قرآن کی معاشرتی تعلیمات

اسلام نے معاشرت کے جو اصول وضع کیے ہیں وہ نہایت وسیع اور ہمہ گیر بنیادوں پر استوار کیے گیے ہیں۔ اور اسلام نے انسانی زندگی کی تنظیم کرتے وقت خاندان کو خشتِ اول قرار دیا ہے۔ اس طرح وہ معاشرت کی بنیاد مرد اور عورت کے تعلقات کے توازن پر رکھتا ہے۔ قرآن نے عورتوں اور مردوں کے دائرہ کار کو علیحدہ علیحدہ کردیا ہے۔ مرد کے لیے جو دائرہ کار موزوں تھا وہ اس کے لیے اور عورت کے لیے جو دائرہ کار فطری طور پر مناسب تھا وہ اس کے لیے مقرر کردیا۔ اس سلسلے میں گھر کی دیکھ بھال، بچوں کی پرورش اور دیگر امورِ خانہ داری کو سرانجام دینا عورت کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ اس فریضے کی خاطر خواہ تکمیل اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ عورت گھر کے دائرہ کو اپنی مملکت سمجھے۔ دائرہ محدود نہیں بلکہ نہایت وسیع ہے، اور انسانی معاشرہ کی بنیاد ہے کیونکہ خاندان انسانی معاشرہ کی اکائی ہے۔

lقرآنِ کریم کا یہ مسلمہ اور زرّیں اصول ہے کہ تمام انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے درمیان رنگ، نسل اور زبان وغیرہ کی بنیاد پر فرق و امتیاز جائز نہیں، ایمان اور عمل صالح یعنی تقویٰ ہی وہ بنیاد ہے جس کی روسے ایک انسان دوسرے انسان کے مقابلے میں فضیلت اور برتری حاصل کرسکتا ہے۔ قرآن نے اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا ہے:

’’اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ خدا کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘

اور اس نکتہ کی وضاحت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمائی:

(کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں ہے اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے مگر صرف تقویٰ کے لحاظ سے)

l قرآنِ کریم نے اپنی معاشرتی تعلیمات کی بنیاد تمام انسانوں کی مساوات اور انسانی شرافت پر رکھی ہے۔ اور پوری انسانیت کے فطری شرف کا اعلانِ عام کیا ہے۔’’ بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی‘‘ اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔ اس شرف وفضیلت میں قرآن کی روسے مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ قرآن اس بات کا انکار کرتا ہے کہ عورت اوّلین گناہ کا سبب بنی یا صنفِ نازک انسانی نقطۂ نظر سے مرد کے مقابلے میں برتر ہے یا وہ کوئی ناگزیر برائی ہے، جیسا کہ بعض فلا سفرا سے اسی طرح پیش کرتے ہیں۔ اسلام تمام مخلوق کو عیال اللہ سمجھتا ہے۔ جس سے اللہ کو یکساں محبت ہے۔

lمرد اور عورت کے باہمی تعلق سے ایک خاندان کی بنیاد پڑتی ہے۔ خاندان اسلامی معاشرت میں ایک اہم اور مستقل یونٹ قرار پاتا ہے اور اس کی تشکیل رشتہ ازدواج سے ہوتی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے رشتہ ازدواج معاشرتی زندگی کی اولین بنیاد ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ مسلم معاشرے میں نکاح کو سہل بنایا جائے۔ رنگ، نسل، زبان اور جغرافیائی حالات کو نظر انداز کرکے اسلام نے نکاح کی وسیع سہولتیں فراہم کی ہیں۔ چند مخصوص قریبی رشتہ دار عورتوں اور مشرکات کو چھوڑ کر باقی تمام عورتوں سے نکاح کو جائز قرار دیا گیا۔ اگر ازدواجی زندگی میں کشیدگی ہو تو مرد کے لیے طلاق اور عورت کے لیے خلع کا اور بے لگام میل جول کی جڑکاٹ دی گئی۔ اور اگر ان سہولتوں کے باوجود پھر بھی کوئی جنسی بے راہ روی اختیار کرتا ہے تو اس کے لیے سخت ترین سزا تجویز ہوئی۔ یعنی ایسے لوگوں کے لیے کوڑے اور رجم کی سزائیں تجویز ہوئیں۔

lخاندانی زندگی کے بارے میں قرآن کریم نے جو خصوصی ہدایات دی ہیں یا مرد اور عورت کے لیے جو حدود کار، فرائض اور حقوق مقرر کیے ہیں وہ مختصراً حسب ذیل ہیں:

(الف) مرد کو خاندان کے معاش، تمدنی زندگی اور سیاسی زندگی کا نگران مقرر کیا گیا ہے اور عورت کو خاندان کی گھریلو زندگی، بچوں کی تربیت، نشوونما، ان کی تعلیم اور دوسری ضروریات کا نگہبان مقرر کیا گیا ہے۔ عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ پردہ کریں اور اندرونِ خانہ کے فرائض سرانجام دیں، اور حتی الامکان، عام حالات میں، مردوں کے ساتھ، گھر سے باہر کی تگ و دو میں شریک نہ ہوں، اپنی آرائش وزیبائش کا بر ملا اظہار نہ کریں۔ اگر انہیں کسی کام کے لیے باہر جانا بھی پڑے تو پردہ کریں:

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح پہلے جاہلیت کے دنوں میں اظہارِ تجمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ‘‘ مرد اور عورت کا باہمی تعلق نہایت مقدس ہے۔ مرد اور عورت دونوں کو حکم ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مخلص اور وفادار رہیں۔ بلکہ یک جان دو قالب ہوں۔ وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک اور اس کے نشانات میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے عورتیں پیدا کیں تاکہ تم ان کی طرف مائل ہوکر آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی۔ بیویاں اپنے شوہروں کے لیے وجہ تسکین ہوتی ہیں۔ مرد اور عورت کے ازدواجی تعلق کا مقصد محض تعیش شہوت اور تسکین نفس نہیں قرار دیا گیا بلکہ اسے ایک تمدنی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ جس سے نسلِ انسانی کا تحفظ محض بچے پیدا کرنا ہی نہ ہو بلکہ ان کی تعلیم وتربیت اور ان کی مناسب پرورش بھی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے عورت کے لیے ’’حرث‘‘یعنی کھیت کا لفظ استعمال کیا ہے جس طرح ایک کھیت کے دامن سے ایک خاص ترتیب اور عمل سے فصل تیار ہوکر نکلتی ہے۔ اسی طرح صنفِ نازک کے دامن سے بھی نسل انسانی کو مکمل طورپر تیار ہوکر نکلنا چاہیے۔

(د) اسلام نے وسیع تر انسانی مفاد اور ضروریات کے تحت ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دی ہے اسی صورت میں حکم دیا ہے کہ اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہوں تو مرد کو چاہیے کہ ان کے درمیان ممکنہ حدتک انصاف وعدل کا رویہ اختیار کرے۔ ایک ہی طرف نہ جھک جائے۔ ’’اور ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا ہوا چھوڑدو‘‘

(ہ) اگر مرد عورت کے درمیان جدائی ناگزیر بھی ہو تو بھی شرافت اور ہمدردی کے ماحول میں ہو۔ اور اس سے قبل عورت کو جو ہدایات اور تحائف دیے گئے ہوں وہ واپس نہ لیے جائیں۔‘‘ اور نہ لو اس میں سے کچھ بھی جو تم ان کو دے چکے) بلکہ تمہیں چاہیے کہ مزید کچھ انہیں دے دو۔’’ان کو کچھ متاع اور کوئی فائدہ دے کر اچھی طرح سے رخصت کرو۔‘‘ (الاحزاب ۴۹)

