آگے خاموشی ہے

کئی روز بعد جب ریسکیو ٹیم وہاں پہنچی تو اسکول کے ملبے کے نیچے سے آنے والی ساری آہیں، کراہیں اور صدائیں خاموش ہوچکی تھیں۔ بچے کھچے زخمی مردو عورتیں سارا دن مدد، علاج اور خوراک کے لیے ادھر ادھر بھاگ دوڑ کرتے۔ لڑکیوں، عورتوں اور بڑی بوڑھیوں کے رو رو کر آنسو اور چیخنے چلانے سے گلے خشک ہوچکے تھے۔ وہ بھوکی پیاسی دن رات ملبے کے ڈھیروں کے پاس، جن کے نیچے ان کے جگر گوشے اور بھائی دب گئے تھے، کھڑی، روتی چلاتی اور مدد کے لیے پکارتی رہتیں۔ فضا میں اڑتا کوئی ہیلی کاپٹر نظر آتا تو چادریں اور دو پٹے لہرا لہرا کر اسے متوجہ کرتیں مگر جب وہ کسی اور طرف نکل جاتا تو مایوس ہوکر رونے، سسکنے اور سینہ کوبی کرنے لگتیں۔ خبر گیری اور ہمدردی کے لیے آئی ہوئی عورتیں انہیں پکڑ پکڑ کر مسمار شدہ گھروں میں واپس لاتیں مگر انہیں قرار نہ آتا۔ جن ماؤںکے بچے اور بہنوں کے بھائی ملبے میں دبے پڑے ہوں اور راتوں کو ان کی دل خراش صدائیں سنائی دیتی ہوں وہ کیسے کچھ کھا، پی اور سو سکتی ہیں۔

ریسکیو ٹیم کو دیکھ کر ان کا رد عمل ملا جلا تھا، بعض انہیں دیر سے آنے پر ڈانٹ رہی تھیں اور طعنے دے رہی تھیں کیوں کہ اب کسی کے زندہ بچ نکلنے کا کوئی امکان نہیںرہ گیا تھا مگر بعض اب بھی پرامید تھیں۔ پچھلے چند روز میں وہ کئی طرح کی خبریں سن چکی تھیں۔ بعض بچے اور بڑے کئی کئی روز بعد کھائے پئے بغیر زندہ برآمد ہوئے تھے۔ شاید کوئی معجزہ، کوئی کرامت ہوجائے اور ان کے دل کا ٹکڑا بھی زندہ نکل آئے مگر ریسکیو پارٹی نے ایک ایک کر کے سالم اور کچلی ہوئی لاشوں کے انبار لگا دیے۔ بستی میں کہرام مچ گیا۔ اسکول کے سبھی اساتذہ اور طلبہ ابدی نیند سوچکے تھے۔ اسکول ایک بہت بڑا مقتل یا قبرستان معلوم ہو رہا تھا۔ لاشیں نکالنے کا کام کئی روز میں مکمل ہوا۔ بعض لاشیں جو بدبو چھوڑ رہی تھین، انہیں جلدی جلدی دفنایا گیا۔ زیادہ تر لوگ اپنے بچوں کی میتیں اپنے ساتھ لے گئے مگر جن بچوں اور استادوں کے ورثاء زلزلے کی تباہ کاری کا شکار ہوگئے اور گھر مسمار ہوگئے تھے، انہیں کفنا کر امانتا! دفنا دیا گیا، مگر غیر ملکی ریسکیو ٹیم کے ارکان دفنانے سے پہلے ریکارڈ کے لیے ان لاوارث میتوں کی تصویریں اتار لیتے۔

جب آخری روز لاوارث میتوں کا اجتماعی جنازہ پڑھا جاچکا اور انہیں قبروں میں اتارا جا رہا تھا، ایک عجیب صورت حال پیدا ہوگئی۔ ریسکیو ٹیم کے فوٹو گرافر نے ایک میت کی تصویر اتارتے وقت اس کی آنکھین بند کرنا چاہیں۔ وہ ہاتھ سے اس کی آنکھیں بند کر کے پیچھے ہٹا مگر جب کیمرے کی آنکھ میں سے جھانکا تو وہ پھر کھل گئی تھیں اور بالکل زندہ آنکھوں کی طرح اسے گھو رہی تھیں۔

’’کیا تم زندہ ہو؟‘‘ اس نے قریب جاکر پوچھا مگر کوئی جواب ملا نہ ہی میت کے چہرے پر کسی رد عمل کے آثار نمایاں ہوئے۔ اس نے نبض دیکھی اور چھاتی پر کان رکھ کر دل کے دھڑکنے کی آواز سنی اور خوشی اور حیرت سے اپنے ساتھیوں کو آواز دی۔ ’’ہی ازالائیو۔‘‘

