مفلوج بوڑھی عورت نے پلکوں سے کتاب لکھ ڈالی!

انسان اگر کسی کام کا مصمم ارادہ کرلے تو پھر راہ میں آنے والی کوئی بھی رکاوٹ اسے حصول مقصد سے روک نہیں سکتی۔ چاہے یہ رکاوٹ جسمانی معذوری کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔ ۶۲ سالہ گونگ زنھوئی نے وہ کارنامہ سر انجام دیا ہے جس کے بارے میں جان کر آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ ہاتھ پاؤں کو حرکت دینے سے معذور بوڑھی عورت نے خود نوشت تحریر کر ڈالی ہے! آپ بیتی تحریر کرنے کے لیے گونگ نے کسی کی مدد نہیں لی بلکہ اس نے صرف پلکیں جھپکا جھپکا کر ڈیڑھ لاکھ سے زائد الفاظ پر مشتمل سوانح حیات لکھ ڈالی۔

گونگ ژنہوئی پچھلے بارہ سال سے ALSنامی بیماری کا شکار ہے۔ اس مرض میں مبتلا فرد کا پورا جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ گونگ ژنہوئی کا بھی پورا جسم مفلوج ہوچکا ہے بس اس کا سر اور آنکھیں متحرک ہیں۔ اے ایل ایس کا شکار ہونے کے بعد قوت گویائی بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئی تھی۔ تین برس قبل گونگ کے شوہر نے اس کے لیے ایک آئی ٹریکنگ ڈیوائش خریدی۔ اس آلے کی مدد سے وہ کمپیوٹر کو کنٹرول کرتے ہوئے اپنے شوہر اور گھر کے دوسرے افراد کے ساتھ بات چیت کرسکتی تھی۔ آئی ٹریکنگ ڈیوائس کے ذریعے ’گفتگو‘ کے قابل ہونے کے بع دگونگ نے سب سے پہلے یہ سطر تحریر کی، ’’میں آج بے انتہا خوش ہوں کہ مجھے اظہار کا ذریعہ میسر آگیا ہے۔ میں اب اپنی سوانح حیات لکھنے کی خواہش پوری کروں گی۔‘‘

ڈیڑھ سال کے بعد گونگ نے اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز کیا۔ اس وقت تک پلکوں کی حرکت کے ذریعے کمپیوٹر پر ٹائپنگ کرنے میں اسے خاصی مہارت حاصل ہوگئی تھی۔ وہ صبح آٹھ بجے سے رات گیارہ بجے تک کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر پلکیں جھپکاتی رہتی تھی۔ ایک دن میں وہ اوسطاً تین ہزار الفاظ تحریر کرتی تھی۔ گونگ نے سوانح عمری کا آغاز بچپن کی یادوں سے کیا تھا۔ بعد ازاں اس نے نوجوانی کی دور کا ذکر کیا۔ پھر ادھیڑ عمری اور اس تکلیف دہ مرض سے لڑنے کی جدوجہد بیان کی۔ آؓخر کار گزشتہ نومبر میں اربوں دفعہ پلکیں جھپکانے کے بعد ڈیڑھ لاکھ سے زائد الفاظ پر مشتمل سوانح عمری مکمل ہوگئی۔ منفرد طریقے سے لکھی گئی تصنیف کو Beautiful Frozen کا عنوان دیا گیا ہے۔

یہ کتاب اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں اے ایل ایس سے گونگ کی بارہ سالہ جنگ کا ذکر ہے حالاں کہ اس مرض کا شکار ہونے کے بعد بیشتر لوگ تین سے پانچ برس کے عرصے میں انتقال کر جاتے ہیں۔

سوانح عمری تحریر کرلینے کے بعد ژنہوئی نے انٹرنیٹ کے ذریعے اس مرض میں مبتلا افراد سے رابطہ کرنا شروع کیا۔ اس نے آن لائن گروپ جوائن کیے اور بلاکنگ بھی شروع کردی۔ پھر جب گونگ کو یہ پتا چلا کہ بہت سے مریض مہنگا ہونے کی وجہ سے آلۂ تنفس خریدنے کی سکت نہیں رکھتے اور دم گھٹنے سے مرجاتے ہیں تو اس نے اپنی کتاب کی فروخت سے ہونے والی تمام آمدنی اے ایل ایس کے مریضوں کو آلۂ تنفس کی فراہمی کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بلاگ اور آن لائن گروپوں کے پیجز پر اس بات کا اظہار کرنے کے بعد گونگ کو لوگوں کی طرف سے زبردست رد عمل ملا ہے۔ اب تک ایک ہزار سے زائد لوگ اس کی کتاب خریدنے کی خواہش ظاہر کرچکے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
غزالہ عامر

Leave a Reply