بچوں کی ٹرین

بچوں کی ریل [بچوں کی اصل ٹرین، جس کا سارا انتظام بچے ہی کرتے ہیں]

ہنگری وسطی یورپ کا ایک ملک ہے جس کے دار الحکومت کا نام بودا پیسٹ ہے۔ کسی زمانے میں سوویت روس نے بودا کے حسین و جمیل پہاڑی سلسلے میں ٹرین کی ایک چھوٹی سی لائن بچھائی تھی جو آج بھی موجود ہے، اسے tGyermekvas کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ یہ ہنگری زبان کے الفاظ ہیں جس کا مطلب ہے، بچوں کی ٹرین۔ لیکن tGyermekvas اس طرح کی کھلونا ٹرین نہیں ہے جیسی آج کل عام طور سے تفریحی پارکوں میں لوگوں کی سیر و تفریح کے لیے چل رہی ہیں، بلکہ یہ در حقیقت ایک اصل ٹرین ہے، اس کی اصل بوگیاں ہیں اور اسے ڈیزل سے چلنے والا انجن کھینچتا ہے، اس کے راستے میں اصل اسٹیشن آتے ہیں۔ اس بچہ ٹرین کا سارا انتظام بچے ہی کرتے ہیں جو مسافر نہیں بلکہ اصل ریلوے ورکرز ہیں۔ اس ٹرین کے اسٹاف میں شامل بچوں کی عمریں ۱۰ سے ۱۴ سال کے درمیان ہوتی ہیں جو بالغ سربراہوں کی نگرانی میں اپنا کام کرتے ہیں۔ ٹرین کو چلانے اور اس کی دیکھ بھال کے کام بچے نہیں کرتے، بلکہ یہ ذمے داری بڑی عمر کے افراد یعنی بالغوں کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی تمام کام صاف ستھرے اور بے داغ ریلوے کی یونی فارم میں ملبوس بچوں کا اسٹاف ہی انجام دیتا ہے۔ ان میں ٹکٹ جاری کرنے سے لے کر سگنل آپریٹ کرنا، ٹرین کی آمد اور روانگی کا اعلان کرنا، مسافروں کو ضروری معلومات فراہم کرنا، یہ سب کام بچے ہی کرتے ہیں۔ مسافروں اور اپنے اسٹاف کے ساتھیوں کے ساتھ ان کا رویہ بہت اچھا ہوتا ہے۔ ان بچوں کے لہجے میں بڑی شائستگی ہوتی ہے۔

’’بچوں کی ٹرین‘‘ کمیونسٹ دور کی وہ یادگار ہے جو اس وقت شروع کی گئی تھی جب Movement Young Pioneersاپنے عروج پر تھی۔ یہ تحریک کمیونسٹ پارٹی کے نوجوانوں کی ویسی ہی تحریک تھی جیسی مغربی دنیا میں اسکاؤٹس کی تحریک ہے۔ ایسی تحریکوں سے نوجوانوں میں سماجی تعاون فروغ پاتا ہے۔ چلڈرن ریلوے کو پائیز ریلوے بھی کہا جاتا تھا۔ نوجوانوں کے اس پراجیکٹ میں کم عمر نوجوان ریلوے کے پروفیشن کے بارے میں جانتے اور سیکھتے تھے۔ یہ سلسلہ پورے سوویت یونین اور مشرقی یورپ تک پھیلا ہوا تھا۔ بچوں کی پہلی ٹرین گور کی پارک، ماسکو میں 1932 میں چلنی شروع ہوئی تھی۔ مذکورہ tGyermekvasبودا پیسٹ میں 1948 میں شروع ہوئی تھی۔ جس وقت سوویت یونین ٹوٹا، اس وقت پچاس سے زائد ایسی بچوں کی ٹرینیں مشرقی بلاک میں چل رہی تھیں۔ ان میں سے بہت سی بچہ ٹرینیں آج بھی کئی ملکوں میں چل رہی ہیں جہیں ان ملکوں نے اپنا تاریخی ورثہ قرار دیا ہے۔ یہ ان ملکوں میں سیاحوں کے لیے بڑی کشش رکھتی ہیں جو انہیں دیکھنے کے لیے بڑے شوق سے یہاں آتے ہیں اور ان میں سفرکر کے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

بودا پیسٹ میں چلنے والی یہ بچہ ٹرین 11.2 کلو میٹر طویل سفر طے کرتی ہے، اس دوران یہ سات اسٹیشنوں سے گزرتی ہے جو زبردست تفریحی مقامات ہیں۔ اس پراجیکٹ میں کام کرنے کے خواہش مند بچوں کو چار ماہ کی تربیت حاصل کرنی ہوتی ہے، جس کے لیے انہیں ریلوے انتظامیہ کے امتحان میں بھی شرکت کرنی ہوتی ہے۔ اس کے بعد انہیں ایک سال کا لائسنس مل جاتا ہے۔ منتخب بچوں کو پندرہ روز میں ایک یا دو بار کام کرنا ہوتا ہے، اس دوران ان کے کام کی نوعیت بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ اسکول میں ان کی حاضری مثاتر نہ ہو۔ ویسے وہ اس ٹرین کے لیے ضرورت پڑنے پر اسکول سے چھٹی بھی لے سکتے ہیں۔ tGyermekvas کے لیے کام کرنا ہنگری کے نوجوان اپنے لیے بہت بڑا اعزاز سمجھتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
مرزا سلمان بیگ

Leave a Reply