میں اور میرا اللہ

میں ٹوٹے پھوٹے سجدے کرتا ہوں، مگر وہ محبت کی ایک نظر ڈال کر قبول کرلیتا ہے۔ میں اس کے بندوں سے بداخلاقی سے پیش آتا ہوں، مگر وہ پیار سے نظر انداز کر دیتا ہے۔ میں بیماری سے صحت یاب ہوتا ہوں، تو دوا اور ڈاکٹر کو اس کا کریڈٹ دیتا ہوں، مگر وہ یہ سن کر بھی ناراض نہیں ہوتا۔ میں سڑک پر بائیک اور گاڑی دوڑاتا پھر تا ہوں، برسوں حادثوں سے محفوظ رہتا ہوں ایک بار بھی نہیں سوچتا کہ آخر کون مجھے خطروں سے یوں نکال کر روز گھر پہنچاتا ہے، مگر وہ اس نالائقی کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ میں اپنی تنخواہ پر اپنے باس اور ادارے کا احسان مند ہوتا ہوں اور وہ اپنے احسان میں اس ’’شرک‘‘ پر بھی مجھے کچھ نہیں کہتا۔ غرض میں ہر روز، دن اور رات میں سیکڑوں بار اس کی محبت، شفقت، اس کے پیار، اس کی توجہ، اس کی حفاظت، اس کی خبر گیری، اس کی نعمتوں اور اپنے ساتھ اس کے گہرے، شدید، بھرپور اور خوب صورت تعلق کو انجوائے کرتا ہوں۔ مگر میں ایک بار بھی دل کی گہرائیوں سے پیار اور وفاداری کے احساس میں ڈوب کر پورے خلوص کے ساتھ، ایسے کہ میری آنکھیں بھیک جائیں، ایک بار بھی اس طرح اس کا احسان نہیں مانتا، اس کا شکر ادا نہیں کرتا، ایک بار بھی نہیں۔ ہاں سچ کہتا ہوں ایک بار بھی نہیں۔‘‘

مگر وہ پھر اگلے دن اسی پیار اور توجہ اور محبت سے میری حفاظت میں لگ جاتا ہے۔ اسے پھر میری ضروریات کی فکر ہوتی ہے۔ وہ پھر میری ڈھارس باندھتا ہے۔ میرے دکھ بانٹتا ہے، ارد گرد نظر آنے اور نظر نہ آنے والے محفوظ حصار کھڑے کرتا ہے۔ مجھے روز بہ حفاظت گھر پہنچاتا ہے۔ میری خبر گیری میں اپنے سارے کارندے لگا دیتا ہے۔ آخر وہ ایسا سب کچھ کیوں کرتا ہے؟ میرے ساتھ کوئی یہ سب کچھ کرے (جو میں اس کے ساتھ کرتا ہوں)، تو میں تو کبھی اس کی شکل نہ دیکھوں۔ دنیا بھر میں اسے احسان فراموش کہہ کر بدنام کردوں، اسے نفرت اور انتقام کا نشانہ بنا دوں۔ اسے کبھی معاف نہ کرو۔ پھر آخر وہ ایسا کیوں نہیں کرتا؟ وہ کیوں مجھے سزا نہیں دیتا؟ میرے ساتھ کچھ ایسا ویسا نہیں کر گزرتا؟ بس، صرف اس لیے کہ وہ واقعی مجھ سے محبت کرتا ہے۔ گہری، شدید اور بھرپور محبت رکھتا ہے۔ میری ماں سے زیادہ میرا خیر خواہ ہے۔ جب کہ میں آہ۔۔۔۔ میں بس اس کی محبت کی ایکٹنگ کرتا ہوں، زبردست، بھرپور اور کام یاب ایکٹنگ۔ زبانی کلامی، چھوٹی موٹی، روکھی پھیکی، سوکھی سی محبت، بے روح، خالی خولی اور ڈرامے بازی پر مبنی محبت۔ اگر کبھی ’’الحمد للہ‘‘ اور ’’شکر‘‘ کے لفظ بے دھیانی میں منہ سے نکل جائیں تو میرے نزدیک ان کی کوئی معنویت نہیں ہوتی۔ بس، سیکڑوں، ہزاروں لفظوں کی طرح کے محض چند الفاظ ہی ہوتے ہیں وہ اور کچھ نہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ میں نے آج تک کبھی ان لفظوں کو کہیں دل کے اندر، بہت اندر محسوس نہیں کیا اور پھر مجھے ان لفظوں کے کبھی کوئی معنی بھی نہیں بتائے گئے۔ مفہوم؟ اور پھر انہیں محسوس کرنا؟ یا برتنا؟؟؟ ناں۔۔۔۔ ناں۔۔۔۔ ہر گز نہیں۔ گھر، اسکول، کالج اور یونیورسٹی اور میرے ارد گرد کے ماحول نے کبھی مجھے اس کی محبت سے آشنا ہی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ میری زندگی میں سے خوب صورتی، حسن، مزہ، ذائقہ سب نکل گیا ہے، بس اب یہ بو ر سی ’’نوکری‘‘ باقی رہ گئی ہے۔ سچ ہی کہتے ہیں کہ محبت کی مٹھاس نکل جائے تو پھر زندگی میں باقی بچتا ہی کیا ہے؟ چند رسمی ازدواجی چیزیں یا عارضی تسکین اور خوشی حاصل کرنے کے گھسے پٹے اور ناکام طریقے، جو چند لمحوں کی آسودگی سے زیادہ کچھ بھی نہیں دے پاتے۔

