لمحے کی پھسلن

بوڑھا سیموئل لنک روڈ کے پاس آٹو رکشا سے لاٹھی ٹیکتا ہوا اتر اور بہت دیر تک حیرت و بے بسی سے چاروں جانب دیکھتا رہا۔ پھر سڑک کی دائیں طرف جاکر ایک بڑی چٹان پر بیٹھ گیا۔

آج وہ بھولی بسری یادیں تازہ کرنے کے لیے اس طرف نکل آیا تھا۔ اس کے چہرے کی بے شمار شکنیں بے کسی اور اندرونی انتشار کا اشتہار بنی ہوئی تھیں۔ وہ اپنی زندگی میں پیدا ہوئے خلا کا علاج نہیں ڈھونڈ پا رہا تھا۔ کہاں تو وہ اس بات پر یقین کرتا تھا کہ جب دودھ باہر مل جاتا ہے تو گھر میں کھونٹے سے گائے باندھنے کی ضرورت کیا ہے اور کہاں اب یہ حال تھا کہ اس کی تنہائی اسے ہر لمحے ڈس رہی تھی۔ نہ آگے کوئی تھانہ پیچھے۔ جوانی میں یار دوستوں کا مجمع رہتا لیکن اب وہ سامنے بھی نہ پھٹکتے تھے۔ سب اپنی اپنی گرہستی کا بہانہ بنا کر عدیم الفرصتی کا رونا روتے۔ اب صرف سیموئل تھا اور اس کی چار دیواری جس میں وہ اپنی سانسیں گن رہا تھا۔

سیموئل ممبئی جیسے بڑے شہر سے نامراد لوٹ آیا تھا۔ اسے وہ شہر راس نہیں آیا۔ جہاں دیکھو وہاں اجنبی لوگ، مکھوٹے لگائے چہرے اور ناپائیدار رشتے۔ ہر قدم پر جونکیں، ہر قسم پر دھوکا، بھیڑ اتنی کہ شانے سے شانہ چھلتا ہے، لوکل میں کھڑے رہو تو ایک دوسرے کی سانس اندر لینی پڑتی ہیں۔ لوگ آپس میں خوشیاں نہیں، جراثیم بانٹتے ہیں۔ سانسوں کے ذریعے۔ سڑک پر پاؤ بھاجی کے ساتھ یا پھر منشیات کی سوئیوں میں بھر کر۔ اس نے کئی بار یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ اس شہر میں ایسا کیا تھا جو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وہاں پہنچ گیا مگر ہر بار ناکام رہا۔

خیر اب وہ لوٹ آیا تھا۔ زندگی کے باقی ماندہ دن گزارنے کے لیے۔ اس نے اپنی ذہن کی سلیٹ بالکل صاف کر رکھی تھی۔ زندگی بھر جو کچھ اس نے سلیٹ پر لکھا تھا گزشتہ ایک سال میں وہ سب مٹ گیا۔ جوانی میں جو کچھ کمایا تھا وہ سب اڑ گیا۔ اس شہر میں ایک چھوٹا سا گھر نما کمرہ بچا تھا سو وہ بھی حال ہی میں بک گیا۔

