ہر دن ۔۔۔۔۔نیا دن

یہ دنیا عجائبات سے بھری پڑی ہے۔بلکہ ہر دن نئے اور عجیب طریقے سے طلوع ہوتا ہے… آج کے دن کتنے نئے عجائبات ظہور پذیر ہونگے، انسان کبھی نہیں سمجھ سکتا۔ ہر صبح نئے انداز سے سانس لیتی اور ہر دن نئی شان سے جلوہ گر ہوتا ہے۔

میں جس گھر میں رہتی ہوں، اس کا حال بھی عموماً ماضی سے مختلف رہتا ہے۔ مثلاً کل کی بات تھی کہ میں اس گھر میں بہو بن کر آئی۔ بہو بھی اکلوتی اور لاڈلی! دو نندیں شادی شدہ تھیں۔ ایک بوڑھی ساس جن کی سانسیں اپنے پوتے پوتی کے لیے اٹکی ہوئی تھیں۔ اْدھر میرا بیٹا پیدا ہوا، اْدھر ان کی بیماری اس قدر بڑھی کہ جان لے کر ہی ٹلی۔

گھر میں سناٹا سا چھا گیا۔ دل اداس رہتا۔ امی جان سے گھر میں کس قدر رونق تھی، ان کے بعد اس بات کا احساس ہوا۔ سلمان بھی ماں کی جدائی سے انتہائی افسردہ ہوئے۔ امی جان کا انتقال ہوا تو غفران چھے مہینے کا تھا۔ اس کا نام بھی انھوںنے ہی رکھا تھا۔ غفران ہی تھا جس کی وجہ سے سلمان جلد سنبھل گئے۔ وہ ڈیڑھ سال کا ہوا تو طوبیٰ آگئی۔ پھر سارہ اور نعمان… بچوں کی آمد سے زندگی انہی کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ میرے لیے یہ چلن نیا تو نہیں تھا۔

صبح ہوتی اور شام ہو جاتی۔ ہفتے گزرے اور مہینے برسوں میں بدل گئے۔ بچوں کو اسکول میں داخل کرانے کا وقت آ گیا۔ سلمان کا شروع سے ارادہ تھا کہ بچوں کو اچھے انگلش میڈیم اسکول میں داخل کرایا جائے جہاں میٹرک نہیں اولیول میں وہ تعلیم پائیں۔ کہتے ’’شانی! مجھے شروع سے ارمان ہے کہ میرے بچے اچھے اسکول میں تعلیم حاصل کریں۔ تمھیں تو پتا ہے نا کہ آج کل نوکری بھی اسی بنیاد پر ملتی ہے۔ ورنہ لڑکے میری طرح قابل ہوتے ہوئے بھی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔‘‘

نام تو میرا شاہانہ تھا لیکن سلمان جب شانی کہتے تو ان کا کہنا بہت اچھا لگتا۔ سلمان کے کہنے سے بچے بھی شانی کہنے لگے۔ بڑی مشکل سے انھیں آمادہ کیا کہ ’’امی‘‘ کہو۔ مجھے ’’ممی‘‘ کہلوانابالکل پسند نہیں تھا۔ ’’امی‘‘ میں جو چاہت پوشیدہ ہے وہ ممی میں کہاں؟

سلمان کی آرزو اور ارمان کے مطابق ہم نے بچوںکو باری باری انگلش میڈیم اسکول میں داخل کرا دیا۔ ہر چیز میں کنجوسی کر کے ہم نے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

سلمان کی دونوں بہنیں باہرتھیں۔ فون پر بات چیت ہوتی رہتی۔ وہ تین چار برس بعد ایک دفعہ چکر لگا لیتی تھیں۔ بڑی والی صبیحہ باجی کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ چھوٹی صباحت کی تین بیٹیاں… جب بھی آتیں کراچی میں امن و امان کی ناگفتہ بہ حالت کے باعث گھبرائی گھبرائی رہتیں۔ ہفتے بعد ذرا دل ٹھہرتا… اور پھر بازار کے چکر لگنے لگتے… ربڑ کی چپل سے لے کر چادریں لینے تک گھرکی پوری خریداری کی جاتی۔ ظاہر ہے، باہر توہر چیز مہنگی ہے۔

’’یہ تولیہ دیکھ، وہاں اس قیمت میں ایک ملتا ہے اور یہاں چار آ گئے۔‘‘

باجی صبیحہ کو سب سے زیادہ پریشانی یہ تھی کہ سارے کام خودکرنے پڑتے۔ وہاں ماسی رکھنا آسان نہیں۔ کہتی تھیں ’’شاہانہ تم تو واقعی شاہانہ انداز میں بس حکم چلاتی رہتی ہو… ماسی برتن دھو لو… ماسی غسل خانے صاف کر لو… ہمیں دیکھو، ہر کام خود کرنا پڑتا ہے…‘‘

میں ان کی بات پر مسکرا کر رہ جاتی۔ اگر انھیں یہ زندگی شاہانہ لگتی ہے تو واپس کیوں نہیںآ جاتیں؟ظاہر ہے وہاں کی آسائشات تو یہاں میسر نہیں… اور نہ پھر وہ اس طرح سوٹ کیس بھر بھر کے خریداری کر سکتی تھیں۔ خیر! وہ میرے میاں کی بہن تھیں، مجھے ان کی آمد اور رہائش پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ میں حتی الامکان کوشش کرتی کہ ان کی مہمان داری میںکوئی کسر نہ رہے۔ لیکن ظاہر ہے، اس کے اثرات ہمارے بجٹ پر پڑتے تھے۔ میں بعد میں دل ہی دل میں شکر کرتی کہ وہ لوگ ہر سال نہیں آتے۔

جاتے ہوئے دونوں بہنیں آبدیدہ ہوتیں اور سلمان سے کہتیں کہ وہ بھی باہر آجائے۔ کئی دفعہ اس معاملے میں ہماری طویل گفتگو ہوئی تھی۔ لیکن آخر میں ہم دونوں میاں بیوی اس بات پر اتفاق کرتے کہ بچوں کو تربیت دینا بڑا کٹھن کام ہے۔ باہر کا ماحول جس قدر کھلا ہے، صبیحہ باجی اور صباحت کے بچوں کو دیکھ کر اچھی طرح اندازہ ہوتا۔ لہٰذا ہم دونوں کی رائے اس بارے میں ایک ہوتی کہ باہر نہیں جانا۔

البتہ تعلیمی اخراجات اب بہت بڑھ گئے تھے۔ اولیول کی فیس۔ پھر جب فائنل امتحان ہوں گے، تو ہر پرچے کی علیحدہ فیس دیناہوگی۔ کل ملا کر اس ماہ ہمیں فیسوں کی مد میں ایک لاکھ روپے تک ادا کرنے تھے… میں بہت فکر مند تھی کہ اتنی بھاری رقم کی ادائی کیسے اور کیوںکر ہو گی؟ ابھی ایک مہینا باقی تھا۔ شاید سلمان کے ذہن میں کوئی حل ہو… لیکن میں دیکھ رہی تھی کہ ان کے چہرے سے بھی فکرمندی جھلک رہی تھی۔

ہماری اس سلسلے میں باقاعدہ سوچ بچار اور مشورے کی نشست ہوئی تھی۔ اپنی اپنی جگہ ہم دونوں اس مسئلے کے باعث پریشان تھے۔ محسوس ہوتا تھا کہ شاید اس دفعہ فیس کے لیے مجھے اپنے کسی زیور کی قربانی دینی پڑے۔ اف! کتنی مشکل سے اب تک اس کی نوبت نہ آنے دی تھی… لیکن اب شاید یہ ہی کرنا پڑے… ظاہر ہے ایک لاکھ روپے کی رقم معمولی تو نہیں… لیکن دوسری طرف بچوں کے مستقبل کا سوال تھا جسے روشن بنانے کا خواب سبھی والدین دیکھتے ہیں۔ آخر ہم نے بھی خواب دیکھا اور اس کی تعبیر بھی چاہی تو کون سا انوکھا کام کیا؟

میں گویا اپنے آپ کو ہی سمجھاتی رہتی۔ آپ کو تو پتا ہے عورت کے لیے زیورات کتنی اہمیت رکھتے ہیں… لیکن بچے اور ان کا مستقبل تو ان سے بڑھ کر ہے… میں ذہنی طور پر خود کو تیار کرنے لگی کہ زیور بیچنے کا وقت آ پہنچا۔ آج سلمان دفتر سے ا?ٹھ بجے آگئے۔ ورنہ انھیں آتے آتے دس تو لازمی بج جاتے۔ میں نے سوچا کہ رات کھانے کے بعد ان سے اس مسئلے پر بات کی جائے۔

’’صبیحہ باجی اور صباحت باجی آرہی ہیں اگلے مہینے…‘‘ کھانے کے درمیان سلمان نے خبر سنائی۔

’’اچھا…دونوںساتھ آرہی ہیں؟‘‘

’’ہاں…دونوں ساتھ ہی آرہی ہیں… ایک خاص مسئلے پر انھیں بات کرنی ہے۔‘‘

’’کون سا خاص مسئلہ!‘‘ میں نے سلمان کوحیرانی سے دیکھتے ہوئے پوچھا ’’فون پر بھی بات ہو سکتی تھی… رقم خرچ کر کے آنا ضروری ہے؟‘‘

’’ان دونوں کا کہنا ہے کہ انھیں رقم کی ضرورت ہے… کاروبار میں نقصان ہو گیا ہے… اور ملازمت بھی چھوٹ گئی۔ دراصل انھیں اس گھر میںاپنا حصہ چاہیے۔‘‘

’’گھر میں حصہ؟‘‘

’’ہاں یہ گھر ہمارا تو نہیں نا! امی جان کی وراثت ہے۔ اب تک تووہ لوگ باہر تھے لہٰذا اس مسئلے کو اٹھایا ہی نہیں گیا۔‘‘ سلمان نے آہستہ آہستہ بات واضح کی۔

میرا بڑھا ہوا ہاتھ میز پر ٹک گیا۔ ہاتھ میں پکڑی روٹی پلیٹ میں رکھ دی اور مارے حیرانی کے منہ کا نوالہ چبائے بغیر نگل گئی۔

’’یا اللہ! اب کیا ہو گا؟ میں تو آپ سے بچوں کی فیس کے معاملے پر بات کرنے کا سوچ رہی تھی، یہ تو ایک نیا ہی مسئلہ کھڑا ہو گیا۔‘‘

’’اچھا اب زیادہ پریشان نہ ہو، اللہ ہے نا مسبب الاسباب، وہ کوئی راستہ دکھائے گا۔‘‘

انھوں نے میرا فق ہوتا چہرہ دیکھ کر تسلی دی۔ ویسے وہ خود بھی بے حد پریشان لگ رہے تھے۔ اس رات نہ انھیںٹھیک سے نیند آئی نہ مجھے … ہم دونوں ہی اس مسئلے پر فکر مند تھے۔

ایک دفعہ میری آنکھ لگی تو خواب میںبھی پریشانی ہی دکھائی دی۔ سلمان نماز فجر کے لیے مجھے اور بچوں کو اٹھا کر بستر پر لیٹے تو پھر سو گئے۔ میں نے بھی انھیں نہیں اٹھایا۔ اگلے دن ہفتہ تھا۔ بچوں کی تو چھٹی تھی۔ آج انھیں بھی دفتر نہیں جانا تھا۔ میں نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔ ناشتے کی تیاری کر کے بچوں کو ناشتا کرایا اور شور نہ کرنے کی ہدایت کی۔ گیارہ بجے سلمان اٹھ گئے۔ خوب تازہ دم تھے۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا… پریشانیوں کا حل نکالنے والا تو اللہ ہی ہے۔ پھر بلاوجہ پریشان ہو کر کیوں چھٹی خراب کی جائے؟ سلمان کا یہی فلسفہ تھا جسے میں نے بھی دل و جان سے قبول کر لیا تھا۔

