شکست

آج پھر میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے ہیں اور ان آنسوؤں کے پیچھے میرا دماغ ان ہزاروں بہنوں کے متعلق بڑی تیزی سے سوچنے لگا ہے جو محض غلط ماحول اور غلط تربیت کی بنا پر اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی بھی تباہ کر ڈالتی ہیں۔ میرے سامنے والے مکان میں کچھ ہی عرصہ پیشتر ایسا واقعہ گزر چکا ہے، ابھی پچھلے ہی برس کی بات ہے کہ جمیلہ دلہن بن کر اس گھر میں جانے کیا کیا امیدیں لے کر داخل ہوئی تھی۔ اس کا شوہر بڑا شریف اور نیک خصلت انسان تھا وہ اور میرے شوہر ایک ہی دفتر میں ملازم تھے اور میرے شوہر سے اس کے خاصے گہرے تعلقات تھے۔ اس طرح میں بھی طاہر بھیا سے بخوبی واقف تھی۔ جمیلہ نے اس گلشن میں آپ اپنے ہاتھوں تمام کلیاں نوچ ڈالیں اور پھر خود ہی تعجب کرنے لگی کہ اس کے باغ میں پھول کیوں نہیں کھلتے۔؟

طاہر بھیا کی شادی کے دن ہم میاں بیوی بہت مسرور تھے۔ طاہر البتہ کچھ فکر مند نظر آتا تھا۔ میں نے پوچھا:

’’طاہر بھیا یہ تمہارے چہرے پر اضطراب کیوں ہے؟‘‘ وہ مسکرا کر خاموش ہوگئے اور میرے شوہر کے ساتھ شادی کے انتظامی امور پر گفتگو کرنے لگے۔ میں نے سوچا بے چارے کا کوئی سر پرست نہیں اور آخر شادی کا سارا بوجھ اس کے کندھے پر ہے۔ لیکن شام کو میرے شوہر نے مجھے بتایا کہ وہ بڑا جذباتی لڑکا ہے۔ اس کے چہرے پر پھیلا ہوا اضطراب شادی کے انتظامات کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہے۔ پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی ہونے والی بیوی کے بارے میں بڑے غیر معمولی انداز میں سوچتا رہتا ہے اور اسے یہ خدشہ بڑی بری طرح گھیرے ہوئے ہے کہ کہیں اس کی توقعات کے برعکس اس کی بیوی خلوص اور اخلاق سے عاری نہ ہو۔ یہ سن کر میں نے میاں سے کہا:

’’شادی سے پہلے ہر ایک ایسی باتیں سوچا ہی کرتا ہے لیکن اس کے لیے اس قدر پریشان ہوجانا تو کچھ زیادتی معلوم ہوتی ہے۔

’’میں طاہر کو اچھی طرح جانتا ہوں زہرہ‘‘ میاں نے کہا: ’’وہ انتہا سے زیادہ رومان پسند ہونے کے ساتھ ساتھ حساس بھی ہے، اگر واقعی اس کی بیوی اس کے اخلاقی معیار کے مطابق نہ ہوئی تو بے چارے کی زندگی خراب ہوجائے گی۔

بعض لوگ وقت کے خوش گوار پہلو سے لطف اندوز ہوکر دوسرے پہلو نظر انداز کردیتے ہیں۔ لیکن وہ ان لوگوں میں سے نہیں خیر یہ باتیں تم نہ سمجھ سکوگی۔‘‘ اور واقعی اس وقت میاں کی یہ بات میں نہ سمجھ سکی تھی۔

شہنائیوں کی گونج ہوئی، برات آئی اور گزرتا وقت اس منزل پر پہنچ گیا۔ جہاں جمیلہ دلہن بنی محلے کی عورتوں کے جھرمٹ میں سمٹی ہوئی بیٹھی تھی۔ میں نے اسے دیکھا، وہ حسین تھیں۔

چہرے سے ذہانت کے آثار نمایاں تھے۔ میرے دل نے کہا طاہر بھیا کی امنگیں ضرور پوری ہوں گی۔ اس خوب صورت ڈھانچے میں انہیں وہ کردار یقینا مل جائے گا، جس کی انہیں خواہش ہے۔ وقت اپنے دستور کے مطابق چلتا رہا اور پھر اس منزل پر آپہنچا جب طاہر بھیا ہمارے کمرے میں بیٹھے میرے میاں سے گفتگو کر رہے تھے۔ میں اس وقت ان سے الگ کونے والی کرسی پر بیٹھ کر اپنی بچی کا سویٹر بن رہی تھی۔

