قرآن اور ہماری زندگی

ہے ۲۰۱۰ء کی کہ ایک استاد کی صحبت نصیب ہوئی۔ ان کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ تھی کہ وہ آیاتِ الٰہی کو موجودہ حالات پر چسپاں کرتیں، گویا یہ آیت آج ہی نازل ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر ایک بار مجھے کسی نے بہت تنگ کیا تو انہوں نے سورہ حم السجدہ کی آیت:

ترجمہ: ’’تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔‘‘ کا حوالہ دیا۔ ایک موقع پر میں بہت مایوس ہوگئی تو انہوں نے سورۃ الضحیٰ کا مطالعہ کرنے کو کہا:

’’تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔ اور یقینا تمہارے لیے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے۔ اور عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہوجاؤگے۔کیا اس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانا فراہم کیا؟ور تمہیں ناواقف راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی۔ور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا۔‘‘

اسی طرح لغو اور لایعنی باتوں کے جواب میں سورۃ الفرقان کی آیت کا ترجمہ:

’’اور جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام ۔‘‘

اس طرح کی بہت ساری مثالیں ہیں۔

میرے دل میں یہ خواہش جاگی کہ میں بھی پورا قرآن باترجمہ سمجھ کر ضرور پڑھ لوں۔ اس سے پہلے میں یہ سمجھتی تھی کہ قرآن میں انبیائے کرام کے قصے کہانیاں ہیں۔ خصوصاً موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے واقعات ہیں، یا جنت اور جہنم کا ذکر ہے اور قرآن کو محض ثواب کی خاطر پڑھا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں ایک بار قرآن تو ضرور ختم کرنا ہے، بھلے سے کچھ سمجھ نہ آئے۔ اسی طرح مشکل وقت ٹالنے کے لیے سورہ یٰسین پڑھی جاتی ہے۔ آیت الکرسی اور معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرنا ہے، ان کا مطلب کیا ہے یہ پتا نہیں تھا۔ ترجمہ ان کا پڑھا ضرور تھا لیکن کبھی غور نہیں کیا تھا۔

لیکن مذکورہ بالا واقعات کے بعد قرآن سیکھنے اور اس میں کیا لکھا ہے، یہ جاننے کی خواہش دل میں مچلتی رہی۔ قرآن کا مکمل مطالعہ کرنے کا جب موقع ملا تو معلوم ہوا کہ انسان کے اس دنیا میں آنے سے پہلے سے لے کر مرنے کے بعد تک کے احوال اس قرآن میں لکھے ہیں، جو میرے اور آپ کے گھروں میں ریشمی، سنہری غلاف میں لپٹاطاق نسیاں میں رکھا ہوا ہے۔ زندگی کا کون سا پہلو ہے جس کے بارے میں قرآن نے بات نہیں کی۔ آخرت کی کون سی جہت ہے جس کا ذکر قرآن میں نہیں۔ جیسے اس دنیا میں لوگوں کے مرتبے ہیں، اسی طرح آخرت میں لوگوں کو مرتبے ملیں گے، لیکن یہ مراتب اعمال کے حساب سے ملیں گے۔ جتنا عمل اونچا اور عمدہ ہوگا اتنا ہی مقام و مرتبہ بلند ہوگا۔

دنیا میں ہم ٹپس کی تلاش میں رہتے ہیں کہ فلاں چیز میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ٹپس مل جائیں، اشارے مل جائیں، رہ نمائی مل جائے۔ قرآن میں بھی آپ کو ٹپس ملیں گی، اشارے ملیں گے، راہ نمائی ملے گی۔

اس دنیا میں ہمارے تعلقات دو طرح کے ہیں۔ پہلا تعلق تو ہمارا اپنے خالق سے ہے اور دوسرا تعلق انسانوں سے ہے۔ بحیثیت مخلوق اور بندہ ہونے کے آپ کو اپنے خالق اور معبود کو کیسے خوش رکھنا ہے، اسے کیا پسند ہے؟ کس چیز کو اس نے ناپسند کیا ہے، وہ اپنی محبت اور پسندیدگی کا اظہار کس طرح کرتا ہے… اس کا غصہ کیسا ہے اور اس کی ناراضگی کی کیا علامات ہیں؟ اللہ کو کیسے منانا ہے، اس سے معافی کیسے مانگنی ہے، اس کی محبت اور رحمت کا شکریہ ادا کیسے کرنا ہے، وغیرہ وغیرہ؟ یہ سب باتیں آپ کو قرآن میں ملیں گی۔

ہمارا دوسرا تعلق ہمارے ہی جیسے دوسرے انسانوں سے ہے۔ والدین، اولاد، اقرباء، دوست، دشمن، میاں، بیوی، استاد، شاگرد، پڑوسی، مسافر، حکمراں، ملازم وغیرہ کی صورت میں۔