تھوڑی سی دیر میں بہت سے لوگ جمع ہوگئے۔ وہ سینئر ٹیچر دین محمد تھے۔ انہیں جاننے اور پہچاننے والے انہیں آوازیں دینے لگے مگر شاید ان پر سکتہ طاری تھا، انہوں نے کسی پکار کا کوئی جواب نہ دیا۔ وہ بظاہر مردہ نظر آتے تھے مگر زندہ تھے یا شاید اصل میں مرچکے تھے اور زندہ نظر آتے تھے۔ شادی ہوئی تھی مگر بیوی سے نباہ نہ ہوسکا اور علیحدگی ہوگئی تھی۔ اولاد کی خاطر دوبارہ شادی اس لیے نہ کی کہ وہ اپنے طلبہ کو مثل اپنی اولاد کے سمجھتے تھے اور ان میں بہت مقبول تھے۔ ابتدائی طبی امداد اور کوششوں کے باوجود ان کے ہاتھ پاؤں نے حرکت نہ کی نہ انہوں نے کسی سوال کا جواب دیا۔ انہیں فوری طور پر ہیلی کاپٹر میں شہر کے بڑے اسپتال میں بھیج دیا گیا۔

ہڈیوں کا ڈھانچہ اور نحیف و نزار، پہلی نظر میں مردہ ہی معلوم ہوتے۔ دو ایک روز انہیں ایمرجنسی میں رکھا اور ڈرپ وغیرہ لگائی گئی۔ ان کے جسم پر بہت سی خراشیں اور چھوٹے موٹے زخم تھے مگر کوئی بڑا اور گہرا زخم دکھائی نہ دیتا تھا۔ شاید سر میں یا ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ آئی تھی۔ ابتدائی ٹسٹوں سے ان کی بیماری کا کچھ سراغ نہ ملا تو انہیں مزید تشخیص اور ٹیسٹوں کے لیے سرجیکل وارڈ میں بھیج دیا گیا۔ سرجیکل وارڈ میں ان کے مزید ٹیسٹ ہوئے مگر ڈاکٹر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ خو د کو زندہ نہ سمجھتے ہوں یا زندگی کی طرف واپس نہ آنا چاہتے ہوں۔ انہیں انجکشن ملا کر گلوکوز ڈرپ لگادی گئی مگر وہ بے جان سے بیڈ پر پڑے رہتے۔ بعض اوقات دیر تک آنکھیں نہ جھپکتے۔ تھک ہار کر انہیں میڈیکل وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ یوں بھی سرجیکل وارڈ میں بہت رش ہو رہا تھا، رات دن آپریشن۔ جتنے مریض فارغ ہوتے اس سے زیادہ اور آجاتے۔ کٹے اور کچھلے ہوئے اعضا والے بچے اور بڑے درد سے بلبلاتے اور چیختے چلاتے رہے۔ ماسٹر دین محمد دن رات کھلی آنکھوں کے ساتھ چھت کو گھورتے رہتے۔ سونا نہ کھانا پینا، نہ ہی وہ کسی طرح کی غذا قبول کر رہے تھے۔ دودھ یا جوس جو چیز بھی ان کے منہ میں ڈالی جاتی، وہ باہر آجاتی۔ میڈیکل وارڈ میں بھی انہیں مسلسل ڈرپ کے ذریعے ہی غذا دی جاتی رہی مگر وہ زندگی کی طرف پلٹنے کے لیے تعاون نہیں کر رہے تھے اور روز بہ روز مزید کم زور ہوتے جا رہے تھے۔

