لفافہ

حجاب کے نام

تازہ شمارہ

اگست کا شمارہ سامنے ہے۔ مضامین اچھے لگے۔ وقت کا مفید اور موثر استعمال بڑا مفید اور کار آمد مضمون ہے۔ کاش کہ ہماری زندگی وقت کی قدر شناس ہوجائے۔ اس شمارہ میں ایک مضمون ’’ازدواجی زندگی کا ایک اہم پہلو‘‘ بھی شائع ہوا ہے۔ مضمون پڑھ کر میں تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ یا اللہ کہاں ہمارا معاشرہ اور کہاں رسولؐ کے اصحاب کا طرزِ فکر اور طرزِ عمل ہے۔ اس مضمون سے پہلے کبھی اس انداز میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ہاں میں خواتین کے بننے سنورنے اور ظاہری طور پر خوش لباس رہنے کا قائل تھا اور ہوں۔ مگر یہ کہ شوہروں کو بھی اس کے جواب میں کچھ کرنے کی ضرورت ہے کبھی نہ سوچا تھا۔ مضمون کے آخر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حکیمانہ جملہ ’’ان عورتوں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو ۔ وہ چاہتی ہیں کہ تم بھی ان کے لیے اچھی شکل و صورت بناؤ جس طرح تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لیے بناؤ سنگار کریں۔‘‘

مضمون نہ صرف پڑھنے کے قابل ہے بلکہ اس قابل ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے کیوں کہ یہ مضمون ہمارے معاشرے کو ازدواجی زندگی کا بڑا اہم گر سکھاتا ہے۔lll

محمد ابو عمر حیدر آباد (بذریعہ ای-میل)

وقت کا استعمال

ڈاکٹر منصور علی کا مضمون بڑا مفید اور کارآمد ہے۔ مذکوہ بالا مضمون کسی رسالہ سے نقل کیا گیا ہے۔ مضمون طویل ہے۔ ایسے مفید مضامین کو کسی قدر اختصار کے ساتھ پیش کیا جائے تو بہتر ہے۔ کیوںکہ طویل مضمون پڑھنے کا وقت کم ہی لوگوں کو ملتا ہے۔ ویسے طویل مضامین کا اب رواج ختم ہو رہا ہے۔ امید ہے کہ توجہ فرمائیںگے۔ lll

ایک بے نام (بذریعہ ای- میل)

ایک اہم تعلیم

ماہ جولائی کا حجاب اسلامی پرکشش ٹائٹل کے ساتھ موصول ہوا۔ سید عاصم محمود کا مضمون ’’معذوروں کے ساتھ رسولؐ کا حسن سلوک‘‘ بہت پسند آیا۔ رسولؐ کی تعلیمات اور آپؐ کی عملی زندگی سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ آپ بیماروں کی تیمار داری کرتے اور مریضوں کی عیادت کو تشریف لے جاتے۔ اس سلسلے میں متواتر احادیث ہمارے سامنے ہیں۔

ذہنی معذوروں کا معاملہ مریضوںسے مختلف ہے۔ وہ یوں ہی سڑکوں پر گھومتے پھرتے ہیں اور لوگ ان سے ملنا جلنا یا قریب ہونا، اپنی شان کے خلاف تصور کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے ذہنی معذوروں کو بچے تو پریشان کرتے ہی ہیں بڑے اور سمجھ دار لوگ بھی انہیں ستا کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل دین کی تعلیمات اور رسولؐ کے عمل کے برعکس ہے۔

یہ مضمون سماج کو ایک اہم مسئلہ پر دین کی واضح تعلیم سکھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ذہنی طور پر معذور افراد کو بھی عزت و احترام کا مقام دیں اور ان سے ملنے جلنے کو اپنے لیے اجر کا باعث تصور کریں۔ lll

مسرت پروین نشاط پروین

پداپلی (آندھرا پردیش)

