نے حلال کیا ہے اْسے حرام کرلیتے ہیں (چنانچہ) وہ ایک سال ماہِ صفر کو حلال کرلیتے ہیں (اور دوسرے سال حرام)، اور ماہِ محرم کو ایک سال حرام سمجھتے ہیں (اور دوسرے سال حلال)۔

زمانہ چکر کاٹ کر اسی ہیئت پر آگیا ہے جس ہیئت پر کہ اْسے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق کے دن بنایا تھا، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد 12 ہے(جن کا ذکر) کتاب اللہ میں ہے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت سے، ان میں سے چار مہینے محترم ہیں۔ تین یکے بعد دیگرے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہیں، اور ایک الگ رجب ہے جو جمادی الاول اور شعبان کے درمیان میں ہے۔ یہی دین قیم ہے، پس آپس میں ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔ سنو، کیا میں نے پیغام پہنچایا؟ اے اللہ گواہ رہ۔

حقوقِ زوجین: اے لوگو! تمھاری بیویوں کا تمھارے ذمے حق ہے اور تمھارا ان پر حق ہے۔ تمھارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمھارا فرش تمھارے غیر سے نہ رندوائیں (بالخصوص جن کو تم بْرا سمجھتے ہو [یہ قید اضافی ہے] اور کسی ایسے شخص کو تمھارے گھر میں داخل نہ ہونے دیں، جس کو تم ناگوار سمجھتے ہو، اِلاّ یہ کہ تمھاری اجازت ہو۔ اور وہ کوئی کھلی بے حیائی کی بات نہ کریں، اور کسی امر خیر میں نافرمانی نہ کریں، پس اگر تمھیں ان کی طرف سے سرکشی کا خوف ہو تو اللہ رب العزت کی طرف سے تمھیں اجازت ہے کہ ان کو نصیحت کرو، اور مجبور کرو، اور ان کی خواب گاہوں سے علیحدگی اختیار کرلو، اور انھیں مارو، ایسی مار جو شدید نہ ہو، کہ جس سے نشان پڑ جائے، پھر اگر وہ (کسی مرحلہ میں) باز آجائیں، اور تمھاری اطاعت کرنے لگیں، تو وہ شرعی قاعدے کے مطابق نان و نفقہ کی حق دار ہیں۔

عورتوں کا مقام اور تقدس: بلاشبہ عورتیں تمھارے پاس مقید ہیں کہ وہ اپنی ذات کے لیے کسی چیز پر قادر نہیں، (یعنی محکوم ہیں)، اور بلاشبہ تم نے ان کو بہ امان اللہ حاصل کیا ہے (یعنی حق تعالیٰ کا ان سے عہد امان ہے) اور ان کو اپنے اْوپر خدا کے کلمات (احکام) کے ساتھ حلال کیا ہے، لہٰذا خواتین کے باب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو (یعنی ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو)۔

اخوتِ اسلامی:آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے (دو مرتبہ تاکیداً) ارشاد فرمایا: اپنے غلاموں سے اچھا سلوک کرو، ان کو وہی کھلائو جو تم کھاتے ہو، اور وہی پہنائو جو تم پہنتے ہو۔ اگر وہ ایسا گناہ کربیٹھیں جسے تم معاف کرنا نہیں چاہتے ہو تو اللہ کے بندو! انھیں فروخت کردو، اور ان کو عذاب نہ دو۔ سنو، کیا میں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا؟ اے اللہ گواہ رہ۔

اطاعتِ امیر: لوگو! اپنے امیر کی بات سنو، اور اس کی اطاعت کرو، اگرچہ تم پر کسی حبشی غلام کو جو مقطوع الانف ہو، امیر بنا دیا جائے، جب کہ وہ تمھارے معاملات میں کتاب اللہ کو نافذ کرے۔

کتاب و سنت کی بنیادی حیثیت: سمجھ سے کام لو لوگو! اور میری بات سنو، میں نے تم لوگوں تک حق تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا، اور میں تمھارے درمیان روشن چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ اگر تم نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو کبھی گمراہ نہ ہو گے، یعنی کتاب اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، پس تم اس پر عمل پیرا رہو۔

انسدادِ ظلم و خیانت: لوگو! میری بات سنو، بلاشبہ میں نے پیغام رسانی کا فرض ادا کردیا، اسے سمجھو، تاکہ تم جان لو کہ ہرمسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور تمام مسلمان باہم بھائی بھائی ہیں، کسی شخص کے لیے اپنے بھائی کا مال حلال نہیں ہے، اِلاّ یہ کہ وہ خوش دلی سے اس کو کچھ دے دے۔ خبردار! کسی عورت کے لیے یہ روا نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ دے دے۔ سنو! کیا میں نے پیغام پہنچا نہیں دیا؟ اے اللہ گواہ رہ۔

خانہ جنگی کی مذمت: خبردار! میرے بعد کفر کی طرف نہ پلٹ جانا، اس طرح کہ تم میں سے بعض مسلمان بعض دوسرے مسلمانوں کی گردن کاٹنے لگیں۔ سنو! کیا میں نے لوگوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا نہیں دیا؟ اے اللہ گواہ رہ۔

حقوق کا تعین: اے بنی آدم! اللہ جل شانہٗ نے ہر حق دار کا حق رکھا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کے لیے میراث کا حصہ مقرر فرما دیا ہے۔ اب کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں (یعنی اب کوئی شخص اپنے وارث کے لیے میراث کے معاملے میں کوئی وصیت نہ کرے، ورثا کو ان کے مقررہ حصہ شرعی کے مطابق حصہ ملے گا)، اور (کسی شخص کے لیے کسی غیروارث کے حق میں) اپنے تہائی مال کی مقدار سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں۔

قانون حفاظت ِ ناموس: خبردار! بچہ اس شخص کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ، اور زانی کے لیے پتھر ہیں، اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔

فریب دھی اور ناسپاسی کی مذمت: سنو! جس نے نفرت کے باعث اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کی جانب خود کو منسوب کیا (یعنی قومی نسبت تبدیل کی)، یا کسی غلام نے اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا بنایا، اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ اس سے کوئی فدیہ قبول نہیں فرمائیں گے۔

قانونی تحفظ:غور سے سنو! کوئی مجرم جرم نہیں کرتا مگر اس کی اپنی ذات پر ہے، خبردار! کوئی مجرم جرم نہیں کرتا ہے کہ جس کی ذمہ داری اس کے بیٹے پر ہو اور نہ کوئی بیٹا جرم کرتا ہے جس کی ذمہ داری اس کے والد پر ہو۔

اعلانِ ختم نبوت:لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور نہ تمھارے بعد کوئی اْمت وجود میں آئے گی۔ سنو! بلاشبہ میری دعوت کے سوا ہر نبی کی دعوت ختم ہوچکی کہ میں نے اس کو اپنے پروردگار کے پاس قیامت تک کے لیے جمع فرما دیا ہے (یعنی اب کسی اور کو عطا نہ ہوگی)، یہ حقیقت ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام (قیامت کے دن) کثرتِ تعداد پر فخر کریں گے، پس تم مجھ کو (اپنی بداعمالی سے) رْسوا مت کرنا، میں حوضِ کوثر کے دروازے پر تمھارے انتظار میں رہوں گا۔

اسلام کے بنیادی ستون:سنو! اپنے رب کی عبادت کرو، نمازِ پنجگانہ ادا کرو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو، اپنے اموال کی زکوٰۃ خوش دلی کے ساتھ ادا کرو (اور ایک روایت میں ہے) اور اپنے پروردگار کے گھر کا حج کرو، اور سربراہوں کی اطاعت کرو، اور اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہوجائو۔

صدقہ کی تلقین:راوی نے فرمایا کہ (اسی خطبے میں) آپؐ نے ہم کو صدقے کا حکم فرمایا، پس آپؐ نے ارشاد فرمایا: صدقہ کرو اس لیے کہ شاید تم مجھ کو میرے اس سال کے بعد نہ دیکھ سکو (میرے ہی سامنے صدقہ کردو تاکہ میں تمھارا گواہ بن جائوں)۔

میقاتِ احرام: اور آپؐ نے اہلِ یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر فرمایا کہ وہ اس مقام سے احرام باندھ کر تلبیہ پڑھ کر چلیں، اور اہلِ عراق کے لیے ذات عرق کو میقات قرار دیا، اہلِ مشرق کے لیے، (راوی کو اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ آپؐ اہل عراق فرمایا یا اہلِ مشرق)۔

کمالِ ایمان و اسلام:میں تم کو آگاہ کرتا ہوں، مسلمان کون ہے؟ مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں، میں تم کو خبر دیتا ہوں مومن کون ہے؟ مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و مال کے باب میں مامون رہیں، اور میں تم کو بتاتا ہوں، مہاجر کون ہے؟ مہاجر وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ بْرائیوں کو ترک کردے، اور مجاہد وہ ہے جس نے اللہ کی اطاعت کی راہ میں اپنے نفس سے جہاد کیا۔