’’کہو طاہر میاں بیوی پسند آئی۔‘‘ میرے شوہر نے پوچھا۔

’’ہاں اچھی ہے‘‘ طاہر نے کچھ الجھے ہوئے انداز میں کہا۔‘‘ میں اس سلسلے میں خود تم سے بات کرنا چاھتا تھا۔ طاہر بھیا نے اپنی کرسی کھینچ کر ان کے اور قریب کرلی اور دھیمی آواز میں کہنے لگی۔

’’ذاکر بھیا، میں جمیلہ کے متعلق عجیب کشمکش میں مبتلا ہوں میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرسکا کہ وہ کس قسم کی عورت ہے۔ بعض اوقات اپنی یہ کیفیت دیکھ کر میں یوں محسوس کرنے لگتا ہوں جیسے میں ذہنی بیمار بن گیا ہوں۔ میں خود نہیں جانتا کہ میں جمیلہ کے متعلق قیاس آرائیوں کے جالے کیوں بننے لگا ہوں۔‘‘

’’لیکن آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا جمیلہ کی کوئی بات تمہیں ناگوار گزری ہے؟‘‘

’’نہیں ذاکر بھیا۔ ایسی تو کوئی بات نہیں وہ بہت اچھی ہے لیکن خدا جانے میں بعض اوقات یہ کیوں سوچنے لگتا ہوں کہ وہ ایک وفا شعار بیوی نہیں ہے۔‘‘ یہ سن کر میرے میاں ہنس دیتے۔

’’تم یقینا پاگل ہوگئے ہو۔ بھئی آخر وہ عورت ہے اور ابھی تمہاری شادی ہوئے پندرہ ہی دن تو گزرے ہیں۔ اس قدر جلد تم ایک دوسرے کے متعلق کیسے فیصلے کرسکتے ہو۔‘‘

بات ختم ہوگئی لیکن میرے اندر تجسس کی ایک آگ بھڑک اٹھی۔ میں نے طاہر بھیا کے چہرے پر ایک ایسے اضطراب کی جھلک دیکھی تھی جو کسی شدید پیاسے کے چہرے پر ہوتی ہے۔ اور میں سوچنے لگی یقینا طاہر بھیا جمیلہ سے مطمئن نہیں ہیں۔ میرے دل میں طاہر بھیا کے لیے وہ ہمدردی جاگ اٹھی جو بہن کے دل میں بھائی کے لیے جاگتی ہے۔ تجسس اور ہمدردی کے ان ملے جلے جذبات نے میرے اندر ایک عزم پیدا کردیا اور اس عزم کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے میں اس شام جمیلہ سے ملی۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس کے کمرے میں قدم رکھتے وقت یہ الفاظ میرے کان میں پڑے۔

’’بس جمیلہ ان باتوں پر عمل کر کے ہی تم اپنی ازدواجی زندگی میں کامیاب ہوسکتی ہو۔‘‘

اندر پہنچ کر میں نے دیکھا تو جمیلہ کے سامنے سکینہ بیٹھی ہوئی تھی مجھے دیکھ کر وہ دونوں چونک گئیں۔

’’آؤ زہرہ بھابھی۔‘‘ جمیلہ نے صوفے پر میرے لیے جگہ بناتے ہوئے کہا۔ میں بیٹھ گئی سکینہ سے کچھ رسمی گفتگو ہوئی اور پھر دس پندرہ منٹ کے بعد یہ سوچ کر کہ میری آمد سے شاید ان دونوں کی راز دارانہ گفتگو میں رکاوٹ پڑ گئی ہے۔ میں وہاں سے اٹھ کر واپس آگئی۔ سکینہ کا جملہ جو میں نے جمیلہ کے کمرے میں داخل ہوتے وقت سنا تھا میرے دماغ میں بار بار گونجنے لگا اور میرے تجسس کی بلندی اور بڑھ گئی۔

