مسلم سماج میں بیداری

سوال (۱): مسلم سماج کو کن کن امور پر بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلم سماج کو اپنے اندر درج ذیل تین امور پر زبردست بیداری لانے کی سخت ضروری ہے:

جواب(۱):

تعلیمی بیداری: اسلام نے ہی سب سے پہلے علم کو تمام انسانوں کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ علم کا مقصد ہی ہے شخصیت کا مکمل ارتقا۔ مسلمان بھی دنیا میں بسنے والے اور سماج و معاشرت کا حصہ ہیں۔ ایک زمانے تک وہ تہذیبی، سماجی اور سیاسی دبدبہ بھی رکھتے تھے۔ مگر آج وہ دنیا میں تعلیمی، تہذیبی، اقتصادی اور معاشی زبوں حالی کے شکار ہیں۔ مغربی تہذیب نے ہر طرف سے ان پر دھاوا بول رکھا ہے چناں چہ ان کے پڑھے لکھے جدید طبقے تو اس کے چپیٹ میں آگئے۔ رہ گیا دینی و مذہبی طبقہ، یہ طبقہ مغربی تہذیب اور جدید تہذیب و تعلیم و ٹیکنالوجی میں فرق کا شعور نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان علم کے میدان میں دوسروں کے مقابلے بہت پیچھے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ساری دنیا میں ذلیل و خوار ہیں۔ تعلیمی بیداری سے بند ذہن و دماغ کھلیں گے، سوچ بدلے گی اور امت مسلمہ اس مادی و اخلاقی دنیا میں کچھ مثبت کام انجام دینے کے قابل ہوسکے گی۔

(۲) دینی بے داری: بے شک قرآن اور حدیث کی شکل میں علم کا وہ خزانہ مسلمانوں کے پاس ہے جس کو اگر وہ مضبوطی سے پکڑے رہیں تو ذلت اور پستی کی طرف جا ہی نہیں سکتے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد نے مدارس و مکاتب سے رشتہ ناطہ توڑ رکھا ہے اور اپنی دنیا بنانے کے لیے عصری وجدیدی تعلیم کی طرف دوڑ لگا دی ہے۔ چناں چہ تعلیم کا میدان ایک رخا بن کر رہ گیا ہے۔ اخلاقی اور روحانی زندگی اور تہذیب و قدروں کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی۔ ان مسائل کو ہمیں ایک چیلنج کے طور پر قبول کرنا ہوگا۔ اور اس موجودہ بدلے ہوئے ماحول میں بالکل نئے انداز میں خواتین و مردوں کی ایک نئی لیڈر شپ کو آگے لانا ہوگا۔ بے شک قرآن و حدیث ہمارے تمام فکر و عمل کی بنیاد ہیں۔

(۳) ملی اتحاد: مسلم سماج کی اس وقت سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ ان کے درمیان کا آپسی اتحاد لگ بھگ ختم ہو چکا ہے۔ اخوت، محبت اور بھائی چارہ جو اسلام کی بنیاد ہے، اس سے وہ کوسوں دور ہوچکے ہیں۔ذات پات، نسل پرستی، اونچ نیچ، امیر غریب اور مختلف ’’پرستیوں‘‘ میں بٹ گئے ہیں۔ جس کا فائدہ دشمنانِ اسلام خوب اٹھا رہے ہیں۔ چناں چہ امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا بے حد ضروری ہے تبھی ہم اپنی شناخت بچا سکیں گے۔

سوال(۲) مسلمانوں کے خاندانی نظام کو کیا خطرات در پیش ہیں:

جواب: مسلمانوں کا خاندانی نظام اس وقت کئی خطرات کی زد میں ہے۔ ان مسائل نے جنہوںنے دیگر معاشروں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، اسے بھی اپنا شکار بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں تین بڑے مسائل یہ ہیں:

جواب(۱) مغرب زدگی: ہمارے خاندانی نظام کے لیے سب سے بڑا عذاب مغرب زدگی ہے، جس کی وجہ سے ہمارا خاندانی نظام تیزی سے صحت مند ماحول سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ مغرب ہر روز ایک نیا فیشن ایجاد کرتا ہے۔ اور ہم اس پر اس طرح سے ٹوٹ پڑتے ہیں گویا یہ طے کر رکھا ہے کہ مشرقی تہذیب کے ہر نقش کو مٹا کر دم لیں گے۔ چناں چہ ایک طرف بے کرداری، فحاشی، عریانیت و بے حیائی کا بازار گرم ہے۔ تو دوسری طرف عورتوں کے حقوق و اختیارات اور اقتدار میں ساجھے داری کے نام پر انہیں بازاری اشتہار اور بکاؤ مال بنایا جا رہا ہے۔ چناں چہ مغرب زدگی کے گندے خطرات سے اپنے خاندانی نظام کو بچانے کے لیے متعدد ٹھوس اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

