عازم حج کے لیے بہترین زاد راہ تقویٰ ہے!

رسول ﷺ نے فرمایا اے لوگو! تمہارے اوپر حج فرض کیا گیا ہے لہٰذا حج کرو‘‘ ’’ اللہ کا حق ہے لوگو پر اس گھر کا حج، جو شخص بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو (آل عمران) اور حجاج کرام لَبَّیْک اللّٰھم لَبَّیْک لاَ شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ۔ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ۔ میں حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں یقینا ساری تعریف تیرے ہی لیے ہے سارے احسانات تیرے ہی ہیں بادشاہی سراسر تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ کہتے ہوئے اس کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ یہی نعرہ ان کے فکر و شعور اور ان کی روح کوغذا دیتا ہے۔ ذہن پر ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے بال بچوں کو چھوڑ رہا ہے۔ اپنا گھر اپنا کاروبار، اپنے اعزہ و اقربا، اپنے دوست واحباب، غرضیکہ بے شمار خلائق وروابط کو توڑکر نکل رہا ہے۔ اس کے پیشِ نظر نہ کوئی سیر و سیاحت نہ کوئی تجارت نہ اور کوئی غرض، بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی کی طلب کی خاطر ہر حاجی یہاں سے پرواز سے کچھ قبل احرام باندھ کر ایک انتہائی فقیرانہ لباس زیب تن کرتا ہے جس میں ایک بغیر سلا تہمد اور کاندھے پر ایک چادر رکھتا ہے اور سربھی ننگا ہی ہے۔ وہ اپنے تمام دنیاوی لفافے اتار کر الگ کردیتا ہے۔ وہ زبان حال اور زبان قال سے پکارتا ہے کہ اے اللہ ہم بندے ہیں اور صرف تیرے ہی بندے ہیں۔ خواہ کوئی بادشاہ ہو، یاو زیر، کوئی امیر ہو یا گداگر، کوئی حاکم ہو یا محکوم، کوئی اونچا ہو یا نیچا کوئی زبردست ہو یا زیر دست، سب کو ایک ہی یونیفارم میں اپنے شہنشاہ حقیقی کے دربار میں حاضر ہو نیکی جلدی ہے۔ ہر طرح کے قومی، نسلی، لسانی اور وقتی امتیاز کو پیچھے چھوڑکر، ہر طرح کی حیوانیت سے دور سادے لباس میں ملائکہ کی مشابہت اختیار کررہا ہے۔ لیکن اصل مجرم تو وہی ہوگا جو حالت احرام میں صرف فقیر اور بندئہ عاجز ہوگا۔ جس نے اپنے دل ودماغ سے ہر طرح کی کبریائی اور خدائی نکال دی ہو جس نے قومی، علاقائی ونسلی تعصبات کو اپنے ذہن سے نکال باہر کیا ہو۔ جو خلق خدا کے لیے سرتاپارحمت والفت اور خیر مجسم بن گیا ہو، تاکہ حج کے اندر پوشیدہ مصلحت اعلائے کلمۃ اللہ اور ابراہیمؑ کے طریقے کی موافقت کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے پر قادر ہوسکے۔ اور اس کے لیے دنیوی زندگی سے کنارہ کش ہوکر کم از کم اپنے رب سے لو لگانے اور اپنے مالک حقیقی کے رنگ میں رنگنے کے لیے ان ایام کو خاص کردے۔

مسلمان حضرت ابراہیمؑ کی سنت پرستی قربانیاں اپنے آقا کی طلبی پر پیش کررہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی نیاز مندی کا والہانہ اظہار کررہا ہے۔ اور ہر حاجی زبان قال سے نہیں بلکہ زبان حال سے بھی اس آیت کی تفسیر نظر آرہا ہے۔ ’’بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔(القرآن)

لیکن اگر تقوی اور روح تقوی موجود نہیں اور یہ ارادہ اور عزم نہیں کہ ہم اللہ کے دین کے لیے مالی اور جانی قربانی کے لیے تیار رہیں تو اللہ کے یہاں کچھ بھی نہیں پہنچے گا اور نہ ہی ہمارے نامۂ اعمال میں کسی اجر کا اندر اج ہوگا اس لیے شعوری طور سے روح حج سے واقفیت کے بغیر صرف ارکان حج کی ادائیگی سے وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا جو حج کے ذریعہ مطلوب ہے۔ فرمایا گیا: ’’اپنے ساتھ زاد راہ لیے جاؤ۔ سب سے بہترین زاد راہ (راہ خرچ) تقویٰ ہے’’(قرآن) ورنہ ہم بقول علامہ اقبال