ویب سائٹ

حجابِ اسلامی اچھا رسالہ ہے۔ ملک اور بیرون ملک کافی مقبول ہے۔ ذرائع ابلاغ کی ترقی کے دور میں تمام لوگ رسالہ منگوا کر نہیںپڑھ سکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ ایک ویب سائٹ بنوائیں تاکہ ہم لوگ بھی یہاںلندن میں آپ کے رسالہ سے فائدہ اٹھا سکیں۔lll

شاہ نواز احمد (لندن) (بذریعہ ای-میل)

میں ازل سے جاری خیر و شرکی جنگ میں شیطانی قوتوں نے ہمیشہ اپنی مکروہ اور بھیانک سازشوں کے ذریعے دین اسلام کو روکنے کی کوششوں میں مسلمانوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ ظلم وستم کے پہاڑ توڑے، لیکن اس سب کے باوجود مسلمانوں کے دلوں سے اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت کو نہ نکالا جاسکا، اور آج اسلام دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن چکا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے کفر کے عَلم برداروں کی نیندیں اچاٹ کردی ہیں اور وہ بوکھلا کر آئے روز مسلمانوں پر ظلم و ستم کی نئی داستانیں رقم کررہے ہیں۔ گزشتہ چند روز سے اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں پرگولہ باری اور فضائی حملے جاری ہیں جس میں اب تک ڈیڑھ سو سے زائد فلسطینی شہید اور1000کے قریب زخمی ہوچکے ہیں لیکن امن اور انسانی حقوق کا پرچار کرنے والے ممالک اس صہیونی جارحیت کا تماشا دیکھنے میں مصروف ہیں۔ ان ممالک کامسلمانوں کے لیے دوہرامعیارکھل کرپوری دنیا کے سامنے آچکاہے۔اس وقت غزہ سمیت پورا فلسطین اسرائیلی خنجر کی نوک پر ہے۔ 2012ء میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی مسلمانوں کوشہید کردیاگیا۔اب ایک بار پھرفلسطینیوںپر فضائی اورزمینی حملے کی تیاری کی جارہی ہے جس کے نتیجے میںدنیاایک اور انسانی المیے سے دوچار ہوسکتی ہے۔ عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لے اور نہتے فلسطینیوں کو اسرائیلی دہشت گردی سے بچائے۔ حکومت کا بھی فرض ہے کہ فلسطینی معصوم بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی بے گناہ اموات اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر بھرپور آواز اٹھائے۔ امریکہ نے اسرائیل کو عسکری قوت دے کرانہیں مسلمانوں کا خون بہانے کے لیے مقرر کررکھا ہے، جبکہ وہ خود عراق اور افغانستان میں7لاکھ سے زائد مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارچکا ہے۔دنیا بھر میں امت ِمسلمہ کاقتل عام اپنے عروج پر ہے۔ معصوم جانوں کو جانوروں کی طرح ذبح کیا جا رہا ہے۔ اور مسلم ممالک کے حکمران ان کی جی حضوری میں لگے ہوئے ہیں۔غزہ پر مسلسل بمباری اور معصوم فلسطینی مسلمانوں کی شہادت پرعالم ِاسلام خاص طور پر عرب حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی مسلم امہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔مسلم حکمرانوں کی خاموشی اسرائیلی جارحیت کی خاموش حمایت کے مترادف ہے۔جن سے اللہ اور اس کے رسولؐ نے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے بدقسمتی سے مسلم ممالک کے حکمران انہی سے دوستیاں نباہ رہے ہیں۔امتِ مسلمہ کا اتحاد ہی کفار کے مظالم کو روک سکتا ہے۔جب تک امتِ مسلمہ متحد ہوکر خود ان مظالم کا راستہ نہیں روکے گی دنیا بھر میں مسلمانوں پرظلم و جبر جاری رہے گا۔امت ِمسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے ہی ہم کفار کی سازشوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔مسلم امہ طاغوت کے خلاف متحد ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے زیرنہیں کرسکتی۔lll

سمیع الرحمن ضیاء

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply