سرکہ ہے افادیت سے بھرپور

سرکہ ایسی چیز ہے جس سے ہم سب واقف ہیں۔ صدیوں سے سرکہ اپنے بے پناہ فوائد کی وجہ سے گھریلو استعمال میں ہے لیکن اب بھی ہمارے ارد گرد بہت سے افراد ایسے ہیں جو سرکہ کی افادیت سے آگاہ نہیں۔ان کے خیال میں سرکہ کا مقصد صرف کچھ کھانوں کے ذائقہ میں اضافہ کرنا ہے۔ سرکہ زیادہ تر جن کاموں میں استعمال ہوتا ہے ان میں کوکنگ، صفائی اور صحت و خوبصورتی شامل ہیں۔

کوکنگ

*چاول پکاتے ہوئے ان میں ایک چمچ سرکہ ڈالنے سے چاول جڑتے نہیں اور الگ الگ رہتے ہیں۔

*مچھلی کی ہیک دور کرنے کیلئے اسے کچھ دیر سرکہ لگا کے رکھ دیں اور پھر دھوئیں۔گوشت کو پکاتے ہوئے اس میں تھوڑا سا سرکہ شامل کرنے سے گوشت جلدی گل جاتا ہے اور اس میں سے نقصان دہ بیکٹریا کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

*انڈے بوائل کرتے ہوئے پانی میں سرکہ ڈالنے سے انڈے ٹوٹتے نہیں اور ان کا چھلکا باآسانی اتر جاتا ہے۔

* پنیر کو زیادہ عرصہ محفوظ رکھنا ہو تو اسے سرکے میں بھیگے کپڑے میں لپیٹ کے بند ڈبے میں رکھیں۔

صفائی

*شیشہ یا کرسٹل سے بنے ڈیکوریشن پیس اور دیگر اشیاء کی صفائی کیلئے ململ کے کپڑ ے کو سرکہ میں بگھو کر ان کو صاف کریں اور بعد میں پانی سے صاف کر لیں۔ شیشہ اور کرسٹل کی چمک واپس آ جائے گی۔

*کچن کاؤنٹر اور ٹلز صاف کرنے کے لئے سرکہ اور کھانے کا سوڈا مکس کریں کہ ایک محلول سا بن جائے اسے کاؤنٹر اور ٹلز پر دس منٹ لگا رہنے دیں اور پھر سرف ملے پانی سے صاف کریں۔

*سونے کے زیورات بار بار استعمال کرنے سے ان کی چمک ماند پڑ جاتی ہے ایسے میں ضروری نہیں کہ بازار سے پالش کروائے جائیں بلکہ یہ کام باآسانی گھر میں بھی ہو سکتا ہے۔ ایک کپ سرکہ، دو کھانے کے چمچ کھانے کا سوڈا، ایک چائے کا چمچ ہلدی اور تھوڑی سی سرف مکس کریں اور اس میں دو گھنٹہ تک زیورات کو بگھو دیں، بعد میں کسی پرانے ٹوتھ برش سے رگڑیں کہ میل اچھی طرح صاف ہو جائے۔ آپ دیکھیں گے کہ زیورات پھر سے چمکنے لگ جائیں گے۔

*اکثر کپڑوں پر پین کی روشنائی کے نشان لگ جاتے ہیں جس سے اچھے خاصے کپڑے بعض اوقات استعمال کے قابل نہیں رہتے، روشنائی کے نشان دور کرنے کیلئے اسفنج کو سرکہ میں بگھو کر نشان کے اوپر رگڑیں یہاں تک کہ وہ نشان ختم ہو جائے۔

*چشمہ صاف کرنے کیلئے سرکہ بہترین کلنزر ہے، سرکہ اور پانی برابر مقدار میں اسپرے بوتل میں رکھیں اور جب ضرورت پڑے تو اپنا چشمہ اس سے صاف کرلیں۔