۱- نیت کی درستگی۔ حج کا فارم پر کرنے سے لیکر اختتام حج تک ہم اپنی نیت کو درست رکھیں اللہ سے استعانت طلب کرتے رہیں۔ توفیق مانگتے رہیں کیوں کہ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔(حدیث کسی طرح کی نام ونمود اور ریا ہمارے قلب کے کسی گوشے میں درنہ آئے۔ ورنہ ہماری سب محنت رائیگاں چلی جائیگی۔

۲۔ اذکار،’’اللہ ہی کی یاد وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ ہمارا دل کسی طرح بھی اللہ کی یاد سے غافل نہ ہو زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے ترہو۔ کچھ نہ ہو تو قرآن کی زبانی ہی تلاوت فرمائیں۔ قرآن تو خود اللہ کا ذکر ہے۔ قرآن میں باربار اپنے رب کو یاد کرنے کا حکم ہے۔ اپنے رب کا ذکر صبح وشام کرو(الدھر)۔ نماز بھی اللہ ہی کے ذکر کے لیے ہے۔ بندہ جب لوگوں کے درمیان اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ (حدیث) اللہ کا ذکر ایسے کیا کرو کہ تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کرتے ہو یا اس سے زیادہ۔ (قرآن)

۳- تسبیحات۔ اپنے رب کی تسبیح کرو جو سب سے بلند ہے۔ (اعلیٰ)۔ زبان پر ہلکا لیکن میزان میں بھاری، سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔ ہر فرض نمازوں کے بعد تسبیح فاطمہ کا ورد گھر سے نکلتے وقت بسم اللہ تو کلت علی اللہ۔ اچھی اور خوبصورت چیز کو دیکھ کر ماشاء اللہ۔ کھانے کے بعد دعا یاد نہ ہونے پر کم از کم الحمداللہ ضرور کہہ لیا کریں۔ کسی کو رخصت کرتے وقت فی امان اللہ۔ اس طرح تسبیحات کو بھی ہم اپنی زندگی کا معمول بنالیں۔

۴۔ دعاء واستغفار (دوسرے بہتر ہیں) یا وہ (اللہ) جوبے قرار کی دعا سنتا ہے۔ جب وہ اسے پکارے(نمل ۔۶۲) پیارے نبیؐ نے ارشاد فرمایا۔ الدعاء ھو العبادہ (ترمذی، احمد، ابن ماجہ) دعا ہی عبادت ہے۔ اور آپؐ نے فرمایا۔ دعا ہی عبادت کا مغز ہے۔ دعائیں ہمیں خدا سے قریب کرتی ہیں۔ مومن کا اسلحہ دعا ہی ہے۔ ہم سے جب غلطیاں ہوجائیں تو اسی سے معافی مانگ کر مغفرت کی دعا کریں۔’’ اے ہمارے رب، ہماری مغفر ت فرما، اور ہم پر رحم فرما تو ہی سب سے بڑا رحم کرنیوالا ہے۔ (قرآن)۔ بہت ساری مسنون دعاؤں کی کتاب پاکٹ سائز میں دستیاب ہے۔ جو بھی ملے، اہلِ علم سے مشورہ کرکے لے لیں۔ اس میں اذکار مسنونہ امام ابن قیمؒ کی دعا کیلیے بہترین اور قیمتی مجموعہ ہے۔ دعا دل کھول کر مانگئے۔ ہم فقیر ہیں وہ غنی ہے۔ اپنے بھائیوں کے لیے، رشتہ داروں کے لیے دین کی سربلندی کے لیے، مجابدین کی نصرت کے لیے ضرور دعا مانگیں۔ میدان عرفات کی دعا ضرور ہی قبول ہوتی ہے۔ اس لیے ظہر وعصر کی نمازوں کے بعد کھڑے ہوئے غروب آفتاب تک خوب گڑگڑا کر اللہ سے دعا کریں۔

۵- نماز- نماز قائم کرو میری یاد کے لیے (قرآن) اور اپنے رب کا نام لے کر نماز پڑھی۔ (اعلیٰ) فلاح کی ضمانت خشوع وخضوع والی نماز کے ساتھ ہے۔ قرآن میں درجنوں مقامات پر نماز کے قیام کا ذکر ہے۔ نماز جماعت سے کبھی بھی غفلت نہ ہوجائے۔ ہمارے حضورؐ گھسٹتے ہوئے نماز جماعت کے لیے مسجد تشریف لے گئے۔ عبداللہ بن مسعودؐ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولؐ سے دریافت کیا کون ساعمل افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا وقت پر نماز ادا کرنا (حدیث)۔ نماز پیارے نبیؐ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز مومنوں کی معراج ہے۔ اس کے علاوہ نوافل نمازوں کا کثرت سے اہتمام بھی ضروری ہے۔ اللہ کے نبیؐ سے تہجد کی نماز تو کبھی ترک نہیں ہوتی۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے خلیل سے فرمایا’’اے ابراہیم! میرے گھر کا طواف کر نیوالوں۔ اعتکاف کرنیوالوں اور رکوع وسجود(نماز) کرنیوالوں کے لیے پاک رکھو۔ بیت اللہ شریف میں ہررکعت کا اجر ۱؍ لاکھ گنا ہے۔ جب کہ مسجد نبوی میں ۱؍ ہزار گنا ہے۔ وہاں رہ کر دنیاوی کاموں میں مشغولیت اور نماز جماعت سے غفلت بڑی محرومی ہے۔