l میاں بیوی کے دائرہ کار کی علیحدگی اور باہمی تعلقات کے انضباط کے بعد ان کا اور ان کی اولاد کا تعلق سامنے آتا ہے۔ والدین کے بارے میں قرآن نے واضح تعلیمات دی ہیں اور کہا ہے کہ انھیں’’ اف‘‘ تک نہ کہو یعنی انہیں اپنے کسی قول یا عمل سے ذرا بھی دکھ نہ پہنچاؤ، اور جب تک وہ صریح اسلامی تعلیمات کے خلاف حکم نہ دیں ان کی حکم عدولی نہ کی جائے۔ دوسری طرف والدین کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کا خاص خیال رکھیں۔ بھوک وافلاس اور جاہلیت کے عار کی بناپر بچوں کو قتل نہ کریں اور ان کی ایسی تربیت کریں کہ وہ معاشرہ کے معزز فرد بن سکیں، اے رب اس (ہونے والے بچے) کو خوش اطوار بنادے‘‘ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کونیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں‘‘

الفرقان کے آخر میں مومنین خاص کی یہ دعا ہے اے پروردگار ! ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے(دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا(فرقان۷۴) مفسرین کے نزدیک ان آیات میں متقین سے مراد افرادِ خاندان ہیں۔

l خاندان کی تنظیم کے بعد اسلام نے تمام رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا ہے۔ صلہ رحمی میں تمام رشتہ دار شریک ہیں۔ اس دائرے میں ایک خاندان سے آگے بڑھ کر کئی خاندان شریک ہوجاتے ہیں جن میں باہمی خونی تعلق ہوتا ہے یا رشتے ناطے ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے ایک خاندان کے افراد کے باہمی تعلق کے لیے احسان کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس کے بعد حکم دیا ہے کہ اپنی خوشیوں میں ذوالقربیٰ کو یاد رکھاجائے’’ والدین اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ احسان کرو‘‘ اور باوجود عزیز رکھنے کے، مال اپنے رشتہ داروں کو دے‘‘

l ایک خاندان اور اس کے قریبی رشتہ داروں کے بعد، اس خاندان اور اس کے ہم سایہ خاندان کے تعلقات کا مرحلہ آتا ہے اس میں ہمسایہ، اہلِ محلہ اور جان پہچان والے دوسرے لوگوں کا باہمی تعلق سامنے آتا ہے، قرآن کریم نے ہمسائے سے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے اور یہی حکم ان لوگوں کے بارے میں بھی ہے جن سے معمولی میل جول ہو۔ اس دائرے میں اہلِ محلہ آجاتے ہیں:

lحکم دیا گیا ہے عام مسلمانوں سے ملاقات کی ابتدا ’’سلام‘‘ سے کی جائے۔ اس طرح یہ تعلیم دی گئی ہے کہ آپ سے بات کرنے والا جس انداز سے بات کرتا ہے، آپ کا فرض ہے کہ آپ بھی اس انداز سے بات کریں یا اس سے بھی اچھے انداز سے بات کریں۔ سلام کے لیے یوں تعلیم دی گئی:’’جب کوئی احترام کے ساتھ سلام کرے تو اس کو، اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اس کی طرح (۴۔ ۸۶)

l معاشرے کے اندر نادار، اپاہج، یتیم اور بیوہ افراد کی نگہبانی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ سورئہ الماعون میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ شخص خوفِ آخرت نہیں رکھتا جو یتیموں کو دھکے دیتا ہے اور ناداروں کو کھانا کھلانے کے لیے ترغیب نہیں دیتا‘‘ اور دوسری جگہ ہے۔ ان کے اموال میں سائل اور نادار کا حق ہوتا ہے۔‘‘ اس مقصد کے لیے شریعت نے زکوٰۃ اور صدقات کو مشرع قرار دیا اور حکم ہوا کہ یہ فقراء ومساکین کا حق ہے۔(۹:۶) ( بے شک صدقات فقراء اور مساکین کے لیے ہیں۔

