معاشرتی زندگی کو حسین بنائیں!

اسلام میں اعتدال اور توازن کی تعلیم دی گئی ہے اور افراط و تفریط سے روکا گیا ہے۔ لڑکی یا لڑکا جب بلوغ کو پہنچ جائیں تو ان کانکاح کر دینے کی تاکید کی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا تھا:

’’اے نوجوانوں، تم میں سے جو گھر بسانے کی استطاعت رکھتا ہے، اسے شادی کرلینی چاہیے، کیوںکہ یہ نگاہ کو پست کردیتی اور عصمت کی حفاظت کرتی ہے۔ اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ روزہ رکھے، کیوں کہ روزہ اس کی شہوتوں کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘

اسلام میں ترک دنیا اور رہبانیت کی گنجائش نہیں ہے۔ نیز آپ کا یہ ارشاد مبارک ہمارے لیے حرز جان ہو: ’’خدا کی قسم میں تم سب میں خدا سے زیادہ ڈرنے والا، تم سب میں زیادہ اس کی ناراضی سے بچنے والا ہوں، لیکن میرا حال یہ ہے کہ میں کبھی نفل روزے رکھتا ہوں، کبھی بغیر روزے کے رہتا ہوں، راتوں کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جو میری اس سنت سے منھ پھیرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

آج شادی کے وقت کہیں دولت کو معیار بنایا جاتا ہے تو کہیں حسن و جمال کو، جب کہ نبی کریمﷺ کے ارشاد کے مطابق دین داری کو بنیاد بنانا چاہیے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

’’عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر شادی کی جاتی ہے۔ مال کی وجہ سے، خاندان کی وجہ سے، خوبصورتی کی وجہ سے اور دین داری کی وجہ سے تو اے بھلے آدمی دین دار عورت کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ (بخاری)

نکاح محبت و مودت اور باہمی تسکین کا ذریعہ ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔ یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں۔‘‘ (الروم:۱۲)

نیک بیوی کو معاشرہ کی بہترین متاع کہا گیا ہے اور ان کے ساتھ نیک سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ’’اور ان کے ساتھ بہترین طریقے سے زندگی گزارو۔‘‘ نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر جب کہ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ کرامؓ موجود تھے ارشاد فرمایا:

’’لوگو! سنو، عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آؤ، کیوں کہ وہ تمہارے پاس قیدیوں کی طرح ہیں۔ تمہیں ان کے ساتھ سختی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ سوائے اس صورت کہ جب ان کی طرف سے کوئی کھلی ہوئی نافرمانی سامنے آئے، اگر وہ ایسا کر بیٹھیں تو پھر خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو، اور انہیں مارو تو ایسا نہ مارنا کہ کوئی شدید چوٹ آئے۔ اور پھر جب وہ تمہارے کہنے پر چلنے لگیں تو ان کو خوامخواہ ستانے کے لیے بہانے نہ ڈھونڈو۔ دیکھو سنو، تمہارے کچھ حقوق تمہاری بیویوں پر ہیں، اور تمہاری بیویوں کے کچھ حقوق تمہارے اوپر ہیں۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں کو ان لوگوں سے نہ روندوائیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو اور تمہارے گھروں میں ایسے لوگوں کو ہرگز نہ گھسنے دیں، جن کا آنا تمہیں ناگوار ہو اور سنو ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں اچھا کھلاؤ اور اچھا پہناؤ۔‘‘ (ریاض الصالحین)

اگر عورت میں کوئی کمزوری ہو تو اسے نظر انداز کر دیا جائے اور علم و بردباری اور عفو و درگزر سے کام لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور مصالحت خیر ہی خیر ہے۔‘‘

اہل ایمان کوہدایت کی گئی ہے کہ ایثار اور مصلحت سے کام لیا جائیـ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’کوئی مومن اپنی مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے۔ اگر بیوی کی کوئی عادت اس کو ناپسند ہے تو ہوسکتا ہے کہ دوسری خصلت اس کو پسند آجائے۔‘‘

بیوی کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنے والا درجے اور مرتبے میں انسانوں میں سب سے بہتر ہے۔ ارشادِ رسول سے یہ بات ہمیں معلوم ہوتی ہے۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ’’کامل ایمان والے وہ ہیں جو اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہوں اور تم میں سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں سب سے اچھے ہوں۔‘‘ (ترمذی)

حلال طریقے سے اپنی محنت کی گاڑھی کمائی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا مال کا بہترین مصرف ہے۔ ارشاد رسولؐ ہے: ایک دینار تو وہ ہے جو تم نے خدا کی راہ میں خرچ کیا۔ ایک دینار وہ ہے جو تم نے کسی غلام کو آزاد کرانے میں صرف کیا۔ ایک دینار وہ ہے جو تم نے کسی فقیر کو صدقہ میں دیا اور ایک دینار وہ ہے جو تم نے اپنے گھر والوں پر صرف کیا۔ ان میں سب سے زیادہ اجر و ثواب اس دینار کے خرچ کرنے کا ہے جو تم نے اپنے گھر والوں پر صرف کیا ہے۔‘‘ (مسلم)

ہمارا دھیان باہر دعوت و تبلیغ کی طرف رہتا ہے اور بسا اوقات داعیان حق اپنے گھر والوں کو بھول جاتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔‘‘

نیک شعار بیوی کا وطیرہ شوہر کی اطاعت و فرماں برداری ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’نیک بیویاں (شوہر کی) اطاعت کرنے والی ہوتی ہیں۔‘‘

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:’’کوئی عورت شوہر کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھے۔‘‘ (ابوداؤد)

نیز نبی کریمﷺ کا یہ ارشاد ہے:

’’عورت جب پانچوں وقت کی نماز پڑھے، اپنی آبرو کی حفاظت کرے، اپنے شوہر کی فرماں دار رہے تو وہ جنت میں جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے۔‘‘ (الترغیب و والترہیب)

عورت کے لیے ضروری ہے کہ صفائی ستھرائی اور زیبائش و آرائش کو اختیار کرے۔ اور وہ سجی سجائی اور بناؤ سنگھار اور پاکیزہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنے شوہر کا استقبال کرے۔‘‘

ایک بار عثمان بن مظعونؓ کی بیوی سے حضرت عائشہؓ کی ملاقات ہوئی تو آپؓ نے دیکھا کہ بیگم عثمان بن مظعون نہایت سادہ کپڑوں میں اور کوئی بناؤ سنگھار بھی نہیں کیا ہے، تو حضرت عائشہؓ کو سخت تعجب ہوا اور ان سے پوچھا: ’’بی بی کیا عثمان کہیں باہر سفر پر گئے ہوئے ہیں؟‘‘

اس تعجب سے اندازہ کیجیے کہ سہاگنوں کا اپنے شوہروں کے لیے بناؤ سنگھار کرنا کیسا پسندیدہ فعل ہے۔

نبی کریمﷺ نے نیک بیوی کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’مومن کے لیے خوفِ خدا کے بعد سب سے زیادہ مفید اور باعث خیر نعمت نیک بیوی ہے کہ جب وہ اس سے کسی کام کو کہے تو وہ خوش دلی سے انجام دے اور جب وہ اس پر نگاہ ڈالے تو وہ اسے خوش کردے اور جب وہ اس کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو وہ اس کی قسم پوری کردے، اور جب وہ کہیں چلا جائے تو وہ اس کے پیچھے اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرے اور شوہر کے مال و اسباب کی نگرانی میں شوہر کی خیر خواہ اور وفادار رہے۔‘‘ (ابن ماجہ)

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سید محی الدین علوی

Leave a Reply