سکینہ جمیلہ کی عزیز ترین سہیلی تھی اور دونوں آپس میں گہری رازدار تھیں۔ میں سکینہ کو کافی عرصے سے جانتی تھی۔ وہ اور میری چھوٹی بہن رضیہ اسکول میں ایک ساتھ پڑھتی رہی تھیں اور اس طرح میں اپنے میکے میں، جب میں غیر شادی شدہ تھی، اس سے کئی بار مل چکی تھی۔ پچھلے برس سکینہ کی شادی ہوئی لیکن چار ماہ بعد اس کا شوہر اسے چھوڑ کر جانے کہاں چلا گیا تھا۔ آج تک پتہ نہیں چل سکا۔‘‘

دوسرے روز میں پھر جمیلہ کے ہاں گئی۔ آج وہ بہت خوش نظر آرہی تھی۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ اٹھی اور سنگھار میز کے دروازے سے دھوپ کا چشمہ نکال کر آنکھوں پر لگا لیا۔

’’کیوں بھابی۔ کیسا لگتا ہے یہ؟‘‘

چشمہ بڑا خوب صورت تھا، میں نے تعریف کی اور کہا ’’طاہر بھیا نے لاکر دیا ہوگا؟‘‘

’’ہاں‘‘ اس نے جواب دیا ’’بہت سی چیزیں لاکر دی ہیں۔ انہوںنے مجھے ’’وہ پھر میرے قریب آکر بیٹھ گئی۔

’’خوش نصیب ہوکہ ایساچاہنے والا شوہر ملا ہے تمہیں۔‘‘ میں نے کہا ’’تمہیں اس حسن سلوک کا شکریہ الفاظ ہی میں نہیں عملی طور پر بھی ادا کرنا چاہیے۔‘‘

’’شکریہ کیسا بھابی؟‘‘ جمیلہ نے کہا۔ میں نے تو ان کے سامنے ان چیزوں کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ بات بات پر خوشی ظاہر کرنے والی عورتیں تو ۔۔۔‘‘ وہ کہتے کہتے اچانک رک گئی اور میں اپنے دل کو لگنے والے جھٹکے سے سنبھل کر زبردستی مسکرائی۔

’’کہو کہو۔ رک کیوں گئیں۔ کچھ ہمیں بھی سکھاؤنا۔‘‘ میرے تجسس نے میرے ضمیر کے روکنے کے باوجود مجھے اس وقت شاطر بنا دیا۔

’’میں بھلا کیا سکھاؤں گی بھابی۔ میں تو خود سیکھ رہی ہوں۔‘‘

’’چلو جو کچھ اب تک سیکھا ہے وہی بتا دو۔ یا پھر ہمیں بھی اس استاد کا پتہ بتادو جس سے تم فائدہ اٹھا رہی ہو۔‘‘

جمیلہ کے چہرے سے شرمندگی کے آثار فوراً معدوم ہوگئے۔ وہ پھر پہلے ایسی ہوگئی۔

’’مردوں کو سنبھالنا بھی بھابی ایک فن ہے۔ خدا بھلا کرے سکینہ کا۔ اس نے اپنے تمام تجربات مجھے گھول کر پلا دیے ہیں۔ امی نے بھی مجھے بہت کچھ سمجھایا تھا۔ لیکن سکینہ کی باتیں میرے لیے زیادہ مفید ثابت ہوئی ہیں۔ سیدھی سی بات ہے بھابی، ان مردوں کے سامنے بھول کر بھی اپنے دل کا بھید نہیں کھولنا چاہیے۔ جتنا تم ان سے بے اعتنائی برتوگی اتنا ہی یہ تمہارے قریب آئیں گے۔ مجھے ان سے بے شک بڑا پیار ہے لیکن میں نے کبھی اس کا اظہار نہیں کیا بلکہ جہاں تک ہوسکا یہ اثر ڈالنے کی کوشش کرتی ہوں کہ مجھے ان کی پروا نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کئی بار میرے سامنے اپنی محبت کا اظہار کرچکے ہیں۔ دن میں کئی بار میری ضروریات کے متعلق پوچھتے ہیں اور اگر بھابی کہیں میں عام عورتوں کی طرح ان کے سامنے بچھ جاتی تو اب تک وہ مجھے روند چکے ہوتے۔‘‘