ماسٹر دین محمد جب کئی دن بعد بھی نارمل نہ ہوسکے اور پوری طرح زندگی کی طرف نہ پلٹ سکے تو آخر کار نفسیاتی معالج کو بلوایا گیا۔ جس نے بہت کوشش کی مگر انہوں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا نہ کسی مشورے کا کوئی رسپانس۔ وہ دن میں تقریباً ایک دو بار چکر لگاتا اور ان سے یک طرفہ گفتگو کر کے چلا جاتا۔ اسی کے مشورے پر وارڈ میں ٹیلی ویژن بھی رکھوا دیا گیا۔ شاید وہ زلزلے سے ہونے والی تباہ کاریوں کے مناظر اور ہلاکتوں کی تفصیل سن کر کسی رد عمل کا اظہا رکریں۔ ٹی وی آنے سے وارڈ کے بہت سے دوسرے مریضوں کا دل بھی بہل گیا اور اتنے وسیع پیمانے پر ہونے والی بربادی اور دوسروں کے دکھ دیکھ کر انہیں اپنا اپنا غم چھوٹا معلوم ہونے لگا مگر ماسٹر جی پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا۔ ایک روز ماسٹر جی کا ایک شاگرد حمید اللہ انہیں تلاش کرتا ہوا اسپتال آپہنچا۔ ماسٹر جی کو زندہ اور سلامت دیکھ کر وہ خوشی سے کھل اٹھا مگر پھر فوراً ہی ان سے لپٹ کر رونے لگا۔ نرس نے اسے منع کرنا چاہا مگر یہ دیکھ کر چونک پڑی کہ ماسٹر صاحب کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے تھے۔ وہ دوڑ کر گئی اور ڈاکٹر کو بلا کر لائی۔ ڈاکٹر ماسٹر صاحب کی زندگی کے بارے میں پرامید ہوگئے۔ حمید اللہ سے پتا چلا کہ اسکول کے اسٹاف اور لڑکوں میں سے ان دونوں کے سوا کوئی زندہ نہیں بچا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ماسٹر صاحب اس کے لیے فرشتہ ثابت ہوئے تھے کیوں کہ انہوں نے زلزلے سے فوراً پہلے اسے سزا کے طور پر کلام روم سے باہر نکال دیا تھا مگر اس کے گھر والے نہ بچ سکے تھے اور گھر، دکانیں اور پلازہ سب ملبے میں تبدیل ہوگئے تھے۔ کچھ روز وہ اپنے ذاتی صدموں میں گھرا رہا۔ پھر جب اسے پتا چلا کہ ماسٹر جی زندہ اور سلامت ہیں اور انہیں یہاں بھجوایا گیا ہے تو وہ ان کی خبر گیری کے لیے آیا ہے۔ ڈآکٹر نے حمید اللہ کو اگلے روز دوبارہ سائیکا ٹرسٹ کی موجودگی میں آنے کی ہدایت کی۔ اگلے روز حمید اللہ دوبارہ آیا تو معالجین اسے عمداً ماسٹر صاحب کے قریب بٹھا کر زلزلے سے پہلے کی باتیں اور تفصیل پوچھتے رہے، جنہیں سن کر ماسٹر صاحب کے ذہن میں جیسے رُکی ہوئی فلم دوبارہ چل پڑی اور انہیں آہستہ آہستہ گزرے ہوئے مناظر یاد آنے لگے۔ پھر حمید اللہ کو دیکھ کر زلزلے سے کچھ دیر پہلے کا منظر یاد آیا:

حاضری لگوا کر غائب ہوجانے والے بعض لڑکوں کی وجہ سے انہوں نے کچھ عرصے سے وقت بدل بدل کر حاضری لینا شروع کردی تھی بل کہ پراکسی کے امکان کے پیش نظر حاضر جناب ادریس بولتی آوازوں کے چہرے دیکھنا بھی ضروری سمجھتے تھے۔ کلاس میں شور ہو رہا تھا۔ انہوں نے بلند آواز میں ڈانٹا۔ ’’خاموش، خاموش‘‘ اور یہ کہہ کر وہ حاضری لینے لگے۔

’’محمد انور‘‘

’’حاضر جناب‘‘

’’غلام اللہ‘‘

’’یس سر‘‘

’’غلام اکبر‘‘

’’حاضر جناب‘‘

’’غلام رسول‘‘

’’یس سر‘‘

نام پکارتے پکارتے وہ رک گئے۔ عینک کے شیشوں کے اوپر سے کلاس کی طرف دیکھا۔ ہر طرف خوب صورت چہروں کے پھول کھلے ہوئے اور مسکراہٹوں کی کلیاں چٹکی ہوئی تھیں۔ وہ بھی مسکرائے اور بولے۔ ’’جن لڑکوں کے ناموں کے ساتھ غلام آتا ہے۔ وہ ہاتھ کھڑے کریں۔‘‘

بہت سے ہاتھ کھڑے ہوگئے۔ وہ ہنسنے لگے پھر گنتی کر کے بولے ’’اللہ معاف کرے۔ آزاد ملک میں اتنے غلام۔‘‘

’’سر غلام علی تو ہے ہی خاندانِ غلاماں سے‘‘ حمید اللہ بولا: ’’اس کے با کا نام بھی غلام محمد ہے اور دادا کا نام غلام نبی‘‘

ساری کلام ہنسنے لگی۔

’’غلام ابن غلام‘‘ پیچھے کے ڈیسکوں سے آواز آئی۔ سب پھر ہنسنے لگے۔

’’غلام کے بغیر بھی یہ نام بہت خوب صورت اور مکمل ہیں مگر پتا نہیں ہمارے لوگوں کو غلامی کیوں پسند ہے۔‘‘

’’سر حمید اللہ کے اپنے باپ، جی اے خان کا اصل نام بھی غلام خان ہے‘‘ غلام علی نے جوابی حملہ کیا۔

’’نہیں سر‘‘ حمید اللہ بولا ’’وہ غضنفر علی خان ہیں،‘‘

’’جس کے معنی شیر اور شیر آزادی پسند ہوتا ہے‘‘ حمید اللہ نے اترا کر کہا۔

’’شیر چڑیا گھر اور سرکس کے بھی تو ہوتے ہیں سر‘‘ غلام علی بولا۔

’’ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔ چلو حاضری بولو۔ اقبال احمد‘‘

’’حاضر جناب‘‘

’’توقیر حسن‘‘

’’یس سر‘‘

’’صفدر علی‘‘

’’یس سر‘‘

’’غلام غوث‘‘

’’جی جناب‘‘

’’حمید‘‘

’’دُلّا‘‘ حمید اللہ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ ساری کلاس قہقہہ زار بن گئی۔

حمید اللہ کھاتے پیتے متمول خاندان سے تعلق رکھتا تھا مگر ہر جماعت میں دو دو تین تین بار فیل ہوتا رہا، جس کی وجہ سے وہ اپنے سبھی ہم جماعتوں میں عمر اور قد میں بڑا تھا اور بھیڑوں کے گلے میں اونٹ لگتا تھا۔ سینئر کلاسوں کے لڑکے بھی اس سے الجھنے سے کتراتے۔ ٹیچر کی عدم موجودگی میں دھان پان سے کلاس مانیٹر محمد امیر کو ایک طرف دھکیل کر وہ خود ہی مانیٹری سنبھال لیتا اور شور اور شرارت کا بہانہ بنا کر اپنے مخالف لڑکوں کی ٹھکائی بھی کردیتا مگر اسے سزا دینے میں استاد بھی تامل کرتے تھے۔

بعض اساتذہ کا خیال تھا کہ گھر والے اسے پڑھائی کے لیے نہیں، شرارتوں سے بچنے اور وقت گزاری کے لیے اسکول بھیجتے تھے۔ پڑھائی لکھائی کی اسے زیادہ ضرورت بھی نہ تھی۔ آبائی جائداد خاصی تھی اور والد کی جنگلات کی ٹھیکے داری میں ہاتھ بٹانے کے لیے اس کا عالم فاضل ہونا کیا ضروری تھا۔ وہ اسکول کے تقریباً ہر ٹیچر کا شاگرد رہ چکا تھا اور شاید ہی کوئی استاد ہو جس نے کبھی ہیڈ ماسٹر یا اس کے گھر والوں سے اس کی شکایت نہ کی ہو مگر اس پر کوئی اثر ہوتا۔ نہ ہی اسے ان شکایتوں سے کچھ فرق پڑتا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ٹسٹوں اور امتحانوں میں اسے نقل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے یا وہ بدمعاشی سے زبردستی کتابیں، گائیڈیں اور نوٹس ساتھ رکھتا مگر اس کے باوجود فیل ہو جاتا۔ بعض اساتذہ تنگ آکر اسے پاس کر دیتے تاکہ وہ اگلی کلاس میں چلا جائے اور اس سے جان چھوٹ جائے۔

