رشتے نبھانے کے لیے ضروری باتیں

دنیا میں کوئی بھی دو انسان یکساں فطرت نہیں رکھتے بعض اوقات یہ فرق نمایاں نہیں ہوتا اور کبھی کبھی یہ فطری ہم آہنگی اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ ایک مدت تک ساتھ زندگی بسر کرنے کے بعد ہی مزاج کے فرق کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

شوہر گھر کا ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو مسلسل امتحان میں رہتا ہے، بطور شوہر، باپ، بیٹا اور بھائی اس پر ایک ہی وقت میں اتنی ساری ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ خود کو بھی بھول جاتا ہے۔ ان ذمہ داریوں کو نبھاتے نبھاتے وہ تھک جاتا ہے۔ یہ بات اٹل ہے کہ مختلف قسم کے رشتوںپر مشتمل ایک گھرانے کو چلانا نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے۔ اس لیے اگر گھر کا سربراہ حکمت و تدبیر سے کام لے کر گھرانے کی گاڑی چلائے تو بہت راحت کے ساتھ وہ گاڑی چل سکتی ہے، تاہم اگر صبر، ضبط اور حوصلے کا دامن چھوڑ دے گا تو پھر ناختم ہونے والی پریشانیاں اس کا دامن تھام لیں گی۔

گھر میں جھگڑے اور ناچاقی کا ایک بڑا سببب ہوتا ہے گھر کے سربراہ کی اصول و ضابطے کی بجائے رشتوں کو ان کی نزاکتوں کے اعتبار سے نہ پرکھنا اور ان رشتوں کے بارے میں جذباتی ہو کر فیصلے کرنا، ایک مشترکہ گھر کسی ایک فرد کے نہیں، بلکہ مختلف رشتے داروں سے مل کر بنتا ہے۔ اس میں ماں بھی ہے باپ بھی، بہن، بھائی بھی ہیں، بیٹا، بیٹی، داد دادی بھی اور بعض اووقات نانا، نانی بھی شامل ہوتے ہیں۔اب ذرا سا غور کیجئے ان میں سے کوئی بھی ایسا رشتہ نہیں جو غیر اہم ہو۔ ہر ایک کا تعلق اور حق اپنی اپنی جگہ اہم ہے۔ ان تمام رشتوں میں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کو اپنی رشتہ کے حقوق کی تسکین میں کمی محسوس ہو رہی ہو تو ایسے میں پیدا ہونے والے شکوے اور شکایات کا مرکز صرف ایک وہی گھر کا سربراہ ہوتا ہے جو اکثر اوقات بیٹا یعنی شوہر ہوتا ہے۔

ماں باپ اپنے دکھ بیٹے کو سنائیں گے، جب کہ بیوی شوہر کو بیٹا بیٹی باپ کو اور بہن اپنے بھائی کے سامنے سب دل کا حال کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ اس تمام صورت حال کے دوران پیدا ہونے والے منظر نامہ پر اگر غور کیا جائے تو وہ گھر کا سربراہ اس نازک ذمہ داری پر فائز ہوسکتا ہے، اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ایسے میں ذمہ داریوں کو سہولت اور خوش اسلوبی سے نبھانا کسی جہاد سے کم نہیں ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر ماں بہو کی شکایت کرے تو وہ پہلے تحقیق کرے۔ اگر بیوی ساس کی شکایت کرے تو اسے بھی مکمل معلومات کرنی چاہیے۔ تحقیق کے بعد جس کی بھی غلطی سامنے آئے اس کو بغیر جذبوں کی کشش میں آئے اپنے رویے کو صحیح کرنے کی تلقین خوش اسلوبی سے کی جائے۔ گھر کا سربراہ کوئی جج نہیں ہوتا کہ وہ سزا قائم کرے، بلکہ کمال حکمت عملی سے تمام معاملات کو سلجھائے۔ اس حکمت عملی کا سب سے اہم راستہ یہ ہے کہ وہ جذباتیت سے کام نہ لے بلکہ مکمل تحقیق کے بعد اپنے رد عمل کا اظہار کرے۔ رشتوں کی کسوٹی پر لگ کر کوئی فیصلہ نہ سنائے۔ مثلاً اگر ماں کہے کہ تمہاری بیوی کا رویہ ان کے ساتھ درست نہیں ہے تو ایسے میں وہ صرف ماں ہونے کے ناطے یہ سمجھ لے کہ ماں ضرور سچ کہہ رہی ہے اور پھر بیوی کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے ایک ہی رشتے کو خوامخواہ سر پر سوار نہ کرے کہ ماں کی بات سن کر بیوی کو کہا جائے گا تم ہی غلط ہو ، یا بیوی کی محبت میں ماں اور بہن بھائیوں کے خلاف ذہن بنالے۔ اگر بغیر کسی تحقیق کے ماں کی بات کو ترجیح دے کر بیوی کو زیر عتاب لایا جائے یا پھر بیوی کی بات کو سنتے ہی بہن بھائیوں پر طیش میں آجائے تو ایسے میں وہ سربراہ اپنی ذمہ داری کا صحیح حق نہیں ادا کر رہا ہوگا۔ ایسے شخص کو کوئی بھی سمجھ دار اور عقل مند نہیں کہے گا اور نہ ہی ایسی صورت میں کوئی گھر کو صحیح معنوں میں چلا سکتا ہے، اسے چاہیے کہ تحقیق کا دامن ہاتھوں سے نہ چھوڑے، غور و فکر اور پھر اس کے بعد ردعمل کا اظہا رکرے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
روبی ساجد ملک

Leave a Reply