برطانیہ میں حجاب کی مقبولیت

برطانیہ میں حجاب لینے والی خواتین جابجا نظر آرہی ہیں، چاہے وہ فیشن چینلوں میں ہوں یا ٹی وی چینل پر کھانا پکانے کے پروگرام ہیں۔ یہ الفاظ برطانیہ کے اخبار دی گارجین کے فیشن سیکشن کے ایک مضمون کی سرخی ہیں۔ یہ مضمون گارجین کی کالم نگار ریمونہ علی نے تحریر کیا ہے۔ قارئین کی دلچسپی اور معلومات کے لیے اس مضمون کے اقتباسات پیش ہیں۔

برطانوی معاشرے میں حجاب لینے والی مسلم خواتین کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، چاہے وہ بی بی سی کی ڈرامہ سیرل East Enderہو، ایٹذ رائڈ کے اشتہارات ہوں یا بی بی سی کا مشہو رکھانے پکانے کا پروگرام The Great British Bake off ، ہر جگہ اسکارف موجود ہے۔ بیس سال قبل جب میں نے اسکارف لینا شروع کیا تو حجاب خال خال نظر آتا تھا، لیکن اب یہ متنازعہ لیکن بے ضرر کپڑے کا ٹکڑا مقبول عام بنتا جا رہا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال ملاحظہ فرمائیں سویڈن کے عالمی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنز (Henners & Maurtiz نے پہلی بار حجابی مسلم ماڈل کو اپنی مارکیٹنگ کمپنی میں شامل کیا۔ H&M کے اس کام کی سوشل میڈیا پر بہت تعریف کی گئی۔ غیر مسلم خواتین تک نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ حجاب سے تعلق رکھنے والی خوب صورت مصنوعات بین الاقوامی برانڈ کی شکل میں متعارف کرائی گئی ہیں۔

حجاب لینے والی ایک اور خاتون جو سوشل میڈیا پر مقبول ہوئیں وہ ہیں نادیہ حسین جو بی بی سی کے کھانے پکانے کے مقبول پروگرام Great British Bake off میں شریک ہوئیں اور نمبر ون آئیں اور انہیں Bake off Queenقرار دیاگیا۔ سوشل میڈیا کے تبصرے ظاہر کرتے ہیں کہ مسلم خواتین کے متعلق لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی آرہی ہے اور اس کی ضرورت بھی ہے۔

حالیہ برسوں میں حجاب کو متعصب سیاست کی نذر کیا گیا اور اس پر تنقید اور بحث کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ کچھ لوگ اسے آزادی نسواں کا مظہر سمجھتے ہیں، جب کہ کچھ جبر و استبداد بتاتے ہیں۔ جب میں نے اسکارف پہننا شروع کیا تو میرے بعض دوستوں نے کہا کہ میں مردوں کی غلام بن گئی ہوں۔

کچھ لوگوں کے اس خیال کے باوجود کہ حجاب معاشرے پر بدنما داغ ہے، حجاب کی مقبولیت کو برطانیہ میں مذہب پر عمل کرنے کی آزادی اور برطانیہ میں آفاقی اقدار کا حصہ سمجھا جانے لگا ہے۔ H&M. Gbbo اور بعض دوسروں کی کوششوں کے نتیجے میں اب ان امور میں بھی حجابی عورت کو قبول کیا جانے لگا ہے، جہاں پہلے مسلمان عورت سے لاتعلق رہا جاتا تھا۔ نادیہ حسین محض ایک حجاب لینے والی خاتون نہیں، بلکہ کھانا پکانے کی ماہر بھی سمجھی جاتی ہیں۔ یہ حقائق اس موضوع پر ہونے والے مباحثوں کا رخ بدل رہے ہیں اور عندیہ دے رہے ہیں کہ مسلم ثقافت اور روایات کو منفی انداز سے پیش کرنے کی بجائے انہیں متنوع، صحت مند اور متبرک طریقہ سمجھا جانا چاہیے۔

Tell MAMA ایک آزاد ادارہ ہے جو برطانیہ میں مسلمانوں پر Islamphobicحملوں کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ اس ادارے نے حال میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ۶۰ فیصد سے زائد مسلم مخالف حملے عورتوں پر ہوئے ہیں، جب کہ حجاب لینے والی خواتین ان حملوں کا آسان ہدف رہی ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کچھ عورتوں کو گھونسے مارے گئے، کچھ کو دھکا دیا گیا اور کچھ پر جلتی سگریٹ پھینکی گئی، حتی کہ یہ سب ان کے بچوں کے سامنے کیا گیا۔ ان حالات میں H&Mاو ردیگر اسی طرح کے اداروں کا حجاب کو فیشن کی دنیا میں ایک رتبہ دینا اطمینان بخش ہے۔ یہ ایک تحریک ہے جو ان نامساعد حالات میں حجاب کو اعلی مقام پر پہنچانے اور اسے برطانوی ثقافت میں سمونے کا باعث بن رہی ہے۔ مسلم مخالف حملوں کے تناظر میں حجاب کے متعلق یہ رویہ شائشتہ اور معقول ہے۔(ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
شاہ عبد العزیز

Leave a Reply