بس! ذرا سی دیر ہوگئی (ہندی ادب سے)

(۱)

ریل بڑی تیز رفتاری سے بھاگی چلی جا رہی تھی۔ سامنے کچھ فاصلے پر ایک موڑ تھا اورآگے ایک جنکشن اسٹیشن تھا۔ جہاں دو ریلیں ایک ساتھ چل کر ٹکرا کر چور چور ہوسکتی تھیں۔ کنٹر کٹر نے ایک ریل کو روکنے میں ذرا سی دیر کردی تھی۔ پر وہ سمجھتا تھا کہ دوسری ریل دوسری لائن پر آنے سے پہلے یہ ریل خاص لائن پر آچکے گی اور ایکسیڈنٹ سے بچ جائے گی۔ اُف یکایک دوسری لائن پر بھی دوسری ٹرین کا انجن ٹھیک اسی وقت آتا دکھائی دیا۔ تیز رفتار! سگنل ڈاؤن! بھاگتے ہوئے دونوں انجن ٹکرا گئے۔ ایک لمحے میں خوف ناک چیخ پکار سے فضا گونج اٹھی۔ کتنوں ہی کی جانیں گئیں کتنے ہی گھر برباد ہوگئے۔ کوئی پس گیا تو کسی کی ٹانگ اور ہاتھ کٹ گئے کتنے ہی زخمی ہوگئے۔ الغرض جان و مال کا بڑا بھاری نقصان ہوا۔

کیا وجہ تھی؟

وجہ ایک آدمی تھا۔ یہ تھی آدمی کی تھوڑی سی لاپرواہی ذرا سی سستی! اُسے سگنل دینے میں ذرا سی دیر ہوگئی تھی۔

(۲)

فرانس کی جنگ عظیم ایک بڑی ہی خوفناک صورت میں ہو رہی تھی۔ سپاہیوں کے دستے ایک کے بعد ایک دشمن پر آندھی کی طرح حملہ آور تھے۔ آدھا گھنٹے گھمسان کی مارکاٹ چلتی رہی۔ پہاڑی کے دوسری طرف سپاہی جان کی بازی لگا کر حفاظتی اقدام کر رہے تھے۔ دونوں فوجیں تھک کر کمزور ہوچکی تھیں۔ اگر ایک اور زور دار حملہ کردیتے تو فتح پوری ہو جاتی۔ ایک تازہ دم امدادی فوج کو فوراً بلایا گیا تھا ہر لمحہ امدادی فوج کے آنے کا بے قراری کے ساتھ انتظار کیا جا رہا تھا۔ فتح یاب فوج کو اب یقین ہوگیا تھا کہ اب ہم کو ضرور فتح حاصل ہوجائے گی۔ انہیں اپنی امدادی فوج کے وقت پر پہنچ جانے کا پورا یقین تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنے حفاظتی دستے کو بھی حملہ آور فوج میں شامل کرلیا تھا اور پہاڑی کی چھپی جگہوں سے نکل نکل کر دشمن پر حملہ شروع کر دیا تھا انہیں معلوم تھا کہ امدادی فوج ان کے وقت پر آجائے گی اور فتح ان کے ہاتھ رہے گی۔

لیکن ہائے امدادی فوج وقت پر نہ پہنچی، ادھر بے قرار نگاہیں لگی رہیں کہ امداد اب آئی اب آئی۔ گراف چی نام کا سپہ سالار وقت پر نہ پہنچا۔ نتیجہ کیا ہوا۔ کیا آپ جانتے ہیں۔ شاہی فوج شکست کھا گئی۔ والٹرلو کے بہت مشہور و تجربہ کار اور جنگ جو نپولین نے بری طرح شکست کھائی وہ سینٹ ہیلن کی جیل میں قید کرلیا گیا اور ایک قیدی کی مانند ہی مرگیا۔

یہ سب آخر کیوں ہوا؟ نپولین فن حرب میں بہت ماہر تھا اس نے کئی جنگیں جیتی تھیں۔ جنگوں کے متعلق اس کا تجربہ بہت وسیع تھا۔ اس کے ہارنے میں اس کا کوئی قصور نہ تھا۔ غلطی یہ تھی کہ اس کا ایک مارشل امدادی فوج لے کر مدد کے لیے ذرا دیر سے پہنچا تھا اور ایک عظیم جنگجو کی شکست کی وجہ بنا تھا۔ فاتح فوج کے امدادی دستے کے سالار گراؤجی نے پوچھا کہ تم کو دو منٹ کی دیر کیوں ہوگئی تھی؟ اس نے بتایا کہ جب میں چلا تو میری بیوی نے میرا بوسہ لینے میں دو منٹ زیادہ لگا دیے۔

(۳)

تجارتی علاقے میں ایک مشہور فرم دیوالیہ پن کے خلاف جنگ کر رہی تھی۔ کیلیفورنیا میں اس فرم کی بہت سی پونجی جمع تھی۔ یقین تھا کہ ایک مقررہ مدت کے اندر وہاں سے روپیہ ضرور آجائے گا۔ اگر وہ روپیہ آئے گا تو اس فرم کی د ھاک، اس کے مالکوں کی عزت اور اس کا مستقبل محفوظ رہے گا۔

لیکن بدقسمتی کی چوٹ! مقدر کا چکر، ایک ہفتہ کے بعد دوسرا ہفتہ بیت گیا اور وہاں سے سونا نہیں آیا۔ آخر وہ منحوس آخری دن بھی آپہنچا، جب فرم کو تمام قیمتی ہنڈیوں کا بھگتان وعدے کے مطابق کرنا تھا۔ پھر بھی امید کے باریک دھاگے میں فرم کے مالکوں کی عزت لٹک رہی تھی۔ انہیں امید تھی کہ کیلیفورنیا سے ریزرو فنڈ میں مصیبت کے وقت لی گئی رقم ادا کرنے کے لیے ضرور روپیہ آئے گا۔

صبح ہوتے ہی کیبل گرام کے ذریعے جلد سے جلد روپے بھیج دینے کا تقاضا کیا گیا۔

سب کو یقین تھا کہ کوئی لاپروائی نہیں ہوگی۔ اور جمع شدہ رقم مصیبت سے پہلے پہلے پہنچ جائے گی۔

افسوس! جب اسٹیمر آیا تو معلوم ہوا کہ روپیہ کچھ دیر سے پہنچا تھا اور تب تک یہ اسٹیمر وہاں سے چل چکا تھا۔ اگلا اسٹیمر دیوالیہ فرم کے لیے چڑھی رقم کو ڈیڑھ گنا لے کر آیا۔ مگر ہائے! فرم کے دیوالیہ ہونے کا اعلان ہوچکا تھا۔ ذرا سی دیر ہوجانے کی وجہ سے اس کے وقار اور مالکوں کی آبرو پوری طرح مٹی میں مل چکی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ امدادی رقم بھیجنے والوں نے روپیہ ذرا دیر میں بھجوایا تھا۔

(۴)

ایک مجرم کو کسی آدمی کے قتل کرنے کے الزام میں پھانسی کا حکم ہوا۔ وہ پھانسی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ اس نے حالات سے مجبورہوکر ایک ظالم قاتل کو قتل کیا تھا۔ حالات ایسے تھے کہ یا تو وہ اسے مارے یا اس کے چھرے کے نیچے جان دے دے۔ اس حوصلہ مند نے ظالم کو قتل تو کر دیا لیکن اب قتل کا الزام اس کے سر تھا۔

قانون تو قانون ہی ہے اس کی پہنچ تک جو کبھی آتا ہے سزا پاتا ہی ہے۔ اس آدمی کی حمایت میںپبلک تھی۔ سینکڑوں اشخاص نے رہا کردینے اور اس پر رحم کرنے کے لیے درخواستیں بھیجی تھیں۔

پبلک اس کی طرف دار تھی۔ اور سب کو پورا یقین تھا کہ سزا سے ایک دن پہلے رہائی کا حکم ضرور آجائے گا۔ اور ملزم کو چھوڑ دیا جائے گا۔ جیلر تک کو یقین تھا کہ قیدی کو ضرور رہا کر دیا جائے گا۔