چٹان پر بیٹھ کر وہ جس خطہ زمین کو گھور رہا تھا اس پر کسی زمانے میں لیونارڈ پٹرول اسٹیشن ہوا کرتا تھا، جہاں وہ جوانی کے ابتدائی دنوں میں آتی جاتی گاڑیوں میں پٹرول بھرا کرتا۔ چند برس بعد حکومت نے شہر میں ٹریفک کم کرنے کی غرض سے اس پٹرول اسٹیشن کو ہٹا دیا تھا۔ اسٹیشن کے احاطے کے اوپر سے ایک لنک روڈ نکالی گئی جو پانچ کلو میٹر آگے جاکر دوبارہ شاہراہ سے مل رہی تھی۔ عجیب اتفاق ہے کہ جن دو پٹرول ڈسپنسر پمپوں کے سامنے گاڑیاں کھڑی ہوجاتی تھیں وہ انہدام کی زد میں نہیں آئے۔ دونوں متروک فیوئل ڈسپنسر، دھول اور مٹی میں اٹے ہوئے، اب بھی خاموش اداسی کے ساتھ اپنے اندر تباہی کی داستان سمیٹے وقت کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کر رہے ہیں حالاں کہ ان کا استعمال کب کا بند ہوچکا تھا۔ آج سیموئل چٹان پر بیٹھا ان پمپوں کو بار بار دیکھ کر اپنی گزری ہوئی زندگی کو کریدنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کتنی مماثلت تھی ان پمپوں اور اس کی اپنی زندگی میں! وہ سوچتا رہا اور اس کے چہرے پر خفیف سی مسکراہٹ پھیلتی رہی۔ اب نہ وہ پٹرول پمپ تھا اور نہ ہی وہ زندگی۔ سب کچھ بدل چکا تھا۔

اس کی آنکھوں کے سامنے وہی پرانے پٹرول اسٹیشن کا نظارہ گھومنے لگا۔ ایک کے بعد ایک گاڑیاں چلی آتیں، پٹرول ڈسپنسر کے سامنے رک جاتیں اور وہ لپک کر ٹنکی کا ڈھکن کھول دیتا۔ ڈسپنسر پمپ میں لٹکا ہوا فیوئل نوزل نکال کر اس میں ڈال دیتا اور ٹنکی بھر جانے تک انتظار کرلیتا۔ قیمت ادا ہونے کے بعد گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی۔ ان دنوں یہ نظارہ اس کے لیے معمول بن چکا تھا۔ موٹر، جیپ، سکوٹر، موٹر سائیکل، لاری، ٹرک…! طرح طرح کی گاڑیاں اور طرح طرح کے میک۔ کسی کو پٹرول اور کسی کو ڈیزل کی ضرورت ہوتی۔ سب کی نظریں ڈسپنسر پمپ کے میٹر پر لگی رہتیں۔ سیموئل کے خوب صورت چہرے یا کسرتی بدن کی طرف کوئی بھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا۔ کبھی کبھار شاہراہ بند ہوجانے کی وجہ سے ٹریفک کی آمد و رفت بند ہوجاتی اور اس کو گھنٹوں گاڑیوں کا انتظار کرنا پڑتا۔ اس وقت سیموئل کو سوچنے کا موقع مل جاتا۔ اس کو اپنا وجود بے معنی سا لگتا۔ رفتہ رفتہ ہونے اور نہ ہونے کا احساس بھی ختم ہوگیا اور اس کو خود سے گھن آنے لگی۔

اسے یاد آیا کہ کیسے چھوٹی عمر ہی میں اس کو پٹرول اسٹیشن پر نوکری مل گئی تھی حالاں کہ اس کے پاس تعلیمی سند تھی نہ تکنیکی مہارت۔ کام زیادہ پیچیدہ بھی نہیں تھا۔ یہ سچ ہے کہ ابتدا میں تھوڑی بہت مشکل پیش آئی لیکن آہستہ آہستہ اس نے سارا کام سیکھ لیا۔ اس کے لیے خوش قسمتی کی بات یہ تھی کہ نزدیکی گرجا گھر کا پادری اس کے گٹار بجانے سے بہت متاثر تھا اور کبھی کبھی کمیونٹی پروگراموں کے لیے اس کو بلا لیتا۔ راہب کو سیموئل کی یتیمی پر ترس آگیا تھا۔ اس لیے اپنے اثر و رسوخ سے پٹرول اسٹیشن کے کرسچن مالک کے پاس اس کی سفارش کی تھی۔ سیموئل نے جب یہ خبر سنی تو خوشی سے پھولا نہ سمایا اور جھومتا ہوا واپس گھر چلا گیا۔ گھر کیا تھا، گندی بستی میں ایک بڑا سا کمرہ، جو اس کی ماں، جس نے یتیم خانہ سے اس کو گود لیا تھا، اس کے لیے چھوڑ کر خدا کے پاس چلی گئی تھی۔ سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا سب اسی کمرے میںہوتا تھا۔ البتہ حاجات ضروریہ کے لیے بستی کے مشترک بیت الخلاء اور غسل خانے میں جانا پڑتا تھا۔

