غزل

دیکھ لے گی خلق میری بے گناہی ایک دن

وقت خود دے گا ترے حق میں گواہی ایک دن

آنکھ سورج کو دکھاتا ہے چراغ کم عیار

منکشف ہوگی خود اس کی کم نگاہی ایک دن

کثرت زر ہے دلیل برتری تو دیکھنا

پارہ پارہ شیشہ دل کی تباہی ایک دن

کس لیے اندیشۂ فردا لیے پھرتے ہو تم

خود بھی ہوگا یہ نشاں ظل الٰہی ایک دن

ایک ہلکی سی ہوا میں اڑ گیا رخ سے نقاب

زاویہ بدلے گی اپنی کج کلاہی ایک دن

آگیا ہے جب محبت میں غم سود و زیاں

لوح دل پر پھیل جائے گی سیاہی ایک دن

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر عبد الرشید راشدؔ

Leave a Reply