انہیںیاد آرہا تھا کہ حاضری لگا کر انہوں نے کلاس کو اردو کی کتاب کھولنے کو کہا تھا۔ پھر وہ حسب معمول کلاس کے درمیان میں مولانا بخش لہرا لہرا کر ٹہلنے اور مختلف لڑکوں سے پڑھا ہوا سبق سننے لگے۔ جوں ہی آموختہ سنانے والا لڑکا کسی لفظ پر اٹک جاتا، تلفظ کی غلطی کرتا یا غلط معنی بتاتا، وہ مولا بخش لہراتے اور لڑکے کی اٹکی ہوئی زبان یا تو فوراً رواں ہوجاتی یا پھر اور زیادہ اٹک اور الجھ جاتی اور وہ گھبراہٹ میں مزید غلطیاں کرنے لگتا۔ کلاس میں قہقہے گونجنے لگتے اور مولانا بخش کسی نازک اور خوب صورت ہتھیلی پر بیل بوٹے بنانے لگتا۔ اسکول میں جسمانی سزا دینے کی اجاز ت نہیں تھی مگر ماسٹر دین محمد کا پڑھانے اور سزا دینے کا اپنا طریقہ تھا۔ لڑکے ان سے بہت بے تکلف اور خوش تھے۔ وہ خود کہتے تھے کہ انہوں نے طالب علمی کے زمانے میں اپنے استادوں سے جو مار کھائی تھی، اس کا بدلہ اپنے شاگردوں سے چکاتے اور قرض وصول کرتے ہیں۔ اس پر ہنسنے لگتے۔ مگر وہ اذیت دینے کے ارادے سے نہیں مارتے تھے۔ نہ ہی وہ سزا دیتے وقت کسی غصے اور جھنجھلاہٹ کا اظہا رکرتے بلکہ ہنسی مذاق کرتے رہتے۔ لڑکوں نے بھی مولا بخش کے کئی طرح کے لطیفے اور مذاق بنائے ہوئے تھے البتہ دو ایک بار انہوں نے حمید اللہ کو کلاس میں نازیبا حرکتوں پر سخت سزاد ی تھی اور وہ بھی صرف انہی سے ڈرتا اور لحاظ کرتا تھا۔ وہ اکثر اسے اپنے سامنے بٹھاتے تاکہ اس پر نظر اور کنٹرول رکھ سکیں مگر اسے پچھلے ڈیسکوں پر نیلی آنکھوں والے صفدر علی کے پاس بیٹھنا اچھا لگتا تھا۔ آج وہ پھر وہاں جا بیٹھا تھا اور وہ اسے اپنی سیٹ پر واپس لانے کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے۔ اس وقت محمد انور کتاب سے سرسید احمد خاں کی ’’امید کی خوشی‘‘کا پڑھا ہوا سبق سنا رہا تھا:

’’اے ہمیشہ زندہ رہنے والی امید جب کہ زندگی کا چراغ ٹمٹماتا ہے اور دنیوی حیات کا آفتاب لب بام ہوتا ہے، ہاتھ پاؤں میں گرمی نہیں رہتی، رنگ فق ہو جاتا ہے، منہ پر مردنی چھا جاتی ہے، ہوا ہوا میں، پانی پانی میں، مٹی مٹی میں ملنے کو ہوتی ہے، تو تیرے ہی سہارے سے وہ کٹھن گھڑی آسان ہوتی ہے۔‘‘

اچانک صفدر علی کی آواز سنائی دی ’’سر یہ مجھے تنگ کر رہا ہے اس نے میرا گال۔‘‘

انہیںیاد آرہا تھا کہ انہوں نے پلٹ کر غصے سے حمید اللہ کو دیکھا تھا۔ کلاس روم میں شرارت بھرے دبے دبے قہقہے گونجتے اور سرگوشیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ انہوں نے بلند آواز میں پوری کلاس کو ڈانٹا ’’خاموش، خاموش‘‘ پھر حمید اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے کلاس سے باہر نکل جانے کا حکم دیا تھا مگر جوں ہی اس نے کلاس روم سے باہر قدم رکھا، لگا جیسے اسی بدبخت نے انگریزی فلموں کے کسی تخریب کار ولن کی طرح ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر دھماکا کر دیا ہو۔ ایک شدید جھٹکا آیا، پورا کلاس روم ڈولنے لگا۔ دیواریں ڈگمگائیں، کمرے کی ہر چیز لرزنے اور ہچکولے کھانے لگی اور ایک دھماکے کے ساتھ چھتیں ان کے اوپر آگریں۔ ایک ساتھ بہت سی چیخیں بلند ہوئیں، پھر سناٹا چھا گیا۔ پھر جب انہیں ہوش آیا تھا تو وہ ملبے کے نیچے دبے ہوئے تھے اور لڑکوں کی چیخیں، کراہیں اور سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔ وہ ان کی چیخ پکار سن سکتے تھے مگر نہ حرکت کرسکتے تھے نہ جواب ہی دے سکتے تھے۔ ان کے منہ اور آنکھوں میں ریت بھر گئی تھی۔

انہیں یہ تو اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ تباہی زلزلے کی وجہ سے آئی تھی اور یہ ان کی کلاس اور اسکول تک محدود نہ تھی یقینا پورے ملک میں قیامت برپا ہوگئی ہوگی ورنہ لوگ ان کی مدد کو ضرور پہنچتے مگر وہ اس اتفاق پر حیران تھے کہ سب اچھے، لائق اور معصوم لڑکے ہلاک ہوگئے یا ملبے کے نیچے زخمی پڑے چلا چلا کر مدد کے لیے پکار رہے تھے اور اکیلا حمید اللہ اپنی شرارتوں کی وجہ سے یقینا بچ گیا ہوگا۔ کچھ دیر بعد وہ منہ میں بھری ریت نگلنے اور تھوکنے کے بعد بولنے کے قابل ہوگئے تو انہوں نے آواز دی۔