ایذا رسانی کی مذمت:اور مومن کی ذات (جان و مال) مومن پر حرام ہے جیسے اس دن کی حْرمت، اس پر اس کا گوشت حرام ہے کہ وہ جسے غیبت کے ذریعے کھاتا ہے، اور مومن کی عزت اس پر حرام ہے کہ وہ اس کو خراب کرے، اور مومن کا چہرہ اس پر حرام ہے کہ وہ اس کو طمانچہ مارے، اور مومن کی ایذا اس پر حرام ہے کہ وہ اس کو ایذا دے، اور حرام ہے اس پر کہ وہ مومن کو تکلیف رسانی کے لیے دھکا دے۔

نازش بے جا کا سدِّباب: اللہ تعالیٰ کے ذمہ ڈال کر قسمیں نہ کھائو (مثلاً یہ کہ قسم ہے اللہ کی وہ ضرور فلاں کام کرے گا) اس لیے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے ذمہ قسم کھائی، اللہ تعالیٰ اس کا جھوٹ ظاہر کردے گا۔

حصولِ شھادت:اور حق تعالیٰ کے حضور مجھ سے بھی بازپْرس ہوگی اور تم سے بھی، اور تم سے میرے (پیغام رسانی کے) بارے میں سوال کیا جائے گا، بتائو کیا جواب دو گے؟ سامعین نے عرض کیا: ہم گواہی دیں گے کہ آپؐ نے (اللہ تعالیٰ کا پیغام اور اس کے احکام) پہنچا دیے، اور تبلیغ کا (رسالت کا) حق ادا کردیا، اور نصیحت و خیرخواہی کی تکمیل فرما دی، پس آپؐ کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور یہ کہ جنت برحق ہے، اور جہنم برحق ہے اور موت برحق ہے اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اہلِ قبور کو زندہ کرے گا۔ حاضرین نے جواب دیا کہ ہاں ہم ان باتوں کے گواہ ہیں، اس کے بعد آپؐ نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اْٹھاتے ہوئے اور لوگوں کے مجمع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔

بشارت و انذار:بعدازاں ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں حوضِ کوثر پر تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں اور تم بھی اس حوض پر پہنچو گے، وہ ایسا حوض ہے کہ اس کی وسعت، بصرہ سے مقامِ صنعا کے مابین مسافت کے برابر ہے، اس پر ستاروں کی تعداد کے برابر چاندی کے گلاس ہیں، اور جس وقت تم حوضِ کوثر پر آئو گے تو میں ثقلین (کتاب و سنت) کے متعلق تم سے سوال کروں گا، پس سوچ لو کہ تم ان دونوں کے باب میں کیسی جانشینی کرو گے۔ ثقل اکبر:کتاب اللہ ہے، اس کے ایک کنارے کا سرشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارا تمھارے ہاتھ میں ہے، پس اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو، راہِ راست سے نہ ہٹو، اور نہ اس کو تبدیل کرو، اور میرے عترت میرے اہلِ بیت ہیں اور خدائے لطیف و خبیر نے مجھے آگاہ فرما دیا ہے کہ وہ دونوں (کتاب و عترت) کبھی جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ وہ حوضِ کوثر پر وارد ہوں۔

بلاشبہ صدقہ (زکوٰۃ) نہ میرے لیے حلال اور نہ میرے اہلِ بیت کے لیے، (اور بطور مثال و تاکید) آپؐ نے اپنی اْونٹنی کی گردن کے متصل پیٹھ سے ایک بال پکڑا اور فرمایا کہ قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ اس بال کے برابر اور ہم وزن زکوٰۃ بھی ان کے لیے جائز نہیں۔

امت مسلمہ کا منصب:اور ارشاد فرمایا، کہ جو اس وقت موجود ہے وہ میرا پیغام اس تک پہنچا دے جو موجود نہیں ہیں، ممکن ہے وہ شخص جسے بات پہنچائی جائے وہ بات کو سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو۔ سنو! کیا میں نے خدائے تعالیٰ کا پیغام پہنچا نہیں دیا؟

تم پر سلام اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔

اکمالِ دین: حضرت شعبہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ حضور اکرمؐ پر اس وقت آپ کے اسی قیامِ عرفہ کے دوران یہ آیت نازل ہوئی: ’’آج میں نے تمھارے دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کردیا اور تمھارے لیے بطورِ طریق زندگی اسلام سے راضی ہوگیا۔‘‘ (المائدہ 5:3) اس وقت عالم یہ تھا کہ شرک مضمحل ہوچکا تھا، اور کسی شخص نے (زمانہ جاہلیت کی روش پر) کعبۃ اللہ کا برہنہ ہوکر طواف نہیں کیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مفتی محمد تقی عثمانی

تبصرہ کیجیے