’’شانی! میں نے سوچ لیا ہے مسئلے کا حل…‘‘ سلمان ناشتے کے درمیان بولے۔ ’’اچھا! کیا سوچا ہے؟‘‘ میں نے جلدی سے پوچھا۔

’’ہم دونوں بہنوں کو گھر فروخت کر کے ان کا حق دیں گے پھر اپنے پیسوں سے کوئی چھوٹا گھر یا فلیٹ لیں گے۔ باقی رہا فیسوں کا مسئلہ تو اس کا بھی بہت آسان حل ہے۔ اب تک بچوں کی فیسیں ہم نے تنگی ترشی سہہ کر ادا کی ہیں۔ یہی سوچ کر کہ اچھی تعلیم اچھے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اچھا مستقبل کیا ہوتا ہے؟ اس بارے میں کبھی سوچا ہے؟‘‘

’’اچھا مستقبل اچھی تربیت سے حاصل ہوتا ہے۔ اپنی روایات، اخلاق اور تہذیبی قدروں سے… نصاب اگر غیروں کا ہو، تو روایات، رسوم اور تہذیب بھی انہی کی رچتی بستی ہے۔ ہم اپنے بچوں کو اپنی چادر کے اندر رہ کر بھی اچھی تعلیم دلا سکتے ہیں۔ البتہ ایک کام اہم ہے… ہم دونوں کو ان کی تعلیم اور تربیت کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور محنت کرنا ہو گی… بھرپور توجہ کے ساتھ۔‘‘

سلمان کے چہرے پر کھلی مسکراہٹ حوصلہ دے دی رہی تھی کہ مسائل کے حل پر انھیں پکا یقین ہے۔

اگلے مہینے صبیحہ باجی اور صباحت آگئیں۔ چونکہ اسکول تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا لہٰذا فیسوں کی مد میں خاصی رقم بچ گئی۔ یوں مہمان داری اچھے انداز میں ہوئی۔ سلمان نے ایک دن دونوں بہنوں کو بٹھا کر وراثت کا مسئلہ حل کرنے کا طریقہ سمجھا دیا۔

لیکن دونوں مسئلے کے اس حل سے مطمئن نہیں تھیں، وہ خاموش اور اداس نظر آئیں۔ بہرحال انھوں نے سلمان کی بات غور سے سنی اوراگلے دو تین دن میں سوچ کر جواب دینے کو کہا۔

’’بھلا اور کیا حل نکل سکتا ہے؟‘‘ وہ سوچ کر کیا جواب دیں گی؟‘‘ میں نے بعد میں سلمان سے حیران ہو کر پوچھا۔ سلمان نے کندھے اْچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا۔

بہنوں نے کہا تو دو تین دن تھا لیکن اگلے دن ہی صبیحہ باجی نے گھر بیچنے کا خیال مسترد کر دیا۔ کہنے لگیں: ’’بھائی! ہمارا مسئلہ کسی نہ کسی طرح حل ہو ہی جائے گا۔ لیکن یہ گھر اور اس سے لپٹی امی جان اور ابا جان کی خوشبو اور یادیں ہم کسی طرح دوبارہ حاصل نہیں کر سکتے… آپ اور شانی ہمارے لیے ہمارا میکہ ہیں اور یہ گھرہماری یادوں کا امین…‘‘

صبیحہ باجی اور صباحت ایک ماہ رہ کر امریکا چلی گئیں… وہ اسی بات پر خوش تھیں کہ سلمان ان کا حق اتنی آسانی سے دینے پر رضا مند ہو گئے تھے۔

سلمان کا کہنا ہے ’’حق تو دینا ہے۔‘‘ لہٰذا اب اسکولوں کی بھاری فیسیں دینے کے بجائے سلمان چھوٹا موٹا کاروبار کرنے کے لیے رقم جمع کر رہے ہیں۔ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حق داروں کو ادائی کے لیے جمع کرنا مقصود ہے۔ سچ ہے، کائنات کا ہر دن پچھلے روز سے مختلف ہوتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ام حبیبہ

Leave a Reply