عورت کا مغربی ’’ماڈل‘‘ اور انسانی معاشرہ

دنیا کی خوب صورتی میں بہت کچھ حصہ حسن زن کا ہے۔ بقول اقبال: کائنات میں حسن زن سے ہی رنگ ہے۔ بلاشبہ یہ سچ ہے۔ مگر اس حسن میں کتنا کچھ حصہ حسن زن کا ہے، یہ سمجھنا عورت کی درست تفہیم ہی سے ممکن ہے۔ اس کا سادہ سا طریقہ عورت کے فطری خواص کا جائزہ ہے، جو اس کا کردار متعین کرتے ہیں۔

پیدائش ہی سے عورت ایک نازک اور کمزور مخلوق ہے، جسے تحفظ درکار ہے۔ پیدائش ہی سے عورت میں رحم مادر کی خاصیت موجود ہے، ماں بننا جس کا بنیادی حق ہے۔ پیدائش ہی سے حیا شخصیت کا لازمی خاصا ہے، پروقار پردہ جس کا محافظ ہے۔ فطری طور پر ماں ہے، بہن ہے، بیٹی ہے اور بیوی ہے۔ یہ سب کردار زنانہ خواص کے فطری نتائج ہیں۔ عورت کے فطری خواص اگر فطری کردار ادا نہ کر پائیں تو نہ صرف عورت کے اپنے لیے بلکہ معاشرے کے لیے تباہ کن نتائج سامنے لاتے ہیں۔ عورت وہ ہے جو معاشرے یا قوم کے بناؤ اور بگاڑ کی بنیا دہے۔ خاندانی نمو کا نازک پہلو ہے۔ خاندان، معاشرے اور قوم کی عمدہ تشکیل پروقار ماں، باحیا بہن، باکردار بیوی، اور پیاری بیٹی سے ہی ممکن ہے۔ ان سب کرداروں کی کامل صورت وہ عورت ہے جسے مسلمان عورت کہا جاتا ہے۔ یہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ ہیں، یہ حضرت عائشہؓ بنت ابوبکرؓ ہیں، یہ حضرت فاطمہؓ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہ رابعہ بصریؒ ہیں، یہ محترمہ زینب الغزالی ہیں، یہ مریم ریڈلی ہیں۔ یہ مریم جمیلہ ہیں۔ یہی ہے عورت کا وہ بہترین کردار جو عالمی معاشرہ بندی کے لیے امید واحد ہے۔ یہی ہے وہ اعلیٰ نمونہ، اعلیٰ انسانی مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔

مگر یہ مغربی تہذیب کے مادی غلبے کا زمانہ ہے اور عورت کا مغربی نمونہ عالمی معاشرت کا شیرازہ بکھیرنے پر کمربستہ ہے۔ مغربی تہذیب کی تشکیل میں عورت کا جو کردار غالب رہا ہے، اس نے اسے بازاری روش پر ’’جنس برائے فروخت‘‘ بنا دیا ہے۔ وہ نہ ماں رہی ہے، نہ بہن، نہ بیٹی اور نہ ہی بیوی۔ مغربی تہذیب کے پروردہ پھر بھی مصر ہیں کہ عورت کے بے کردار نمونے کو ہی فروغ ملے، مگر راہ میں مسلمان عورت کا کردار حائل ہے۔ سو عورت کے مغربی نمونے کو مسلمان عورت، مسلمان خاندان، مسلمان معاشرے اور مسلمان تہذیب پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مسلمان عورت کا نمونہ مکروہ بنایا جا رہا ہے۔ مسلمان خاندان کے تار و پود دبکھیرے اور مسلمان رشتے تباہ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس کی ایک صورت اسلامی پردے پر رکیک حملہ ہے۔ اس کی ایک صورت اقوامِ متحدہ کی سفیر خواتین ہیں۔ یہاں موضوع یہی مغربی اور مغرب زدہ خواتین ہیں، اور ان کے کردار سے عالمی معاشرہ بندی ہے۔ چند سفیر خواتین کا مختصر تعارف اور پھر مشرق وسطی کی مسلمان خواتین اور بچوں پر ان کے ممکنہ مہلک اثرات کا جائزہ مضمون باندھنے میں مددگار ہوگا۔