*ہاتھوں، کٹنگ بورڈ اور چھری سے سبزیوں کی بو دور کرنی ہو تو سرکہ ان پر مَلیں۔

*برتنوں سے سالن کے داغ ختم کرنے کیلئے ان کو سرکہ میں بھیگے کپڑے سے دھوئیں۔

*اوون کو چکنائی کی تہہ سے بچانے کیلئے سرکہ سے صاف کریں۔

صحت و خوبصورتی

*نوجوانوں کا ایک بڑا پریشان کن مسئلہ چہرے کے دانے ہیں ان سے نمٹنے کیلئے سرکہ اور پانی کی برابر مقدار مکس کریں اور اسے ٹونر کے طور پر استعمال کریں۔ آنکھوں کے اردگرد نہ لگائیں۔

*ہربل ماہرین کے مطابق فیشل میں بھاپ لیتے ہوئے پانی میں چند قطرے سیب کا سرکہ ڈالیں یہ جلد کی گہرائی تک صفائی کرکے اسے چمکدار اور صحت مند کرتا ہے۔

*زمانہ قدیم میں وزن کم کرنے کے لئے سیب کا سرکہ مصر کے لوگوںکی خوراک کا اہم جزو رہا ہے۔ نہار منہ ایک چمچ سیب کا سرکہ ایک گلاس پانی میں ملا کر پینا، یا ہر کھانے سے پہلے پینا وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کیونکہ یہ جسم میں جمع شدہ اضافی چکنائی کو جلانے میں مدد دیتا ہے۔

*کھانسی کا مسئلہ حل کرنا ہو تو ایک چوتھائی کپ سرکہ، ایک کپ شہد کو ایک کپ گرم پانی میں مکس کرکے رکھ لیں اور دن میں چھ سے آٹھ چمچ لیں۔

*رومیوں کے دور سے سرکہ بالوں کی خوبصورتی میں اضافہ کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ یہ قدرتی کنڈیشنر کا کام کرتا ہے اور بالوں کی چمک بڑھاتا ہے۔ اسے لگانے کا بہترین طریقہ ہے کہ ایک کپ پانی میں ایک کھانے کا چمچ سرکہ ملا کے شمپو کرنے اور بال دھونے کے بعد اسے بالوں پر کچھ منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر بال دھو لیں۔

*انسونیمیا کے لئے تین چمچ سیب کا سرکہ ایک کپ خالص شہد میں مکس کریں سونے سے پہلے ہر آدھا گھنٹہ بعد ایک چائے کا چمچ ا ستعمال کریں۔

*جل جانے کی صورت میں متاثرہ حصے پر دن میں دو مرتبہ سرکہ لگائیں۔

*اگر آپ کو نیلز فنگس انفیکشن ہے تو ایک حصہ سرکہ اور دو حصے پانی ملائیں اور اس میں اپنا ناخن روزانہ پندرہ منٹ تک ڈبوئیں۔ آہستہ آہستہ فنگس انفیکشن ختم ہو جائے گا۔

*جلد کی خشکی اور خارش سے نجات کیلئے دو کھانے کے چمچ سرکہ غسل کے پانی میں شامل کریں۔کچن میں کھانا پکاتے ہوئے اگر آپ کی جلد جل جائے تو فوری طور پر کپڑا سرکہ میں بھگو کے متاثرہ جگہ پر رکھنے سے سکون ملتا ہے۔

سانسوں کی ناگوار مہک دور کرنی ہو تو آدھا چائے کا چمچ سیب کا سرکہ، ایک کپ پانی میں مکس کریں اور اس مکسچر سے غرار ے کریں۔

قبض کا مسئلہ حل کرنے کیلئے دو کھانے کے چمچ سیب کا سرکہ آٹھ اونس پانی میں مکس کریں اور دن میں تین دفعہ پیتے ہوئے اس مکسچر کو ختم کریں۔***

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

Leave a Reply