3

خود کو بدلنے کے ساتھ اپنے بچوں کا بھی خیال کریں

حضرت انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس دنیا میں بے شمار انعامات اور نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان میں سے ایک عظیم نعمت اولاد ہے، نکاح کے بعد مرد وعورت ہرایک کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے،اس کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں،اللہ تبارک وتعالیٰ جسے چاہتاہے، اُسے اس عظیم نعمت سے نوازدیتا ہے،کسی کو لڑکا ، کسی کو لڑکی اور کسی کو دونوں ایک ساتھ‘ جبکہ بعض کو اپنی کسی حکمت کی بنا پر اولاد ہی نہیں دیتا۔جیساکہ قرآن کریم میں آیا ہے:

’’جس کو چاہتاہے بیٹیاں عطا فرماتاہے اور جس کو چاہتاہے بیٹے عطا فرماتاہے یا ان کو جمع کردیتاہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جس کو چاہے بے اولاد رکھتاہے‘‘۔(سورۃالشوریٰ)

اولاد کے تعلق سے شریعت اسلامیہ نے ماں باپ پر کئی ذمہ داریاں عائد کی ہیں،ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اے ایمان والو!تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو (دوزخ کی) اس آگ سے بچاؤ‘‘۔(سورۃ التحریم)

اس آیت کریمہ میں اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی اور بڑے پیاربھرے انداز میں انسان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اللہ نے انسان کو اس رشتہ سے پکارا جو بندے اور اس کے رب کے درمیان قائم ہے ،اور وہ رشتہ ایمانی ہے،پھر فرمایا کہ: ’’تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ‘ ‘وہ کیسی آگ ہے،اس کی صفت بیان کی کہ’’ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے‘ اور اس پر ایسے نگران فرشتے مقرر ہوں گے جو بڑے طاقتور اورسخت ہیں،اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے جو حکم ملتا ہے،اسے وہ پورا کرتے ہیں۔‘‘اس آیت سے پتہ چلا کہ اخروی کامیابی کے حصول کے لئے محض اپنی اصلاح کی فکر کرنا اور خود نیک عمل کرتے رہنا کافی نہیں ہے ،کیونکہ اگریہی کافی ہوتا تو پھر اتنا کافی تھا کہ ’’اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ ‘‘‘لیکن آگے ’’واہلیکم‘‘ بھی فرمایا کہ: اپنے اہل وعیال کو بھی اس جہنم کی آگ سے بچاؤ۔

ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہوچکی ہے اور ہرآدمی یہ کہتا ہے کہ مجھے اپنی قبر میں جاناہے،میری بیوی کو اپنی قبر میں جانا ہے، بچوں کو اپنی قبر میں جانا ہے، ان کو سمجھانے کے لئے کون دماغ خراشی کرتاپھرے‘ اپنی فکر کرو‘ خود صحیح ہوجاؤ‘ یہ کافی ہے‘ اور اس کے لئے اپنے تئیں بظاہر دینداری کا اہتمام بھی کیا جاتاہے کہ خود نماز‘ روزہ کا پابند‘ نوافل کا عادی اور اپنے طور پر منکرات سے بچنے والا‘ لیکن گھر کا ماحول اور اولاد کا طرزعمل گھر کے سربراہ سے بالکل مختلف ہوتا ہے‘ جس سے معلوم ہوا کہ گھر کے سربراہ نے اپنی ذمہ داری مکمل طور پر نہیں نبھائی‘ جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ والدین اور اولاد دونوں کی سمتیں مختلف ہیں‘ لہٰذا اس معاملہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، لوگوں کا یہ کہنا کہ ہم نے کوشش تو بہت کی‘ مگر بچے نہیں مانتے،ہم کیا کریں؟ قرآن کریم نے ’’نار‘‘ (آگ) کا لفظ ذکر کرکے ایسے لوگوں کو لاجواب کردیا کہ ذرا سوچو: اگر بہت بڑی آگ دہک رہی ہو اور تمہارے بچے اس آگ میں کودنا چا ہیں تو کیا ان کے اصرار اور ضد پر ان کو اس آگ میں جانے دوگے؟اور اس وقت یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم نے بہت سمجھالیا‘ اوران کا آگ میں کودنا تم برداشت کرلوگے؟ جبکہ جہنم کی آگ تو اس دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ سخت ہے۔ ٹھیک ہے اگر والدین یا سربراہ نے حتی المقدور کوشش کرکے اپنا فرض ادا کردیا ہے تو وہ عند اللہ بری الذمہ ہوجائیں گے‘ لیکن کہاں تک اپنی ذمہ داری نبھائی ہے؟ اور کس حد تک کوشش کی ہے؟ یہ ہر شحص اپنے بارے میں بخوبی جانتا ہے۔

اولاد کے عقیدہ ‘ اعمال ‘ اخلاق اور تعلیم وتربیت کی فکر بہت ضروری ہے ‘عقائد کا تعلق ایمان سے ہے ، اعمال کا تعلق اسلام سے ہے جبکہ اخلاق کا تعلق دین سے ہے، قرآن کریم میں ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی اپنی اپنی اولاد کی فکر کی‘ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اسی فکر کے پیش نظر اپنی اولاد سے سوالیہ انداز میں استفسار کیا کہ: ’’ میرے بعد تم کس کی بندگی کروگے؟‘‘ (البقرہ)یہ اولاد کے ایمان کی فکر ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اپنی اولاد کو وصیت کی:

’’میرے بیٹو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس دین (یعنی اسلام) کو تمہارے لئے منتخب فرمایا ہے سو تم بجز اسلام کے اور کسی حالت پر جان مت دینا‘‘۔(البقرہ)

حضرت اسماعیل علیہ السلام کااپنی اولاد کے متعلق یہ ارشاد:

’’اوراپنے متعلقین کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے رہے تھے‘‘۔ (سورہ مریم)

جبکہ آج کااکثر مسلمان طبقہ اپنی اولاد کو اچھی باتوں کا حکم نہیں دیتا،اپنی اولاداور بیوی بچوں کو خوش کرنے کے لئے دین وشریعت کی پروا نہیں کرتا‘ بلکہ اُلٹا ان کی ناجائز خواہشات کو پورا کرکے اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کردیتا ہے۔حتیٰ کہ یہاں کے دین پسند وہ لوگ جو اپنے آپ کو داعیٔ دین کے نام سے موسوم کرتے ہیں ان میں سے اکثریت ایسے والدین کی ہے جو اگرچہ عامۃ المسلمین کو اپنے خطابات ، وعظ ونصائح اور شعلہ بیان خطابات سے محضوظ تو کرتے ہیں لیکن اپنے گھروں میں اپنے اہل وعیال کی تربیت کا خاص خیال نہیں کر پاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ایک عالم دین اس دنیا سے فوت ہوتا ہے اور اس کے علم کا فیضان بھی اسی کے ساتھ مٹی میں دفن ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے گھر کی حالت اس سے مختلف ہوتی ہے۔ حالانکہ پیغمبر آخر الزماں محمد مصطفیﷺ نے تمام مسلمانوں کو کسی نہ کسی درجہ میں ذمہ داری عائد کی ہے، اور فرمایا:

’’تم میں سے ہرایک نگران ہے اور ہرایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھاجائے گا‘‘۔

یہ بات ضروری نہیں کہ والدین اپنے اہل وعیال کی فکر اس قدر کریں کہ وہ صحیح راہ ہی اختیار کر لیں بلکہ والدین کا کام پہنچانا ہے باقی ہدایت کی ذمہ داری اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ مالک الملک ہے،جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل وخوار کر دیتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ہی صرف خیر ہے۔ انسان کا کام کوشش اور دعا ہے ، باقی سب اللہ تبارک وتعالیٰ کی دَین ہے۔

آج معاشرہ میں ہرطرف بے دینی کا سیلاب ہے‘ مسلمانوں کے بچوں کے عقائد روز افزوں بگڑ تے جارہے ہیں‘ ان کے اعمال واخلاق تباہ ہورہے ہیں اور والدین ہیں کہ اس کی کوئی فکر اور پروا ہی نہیں،مسلم بچوں کے عقائد ‘ اعمال اور اخلاق کی تصحیح اور درستگی کے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے اوراسے ایک دینی ضرورت سمجھتے ہوئے والدین کو اس جانب توجہ دینے کی از حد ضرورت ہے۔ ورنہ خدا کے دربار میں جب والدین کو ان بچوں کے حالات کا مشاہدہ کرایا جائے گا اور ان کی تباہی کا منظر پیش کر کے انہیں جہنم رسید کرنے سے قبل والدین کو پکڑا جائے گا تو اس وقت یہ انسان جس نے اس دنیا میں اپنی ذمہ داریاں فراموش کر کے اپنی اصلاح کو ہی کافی سمجھا تھا بھاگنے کی کوشش بھی کرے تو نہیں بھاگ سکتا، کیوں کہ اللہ کی پکڑ ایسی پکڑ ہے جس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔

معاشرے کا سب سے نازک تر ین اور حساس ترین طبقہ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور ان میں بھی اہم ترین چھوٹی بچیاں ہیں۔ نو مولود سے شباب تک اور شادی سے بڑھاپے تک کا سفر کوئی معمولی نہیں ہوتا۔ہمارے ہاں ایک نہیں سب معاملات ہی الٹے ہیں۔ بچیوں کی درست تعلیم وتربیت کوئی کرتا ہی نہیں اور پھر موردِ الزام ٹھہراتے ہیں زمانے کو ، چھوٹے بچے تو ایک صاف شفاف صفحے کی طرح بالکل کورے ہوتے ہیں۔ آپ اس صفحے پر یعنی ان کے ذہن پر کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔اس لحاظ سے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان اگر اس دنیا میں خلوص نیت اور صحیح طریقے سے اپنے اہل وعیال خاص کر نومولود بچوں کی تربیت کرے تو سماج میں جس صورت حال کا سامنا اس وقت لوگوں کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً ہے اس سے بہت حد تک چھٹکارا نصیب ہو سکتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ آخرت کے دربار میں یہ مستقل عمل خدا کے حضور میں قابل قبول اور نارِ جہنم سے آزادی کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ چنانچہ اس ضرورت کے پیش نظر اگر انسان اپنی فکر کے ساتھ ساتھ اپنے اہل وعیال کی فکر بھی کرتا ہے تو لامحالہ یہ فکر نہ صرف اس کے اہل وعیال کو نار جہنم سے بچا سکتی ہے بلکہ خود فکر کرنے والے والدین کو بھی کامیابی سے ہمکنار کرا سکتی ہے۔

چنانچہ والدین کو پیدائش سے لیکر جوانی تک بچوں کی تربیت کے مختلف انداز اختیار کرنے چاہئیں۔ وقت وقت پر تربیت کے الگ الگ انداز اور الگ الگ طریقے اختیار کر ان میں حس کو بیدا رکھنے کی ہر ممکن سعیٔ بلیغ کرنی چاہیے۔ ہر زمانے کے حالات اور ضروریات کا خاص خیال کر کے والدین کو اپنی اولاد کی تربیت کرنی چاہیے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں دارین کی کامیابی نصیب فرمائے،ا ٓمین۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
ابو محمد حمزہ … سرینگر کشمیر

تبصرہ کیجیے