جن سے مل کر زندگی سنور جائے!

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اگر ہم اپنی زندگی میں ان دوستوں،چاہنے والوںاور ہم خیال لوگ کا انتخاب کریں گے جو محبتیں پھیلانے والے اور نفرت سے دور  بھاگنے والے ہوں تو ہم اپنی زندگی میں دکھوں،غم وپریشانیوں کے ہوتے ہوئے بھی 80فیصد بیماریوں سے دور رہیں گے۔اگر آپ کے قریب ایسے منفی ذہنیت کے حامل لوگ موجودبھی ہیں جو ہر وقت دوسروں سے نفرت کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور دوسروں تک بھی یہ آگ منتقل کرنا چاہتے ہیں تو ان سے مکمل طور پر کنارہ کش رہیئے ورنہ آپ کی شخصیت کو برباد کرنے میں ایسے لوگ کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

کیونکہ وہ خود اس حسد کی آگ میں جل رہے ہوتے ہیں۔وہ اپنی زندگی کا پیشترحصہ اس عمل میں گزار چکے ہوتے ہیں۔اب ان کے لئے اس کیفیت سے باہر آنا بہت مشکل ہوتاہے لیکن وہ دوسروں کو اپنے جیسااس آگ میں جلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔آپ نے دم کٹی لومڑی کی کہانی تو سنی ہوگی۔بس اسی کے مصداق وہ ایسی مثالیں قائم کررہے ہوتے ہیں کہ شیطان کو بھی مات دے دیں۔ایسے لوگ آپکو زندگی کے ہر موڑ پر ہر گروہ،طبقات،خاندان اور قبیلے ملک و قوم میں باآسانی نظر آجائیں گے۔

منفی سوچ کے حامل ہر کسی کی کمزوریوں اور عیوب پر نظر رکھتے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کوہر شخص سے نفرت ہو جاتی ہے۔یہ ساری نفرتیں ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ان نفرتوں سے چھٹکارا پانے کیلئے ضروری قوت ارادی ان کے پاس موجود نہیں رہتی، اس طرح وہ زندگی کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔

محبت و نفرت بھی انسانی شخصیت کے دو اہم پہلو ہیں۔انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں بہت سی چیزوں کو پسند یا ناپسند کرتاہے۔ یہی جذبے کچھ شدیدہوکر محبت اور نفرت اور پھر اس سے بھی بڑھ کر عشق اور شدید نفرت کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ اگریہ جذبے اپنی فطری حدود ہی میں رہیں تب تو بہت اچھاہے لیکن ان میں حدود سے تجاوز انسان کی شخصیت کو بری طرح متاثر کردیتا ہے۔ آپ نے ضرورایسے کئی لوگ دیکھے ہوں گے جو عشق یا نفرت کی شدت کا شکار ہو کر اپنی پوری زندگی داؤ پر لگادیتے ہیں۔

زندگی سے محبت کرنے والے ہمیشہ یہ جانتے ہیں وہ اپنی زندگی کیلئے کتنے ہی اصول و ضوابط مرتب کرلیں اور کتنی ہی محنت و محبت سے ان پر عمل پیرا ہوں، اگر وہ منفی سوچ و فکر رکھنے والے افراد کے ربط میں اور ان کی صحبت میں آگئے تو ان کے سارے اصول دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، اسلئے وہ ایسے لوگوں کو دوست نہیں بناتے جو زندگی کی بے قدری کرتے ہیں یا جو ہر دم منفیت اور مایوسی کا لبادہ اوڑھے رہتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو دوست بناتے ہیں جن کایہ عقیدہ ہوتا ہے کہ انسان کو ہر حال میں اپنی جد و جہد حیات جاری رکھنا ہے کیونکہ کوشش کرنے پر کوئی انسان یا تو جیتتاہے یا کچھ سیکھتا ہے، ہارتا کبھی نہیں۔

ان جذبوں کو ان کی اپنی حدود میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا رخ موڑ کر صحیح سمت میں لگا دیا جائے۔ انسان کی محبت کا محور و مرکز اللہ تعالیٰ کی ہستی ہونا چاہئے جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے۔ایسا خیال جو اور کوئی رکھ ہی نہیں سکتا۔

آپ نے اپنی زندگی میں ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہونگے جنکا خمیر محبت سے گوندھاہوا عشق کی خوش بو سے رچاہواہوتاہے۔جن سے آپ ایک بار ملیں تو بار بار ملنے کی چاہ ہوتی ہے۔ اس شعر کی عملی تفسیر نظر آئیں گے۔

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ

آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

زندگی سے محبت کرنے والے اپنی زندگی میں غیر متوقع حادثات یا واقعات سے ہار نہیں مانتے بلکہ انہیں زندگی کا ایک حصہ سمجھ کر راستہ نکال لیتے ہیں۔ اپنی زندگی کی لغت میں `مشکل ` لفظ کو وہ چیلنج پڑھتے ہیں۔ان جیسے افراد کو اسکول کے زمانے ہی سے صرف فتح کا جشن منانا نہیں سکھایا جاتا بلکہ بڑی سے بڑی شکست کو بھی خوش اسلوبی سے جھیلنے کی تربیت دی جاتی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے مل کر نفرت کرنے والے محبت کرنے لگتے ہیں، مایوسی کا شکار لوگ زندگی کی طاقت سے بھرجاتے ہیں، بے کار لوگوں کی زندگی کو جینے کا مقصد مل جاتا ہے اور جمود کا شکار لوگ حرکت و عمل اور امیدوں سے بھرجاتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی زندگی میں ایسا کوئی ہے یا نہیں لیکن اتنا طے ہے کہ دوستی اور مضبوط تعلقات کے لائق تو ایسے ہی لوگ ہیں اور ہونے چاہئیں۔

شیئر کیجیے
Default image
قدسیہ ملک