جمیلہ نہ جانے کب تک بولتی رہی، لیکن میرے کان جیسے خود بخود بند ہوگئے تھے۔ میں سوچنے لگی طاہر بھیا سچ کہہ رہے تھے کہ میں خود نہیں جانتا کہ جمیلہ کے متعلق قیاس آرائیوں کے جالے کیوں بننے لگا ہوں اورپھر طاہر بھیا کا یہ فقرہ بھی میرے دماغ میں گونج گیا۔ ’’خدا جانے میں بعض اوقات یہ کیوں سوچنے لگتا ہوں کہ وہ ایک وفاشعار بیوی نہیں ہے۔‘‘

سوچ کی اس سیڑھی سے اتر کر میں نے دیکھا تو جمیلہ خاموش ہوچکی تھی۔

’’کیا سوچنے لگیں بھابی۔‘‘ اس نے میرا ڈھلکا ہوا دو پٹہ میرے سر پر رکھتے ہوئے کہا۔

’’تمہاری باتوں پر غور کر رہی تھی، سوچ رہی تھی کہ تمہاری والدہ اور سکینہ دونوں بڑی سمجھ دار عورتیں ہیں۔‘‘ طنز کی آڑ لے کر میں نے آگے بڑھنا چاہا لیکن میرے دماغ نے مجھے روک دیا۔

’’زہرہ! ابھی ٹھہر جا۔ وقت ابھی اس منزل پر نہیں پہنچا جہاں جمیلہ کی اصلاح ہوگی۔ تو وقت کے آگے نہیں بھاگ سکتی تجھے وقت کے ساتھ رہنا ہوگا۔‘‘

اچانک میری بچی فرح نے کمرے میں داخل ہوکر اطلاع دی‘‘ ابا جی آگئے ہیں۔ میں اٹھی اور جمیلہ سے دوسرے روز ملنے کا وعدہ کر کے واپس اپنے گھر آگئی۔

مصلحت جان کر میں نے اپنے میاں سے جمیلہ کی گفتگو کا ذکر بالکل نہیں کیا۔

شام کو طاہر بھیا حسب معمول اپنے گھر سے نکل کر ہمارے کمرے میں آبیٹھے۔ ان کے چہرے پر پھیلا ہوا اضطراب بدستور قائم تھا۔

’’کہو طاہر بھیا کیسے ہو؟‘‘ میرے میاں نے انہیں اپنے قریب بٹھاتے ہوئے کہا۔

’’اچھا ہوں بھیا۔‘‘

’’آج کچھ زیادہ اداس دکھائی دیتے ہو۔ یہ قصہ کیا ہے آخر۔

’’کچھ نہیں۔‘‘ طاہر مسکرا دیا۔ ’’تمہاری بھابی کل اپنے میکے جا رہی ہے شاید اس لیے اداس ہوں۔‘‘

’’شاید؟‘‘ میرے میاں نے ہنستے ہوئے کہا: ’’یقینا کہو بھیا یقینا، لیکن پھر کیا ہے آٹھ دس روز میں واپس آجائے گی ’’نہیں بھیا وہ تو کہہ رہی تھی کہ ۔۔۔ دو تین ماہ رہوں گی۔‘‘

’’دو تین ماہ‘‘ میں تقریبا چلا اٹھی۔

’’ایسا تو کبھی دیکھنے سننے میں نہیں آیا۔‘‘ پھر میں نے طاہر بھیا کے اضطراب کو مٹانے کی غرض سے کہا۔ ’’تم فکر نہ کرو بھیا ہم آٹھ دس روز کے بعد لے آویں گے۔‘‘

’’ویسے بھی بھلا اتنے دن کیسے رہ سکتی ہے آخر یہ اس کا گھر ہے اور پھر تمہارے لیے وہ بھی تو اداس ہوجائے گی۔ پانی آخر نشیب میں آئے گا بھیا۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ لیکن اس وقت یہ نہ جان سکی تھی کہ نشیب طاہر اور طاہر بھیا کا گھر نہیں بلکہ وہ بے راہ روی اور غلط وطیرہ ہے جو جمیلہ نے اپنا لیا تھا۔ جمیلہ کے جانے کے بعد طاہر بھیا تقریبا ہر روز ہمارے ہاں آتے اور رات گئے تک ہمارے ساتھ باتیں کرتے رھتے۔ اس طرح میں انہیں اور زیادہ جان گئی تھی وہ انتہائی نیک اور وفاشعار شوہر بننا چاہتے تھے اور ان کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی میں کامیاب ہوں۔ دس روز کے بعد طاہر بھیا نے سسرال والوں کو لکھا کہ وہ جمیلہ کو واپس لانا چاہتے ہیں لیکن انہیں جواب ملا کہ ابھی جمیلہ کم سے کم دو ماہ اور میکے میں رہے گی۔ طاہر بھیا اس روز پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ برہم بھی تھے۔ اور انہیں اس بات پر سخت رنج تھا۔ میں نے اور میرے میاں نے تسلی دی اور کہا کہ کچھ روز اور ٹھہر جاؤ۔ آخر وہ لوگ اسے وہاں کب تک بٹھائے رکھیں گے۔‘‘

