ہم کہیں ایک ہجوم نہ ہوں…

… ایک دفعہ ایک بادشاہ نے دیکھا کہ ایک دریا پر پل بنانے کی ضرورت ہے۔ وہ روز یہ دیکھتا تھا کہ لوگ دریا میں سے گزرتے ہوئے بھیگ کر جاتے ہیں۔ اس نے اپنے مشیروں کو بلایا اور کہا ’’میں یہ چاہتا ہوں کہ اس دریا پر پل بنایا جائے۔‘‘ مشیروں نے عرض کی ’’جناب پل بنانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘ بادشاہ نے کہا: ’’ایسا کرو قرض لے کر یا ادھار کر کے پل بنا لیتے ہیں، جب پل بن جائے تو اس پر ایک روپیہ ٹیکس لگا دیں گے۔ جو بھی اس پل سے گزرے گا ایک روپیہ دیتا جائے اور اس طرح کچھ عرصے میں ہماری رقم پوری ہوجائے گی۔‘‘ بادشاہ کا حکم مان لیا گیا اور پل کی تعمیر شروع کر دی گئی۔ جب پل مکمل ہوگیا اور لوگوں کی آمد و رفت شروع ہوئی تو ہر شخص سے ایک روپیہ کا مطالبہ کیا جاتا اور وہ ایک روپیہ دیتے ہوئے گزر جاتا۔ کچھ عرصے بعد مشیر بادشاہ کے پاس بات چیت کے لیے آئے:

بادشاہ: ہاں بھئی! سناؤ پل پر لوگ ایک روپیہ دیتے ہیں۔‘‘

مشیر: جی حضور لوگ دے رہے ہیں اور ہمارا خرچ پورا ہوگیا ہے۔‘‘ کیا اب ہم ایک روپیہ لینا چھوڑ دیں۔‘‘

بادشاہ: ’’کیا کسی نے شکایت کی ہے یا کچھ کہا ہے۔‘‘

مشیر: نہیں حضور کسی نے کچھ نہیں کہا۔

بادشاہ: یوں کرو کہ اب دو روپے لیا کرو۔

مشیر: یہ سن کر چلا جاتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد آتا ہے۔

بادشاہ: اب سناؤ کیا حال ہے۔

مشیر: جنا ب ہمیں بہت فائدہ ہوگیا ہے اور بہت پیسے اکٹھے ہوگئے ہیں۔ اب پیسے لینا چھوڑ دیں؟

بادشاہ: کیا کسی نے شکایت کی ہے۔

مشیر: جی نہیں۔

بادشاہ: یوں کرو اب پانچ روپے لیا کرو۔

کچھ عرصے بعد پھر مشیر آئے اور پھر وہی عرض کی۔

بادشاہ: کیا کسی نے شکایت کی ہے؟

مشیر: جی نہیں۔

بادشاہ: یوں کرو پل کی دوسری جانب ایک جلاد کو چھڑی دے کر کھڑا کرو۔ جب بھی کوئی پانچ روپے دیتا ہوا پل پار کر کے دوسری جانب جائے تو جلاد اس کی چھڑی سے مرمت کرے۔

مشیر: مشیر حیران تو ہوئے لیکن پھر چل پڑے اور یہی حکم بجا لائے۔

کچھ عرصے بعد مشیر جب دوبارہ آئے اور بادشاہ نے پوچھا کہ کوئی شکایت تو نہیں آئی تو مشیر نے عرض کی۔

مشیر: جناب ایک شکایت آئی ہے۔

بادشاہ بھی خوش ہوا کہ شکر ہے کسی کو تو عقل آئی۔

بولا ’’ہاں بتاؤ کیا بات ہے؟‘‘

مشیر: جناب لوگ کہہ رہے ہیں کہ دوسری جانب آپ نے جہاں ایک جلاد کو کھڑا کیا ہے وہاں تین جلاد ہونے چاہئیں ایک جلاد کی وجہ سے لائن لمبی ہو جاتی ہے اور ہمارا کھڑے کھڑے کافی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔‘‘

کیا یہ لوگ ایک قوم ہیں یا ایک ہجوم۔ ان کے ساتھ جو بھی کرتے جاؤ یہ برداشت کرتے جاتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال اس وقت پید اہوتی ہے جب لوگ نہ صرف اپنے فرائض سے غافل ہوتے ہیں بلکہ اپنے حقوق کے بارے میں بھی نہیں جانتے۔ کئی صدیوں سے ہم کچھ اس طرح سے سختیاں سہتے چلے آئے ہیں کہ اب تو ان تمام سختیوں کی عادت سی ہوگئی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم حکمرانوں کارستانیوں کا رونا ہی روتے رہیں گے یا پھر کچھ اپنے حالات آپ بدلنے کے اصول کی طرف بھی توجہ دیں گے۔

کیوں کہ:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ جو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

یہی وجہ ہے کہ آج ہم کچھ ایسے عناصر کے پیچھے لگ گئے ہیں کہ جن کو آپ اپنی منزل کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ کاش ہمیں اپنی منزل کا علم خود ہوتا تو آج ہم ان تمام بنائے ہوئے راستوں پر بھٹکنے کی بجائے اپنی منزل اپنے بنائے ہوئے راستے پر چل کر بناتے۔ کیا ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ ہم وہ گروہ ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے رہ نمائی کرنے کے لیے بھیجا تھا؟ کیا ہمیں علم نہیں کہ ہم وہ ملت ہیں جس کے پیغمبر دنیا کی آج تک اور آنے والے تمام وقتوں میں سب سے زیادہ اثر رکھنے والی شخصیت ہیں؟ ہمیں ان تمام باتوں کا علم ہے لیکن ہم میں ہمت اور حوصلے کی کمی ہے۔ ہم میں اس ایمان کی کمی ہے، جس کی بنیاد پر ہم مسلمان قرار پاتے ہیں۔ ہم میں اس صبر کی کمی ہے، جس کی مثال ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم او ران سے پہلے آنے والے تمام انبیاء نے قائم کی۔

افسوس کہ اب تو ہم بس ایک ہجوم کی حیثیت سے باقی ہیں اور قوت و فکر و عمل کھو چکے معلوم ہوتے ہیں۔ اس سے الگ اگر کچھ ہیں تو بتایا جائے!lll

شیئر کیجیے
Default image
آر- امین

Leave a Reply