آخر تم بھی تو ورکنگ وومن ہو…

آپ کی بھابی نے (چونکیے نہیں، غریب کی جورو سب کی بھابی ہوتی ہے) پھر وہی رٹ لگائی جو وہ مہینے بھر سے لگا رہی تھیں:

’’بس بہت ہوگیا، اب آپ ایک ماسی لگا لیجیے۔ میں تو کہتی ہوں کہ کل ہی سے ایک ماسی رکھ لیں۔‘‘

ہمیں تشویش ہوئی کہ وہ بیٹھک میں جھاڑو لگاتے لگاتے، ہماری جیب پر بھی جھاڑو پھیرنے کی تجویز پیش کر رہی ہیں۔ عرض کیا:

’’یہ جو آپ روز فرماتی ہیں… ’’ماسی رکھ لیجیے‘‘ … یا … ’’ماسی لگا لیجیے‘‘ … تو محض ریکارڈ درست کرنے کی غرض سے عرض ہے کہ ماسی ’’لگانے‘‘ یا ’’رکھنے‘‘ کی چیز نہیں۔ یہ تو ایک عطیۂ الٰہی ہے، جو کسی بھی فرد کی ماں کو اس کی بہن کی صورت میں…‘‘

اتنا ہی سن کر بھنا گئیں او ربھنا کر کہنے لگیں:

’’ یہ ماں بہن کی رٹ چھوڑیے… آپ تو بات بات پر میری زبان پکڑنے لگتے ہیں…‘‘

فی الفور وضاحت کی کہ : ’’نہ نہ نہ، ہماری کیا مجال کہ ہم اس قسم کے تیز دھار دار آلات پکڑ سکیں…‘‘

اب جھلا کر بولیں: ’’اس وقت تو قینچی آپ ہی کی چل رہی ہے۔ میں تو یہ کہہ رہی تھی کہ گھر کے کام کاج کے لیے ایک ماسی ملازم رکھ لیں،‘‘

جی میں یہی آئی کہ … ’’یار سے چھیڑ چلی جائے اسد‘ … سو لہجہ بدل کر بڑے بھولے پن سے کہا:

’’تعجب ہے۔ خاتون ہونے کے باجود آپ کو علم نہیں کہ رشتے ناطے اور مال و دولت کے بل بوتے پر ’ملازم‘ نہیں رکھے جاتے۔ پھر ’ماسی‘ سے گھر کے کام کاج کروانا؟ استغفر اللہ!… کیا زمانہ آگیا ہے؟‘‘ رشتوں ناطوں کا احترام تو اٹھ ہی گیا ہے… رشتہ بھی تو دیکھئے،‘‘

ہماری طرف خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے بولیں:’’رشتہ کون دیکھ رہا ہے آپ کے لیے؟… میں تو اپنے لیے ماسی رکھنے کو کہہ رہی ہوں۔‘‘ کہا: ’’دیکھئے ماشی آپ کی ہو یا ہماری، ہے تو رشتہ دار ہی۔ کیا یہ اچھا لگے گا کہ ہم اور آپ آرام سے بیٹھی رہیں اور کام ماسی سے کروائیں۔‘‘ اب تو بالکل ہی بھڑک اٹھیں۔ شعلہ جوالہ بن کر بولیں: ’’یہ رشتہ داری بیچ میں کہاں سے آٹپکی؟ ماسی اور کس لیے ہوتی ہے؟ کام کاج کروانے ہی کے لیے تو ہوتی ہے۔‘‘

یہ سن کر ہم نے خالص استادانہ رنگ میں عرض کیا:

’’ماسی کا مطلب ہے… ’’ماسی‘‘… یعنی ماں جیسی۔ خالہ کا مرتبہ بھی ماں ہی جیسا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہماری متعدد زبانوں میں خالہ کو ’ماسی‘ کہا جاتا ہے۔‘‘

اب وہ ہماری استادی سمجھیں: ’’صاحب! آپ کی اس لفظی تحقیق کی مدد سے تو میں سارے گھر کا جھاڑو پونچھا نہیں کر سکتی۔ صاف صاف بتائیے، کوئی نوکرانی ملازم رکھنی ہے یا مجھے ہی نوکرانی بنائے رکھیں گے؟‘‘