’’یہ کون رو رہا ہے؟‘‘

’’میں ہوں ماسٹر جی‘‘ آواز سنائی دی ’’انور‘‘

’’ٹھیک تو ہو بیٹا؟‘‘

’’سر میں ٹوٹی ہوئی کرسیوں اور ڈیسکوں کے نیچے پھنسا ہوا ہوں۔ میرے اوپر پتا نہیںکیا بھاری چیز پڑی ہے میں اٹھ نہیں سکتا۔‘‘

’’حوصلہ رکھو میرے بیٹے۔‘‘

’’سر اچانک یہ کیا ہوا؟ کیا جنگ شروع ہوگئی۔ دشمن نے گولہ باری کی؟‘‘

’’نہیں بیٹا۔ یہ زلزلہ تھا۔ بہت شدید۔‘‘

’’سر آپ کہاں ہیں؟ کیسے ہیں۔‘‘

’’میں تمہارے پاس ہی ہوں۔ ہاتھ پاؤں کام نہیں کر رہے۔ پتا نہیں ہیں بھی یا نہیں۔ تم گھبراؤ نہیں بیٹا۔ ابھی کوئی مدد کو آجائے گا۔‘‘

’’ماسٹر جی میں محمدامیر ہوں‘‘ ایک اور آواز سنائی دی۔ ’’چھت کا پنکھا ٹوٹ کر میرے اوپر گرا ہے۔ میں سخت زخمی ہوں۔ لگتا ہے خون بہ رہا ہے مگر میں حرکت نہیں کرسکتا۔ ہلنے جلنے سے کوئی چیز پیٹ پھاڑنے لگتی ہے۔‘‘

’’تم حرکت نہیں کرو بیٹا۔ دعا اور انتظار کرو، ابھی مدد کے لیے لوگ آجائیں گے۔‘‘

’’کیا پتا ماسٹر جی، کوئی بچا بھی ہے کہ نہیں؟‘‘

’’فکر نہ کرو، اللہ کسی کو ضرور ہماری مد دکے لیے بھیجے گا۔‘‘

’’اگر اللہ کو ہمیں بچانا ہوتا تو زلزلہ ہی کیوں آتا۔‘‘

’’بیٹا ایسی باتیں نہیں سوچتے۔‘‘

’’میری ٹانگیں پھنسی ہوئی ہیں سر‘‘ ایک اور آواز آئی۔

’’تم غلام علی ہو؟‘‘

’’جی سر‘‘

’’ہمت سے کام لو غلام علی، ابھی لوگ مدد کو آتے ہی ہوں گے۔‘‘

’’سر اگر میری ٹانگیں ٹوٹ گئیں تو میں فوج میں بھرتی کیسے ہوں گا۔‘‘

’’تمہاری ٹانگیں ٹھیک ہوجائیں گی اور تم ایک بہادر سپاہی بنوگے۔‘‘

میں سن سکتا ہوں سر

’’ٹھیک ہوناں بیٹا؟‘‘

’’نہیں سر میرے سر پر چوٹ آئی ہے خون بھی بہہ رہا ہے۔‘‘

’’تم سبھی صبر اور ہمت سے کام لو۔ جتنی دعائیں اور سورتیں یاد ہیں پڑھتے رہو۔ سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘

’’ٹھیک ہے سر‘‘

’’امید کا دامن نہ چھوڑنا بچو‘‘

’’جی سر‘‘

’’اور کوئی ہے؟‘‘

’’غلام رسول؟‘‘ … ’’خادم حسین؟‘‘ … ’’غلام دین؟‘‘… ’’توقیر حسن؟‘‘ … ’’رشید اختر؟‘‘ … ’’غلام اللہ؟‘‘ … ’’غلام اکبر؟‘‘… ’’صفدر علی؟‘‘

انہوں نے حاضری بولنے کے انداز میں باری باری سب کو آواز دی مگر کوئی جواب نہ ملا۔ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔

’’میرے بچو! کیا تم سب چلے گئے؟‘‘ انہوں نے گلوگیر آواز میں کہا ’’ہمت ہار گئے؟ امید کا دامن چھوڑ دیاَ‘‘

’’سر صفدر علی یہاں ہے میرے پاس ’’محمد امیر کی آواز سنائی دی ’’مگر سربول نہیں رہا‘‘

