بچوں سے سیکھئے!!

یہ بات سب جانتے ہیں کہ بچے بڑوں سے سیکھتے ہیں، مگر یہ بات سب نہیں جانتے کہ بڑے بھی بچوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

بچوں میں سیکھنے اور معلوم کرنے کا جو شوق ہوتا ہے وہ بڑوں میں کم ہوتا ہے۔ بعض لوگ معمولی سی بات کو دوسروں سے پوچھنے میں شرماتے ہیں۔ وہ اسے اپنی سبکی سمجھتے ہیں۔ اسکولوں میں بعض لڑکے معمولی سی بات استاد سے پوچھنے میں جھجکتے ہیں۔ وہ ڈرتے ہیں کہ برابر والے لڑکے ان پر ہنسیں گے۔ بچے اس بارے میں بہت بے باک ہوتے ہیں۔ جو بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی، بے دھڑک پوچھ لیتے ہیں۔

ایک دن ہم اپنے ایک دوست سے ملنے ان کے گھر پر گئے۔ ہماری چھے سال کی پوتی رباب ہمارے ساتھ تھی، ہم اپنے دوست سے باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں ان کا پالتو کتا کمرے میں آگیا۔ رباب اسے دیکھ کر گھبرانے لگی۔ ہمارے دوست نے کتے سے کہا ’’گیٹ آؤٹ‘‘ (باہر جاؤ) وہ کتا اسی وقت باہر چلا گیا۔ رباب نے ہم سے پوچھا: دادا جان یہ کتا انگریزی جانتا ہے؟ ہم نے کہا ہاں، یہ انگریز ی جانتا ہے۔

بچوں کی کتاب میں شاید اور ’’غالباً ‘‘کا لفظ نہیں ہوتا ہے۔ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ان کے سوال کو ٹال دیا جائے، ان کو صاف جواب ملنا چاہیے۔

بچے بہت مزے کے سوال کیا کرتے ہیں اور بعض تو ایسے مشکل ہوتے ہیں کہ ان کے جواب کتابوں میں بھی نہیں مل سکتے۔ جیسے یہ سوال کہ جب ہوا چلتی نہیں ہے تو کیا کرتی ہے؟

بچوں کے پاس الفاظ کم ہوتے ہیں، مگر وہ بڑی سمجھ داری سے کام لیتے ہیں اور کم سے کم لفظوں میں اپنا مطلب بیان کر دیتے ہیں۔ کم لفظوں میں مطلب بیان کرنا آسان نہیں ہے خاص طور پر لمبی لمبی تقریریں پلانے والے علماء کو چاہیے کہ بچوں سے یہ گر ضرور سیکھیں۔ ہیچ پینچ کی بات بچوں کو پسند نہیں۔ ا سلیے ان کے سامنے بات چیت میں محاورہ بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ آپ کا نوکر سودا لینے بازار گیا تھا وہ ذرا دیر سے لوٹا۔ آپ ڈانٹ کر اس سے کہتے ہیں اتنی دیر ہوگئی۔ کہاں مرگئے تھے؟

آپ کا بچہ اسی وقت کہہ دے گا ابا جان! یہ تو زندہ ہیں، مرے نہیں۔

بچوں کی کوئی چیز کھو جائے تو وہ اس کا زیادہ رنج نہیں کرتے۔ وہ ایسی باتیں سننا پسند نہیں کرتے، جن سے ان کو رنج ہو۔ وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ اگر ان کو اپنے کام میں مشکل پیش آئے تو ہمت نہیں ہارتے اور جب تک وہ کام نہیں ہو جاتا چیونٹیوں کی طرح اس میں لگے رہتے ہیں۔ ان کا بار بار کوشش کرنا بڑوں کے لیے ایک سبق ہے۔

بچوں کو کسی بات کا کھٹکا نہیں ہوتا۔ کاروباری شہروں کے بازاروں میں کتنی ہی بھیڑ ہو، موٹروں اور بسوں کی ریل پیل ہو، وہ سڑک پار کرنے میں نہیں ہچکچاتے۔ وہ بھوتوں سے نہیں ڈرتے۔ ان کو بڑھاپے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے۔

وہ آس پاس کی چیزوں میں ایسی دلچسپی لیتے ہیں جو بڑے نہیں لیتے۔ پھول، پتے، بھونرے، چمک دار پر، سیپیاں، املی اور شریفے کے بیج، رنگ برنگے پتھر اور کوڑیاں ان کی قیمتی ذاتی چیزیں ہیں۔ کسی بچے یا بچی کی جیب یا ڈبا دیکھئے تو اس میں بہت سی ایسی چیزیں ملیں گی جن کو اس نے بڑے شوق سے جمع کیا ہے۔ گلاب کی شاخ تراشنے کو وہ پسند نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے گلاب کو تکلیف ہوتی ہے۔

بچوں میں ہمدردی بہت ہوتی ہے۔ کوئی پھٹے حال آدمی بھیک مانگ رہا ہو یا کوئی بڑھیا ان کے دروازے پر روٹی کا ٹکڑا مانگ رہی ہو تو اس پر ان کو ترس آجاتا ہے اور وہ اپنے ماں باپ کو مجبور کرتے ہیں کہ اس کو کچھ دیں۔ بعض وقت وہ خود روٹی کا ٹکڑا لے جاکر اسے دے دیتے ہیں۔

بہت سی اچھی عادتیں بچوں سے سیکھی جاسکتی ہیں۔ وہ بہت جلد دوست بن جاتے ہیں۔ کسی سے کپٹ نہیں رکھتے۔ مل جل کر پیار سے کھیلتے ہیں۔کھیل میں کبھی آپس میں لڑائی بھی ہو جاتی ہے، مگر تھوڑی دیر میں وہ بھول جاتے ہیں اور پھر دوست بن جاتے ہیں۔ دل میں میل یا کھوٹ نہیں رکھتے۔ جو لوگ گزری ہوئی بری باتوں کو یاد رکھتے ہیں وہ پریشان اور دکھی رہتے ہیں۔ گزری ہوئی باتوں کو بھلانا بچوں سے سیکھا جاسکتا ہے۔

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں کچھ ہوتا ہے اور زبان پر کچھ ہوتا ہے۔ دل میں دشمنی ہوتی ہے، اور زبان پر ظاہری محبت۔ بچے دو رنگی نہیں جانتے جو ان کے دل میں ہوتا ہے وہی زبان پر اور جو زبان پر ہوتا ہے وہ دل میں نہیں محض زبان پر ہوتا ہے

شیئر کیجیے
Default image
انور کمال ندوی

Leave a Reply