اب ہم نے اپنے دونوں کلے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیٹے ہوئے کہا:

’’ارے… ارے… توبہ توبہ… آپ تو گھر کی ملکہ ہیں۔ آپ کو بھلا نوکرانی کون بنا سکتا ہے؟‘‘

جل بھن کر کباب ہوگئیں۔ دھواں دھار لہجے میں جواب ملا: ’’بنائیے، بنائیے… خوب بنائیے… (منہ بگاڑ کر ہمارے لہجہ کی نقل کرتے ہوئے) ’’گھر کی ملکہ‘‘ … اور کام کروائیے گھر کی نوکرانیوں والے۔ یہاں تو ہمیشہ ہی خواتین کو دوسرے درجے کی مخلوق سمجھا گیا۔ ان کا استیصال کیا گیا، انہیں پاؤں کی جوتی سمجھا گیا، ہمیشہ ٹھوکروں میں رکھا گیا… ترقی یافتہ اور مہذب ملکوں میں خواتین کو حقوق حاصل ہیں، انہیں آزادی کی نعمت میسر ہے…‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

ہماری بیگم ہاتھ میں جھاڑو لہرا لہرا کر کسی شعلہ بیان مقررہ کی طرح ملک بھر میں ہونے والی خواتین کی حق تلفیوں کی داستان سناتی رہیں اور حقوقِ نسوانین کی عالمی تحریک کو یہاں کے مردوں کے ہاتھوں پہنچنے والے ہر نقصان کا مفصل نقشہ کھینچتی رہیں۔ جب کہ ہم باادب، باملاحظہ، ’نکاح‘ روبرو کیے یہ سوچتے رہے کہ کاش ہم بھی کسی ترقی یافتہ اور مہذب ملک کے شوہر ہوتے تو یہ جھاڑو بردار تقریر تو نہ سننی پڑتی۔ وہاں تو سنا ہے کہ میاں بی بی دونوں ہی کو ’’آزادی‘‘ حاصل ہے۔ کام نکل گیا تو … تم اپنا منہ ادھر کرو، ہم اپنا منہ ادھر کریں۔‘‘ خیر… عقبی دیوار سے ایک بلی کے صحن میں کودنے کے باعث بیگم کی تقریر نے جھرجھری سی لی تو ہم نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر عرض کیا:

’’بیگم آپ کو تو اپنے ہی گھر کے کام کاج کرنے پڑتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو آپ بھی دوسروں کے گھروں کے کام کاج کرکے آزادیِ نسواں کے مزے لوٹ سکتی ہیں… آپ بھی اول درجے کی مخلوق بن سکتی ہیں… بے جا پابندیوں اور استیصال سے چھٹکارا حاصل کرسکتی ہیں اور…‘‘

مگر اتنا ہی سننا تھا کہ بیگم مزید آگ بگولا ہوگئیں:

’’اس مردوں کے معاشرے کو عورتوں کی توہین کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں۔ عورت بس ہانڈی، چولھا، جھاڑو برتن، کپڑے دھونے اور بچے پالنے کے لیے بنی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں دیکھئے خواتین بیدار ہو رہی ہیں، مردوں کے شانہ بشانہ مقام حاصل کر رہی ہین اور یہاں آج بھی وہی گھٹیا کام عورتوں سے منسوب…‘‘

ہم نے دھیمے سے عرض کیا:

’’خیر ترقی یافتہ ممالک میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ تو نہیں ’نشانہ بہ نشانہ‘ مقام پا رہی ہیں۔ لیکن ابھی تو گھر کے کام کاج کے لیے ایک ’ماسی‘ رکھنے پر آپ ہی اصرار کر رہی تھیں۔ وہ بھی یقینا کوئی نہ کوئی خاتون ہی ہوں گی۔ اگر یہ کام گھٹیا ہیں تو ایک خاتون کو ان گھٹیا کاموں کے لیے ملازم رکھنے کی تجویز بھی آپ جیسی بیدار مغز، روشن خیال اور حقوق نسواں کی علم بردار خاتون کی طرف سے آئی ہے۔