l غرض اسلام کے معاشرتی نظام کی بنیاد عالم گیر انسانی، برادری، رنگ ونسل کے بجائے عقائد واخلاق، خاندانی نظام کی مضبوطی، جنسی تعلقات کے انضباط، مردو عورت کے دائرہ کار کی علیحدگی اور عام انسان دوستی کے جذبات اور اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ ایک مسلمان جس طرح اپنا، اپنے خاندان اور اپنے محلے کا ہمدرد ہوتا ہے اسی طرح پوری انسانیت کا ہمدرد ہوتا ہے۔ قرآنی نقطۂ نظر سے وہ معاشرہ اسلامی معاشرہ نہیں ہے جس میں پڑوسی ایک دوسرے کے دشمن اور ایک ہی منزل کے دو مختلف حصوں میں رہنے والے ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوں اور ہوں دونوں مسلمان۔

l یہ ہے ایک مجمل خاکہ قرآنی نظامِ معاشرت کا۔ اس کی جھلکیاں آج بھی کسی حدتک مسلمانوں کے معاشرے میں نظر آتی ہیں۔ صدیاں گزرگئیں جب کہ مسلمانوں کا اجتماعی اور سیاسی نظام مختل ہوچکا ہے بلکہ کئی مسلم معاشرے صدیوں ایک غیر مسلم حکومتوں کی ماتحتی میں زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود آج بھی قرآنی نظام میں معاشرے کے آثار موجود ہیں اور انہیں نہیں مٹایا جاسکا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ قرآن نے اسلامی نظامِ معاشرت کے لیے کچھ ایسی خاص اور مستحکم حفاظتی تدابیر اختیار کیں جن کی بدولت انتہائی نامساعد حالات کے باوجود آج اسلامی معاشرہ زندہ ہے۔ وہ تدابیر مختصراً حسب ذیل ہیں:

اسلام نے قرآن وسنت کی شکل میں اسلامی نظریۂ حیات کے تصور کو زندہ رکھا۔ مسلمانوں کے عقائد درست رہے اور سنت رسولؐ نے ہمیشہ انہیں حسن سلوک، اور حسن معاشرت پر ابھارے رکھا۔ حضورؐ کی ایک حدیث ہے کہ: جس نے بھی کسی اچھی روایت کی بنیاد رکھی اسے اس کا اجر ملے گا۔ اور اس پر قیامت تک جو بھی عمل کرے گا اس کا اجر بھی‘‘ اچھی روایت قائم کرنا بھی اسلامی معاشرت کی بقا کا ضامن ہوا۔ چنانچہ مسلمانوں نے ہمیشہ ایسی روایات کو سینے سے لگائے رکھا۔ جن کا تعلق حسن سلوک، فیاضی، مہمان نوازی، بڑوں اور اساتذہ کا ادب اور دوسرے آداب سے تھا۔

(ب) تعلیم کی وسعت اور اشاعت بھی اسلامی نظامِ معاشرت کے تحفظ کا اہم ذریعہ رہی۔ قرآن نے علم، تدبر اور حکمت کو حددرجہ اہمیت دی۔ حضورؐ نے حصول علم کو انسانی فریضہ قرار دیا اور مسلمان ہمیشہ علم دوست رہے۔

(ج) مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ بھلائی کا حکم دیں، اسے پھیلائیں اور برائی سے روکیں، یہ کام ہر شخص پر اس کی استطاعت کے مطابق فرض ہے۔ چنانچہ مسلمانوں نے اپنے معاشرے میں ہمیشہ منکر پرنکیر کیا اور اسے پنپنے نہیں دیا۔ اور معروف کی حوصلہ افزائی کی اور یہ شعور اس حدتک آج بھی موجود ہے کہ جو لوگ بذاتِ خود منکر میں مبتلا ہیں ان کی اکثریت بھی معروف کو پسند کرتی ہے اور اسی کا احترام کرتی ہے۔

(د) شریعت نے قرآنی نظامِ معاشرت کی اولین بنیاد، خاندان کو اس حدتک مضبوط کیا ہے کہ مسلمانوں میں خاندانی نظام اور خاندان کی گرفت آج تک مضبوط ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام کے سیاسی، معاشی، قانونی اور تعلیمی نظام کے اضمحلال کے باوجود اسلامی معاشرہ کسی قدر زندہ ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
خورشید احمد

Leave a Reply