5-jan-jhggj

مسلمان عورت کمزور نہیں!

پلٹیں، تو معلوم ہوگا کہ صحابیاتؓ نے پردے میں رہ کر بھی جرأت و بہادری اور انسانیت کی خدمت کی لازوال مثالیں قائم کیں۔درحقیقت اسلام عورت کو کم زور نہیں، مضبوط بناتا۔ یہ تو ہماری اپنی نازک مزاجی ہے کہ جس نے ہمیں اِتنا کم زور کردیا کہ اپنی عزّت و ناموس کی حفاظت بھی نہ کرسکیں۔ اگر ہم صحابیاتؓکی زندگی کا مطالعہ کریں، تو اندازہ ہوگا کہ اُنھوں نے کیسے اپنی، مسلمانوں کی اور رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی۔
وہ کردار کی اتنی پکی تھیں کہ کسی کو اُن کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی مجال نہ تھی۔ حضرت اُمّ ِسلیمؓ، اُمّ ِ حرامؓ، اُمّ حکیمؓ، خولہ بنت ازورؓ جیسی مقدّس ہستیوں کی شجاعت و بہادری کی متعدّد روایات سیرت کی کتب میں مذکور ہیں۔حضرت خولہ بنت ازورؓ پردے میں رہ کر میدانِ جنگ میں آئیں اور دشمنانِ خدا کو بے دریغ قتل کیا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ مسلم فوج اپنے سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ کے حکم کے انتظار میں صف بستہ کھڑی تھی اور سامنے رومی فوج کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔اچانک ایک نقاب پوش گھڑ سوار نمودار ہوا اور رومی فوج کی پہلی صف میں قیامت برپا کردی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی رومی فوجیوں کی گردنیں تن سے جُدا ہو گئیں۔ کچھ دیر بعد اُس نے اپنے گھوڑے کو واپس موڑ کر دوسرا حملہ کیا اور پھر تیسری بار دشمنوں پر پَل پڑا۔ لوگوں نے شجاعت و بہادری کا یہ منظر دیکھا، تو’’ اللہ اکبر‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ جب وہ تیسرا حملہ کرنے کے لیے پلٹا، تو حضرت خالد بن ولیدؓ نے بھی مسلمانوں کو عام حملے کا حکم دے دیا، جس کے نتیجے میں رومی فوج میدان چھوڑنے پر مجبور ہوگئی۔حضرت خالد بن ولیدؓ نے آواز دی’’اے شخص! تُو نے اپنی جان کو اللہ کی راہ میں پیش کیا، اپنے غصّے کو دشمنوں پر صَرف کیا، اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔ نقاب کھول دو تاکہ معلوم ہوکہ تم کون ہو؟‘‘ اُنھوں نے جواباً فرمایا’’مَیں ایک پردے میں رہنے والی عورت ہوں۔ مَیں نے سُنا کہ میرے بھائی ضرار کو دشمن نے قید کرلیا ہے، اُنہیں چُھڑانے آئی ہوں۔‘‘ حضرت صفیہؓ صنفِ نازک ہوکر ایک یہودی کا سَر کاٹ لائیں۔ یہ پہلی مسلم خاتون ہیں، جنہوں نے کسی یہودی کو ٹھکانے لگایا۔ اُمّ عمارہؓ کی مثال دیکھ لیجیے کہ وہ جنگِ اُحد میں کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے سامنے ڈھال بنی رہیں۔زخمی بھی ہوئیں، مگر کافروں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے قریب نہ آنے دیا۔اُنھوں نے جنگِ حنین اور جنگِ یمامہ میں بھی شرکت کی۔ یہ وہ خاتون ہیں، جن کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اُحد کے میدان میں، مَیں نے جب بھی دائیں بائیں دیکھا، تو اُمّ عمارہؓ کو اپنے دفاع میں لڑتا پایا۔‘‘ حضرت اسماءؓ اس راز سے آگاہ تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم شبِ ہجرت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی معیّت میں مکّے سے نکل کر غارِ ثور میں موجود ہیں۔
آپؓ روزانہ وہاں خفیہ طور پر کھانا پہنچاتیں۔ ابوجہل نے استفسار کیا کہ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلّم کہاں ہیں؟‘‘ تو نہ بتایا، جس پر اُس نے طیش میں آکر اِتنے زور سے تھپّڑ مارا کہ کان کی بالی ٹوٹ کر دُور جا پڑی، مگر اُنہوں نے قہر و غضب کی مطلق پروا نہ کی اور ہجرت کے پُرخطر راز کو محفوظ رکھا۔ سبحان اللہ! کیسی عظیم و جری تھیں وہ خواتین…! اگر والدین بیٹیوں کی تربیت صحابیاتؓ کی نہج پر کریں، تو وہ اِتنی مضبوط بن سکیں گی کہ اپنی عزّت و ناموس کی حفاظت کرسکیں۔ تمام تر نزاکت کو بالائے طاق رکھ کر اُنہیں اِتنا اعتماد تو دیں کہ وہ مضبوط بن سکیں، تبھی تو معاشرے میں سَر اُٹھا کر جی بھی سکیں گی اور دعوتِ دین کے میدان اور حق و باطل کی کشمکش میں اپنا رول بھی ادا کرسکیں گی۔

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer

تبصرہ کیجیے