سیموئل کو ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کی زندگی رائیگاں ہو رہی ہے۔ وہ اس زندگی سے فرار چاہتا تھا۔ گو اس کے پاس کوئی خاص تعلیم و تربیت کی سند نہ تھی پھر بھی اس کو اپنے کسرتی بدن اور خوب صورت چہرے پر ناز تھا، جس کے سامنے بڑے بڑے ماڈل شرما جاتے۔ سو اس نے ہمت کر کے ممبئی جانے کی نیت باندھی اور دوسرے ہی روز بوریا سنبھال کر گاڑی میں سوار ہوگیا۔ لیکن وہاں اس کے انتظار میں کوئی رشتے دار تو بیٹھا تھا نہیں جو اس کو ماڈل بنا دیتا۔ جوتا گھستے کئی مہینے گزر گئے مگر ہاتھ کچھ نہ آیا۔ پیٹ نے بہت ستایا حالاں کہ اس کا کرسچن تعلق اور گٹار یہاں بھی تھوڑا بہت کام کر گیا پھر بھی ممبئی جیسے شہر میں پیٹ پالنے کے لیے اتنا ہی کافی نہیں ہوتا۔

ایک روز گلوب ایڈورٹائزرس کے آفس سے نکل کر سیموئل فکر و تردد کے اتھاہ سمندر میں ڈوبا ہوا میرین ڈرائیو پر بے سمت چلا جا رہا تھا۔ شفق کی سرخی سمند رکے پانیوں میں حلول ہوکر جوش مستی میں سرشار کسی دوشیزہ کا چہرہ معلوم ہو رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے میرین ڈرائیو کے گلو بند پر جڑے قمقمے جگمگا اٹھے تھے۔ ہر شام کی طرح آج بھی فضا رومانی لگ رہی تھی۔ بہت دور چل کر سیموئل کو کچھ تھکن سی محسوس ہوئی او روہ ایک کھمبے کے سہارے کھڑا ہوکر سگریٹ پینے لگا۔ سامنے سے فراٹے بھرتی ہوئی ایک مرسڈیز اس کے ٹھیک سامنے کھڑی ہوگئی۔ اسے زور کا جھٹکا لگا اور وہ دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ نہ پٹرول پمپ، نہ فیوئل نوزل اور نہ ہی منیجر صاحب کا کیبن۔ پھر یہ کار اس کے سامنے کیوں رک گئی؟ وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کار کا دروازہ کھل گیا۔ کوئی حسینہ کار ڈرائیو کر رہی تھی، اس کو کار کے اندر آنے کا اشارہ کر رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس کو بلا رہی ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا شاید کسی اور کو اشارہ کر رہی ہو مگر وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ پھر ہمت کر کے اس نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے بلا رہی ہیں؟ حسینہ نے سر ہلا کر ہامی بھرلی اور اس کو کار میں آنے کی دوبارہ دعوت دی۔وہ تھوڑی دیر رکا رہا۔ پھر ہمت بٹور کر کار کے اندر جا بیٹھا۔

شیریں نے اپنی ساڑی سمیٹ لی اور مسکرا کر کہنے لگی۔ ’’ہیلو، کیسے ہوَ‘‘

وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ ایک اجنبی عورت کا یوں بلانا، پھر کار میں بٹھانا اور پوچھے بغیر کار چلانا، یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ لمبی سی سانس کھینچ کر اس نے جواب دیا۔ ’’بس ٹھیک ہوں۔‘‘