(۲) مشرکانہ ماحول کا اثر: مشرکانہ ماحول کے دباؤ میں ہمارا خاندانی نظام بری طرح سے پس کر برباد ہو رہا ہے۔ تہوار ہو، شادی بیاہ ہو، مرنا جینا ہو یا سکھ دکھ ہر میدان میں ہم پر مشرکانہ ماحول کا زبردست اثر لیتے جا رہے ہیں۔ جس کی تباہی و بربادی پورے مسلم معاشرے میںکینسر کی طرح پھیلتی جا رہی ہے، جس نے ہماری خاندانی نظام کی بنیاد کو بھی کھوکھلا کر دیا ہے۔

(۳) لڑکیوں سے امتیازی سلوک: اسلام میں خواتین و لڑکیوں کی عظمت و اہمیت اور ان کی ذمہ داریوں کے تعلق سے بے شمار احکامات موجود ہیں، انسانیت کے لیے یہ گوہر انمول ہیں، جس نے ماں، بیوی، بیٹی اور بہن چاروں حیثیت سے اپنی ایک شاندار تاریخ بنائی ہے۔ مگر افسوس آج یہی طبقہ سماج اور خاندان کے لیے محض ضرورت و زینت کا سامان بن کر رہ گیا ہے۔ تعلیمی میدان ہو یا زندگی کا اور کوئی میدان ہر جگہ ان سے امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔ خاندانی زندگی کو مضبوط اور منظم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس امتیاز کو ختم کیا جائے۔

سوال(۳) مسلم عورت کے بڑے مسائل کیا کیا ہیں: تین بڑے مسائل کا ڈر

جواب (۱):

تعلیم نسواں کی کمی: آج ہم جس سماج اور جس دور میں جی رہے ہیں یہ تعلیمی انقلاب کا دور ہے۔ اس بدلے ہوئے ماحول میں تعلیم نسواں کی بڑی اہمیت ہے۔ مسلم عورت کے کئی بڑے مسائل میں ایک بڑا مسئلہ خود اس کی تعلیم کا ہے۔ مسلم خواتین اور لڑکیوں کی اکثریت ناخواندہ ہے۔ انہیں صرف معمولی مذہبی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی ہے۔ اور کم عمری میں ان کی شادی کر کے والدین اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔ ہمیں اپنی عورتوں اور بچیوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے پر خاص توجہ دینی ہوگی۔ اس لیے کہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی ایک تعلیم یافتہ گھر اور ایک خوشحال اور روشن معاشرے کی تعمیر کرتی ہے۔

(۲) بے جا رسم پرستی: آج ہمارا مسلم سماج طرح طرح کی برائیوں اور رسم ورواج میں جکڑ کر رہ گیا ہے او ریہ رسمیں خاص کر ہندو معاشرے کے زیر اثر آئی ہیں۔ ان میں ایک سب سے بڑا چیلنج جہیز اور دیگر رسم و رواج کا بھی ہے۔ اس ترقی یافتہ دور میں یہ وبائیں جس تیزی سے پھیل رہی ہیں اگر ان پر قابو نہ پایا جاسکا تو مستقبل قریب میں اس کے بہت ہی خطرناک نتائج سامنے ہوں گے۔

(۳) جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات: انسانی زندگی صرف مادی یا جسمانی نہیں ہے۔ انسان کی اصل زندگی اخلاقی اور روحانی ہے جو مرنے کے بعد بھی قائم و دائم رہتی ہے۔ مگر جدید ٹیکنا لوجی کے منفی اثرات نے ہر قوم و مذہب کے لڑکے لڑکیوں کو نہ صرف اپنی دینی و اخلاقی اور روحانی تہذیب و قدروں سے دور کر دیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں نوجوانوں میں بے راہ روی، مادہ پرستی، دولت کی ہوس، فیشن پرستی، دکھاوا، کھوکھلا پن ہر روز بڑھتا جا رہ اہے۔ کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ٹی وی، چیٹنگ، فیس بک، اسمارٹ فون وغیرہ کے ذریعے آئے دن شرمناک واقعات اور حادثات رونما ہو رہے ہیں۔ چناں چہ موجودہ سماج کو اس منفی اثرات سے بجانے کی فکر لازمی ہے۔ ورنہ یہ نعمت تباہی کا ایک اور ذریعہ بن سکتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
غزالہ پروین

Leave a Reply