سن ہجری کی اہمیت اور مختصر تاریخ

اسلام سے پہلے صرف عیسوی سال او رمہینوں میں تاریخ لکھی جاتی تھی اور مسلمانوں میں تاریخ لکھنے کا دستور نہیں تھا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے حضرت عمرؓ کو ایک خط لکھا کہ آپ کی طرف سے مملکت اسلامیہ کے مختلف علاقوں میں جو خطوط اور احکامات جاری ہوتے ہیں، ان پر تاریخ درج نہیں ہوتی، اور تاریخ لکھنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے کہ کس دن آپ کی طرف سے حکم جاری ہوا، کب پہنچا اور کب اس پر عمل ہوا، ان سب باتوں کو سمجھنے کا مدار تاریخ لکھنے پر ہے۔ تو حضرت عمرؓ نے اس مشورے کو نہایت معقول اور اہم سمجھا اور فوری طور پر اکابر صحابہؓ کرام کی ایک شوریٰ بلائی اور ان سے مشورہ کیا۔ اس اجلاس میں اکابر صحابہؓ کی چار تجاویز سامنے آئیں۔

(۱) ایک جماعت کی رائے یہ تھی کہ آپؐ کی ولادت کے سال سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے۔

(۲) دوسری جماعت کی رائے یہ تھی کہ نبوت کے سال سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے۔

(۳) تیسری جماعت کی رائے یہ تھی کہ ہجرت سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے۔

(۴) چوتھی جماعت نے مشورہ دیا کہ آپ کی رحلت سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے۔

ان چار تجاویز کے سامنے آنے کے بعد ان پر باضابطہ بحث ہوئی اور پھر حضرت عمرؓ نے فیصلہ سنایا کہ ولادت یا نبوت سے اسلامی سال کی ابتدا کرنے میں اختلاف سامنے آسکتا ہے، اس لیے آپؐ کی ولادت کا دن اور اسی طرح آپؐ کی بعثت کا دن قطعی طور پر اس وقت متعین نہیں ہے بلکہ اس میں اختلاف ہے اور رحلت سے شروع کرنا اس لیے مناسب نہیں ہے کہ رحلت کا سال اسلام اور مسلمانوں کے لیے غم اور صدمے کا سال ہے، اس لیے مناسب ہوگا کہ ہجرت سے اسلامی سال کی ابتداء کی جائے اس میں چار خوبیاں ہیں۔

پہلی یہ کہ ہجرت نے حق و باطل کے درمیان واضح امتیاز پیدا کردیا۔ یہی وہ سال ہے جس میں اسلام کو عزت اور قوت ملی۔ یہی وہ سال ہے جس میں نبی اور مسلمان امن و سکون کے ساتھ بے خوف و خطر اللہ کی عبادت کرنے لگے اور اسی سال مسجد نبویؐ کی بنیاد رکھی گئی۔

ان تمام خوبیوں کی بنیاد پر تمام صحابہ کرام کا اتفاق اور اجماع ہوا اور ہجرت کے سال ہی سے اسلامی سال کی ابتدا ہوئی۔ (بخاری) پھر اسی مجلس میں دوسرا مسئلہ اٹھا کہ سال میں بارہ مہینے ہیں ان میں چار حرمت والے ہیں، ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہے۔ (بخاری)

سال کے مہینے کی ابتدا کے بارے میں بھی اکابر صحابہؓ کی مختلف آرا سامنے آئیں۔

ایک جماعت نے مشورہ دیا کہ رجب کے مہینے سے سال کی ابتدا کی جائے اس لیے کہ رجب سے ذی الحجہ تک چھ مہینے ہوتے ہیں پھر محرم سے رجب کی ابتدا تک بھی چھ مہینے ہوتے ہیں۔

دوسری جماعت نے مشورہ دیا کہ رمضان کے مہینے سے سال کے مہینے کی ابتدا کی جائے اس لیے کہ رمضان سب سے افضل ترین مہینہ ہے، جس میں پورا قرآن مجید نازل ہوا۔

تیسری جماعت نے کہا کہ محرم کے مہینے سے سال کے مہینے کی ابتدا کی جائے اس لیے کہ محرم الحرام میں حجاج کرام حج کر کے واپس آتے ہیں، چوتھی جماعت نے مشورہ دیا کہ ربیع الاول سے سال کے مہینے کی ابتدا کی جائے۔

حضرت عمرؓ نے سب کی راے نہایت اہتمام کے ساتھ سنی پھر آخر میں یہ فیصلہ دیا کہ محرم الحرام کے مہینے سے سال کے مہینے کی ابتدا ہونی چاہیے اس کی دو خوبیاں سامنے ہیں۔

حضرات انصارؓ نے بیعت عقبہ کے موقع پر حضور اکرمؐ کو مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لانے کی دعوت پیش فرمائی تھی اور آپؐ نے انصار کی دعوت قبول فرمائی اور یہ ذی الحجہ کے مہینے میں حج کے بعد پیش آیا تھا اور حضور اکرمؐ نے محرم کے شروع سے صحابہ کرامؓ کو ہجرت کے لیے روانہ کرنا شروع فرمایا تھا۔ لہٰذا ہجرت کی ابتدا محرم کے مہینے سے ہوئی اور اس کی تکمیل ربیع الاول میں آپؐ کی ہجرت سے ہوئی۔ حج اسلام کی ایک تاریخی عبادت ہے جو سال میں صرف ایک مرتبہ ہوتی ہے اور حج سے فراغت کے بعد محرم کے مہینے میں حاجی لوگ گھرں کو واپس آتے ہیں، ان خوبیوں کی بنا پر سال کی ابتدا محرم کے مہینے سے مناسب ہے۔ اس پر تمام صحابہ کرام کا اتفاق اور اجماع ہوا کہ سال کے مہینے کی ابتدا محرم سے ہو، لہٰذا اسلامی سال کی ابتدا ہجرت سے اور اسلامی مہینے کی ابتدا محرم الحرام سے تسلیم کرلی گئی اور اس دن سے آج تک اسی پر امت محمدیؐ کا عمل جاری ہے۔

سن ہجری کی ابتدا کے متعلق قاضی سلیمان منصور پوری فرماتے ہیں کہ سن ہجری کا استعمال حضرت عمرؓ کے دور میں جاری ہوا۔ جمعرات تیس جمادی الثانی سترہ ہجری حضرت علیؓ کے مشورے سے سن ہجری کا شمار واقعہ ہجرت سے کیا گیا اور حضرت عثمانؓ کے مشورے سے محرم کو حسب دستور پہلا مہینہ قرار دیا گیا۔

ہمارے معاشرے میں لوگ ہر قسم کی تقاریب اور تمام معاملات طے کرنے کے لیے عیسویں تاریخ کو اہمیت دیتے ہیں جب کہ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اپنے تمام معاملات اسلامی تاریخوں کے مطابق طے کرنے چاہیں اور اپنے بچوں کو بھی اسلامی مہینوں کے نام سکھانے کے ساتھ ان کی اہمیت کے بارے میں بھی بتانا چاہیے۔ ہمیں اپنی زندگی کے تمام امور و معاملات مین اسلامی تاریخوں کو اہمیت دینی چاہیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عینی سحر

Leave a Reply