دن گزرتے گئے اور میں دیکھتی رہی کہ طاہر بھیا اب بہت خاموش رہنے لگے تھے۔ میں نے ایک روز جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان سے وجہ پوچھی تو بات ٹال گئے۔ اب وہ ہر شام ہمارے ہاں نہ آتے تھے۔ میں نے ایک رات کھانے کے بعد اس بارے میں اپنے میاں سے استفسار کیا تو بولے۔

’’طاہر میں پچھلے دنوں سے بڑی تبدیلی آگئی ہے۔ میں خود حیران ہوں کہ وہ اب اس قدر خاموش اور سنجیدہ کیوں رہنے لگا ہے۔ پہلے دفتر سے چھٹی کے بعد میرے ساتھ گھر آیا کرتا تھا لیکن اب کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے وہ نہ جانے کہاں چلا جاتا ہے۔‘‘ وہ یہ کہہ کر خاموش ہوگئے اور پھر کچھ دیر کے بعد گلی میں آہٹ سن کر چونک اٹھے۔ ’’طاہر معلوم ہوتا ہے۔ طاہر بھیا۔ انہوںنے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے آواز دی میں بھی جانے کیوں اٹھ کر دروازے پر جا کھڑی ہوئی۔ وہ دونوں گلی میں کھڑے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔

’’طاہر بھیا۔ میرے میاں کہہ رہے تھے۔ یہ تم نے شراب کیوں پی رکھی ہے۔ یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے۔‘‘

’’مجھے کچھ نہیں ہوا۔ بھیا‘‘ طاہر نے جواب دیا اس کی آواز لہرا رہی تھی۔ ’’یہ گھر تنہائی میں مجھے کاٹنے کو دوڑتا ہے۔ میں نے یہ ساتھی ڈھونڈ لیا ہے۔ مزے سے سوؤں گا۔ اب رات ۔۔۔ جاگ کر نہیں کٹے گی۔ اب میرے دماغ میں ۔۔۔ خیال نہیں آئے گا کہ جمیلہ کو میری اور میرے گھر کی پروا نہیں۔۔۔ اب مجھے کوئی غم نہیں ۔۔۔ کوئی غم نہیں۔‘‘ طاہر بھیا یہ کہتے ہوئے اپنے مکان میں داخل ہوگئے اور میرے میاں گردن جھکائے واپس آگئے ہم دونوں نے آپس میں کوئی بات نہیں کی۔ لیکن رات گئے تک ہم اپنے اپنے بستر پر لیٹے لیٹے سوچتے رہے کم از کم مجھے تو اس رات نیند نہیں آسکی۔

صبح اٹھتے ہی میں نے فرح کے ہاتھ طاہر بھیا کو بلا بھیجا۔ وہ آئے۔ چہرے پر ندامت کے آثار واضح طور پر نمایاں تھے۔ میں نے کہا:

’’یہ کس راہ پر چلنے لگے بھیا۔ تم تو ایک فرض شناس شوہر بننا چاہتے تھے۔ یہ بے راہ روی کیسی؟‘‘

’’میں ۔۔۔ بھابی۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے کہہ نہ سکے میں نے مزید کہا۔ ’’میں جانتی ہوں بھیا تم کیا سوچتے ہو میں یہ بھی جانتی ہوں کہ تمہیں کیا رنج پہنچ رہے ہیں۔ لیکن ان کا علاج یہ تو ہرگز نہیں جو تم نے شروع کر دیا ہے۔ کیا خود ایسی حرکات کر کے تم اپنے گھر کی تباہی کی ذمہ دار جمیلہ کو ٹھہرا سکوگے؟ میں چونکی کہ ہائے یہ میرے منہ سے کیا نکل گیا لیکن میری یہ بات بڑی موثرثابت ہوئی طاہر بھیا سوچ میں پڑ گئے اور پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولے۔