۶۔ انفاق فی سبیل اللہ اللہ کی راہ میں اس کے بندوں پر خرچ کرنا اللہ بہت پسند کرتا ہے۔ اور جن کے مال کے ایک معلوم حق ہے مسائل اور محروم کا(معارج)۔ تم ہرگز بھلائی کونہ پہونچوگے جب تک راہ خدا میں پیاری چیز خرچ نہ کرو۔(قرآن)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ لوگو! خیرات کیا کرو۔ صدقہ کیا کرو۔ یاد رکھو۔ دینے والا لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ پیارے نبیؐ نے فرمایا لوگو! جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا دیکر کیوں نہ ہو۔ اللہ کے دئیے ہوئے مال سے مسائل، ضرورت مند، مسکین، محتاج اور مقر وض کو ضرور دیں۔ کیوں کہ آپ وہاں خرچ کررہے ہیں جہاں کی پاک زمین پروحی کا نزول ہوا ہے۔

۷۔ خدمت خلق۔ بندگا ن خدا کی مدد حسب استطاعت ضرور ہونی چاہیے۔ پیارے نبیؐ نے فرمایا جو زمین والے پر رحم نہیں کرتا آسمان والا اس پر رحم نہیں کرتا۔ کرو مہربانی اہل زمین پر۔ خدا مہر باں ہوگا عرش بریں پر۔ کسی راستہ بھولے کو راستہ دکھا دیا۔ کسی بیمار کے لیے اسپتال اور شفاخانے سے دوا لادی۔ کسی ضعیف اور ضعیفہ کو راستہ پار کرادیا۔ اپنے ساتھی کمزور اور ضعیف حاجی کے لیے ضرورت کی چیزیں لادی۔ اپنا کھا نالاتے وقت انکا کھا نابھی ہوٹل سے لادیا۔ کمزور حاجی یا حجن کا سامان انکے ٹھکانے تک پہونچا دیا۔ کسی رکن کی ادائیگی میں مدد کردی۔

۸۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور دعوت دین۔ یہ ایک دینی’’فریضہ ہے جسے حسب موقع ضرور ہی ادا کرنا ہے۔ اللہ کے نبیؐ نے فرمایا۔ میری ایک بات تمہیں معلوم ہو تو دوسروں تک پہنچا دو۔‘‘ تم بہترین امت ہو جو سارے جہاں والوں کے لیے وجود میں لائی گئی ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور خدا پر کامل یقین رکھتے ہو۔ کامل خیر خواہی کے جذبے سے جو علم دین آپ نے حاصل کیا دوسرے کو بتادیا کیجئے۔ اپنے رب کی طرف دعوت و حکمت کے ساتھ اور وعظ کرودلنشیں انداز میں۔(قرآن)

۹۔ صبر اے لوگو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو (قرآن) سفر حج میں ہر قدم پر صبر کے ذریعہ ہی کامیاب ہوسکیں گے۔ رسولؐ نے فرمایا۔ صبر کا بدلہ جنت ہے۔ اور اپنے رب کے واسطے صبر کیجئے (قرآن)۔ کسی نے کچھ کہا۔ آپ نے درگزر کیا۔ کسی نے برابھلا کہا آپ نے صبر کیا۔ بڑی سے بڑی تکلیفیں پہنچیں آپ اس پر ثابت قدم رہے یہ بھی صبر ہے۔

۱۰- پرہیز‘‘ جو شخص حج کے مہینوں میں حج کی نیت کرے اسے خبردار رہنا چاہئے اس سے کوئی شہوانی فعل، گناہ کے کام اور لڑائی جھگڑا سرزدنہ ہو‘‘ (قرآن) دوران حج آدمی کی سب سے بڑی آزمائش اسی معاملے میں ہوتی ہے۔ دوران حج جو لڑائی جھگڑا کرتا ہے دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بنتا ہے۔شہوانی فعل، اور بیہودہ گپ شپ میں مشغول رہتا ہے دوسروںکی برائی، غیبت، چغل خوری، لگائی بجھائی کرنے سے پرہیز نہیں کرتا گویا وہ خوبیوں والے حج سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اللہ ہمیں اور تمام حاجیوں کو مذکورہ برائی سے بچائے اور تمام حاجیوں کے حج کو حج مبرور کے طورپر قبول فرمائے آمین۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ظفیر احمد

Leave a Reply