شیریں یہی کوئی تیس پینتیس سال کی عورت تھی۔ تھل تھل کرتا ہوا گورا بدن، سڈول بازو، شانوں تک ترشے ہوئے بال، ہلکی لال رنگ کی لپ اسٹک لگے مخروطی ہونٹ، کانوں میں لمبے ہیرے جڑے آیوزے، ارغوانی نیل پالش سے رنگے لمبے لمبے ناخن، پیازی ساڑی اور ملتا جلتا لوکٹ سلیولیس بلاؤز سیموئل کی نظریں لمحہ بھر کے لیے ان پرجا پڑیں مگر جلدی ہی جھک گئیں۔ شیریں، جوکن انکھیوں سے اس کو دیکھ رہی تھی، کے ہونٹوںپر مسکراہٹ نمودار ہوئی مگر کچھ نہ بولی۔ سفر خاموشی کے ساتھ کٹ گیا اور آخر کار شیریں نے اپنی کار ایک عالی شان بنگلے کے اندر پورچ میں روک لی۔ پھر سیموئل سے مخاطب ہوئی۔

’’آؤ اندر چلیں، یہ میرا گھر ہے۔‘‘

سیموئل نے اپنی چاروں جانب نظریں گھمائیں۔ اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ اتنے بڑے عالیشان بنگلے میں داخل ہو رہا ہے۔ ہچکچاتے ہوئے اس نے قدم آگے بڑھائے اور شیریں کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ شیریں اس کو سیدھے اپنے بیڈ روم میں لے گئی اور صوفے پر بٹھا دیا۔ پھر وائن کیبنٹ کھول کر وہسکی سے دو جام بھر لیے اور ان میں سے ایک سیموئل کو پیش کیا۔ کاجو، اخروٹ اور بادام بھی سامنے رکھ دیے۔ دریں اثنا شریں نے وارڈ روب سے اپنا شب خوابی کا لباس نکالا اور ملحق باتھ روم سے کپڑے بدل کر آگئی۔

صبح سیموئل شکن آلود بستر سے بہت دیر سے جاگ کر اٹھا مگر شیریں اپنے دفتر جاچکی تھی۔ نوکرانی نے آکر اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھما دیا اور ناشتہ کرنے کے لیے ڈائننگ روم میں بلایا۔ لفافے میں سے ایک خط برآمد ہوا جس میں لکھا تھا: ’’میں نے تم کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا کیوں کہ تم رات کے تھکے ہوئے تھے۔ میں دفتر جا رہی ہوں۔ تمہارے لیے سرہانے کے نیچے دس ہزار روپے رکھے ہیں۔ ناشتہ کر کے چلے جانا۔ آنے والی سنیچر کو پھر ملیں گے۔‘‘

سیموئل کو تعجب ہوا۔ اس نے دس ہزار کی گڈی جیب میں ٹھونس لی، منہ ہاتھ دھولیا اور پھر ناشتہ کر کے چلا گیا۔ جاتے جاتے وہ سوچنے لگا کہ اچھا دھندہ ہے۔ شب گزاری کے دس ہزار!

اس کے بعد کئی شب یوں ہی گزر گئیں۔ اس کو احساس ہوا کہ یہ سب کرشمہ اس کے کسرتی بدن کا ہے۔ سیموئل نے اپنے پنکھ مزید پھیلا دیے کیوں کہ شیریں کے ساتھ اس کی ملاقات صرف سنیچر کو ہوتی تھی اور وقت کے ساتھ اس کی ضرورتیں بڑھنے لگی تھیں۔ شیریں بھی سیر ہوکر اس سے دھیرے دھیرے کترانے لگی تھی۔ ادھر سیموئل ماڈلنگ میں کوئی خاص ترقی نہیں کر پایا۔ بس یہی کسی پان بیڑی کے اشتہار کے واسطے لوگ اس کو بلاتے تھے۔ بہرحال زندگی جیسے تیسے گزر رہی تھی۔