آپ ٹھیک کہتی ہیں بھابی۔ مجھ سے غلطی ہوئی۔ میں نے غلط راستہ پکڑ لیا ہے۔ میں اس راستے کو چھوڑ دوں گا۔ اب آپ کو مجھ سے شکایت نہیں ہوگی۔‘‘

اور واقعی طاہر بھیا اس روز کے بعد سنبھل گئے۔ پھر پہلے ہی کی طرح ہر شام وہ ہمارے ہاں آ بیٹھتے اور ادہر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد رات کو اپنے مکان میں چلے جاتے۔ اداس البتہ وہ اب بھی رہتے تھے، دو ماہ گزر گئے۔ طاہر بھیا سسرال گئے، پہلے تو سسرال والوںنے کچھ عذر سے کام لینا چاہا، لیکن آخر طاہر بھیا کے اصرار پر جمیلہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ طاہر بھیا اب بڑے خوش نظر آتے تھے چند روز تک ان کی یہ کیفیت دیکھ کر میں اطمینان محسوس کرنے لگی لیکن پندرہ بیس روز کے بعد وقت نے پھر کروٹ لی۔ طاہر بھیا نے باتوں ہی باتوں میں مجھ سے کہا۔

’’بھابی یہ جمیلہ تو عجیب لڑکی ہے۔ میں نے سوچا کیا تھا اور ہو کیا رہا ہے۔‘‘

’’کیوں کیا کوئی خاص بات ہوئی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’وہ مجھ سے مطمئن نہیں ہے بھابی۔ہر روز کسی نہ کسی بات پر وہ مجھ سے اختلاف پیداکرلیتی ہے۔ میں لاکھ سمجھتا ہوں مگر اس پر الٹا ہی اثر ہوتا ہے۔ کل سے پھر منھ بسورے بیٹھی ہے۔ شکایت یہ ہے کہ میں دفتر سے لیٹ گھر آتا ہوں۔ میں نے سمجھایا کہ آج کل بجٹ کے دن ہیں میں ہی نہیں بلکہ ذاکر بھیا اور دوسرے کلرک بھی دیر تک کام کرتے رہتے ہیں مگر ۔۔۔ وہ الٹا الزام دیتی ہے۔‘‘

’’تم فکر نہ کرو۔ اس کی یہ غلط فہمی میں دور کردوں گی۔‘‘

دوسرے دن میں جمیلہ سے ملی۔ حسب معمول وہ بڑی خوش دکھائی دے رہی تھی۔

’’کہو جمیلہ بہن کیسی ہو؟‘‘ میںنے پوچھا۔ وہ مسکرائی۔

’’اچھی ہوں بہن‘‘ کچھ دیر رسمی گفتگو ہوئی پھر میں نے پوچھا: ’’کہو تمہارے میاں کا کیا حال ہے؟‘‘

’’مجھ سے کیا پوچھتی ہو بھابی۔ روز تو دیکھتی ہو انہیں۔‘‘

ہاں دیکھتی تو ہوں۔ اسی لیے پوچھا بھی ہے، کیوں کہ آج کل وہ مجھے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔‘‘

’’بھابی، ان مردوں کا پریشان رہنا ہی اچھا ہے ورنہ لاپروا ہوجاتے ہیں۔ آج کل دفتر سے دیر میں آتے ہیں۔ میں روزانہ کان کھینچتی ہوں۔‘‘

’’لیکن یہ بات اچھی تو نہیں ہے جمیلہ بہن۔‘‘ مجھے غصہ آگیا۔ تمہیں کسی نے غلط بتایا ہے کہ اس رویے سے تم ان کو قابو میں رکھ سکتی ہو، میں پوچھتی ہوں کہ وہ بے قابو کب ہوئے۔ جو مرا ہے اسے مارنے کی کیا ضرورت۔ جو پہلے ہی تمہارے پیار میں دیوانہ ہے اسے اور دیوانہ کرنے کی کوشش کیا مطلب؟ اب بھی وقت ہے جمیلہ بہن سنبھل جاؤ۔ ورنہ تم اپنی زندگی تباہ کر ڈالوگی، کسی کے بہکائے پر کیوں اپنے گھر کا ستیا ناس کرتی ہو۔‘‘