یہ سنتے ہی حیرت انگیز طور پر بیگم کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ وہ خود ہی (کمر پر دو پٹہ کس کر) فرش پر بیٹھ گئیں۔ او رجھاڑو لگانے لگیں۔ مگر اس ’ازدواجی ٹاک شو‘ کا درد ناک انجام یہ ہوا کہ خاتون خانہ کے پرزور اور پرجوش اصرر پر گھر کے کام کاج کے لیے ایک ملازمہ رکھ ہی لی گئی، جسے ہم ’ماسی‘ کہہ کہہ کر اس سے اپنے گھر کے سارے کام کروانے لگے۔

ماسی کی ماہانہ تنخواہ تو بعد بارگیننگ، مذاکرات اور سودے بازی کے 1500 روپے سکہ رائج الوقت طے پائی تھی، مگر پہلی ہی تنخواہ جب بیگم نے 1200 روپے تھمائی اور ماسی نے تھام بھی لی، تو ہم سے نہ رہا گیا۔ ’’دخل در واجبات‘‘ کرتے ہوئے بولے:

’’یہ کیا حق تلفی ہے؟ جو طے شدہ تنخواہ ہے وہ دیجیے۔ آپ تو مردوں کو استحصالی وغیرہ…‘‘

ہمیں ڈانٹتے ہوئے بولیں:

’’آپ بیچ میں نہ بولیں۔ مہینے بھر میں پورے چھ دن غائب رہی ہے۔ اس کے چھے ناغے کاٹ کر پورے پیسے دے رہی ہوں۔‘‘

ہم نے وضاحت کی: ’’ہم بیچ میں نہیں بول رہے ہیں، معاملہ کنارے لگتا دیکھ کر بول رہے ہیں۔ کیوں ماسی؟ تم چھ دن کیوں غائب رہیں؟‘‘

’’صاب جی! بیگم صاب کو پتا ہے۔ تین دن تو میں خود سخت بخار میں پھنک رہی تھی، اور تین دن کے لیے گاؤں چلی گئی تھی۔ میرے سگے بھائی کی بیوی فوت ہوگئی تھی… چھٹیوں کے پیسے تو سبھی کاٹتے ہیں صاب! بیگم صاحبہ صحیح پیسے دے رہی ہیں۔‘‘

یہ سن کر بیگم صاحبہ نے ہماری طرف فخریہ بلکہ ’’فاخرانہ و فاتحانہ‘‘ انداز میں دیکھا تو ہم نے کہا:

’’کیا ماسی کی کوئی رخصت اتفاقی و حادثانی، طبی رخصت یا رخصت استحقاقی وغیرہ نہیں بنتی؟‘‘

بیگم صاحبہ نے ہمیں قہر آلود نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا: ’’آپ رہنے دیجیے یہ تحریک استحقاق و اتفاق و حادثات و طبیات اپنے ہی پاس!… ماسی! کل صبح جلدی آجانا۔ مجھے ایک ’واک‘ میں جانا ہے۔‘‘

ہمیں معلوم تھا کہ یہ ’واک‘ دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کے ’حقوق نسواں‘ کے لیے ہے۔ سو، ہم نے ماسی کو مخاطب کیا: ’’ماسی! کل تم بھی اس واک میں شامل ہوکر اپنے حقوق کے لیے آواز کیوں بلند نہیں کرتیں؟ آخر تم بھی تو ’’ورکنگ وومن‘ ہو۔ ماسی نے حیرت سے آنکھیں پھیلالیں… ’’جی صاب جی؟‘‘ … اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے ایسے ہونق انداز میں ہمیں دیکھنے لگی جیسے ہم فرانسیسی بول رہے ہوں۔ جب کہ بیگم صاحبہ ہماری فرانسیسی خوب سمجھ رہی ھیں۔ سو وہ بھی اپنی فرانسیسی میں ’فوں فاں‘ کرتی ہوئی چل دیں۔

شیئر کیجیے
Default image
احمد حاطب صدیقی

Leave a Reply