تقریبا ۰۵۹۱ سے اقوام متحدہ نے فن موسیقی، فلم کھیل اور ادب کی دنیا سے مشہور خواتین کی نام نہاد رضا کارانہ خدمات حاصل کی ہیں۔ یہ اقوام متحدہ کے مختلف پروگراموں کے تحت بطور ’’خیر سگالی سفیر‘‘ مقرر کی جاتی ہیں۔ ان میں چند معروف نام یہ ہیں:

انجلینا جولی، مشہور ہالی وڈ فنکارہ ہے۔ انجلینا جولی کو جون ۵۰۰۲ میں اقوام متحدہ پناہ گزیں ایجنسی کی ’’خیر سگالی سفیر‘‘ مقرر کیا گیا۔ اس موقع پر امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈ ولیزارائس شانہ بہ شانہ تھیں۔اگلے دس سالوں میں انجلینا جولی تیس ملکوں کے دورے پر گئیں، وہاں پناہ گزینوں کے مسائل دیکھے اور دکھ محسوس کیا۔ جب پوچھا گیا کہ یہ سب کر کے وہ کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ تو جواب آیا کہ ‘’ان لوگوں کی حالت زار سے آگاہی پیدا کرنا چاہتی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں ان لوگوں کو بقا کا سامان کرنا چاہیے، اور پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔‘‘ خاتون نے اپنے کارناموں پر ایک کتاب اور ایک ڈراما بھی تیار کیا۔ خاتون جنوبی سوڈان دارفور گئی، شام و عراق کی سرحد پر پہنچی اور امریکی فوجیوں سے ’’پرائیویٹ‘‘ ملاقات کی، افغانستان کی دار الحکومت کابل بھی گئی۔

انجلینا جولی کی فنکارانہ صفات میں خوب صورتی اور عریانیت نمایاں ہیں۔ یہ بات وضاحت کی محتاج نہیں۔ انجلینا جولی ذاتی زندگی میں ایک ایسی عورت کا نمونہ ہے، جو ساتھی ادکار کے ساتھ طویل عرصہ تک رہائش پذیر رہی، یہاں تک کہ تین ’’حیاتیاتی اولادیں‘‘ وجود میں آگئیں۔ یہ عورت ایک رضاکارانہ خاندان کی تشکیل کا سبب بنی ہے، جس کے افراد میں کوئی فطری ہم آہنگی نہیں ہے۔

جنیفر لوپیز مشہورفنکارہ، گلوکارہ اور رقاصہ ہے۔ اسے حال ہی میں اقوامِ متحدہ فاؤنڈیشن کی طرف سے دنیا بھر میں لڑکیوں اور خواتین کی وکیل نامزد کیا گیا ہے۔ جنیفر لوپیز دنیا بھر میں ’’زچہ صحت‘‘ کے پروگراموں اور خواتین کی تعلیم کے منصوبوں میں موثر کردار ادا کرے گی۔ عورتوں پر تشدد کا سد باب کرے گی۔ جنیفر لوپیز کی فنکارانہ صفات میں عریانیت، جنسی کشش اور فحش ناچ گانا شامل ہیں۔ جنیفر لوپیز کی ذاتی زندگی جنسی اسکینڈل سے لت پت ہے۔ جوئے کی عادت پر جنیفر لوپیز طویل عرصہ تک ماں سے جھکڑا کرتی رہی ہے۔ لوپیز کا پہلا شوہر آج تک اسے بلیک میل کرتا ہے۔ غرض خاتون بدکرداری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

شکیرا معروف گلوکارہ اور رقاصہ ہے۔ وہ یونیسیف کی ’’خیر سگالی‘‘ سفیر ہے۔ دنیا بھر کے مظلوم بچوں کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کے دیے گئے مشن پر کام کرتی ہے۔ شکیرا کی وجہِ شہرت فحش گیت اور رقص ہے، اس فن میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