’’تو کیا وہ بھی؟‘‘ انہوں نے سسکی روک کر پوچھا۔

’’پتا نہیں سر‘‘

’’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘

پھر تاریکی اور گہری ہوگئی، جس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ شاید رات ہوگئی تھی مگر کوئی مدد کو نہ آیا تو ماسٹر صاحب پریشان ہوگئے۔ میرے منہ میں خاک، انہوں نے دل ہی دل میں سوچا کیا پتا مدد کرنے والا بھی کوئی نہ بچا ہو مگر لڑکوں کو انہوں نے تسلی دی اور کہا کہ صبح تک ان کے ورثا یا کوئی ریسکیو پارٹی ضرور پہنچ جائے گی۔ پھر رات کے کسی پہر محمد امیر نے اطلاع دی۔

’’سر صفدر علی زندہ ہے۔ اسے ہوش آگیا ہے، مگر سر وہ بہت خوف زدہ ہے اور رو رہا ہے۔‘‘

’’صفدر علی۔ میرے بچے، مت گھبراؤ، صبح تک بہت سے لوگ مدد کو آجائیں گے اور ہم سب کو ملبہ ہٹا کر نکال لیں گے۔‘‘

’’سر میری ماں پریشان ہوگی اور پتا نہیں میرے بیمار باپ کا کیا حال ہوگا؟‘‘

’’سب ٹھیک ہوجائے گا بیٹا، حوصلہ رکھو اور دعائیں پڑھتے رہو‘‘

مگر اگلی صبح اور اس سے اگلی صبح بھی کوئی مدد کو نہ آیا تو ملبے میں دبے ہوئے لڑکوں میں مایوسی پھیل گئی۔ ماسٹر صاحب برابر انہیں تسلیاں دیتے اور ہمت بندھاتے رہے مگر تا بہ کے۔ وہ بھوک پیاس اور زخموں کی تکلیف سہ سکتے تھے مگر نا امیدی کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ ماسٹر صاحب نے بہت تسلی دی مگر صفدر علی نے بلند آواز میں رونا شروع کر دیا اور اسی کیفیت میں دوبارہ بے ہوش ہوگیا۔ محمد امیر اور ماسٹر جی اسے وقفہ وقفہ سے اور باری باری پکارتے رہے مگر اس کے رونے یا بولنے کی آواز دوبارہ سنائی نہ دی۔

’’سر صفدر علی بھی ہمت ہار گیا‘‘ محمد امیر نے کہا۔ وہ رونے لگے۔

’’سر میں بھی جا رہا ہوں‘‘ محمد انور کی آواز آئی۔ ’’بہت درد ہو رہا ہے۔ میرے پیٹ میں کچھ دھنس گیا ہے۔‘‘

’’نہیں انور بیٹا‘‘ انہوں نے پکارا، ہمت کرو۔ یاد کرو، زلزلے سے پہلے تم کیا سبق سنا رہے تھے۔‘‘

’’جب ہاتھ پاؤں میں گرمی نہیں رہتی، رنگ فق ہو جاتا ہے، منہ پر مردنی چھا جاتی ہے۔ ہوا ہوا میں اور پانی پانی میں ، مٹی مٹی میں … سر میں اپنی مٹی سے ملنے والا ہوں … خدا حافظ۔‘‘

وہ اسے پکارتے رہے مگراس نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ سسکنے لگے ’’اوہ میرے بچے۔ تم نے بھی امید کا دامن چھوڑ دیا۔

دن پر دن گزر رہے تھے۔ رات اور دن میں کچھ زیادہ فرق نہیں تھا، مگر رات کو نسبتاً زیادہ تاریکی پھیل جاتی تھی۔ جس سے اندازہ ہو جاتا کہ اب رات ہے یا دن۔ کبھی تھوڑی دیر کے لیے آنکھ لگ جاتی مگر پھر کسی لڑکے کی چیخ یا خوف ناک خواب دیکھ کر ہڑبڑا جاتے۔ کبھی کبھی کہیں دو سرے انسانی آوازیں اور آہٹیں بھی سنائی دیتیں اور امید بندھتی کہ شاید لوگ مدد کو آئے ہیں۔ ماسٹر جی زور زور سے چلاتے اور طرح طرح کی صداؤں سے مدد کے لیے پکارتے۔

’’ہم یہاں ہیں‘‘ … ’’ہماری مدد کرو‘‘ … ’’ہمیں نکالو‘‘ … ’’سب کہاں چلے گئے ہو‘‘ … ’’ہیلپ، ہیلپ‘‘ … ’’کوئی ہے؟‘‘

مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ شاید کوئی کہیں نہیں تھا۔ اگر اکا دکا لوگ کہیں تھے بھی تو سیمنٹ کنکریٹ کی بھاری چھتوں کا اتنا بہت سا ملبہ اٹھانا، ہٹانا ان کے بس کی بات کہاں تھی۔ لڑکے جب زیادہ مایوس اور پریشان ہوتے یا کسی کی حالت غیر ہونے لگتی تو ماسٹر جی پھر سے گلا پھاڑ پھاڑ کر مدد کے لیے پکارنے لگتے۔ یہاں تک کہ ان کا گلا بیٹھ جاتا اور وہ تھک ہار کر چپ ہوجاتے۔