’’بس بھابی۔ اب اور کچھ نہ کہنا‘‘ وہ غصے سے سرخ ہوکر گرجی ’’میں بھی کہوں کہ میری محنت اور سیاست میاں پر اثر کیوں نہیں کر رہی اب پتہ چلا ہے کہ تم ڈھال بن کر میرے راستے میں اٹک گئی ہو۔‘‘ وہ جانے کیا کیا کہتی رہی مجھ سے سنا نہ گیا اور میں اٹھ کر کمرے سے باہر نکل آئی۔

یہ شام بڑی منحوس شام تھی۔ اس شام جمیلہ طاہر بھیا سے کچھ اس طرح لڑی کہ اس کی گونجتی ہوئی آواز ہمارے کانوں تک آسانی سے پہنچ رہی تھی۔ جو کچھ اس نے کہا اسے سوچ کر اب بھی میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور تو اور اس نے مجھے اور میرے میاں کو بھی نہ چھوڑا اور ہم لوگوں پر ایسے الزامات لگائے کہ ہم دونوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔

طاہر بھیا کو اس دن کے بعد ہم نے کبھی ان کی اصلی حالت میں نہیں دیکھا۔ وہ تقریباً ہر روز شراب پی کر گھر آتے۔ ایک دن میں نے آواز دے کر انہیں ٹھہرا لیا۔

’’طاہر بھیا!‘‘ میری آنکھوںمیں اس وقت آنسو امڈ آئے تھے وہ لڑکھڑاتے ہوئے میرے قریب آگئے۔

’’کہاں سے آرہے ہو بھیا‘‘ میں نے پوچھا۔

’’وہاں سے آرہا ہوں بھابی ۔۔۔ جہاں لوگ ۔۔۔ روپے دے کر چند لمحوں کا پیار خریدتے ہیں۔‘‘ ان کی آواز لہرا رہی تھی اور وہ سخت نشے میں تھے لیکن ۔۔۔ اب پتہ چلاکہ جن کو سونے کے اصلی زیورات ۔۔۔ نہیں ملتے وہ ۔۔۔ پیتل کے نقلی زیورات پہن کر اپنی خواہش پوری کرلیتے ہیں۔ جب پیاس نہ ہو تو انسان صاف پانی پینا پسند نہیں کرتا۔ لیکن جب پیاس ہو بھابی تو گدلا پانی شربت بن جاتا ہے۔ وہ یہ کہتے کہتے ہنسنے لگے۔ میں وہاں نہ ٹھہر سکی اور روتی ہوئی واپس آگئی۔

وقت کی موجودہ منزل یہ ہے کہ طاہر بھیا تپ دق کے مریض ہوکر ہسپتال میں پڑے ہوئے ہیں۔ جمیلہ کی والدہ نے طاہر بھیا کومجبور کر کے جمیلہ کو طلاق دلوادی اور پھر اس کی شادی ایک بوڑھے آدمی سے کردی۔ جمیلہ کبھی کبھی میرے ہاں آکر مجھ سے ملتی ہے۔ اپنی ماں اور سکینہ کو جی کھول کر کوستی ہے اور خون کے آنسو رو کر واپس چلی جاتی ہے۔

طاہر بھیا سے جب ہم ملنے جاتے ہیں تو وہ ہمیشہ رو رو کر مجھ سے کہتے ہیں۔

’’بھابی میں جمیلہ کو کبھی نہ بھول سکوں گا۔ مجھ سے خدا جانے ان لوگوں نے جمیلہ کو کیوں چھین لیا۔ وہ میری زندگی تھی ۔۔۔ اب میں مرجاؤں گا۔‘‘

اور میں سوچنے لگتی ہوں کہ پاگل طاہر بھیا اتنا بھی نہیں جانتے کہ ان کی جمیلہ کو ان کی جمیلہ ہی نے ان سے چھین لیا ہے۔ جب تک دنیا میں جمیلہ کی ماں اور سکینہ ایسی عورتیں موجود ہیں اور جب تک جمیلہ ایسی لڑکیاں اندھی ہوکر ان عورتوں کے سکھائے ہوئے طریقوں پر کاربند ہیں وفا شعار شوہروں کی بیویاں اسی طرح ان سے چھینی جاتی رہیںگی اور جمیلہ ایسی لڑکیوں کی زندگیاں اسی طرح تباہ ہوتی رہیں گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بشیر قمر

Leave a Reply