ہر روز نئی خوشبو اور نیا تجربہ، اور زندگی میں چاہیے بھی کیا؟ حال سے آدمی مطمئن ہو تو وہ مستقبل کی فکر کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ سیموئل اپنی دھن میں مست چلا جا رہا تھا۔ البتہ اتوار کو گرجا گھر جانا کبھی نہ بھولتا۔ وہاں شکریہ کے دو بول پڑھ کر واپس چلا آتا۔

پھر ایک روز اس کی زندگی میں طوفان آگیا۔ وہ کئی روز بخار سے تپتا رہا اس لیے کرسچن چیرٹی ہسپتال پہنچ گیا۔ وہاں ڈاکٹر نے کئی ٹیسٹ کروائے اور آخرمیں یہ منحوس خبر سنائی کہ وہ ایچ آئی وی پوزیٹو ہے۔ اس کو ایسا لگا جیسے ہسپتال کی چھت اس کے اوپر گرنے والی ہے۔ کئی روز اس کا علان ہوتا رہا، بخار جب پوری طرح اتر گیا تو ڈاکٹر نے چند دوائیاں لکھ کر دیں اور ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا۔

سیموئل کی آنکھوں میں دنیا تاریک نظر آنے لگی۔ اس نے پہلی فرصت میں اپنے شہر کی گاڑی پکڑ لی۔ آہستہ آہستہ وہاں بھی لوگوں کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ وہ ایچ آئی وی پوزیٹو ہے، اس لیے سبھی نے اس سے ملنا جلنا ترک کر دیا جیسے کسی متعدی بیماری میں مبتلا ہو۔بیوی بچے تو تھے ہی نہیں کیوں کہ ان کی ضرورت کبھی محسوس نہ ہوئی۔ یار دوست جو آگے پیچھے گھوما کرتے تھے کنی کاٹنے لگے۔ اس چھوٹے سے شہر میں وہ کچھ ہی روز اپنی جائیگاہ پر رہ پایا اور آخر کار اسے بیچ کر ایڈس شیلٹر میں پناہ لینے کے لیے مجبور ہوا۔

تب سے سیموئل اسی شیلٹر میں زندگی کے معینہ دن کاٹ رہا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ وہ زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکے گا، کیوں کہ اس مہلک بیماری سے آج تک کوئی نہیں بچ پایا۔ البتہ گرجا گھر کے پادری نے کچھ روز پہلے یہ کہہ کر اس کی ڈھارس بندھائی کہ یسوع ہم جیسے گناہ گاروں کو بچانے کے لیے ہی صلیب پر چڑھ گیا تھا۔ سیموئل اب زندگی کا نہیں بلکہ موت کا طلب گار ہے۔ وہ صبح شام انجیل مقدس یہ سوچ کر پڑھتا ہے کہ شاید یسوع کی قربانی اس کی موت کو آسان کرسکے اور وہ نارِ دوزخ کی تپش سے بچ جائے۔

وہ بہت کم سو پاتا ہے۔ دن رات صرف سوچتا رہتا ہے۔ ماضی کے ہر لمحے کو یاد کرتا ہے، یادوں کے اسی سلسلے میں آج اس کو اپنی شروعاتی ملازمت کا خیال آیا۔ سیموئل کو اس پٹرول پمپ کی یاد آئی جہاں وہ عنفوان شباب میں کام کرتا تھا۔ اس سے رہا نہ گیا۔ ہاتھ میں چھڑی اٹھائی، صدر گیٹ کے باہر نکلا اور آٹو رکشا لے کر سیدھا لنک روڈ پہنچ گیا۔

وقت کا چرخہ پوری گردش کر کے پھر وہیں پہنچ گیا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
دیپک بدکی

Leave a Reply