لیکن انتظار کے باوجود صبح کا وقت آگیا۔ وقت تیزی سے بھاگا چلا جا رہا تھا اور کالے منہ والی موت اپنے خوف ناک جبڑے کھولے ملزم کو نگلنے چلی آرہی تھی۔

آخری لمحہ آپہنچا۔ پھانسی کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ پھر بھی سب کو حکم شاہی کے وقت پر پہنچ جانے کی امید تھی۔ آدمی امید کی چمک دار روشنی کے سہارے ہی آخری لمحہ تک جی رہا تھا۔

سب کو شاہی حکم بردار کے آنے کا انتظار تھا۔ اب آیا، اب آیا۔ پر کوئی بھی نہ آیا۔ ملزم کو پھانسی کے تختے پر چڑھا دیا گیا۔ موت جیسا کالا کپڑا اس کی آنکھوں پر چڑھا دیا گیا۔ نیچے کی چٹکنی لگادی گئی۔ پیروں کے نیچے سے تختہ گرا دیا گیا۔

اب اس کا تڑپتا ہوا جسم لٹک رہا تھا۔ اور بے جان بدن جھول رہا تھا۔ ٹھیک اسی موقع پر دور سے ایک سوار تیزی سے گھوڑا دوڑاتا ہوا آتا نظر آیا۔

وہ شاہی حکم بردار تھا اور قیدی کی رہائی کا حکم لیے ہوئے بدحواس گھوڑے کو بھگائے چلا آرہا تھا۔

اس کے ہاتھ میں حکم نامہ تھا جو اس نے دور ہی سے ہاتھ اونچا اٹھا کر بے چین ہجوم کو دکھایا۔

لیکن ہائے! وہ ذرا دیر سے پہنچا تھا۔

(۵)

یہ سب حادثے زندگی کے ایک اہم نکتے کو ثابت کرتے ہیں اور وہ یہ کہ انسان وقت کی پابندی کا بے حد دھیان رکھے کام پورا کرنے میں دیر اور سستی کبھی نہ کرے۔

ذرا سی دیری سے سینکڑوں کا نقصان ہوسکتا ہے آدمی کی جان جاسکتی ہے۔ برسوں کی عزت مٹی میں مل سکتی ہے خوش حالی، آبرو اور امن غارت ہوسکتا ہے۔

لوگ مذہب کی تعلیم دینے اور بھلائی کے کام کرنے کو سوچتے ہی رہتے ہیں کل پر ڈالتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ٹالتے ٹالتے وہ جذبہ عظیم ماند پڑ جاتا ہے۔

پانچ منٹ وقفہ کتنا چھوٹا ہوتا ہے پر اسی کا صحیح مصرف زندگی کو بدل سکتا ہے۔ دیر کردینے میں خوفناک نقصان ہوسکتا ہے اگر ہم اچھی خوبی اپنے کردار میں ابھارنا چاہتے ہیں تو وہ وقت کی پابندی ضروری ہے۔ ہماری زندگی گھڑی کی سوئی پر چلتی ہے۔ ہم اپنی زندگی کو پابند بنائیں سستی نہ کریں، جو کام جس وقت ہوتا ہے مقررہ صورت میں اسی وقت کریں۔ ہم اپنی روز مرہ کی زندگی کو بھی اسی اصول کے تابع بنائیں زندگی کا صحیح مصرف وقت کو زیادہ سے زیادہ اونچے اصولوں پر صرف کرنا ہے۔ یہاں تک کہ گردش زمانہ بھی اسی اصول کی پابند ہے۔ دنیا، زمین، سورج، چاند ستارے اور سبھی سیارے وغیرہ وقت کی رفتار ہی پر چل رہے ہیں۔ وقت کی ناقدری سے دنیا کا کوئی کام نہیں چلتا قدرت کے نظام میں یہی اصول چل رہا ہے۔ پھر ہم ہی کیوں بے اصول رہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
رام چرن مہندر ترجمہ: کوثر جہاں

Leave a Reply