غرض یہ مغربی عورت کے بدترین نمونے ہیں، جن کے ’’فلسفۂ عورت‘‘ تلے کولمبیا سے پاکستان تک ایسے نمونے انسانی معاشروں کو بالعموم اور مسلمان معاشروں کو بالخصوص شیطانی روش پر ڈالنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔

انجلینا جولی جنگ زدہ علاقوں میں قائم مہاجرین کی بستیوں میں ہمدرد کا بہروپ بھر کر معصوم ماؤں کو متاثر کرنے کے مشن پر سرگرم رہی ہے۔ جنیفر لوپیز اردن کی ملکہ رانیہ کے ہمراہ مہاجرین بستیوں کی مسلمان ماؤں پر مگرمچھ کے آنسوؤں کے ساتھ حملہ آور ہونے کی تیاری میں ہے۔ شکیرا نے تو باقاعدہ معصوم شہید ایلان کردی کا نام لے کر مہاجرین کے بچوں پر ’’نظر کرم‘‘ کا ارادہ کرلیا ہے۔

ان خواتین میں سے کسی کو جنگ کے اسباب سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں مہاجرین خاندانوں کی آبادکاری اور بحالی سے کوئی غرض نہیں۔ ان کی نظر میں مہاجرین کی تہذیبی اور خاندانی اقدار کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ سب وہ خوب صورت دھوکے ہیںجو مغرب کی جنگی تباہ کاریوں پر ہمدردی کے پھول چڑھانا چاہتے ہیں۔ ’’جو ہوا سو ہوا، اب سب بھول کر آگے بڑھنا چاہیے۔‘‘ جھانسا دے کر دربدر مسلمان خواتین کو دوزخ کی ڈگر پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ ایک جامع مثال کولمبین رقاصہ اور یونیسیف کی سفیر شکیرا کی حالیہ پریس کانفرنس ہے، جس میں شکیرا نے عیسائی پیشرو پوپ فرانسس سے خصوصی درخواست کی ہے کہ وہ ایلان کردی اور غالب کردی جیسے بچوں کی تعلیم اور خوش حالی کے لیے معاون سرپرست کا کردار ادا کریں۔ شکیرا نے عالمی قوتوں کے رہ نماؤں سے بھی ’’پناہ گزین بحران‘‘ حل کرنے کی بھرپور استدعا کی ہے۔گویا مہاجرین کے قاتلوں اور مشرقی وسطیٰ کے غارت گروں سے ہی امن و امان اور استحکام کی توقع کی جا رہی ہے، بلکہ انہیں نجات دہندہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

ایک ایسی دنیا، جہاں معصوم بچے شکیرا کے حوالے کردے جائیں، جہاں مہاجرین پر انجلینا جولی کی نظر ’’بے رحم‘‘ ہو، جہاں پوپ فرانسس مہاجرین کا روحانی مداوا بن جائے، اور جہاں عالمی قوتوں کے رہنما امن کے پیامبر سمجھے جائیں۔ وہاں صرف طوائف الملوکی اور طاغوت پرستی ہی راج کرسکتی ہے۔ مسلمان معاشرہ تو ایک طرف پورا انسانی معاشرہ اذیت مسلسل میں گرفتار ہوسکتا ہے۔ بلاشبہ مغربی اور مغرب زدہ معاشرہ فرد اور خاندان کی سطح پر انتشار کا شاہکار ہے۔

مسلمان عورت کا واحد نمونہ ہی مغربی اور مغرب زدہ معاشروں کی تشکیل نوکا واحد ضامن ہے۔ انسانی معاشرے کی بقا مسلمان عورت کی بقا میں ہے، مسلمان پردے کے احترام میں ہے، مسلمان ماں کے تقدس میں ہے، مسلمان بیٹی کی عزت افزائی میں ہے۔ اس نمونے کی پذیرائی انسانی دنیا اور وقت کی لازمی ضرورت ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
عمر ابراہیم

Leave a Reply