مگر ۔۔۔۔ وہ یہ کچھ دیکھ کر میری ایکٹنگ اور اسے دھوکہ دینے کی کوششوں کو جان اور سمجھ کر بھی میرے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے، جیسے ماں کے اپنے ننھے شرارتی بچے کی کسی نٹ کھٹ سی شرارت پر مصنوعی طور پر روٹھتی ہے اور پھر منتظر رہتی ہے کہ کب وہ آکر مجھ سے لپٹ جائے، چمٹ جائے، اپنا سر میری گود میں رکھ دے اور کہے کہ ’’مما! آئی ایم سوری‘‘ اور بس یہ الفاظ سارے کھوٹ اور مصنوعیت کو بہا کر لے جائیں اور پھر ماں اسے چمٹا کر اس کا منہ چومنے لگے، اسے سینے سے لگالے اور سب کچھ پہلے جیسا ہوجائے۔ نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ خوب صورت اور ترو تازہ، ری فریش، پیار کی کچھ مزید کلیاں دونوں جانب پھوٹ پڑیں۔ کچھ نئے شگوفے اُگ جائیں اور یہ غلطی اور پلٹ آنے کا احساس محبت کے جذبے کو مزید بڑھا دے، تعلق کو مزید گہرا شدید اور بھرپور کردے، اسے رسمی رکھ رکھاؤاور کارروائیوں سے نکال کر پاکیزہ اور شفاف اور شیریں بنا دے۔

میرا محبت کرنے والا اللہ، میرا منتظر ہے۔ صبح اور شام میری راہ تکتا ہے۔ مجھے اگر کوئی خوف ہے، تو اس کی محبت چھن جانے کا خوف ہے۔ میں جلد از جلد اس کی طرف پلٹ جانا چاہتا ہوں۔ ایک محبت سے بھرپور دل کے ساتھ، اس کی احسان مندی کے ساتھ اس کی کمال نعمتوں کے اعتراف کے ساتھ۔ میں بھی بس، اس کے عظیم الشان عرش کے گہرے ٹھنڈے اور پرسکون سائے میں عافیت تلاش کر لینا چاہتا ہوں۔ کسی بھی قیمت پر بس اس کی توجہ چاہتا ہوں۔ اس کی نظر عنایت کا پیاسا ہوں۔ کسی بھی قیمت پر اسے کھونانہیںچاہتا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس کی محبت بھری توجہ لمحہ بھر کے لیے بھی مجھ پر سے ہٹے۔ میں خود کو اس کے پیار کے سامنے بے بس ہی رکھنا چاہتا ہوں۔ میں اسی کا بندہ ہوں۔ اسی کے ایک غلام اور ایک کنیز کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی اس کے ہاتھ میں، جس سے پکڑ کر وہ میری سمت درست رکھتا ہے۔ میرے معاملے میں اس کے سارے کے سارے فیصلے عدل، احسان اور انصاف کا شاہ کار ہیں۔میرے وجود، سوچوں اور جذبوں سب پر صرف اسی کا حکم چلتا ہے۔ میں اسے اس کے تمام ناموں کا واسطہ دے کر، اس سے اس کی محبت کا طلب گار ہوں میں چاہتا ہوں کہ میں بھی اس طرح اسے چاہنے لگوں، جیسے وہ مجھے چاہتا ہے۔ چلو، ویسے نہیں اس سے کچھ کم سہی۔ میں بس اس کی نرم آغوش کا طلب گار ہوں۔ میرے پاس اس طلب کے سوا کوئی اثاثہ نہیں۔ پیش کرنے کو کچھ بھی نہیں، کوئی معاوضہ اور قیمت نہیں۔

میرے رب! میرے ان شکستہ لفظوں کو، میری درخواست اور میری التجا سمجھ کر قبول کرلے۔ مجھے تیری محبت اور توجہ کی طلب کا سلیقہ نہیں آتا، مجھے وہ خود ہی سکھا دے۔ میری درخواست قبول کرلے، میں نے تیرے محبوب ہی سے سنا ہے کہ میرا سیاہ دل تیرے ہی دو انگلیوں کے درمیان ہے۔ تو اسے اپنی محبت کی طرف پھیر دے، اس سے لبریز کردے، اسے اپنی چاہت سے بھر دے۔ میرے اللہ! تو ایسا نہیں کرے گا، تو میں اور کس در پر جاؤں گا؟ میرا کوئی نہیں ہے۔ تیرے سوا۔ اے اللہ مجھے اپنا دوست بنا لے، گہری شدید محبت کرنے والا دوست۔ میرے سارے غم دور ہوجائیں گے، میرے سارے مسئلے حل ہوجائیں گے، میرا دل بدل دے۔ اے مولا! میرا دل بدل دے، اے مولا!!lll

شیئر کیجیے
Default image
زبیر منصوری

Leave a Reply