پتا نہیں کتنے دن اور راتیں اسی کیفیت میں گزر گئیں۔ مرنے والوں کی لاشیں گلنے سڑنے لگیں اور بدبو سے زندہ بچنے والوں کے دماغ پھٹنے لگے۔ مدد کے لیے چلا چلا کر سب کے گلے بیٹھ گئے۔ پھر ایک روز محمد امیر بھی چپ ہوگیا۔ انہوں نے خود بھی رونا چلانا شروع کر دیا۔ اب کسی لڑکے کی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ ایک ایک کر کے سب خاموشی کے پاتال میں اتر گئے تھے۔ تڑپ تڑپ کر جان دینے والے لڑکوں کے مرنے اور مدد کے لیے چلا چلا کر ان کا گلا بیٹھ چکا تھا اور آواز بند ہوچکی تھی۔ یوں بھی اب ان کے آگے خاموشی تھی۔ اب ان کے لیے مرنا جینا بے معنی ہوچکا تھا۔ انہوں نے مدد کے لیے پکارنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ اپنے آس پاس خاموشی چھا جانے کے بعد وہ شانت سے ہوگئے تھے۔ اب ان کے زندہ بچ نکلنے کا کوئی امکان تھا نہ ہی انہیں اس کی خواہش تھی۔ ان پر نقاہت غالب آتی جا رہی تھی۔ انہیں موت کا انتظار تھا۔ اسی کیفیت میں ایک روز ان پر غشی طاری ہوگئی۔ انہیں یقین تھا کہ یہ موت کی غشی ہے اور وہ اپنے عزیز طلبہ کے پاس جا رہے ہیں لیکن انہیں حیرت ہوئی جب انہوں نے فرشتوں جیسے لوگوں کو حساب کتاب لینے کے بجائے تصویریں اتارتے اور خود کو اسٹریچر پر ڈالتے دیکھا۔

حمید اللہ اور ڈاکٹر کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب ماسٹر صاحب ہاتھ اٹھا کر حمید اللہ کے سر پر رکھنے میں کام یاب ہوگئے۔ انہوں نے کچھ بولنے کی کوشش بھی کی جس میں وہ کام یاب نہ ہوسکے۔ نفسیاتی معالج کا خیال تھا کہ بہت دنوں تک ایک ہی پوزیشن میں دبے پڑے رہنے اور اپنے عزیز طالب علموں کو ایک ایک کر کے موت کے منہ میں جاتا دیکھنے کے صدمے سے ان کا ذہن مایوسی کا شکار ہوگیا تھا اور زندگی سے ان کی دلچسپی ختم ہوگئی تھی ورنہ انہیں کوئی بڑی چوٹ نہ آئی تھی۔ حمید اللہ کے آنے کے بعد ان کی طبیعت قدرے سنبھلنے لگی اور انہوں نے منہ کے راستے غذا لینا بھی شروع کردی۔ حمید اللہ ان کی خدمت میں رہنے لگا۔ وہ انہیں خود جوتے پہناتا اور سہارا دے کر واش روم تک لے جاتا مگر تیسرے روز ایک عجیب واقعہ ہوا۔ سہ پہر کو جب حمید اللہ ان کے لیے نئے کپڑے لینے گیا ہوا تھا، نرس دوا پلانے کے لیے آئی تو یہ دیکھ کر پریشان ہوگئی کہ وہ بے ہوش پڑے تھے۔ اس نے انہیں آوازیں دیں، ہلایا جلایا مگر وہ خاموشی کے پاتال میں اتر چکے تھے۔ اس نے گھبرا کر ڈاکٹر کو بلایا جس نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔

ماسٹر دین محمد کی اچانک موت کا سبب کسی کی سمجھ میں نہ آرہا تھا، آس پاس کے مریضوں سے صرف اتنا پتا چلا کہ وہ بیڈ پر لیٹے ہوئے ٹی وی دیکھ رہے تھے، جس میں کوئی دانش ور زلزلے کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے گناہوں کی سزا اور شامت اعمال قرار دے رہا تھا۔ ماسٹر جی پہلے تو غور سے سنتے اور روتے رہے پھر بیڈ کے نیچے کچھ تلاش کرنے کے لیے جھکے، مگر بے ہوش ہوکر گر گئے

شیئر کیجیے
Default image
منشا یاد

One comment

Leave a Reply