مرد کی کیا ذمہ داریاں ہیں، ان کو کیسے ادا کرنا ہے؟ عورت پر کیا ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، ان کو کیسے نبھانا ہے اور اس کا دائرہ اختیار کہاں تک ہے؟ خاوند اور بیوی کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ ماں باپ کو اولاد کی پرورش و تربیت کیسے اور کن خطوط پر کرنی ہے؟ اولاد کو والدین کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے؟ رشتوں کا آپس میں تعلق کیسا ہونا چاہیے۔ کس پر کتنا حق ہے، کون محرم ہے، کون نامحرم ہے؟ استاد کا مقام کیا ہے؟ دوست کس طرح کے ہونے چاہئیں۔ کیسی صحبت اختیار کرنی ہے؟ دشمنی کو دوستی میں کیسے بدلا جاسکتا ہے؟ ہمسایے سے کیسے پیش آنا ہے؟ حق میزبانی کیسے ادا کرنا ہے؟ کاروبار حکومت کیسے چلانا ہے؟ حکمراں کو کیسا ہونا چاہیے، اس کی ذمہ داریاں کیا کیا ہیں؟ لڑنا ہے تو کس بنا پر، جنگ کی صورت میں اپنا دفاع کیسے کرنا ہے؟ صلح کی کیا شرائط کیا ہیں؟ قیدیوں کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہیے، معاشرے میں بگاڑ کی صورت میں بہتری کیوں کر ممکن ہے؟

اپنی ذات کے لیے راہ نمائی بھی آپ کو اسی کتاب میں ملے گی۔ زندگی کی حقیقت کیا ہے اس کو کیسے گزارنا ہے؟ جاگنا کب ہے، سونا کب ہے؟ کون سی چیزیں صحت بخش ہیں، اور کیا چیزیں مضر صحت ہیں؟ ذہنی، روحانی، قلبی اور جسمانی سکون کیسے ملے گا؟ پریشانیوں سے نجات کیسے ملے گی؟ مشکل وقت کا مقابلہ کیسے کرنا ہے؟ خوشی، غمی کا اظہار کیسے کرنا ہے؟ موت کیا ہے؟ روح کیا ہے؟ جسم کیا ہے؟ اچھے اخلاق کون سے ہیں اور برے اخلاق کون سے ہیں؟ آپ کا اصل دشمن کون ہے اور اس کے وار سے کیسے بچنا ہے؟ پیسہ کیسے کمانا ہے، خرچ کہاں کرنا ہے؟ دنیا کو کون سی چیزیں آپ کے لیے آزمائش ہیں، دنیا اور آخرت میں کامیابی کا دار و مدار کن چیزوں پر ہے؟ غرض آپ کو ہر ہر پہلو کے متعلق ہدایت ملے گی۔ قرآن حکیم میں آپ کو معاشرت بھی ملے گی اور معیشت بھی، سیاست بھی ملے گی اور تمدن بھی۔ اس میں انفرادی زندگی کے اصول و ضوابط بھی ہیں اور اجتماعی زندگی کے امور کا حل بھی۔ اس میں سائنس بھی ہے اور معجزاب بھی۔ آپ کا جو بھی مسئلہ ہے، جو بھی سوال ہے اس کا حل، اس کا جواب قرآن کے تیس پاروں میں موجود ہے۔

ہر انسان اپنے اچھے یا برے کاموں کا خود ذمہ دار ہے۔ آج انسان جو اپنے ہی جیسے دوسرے انسان سے برسر پیکار ہے۔ نہ صرف اس کے خون کا پیاسا ہے بلکہ اس کی کھال تک ادھیڑ لینے کی فکر میں ہے۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اس نے کتاب ہدایت کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اپنے ازلی دشمن کے اشاروں پر ناچ کر تباہ و برباد ہو رہا ہے۔ اتنی واضح ہدایات اور رہ نمائی کے بعد اگر آج ہم انسان بالعموم اور مسلمان بالخصوص انفرادی اور اجتماعی طور پر ذلیل و رسوا اور پریشان حال ہیں تو یہ سراسر ہمارا اپنا قصور ہے بلکہ سنگین اور خطرناک قسم کا جرم ہے۔ اگر آج ہم ظلم کا شکار ہیں، رو بہ زوال ہیں، پستی کے گڑھوں میں گرے ہوئے ہیں تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو رہی ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ تو رحمن و رحیم ہے، جس نے اتنی قیمتی اور پیاری کتاب، اپنے پیارے محبوب نبیؐ کے ذریعے ہم تک پہنچا دی، اب ہم ہی اس کی قدر اور اہمیت نہ جان سکیں تو یہ ہماری بدقسمتی ہے۔

یہ بات واضح رہے کہ جب آپ کی نیت خالص ہوگی، دل میں تمنا ہوگی، تبھی قرآن آپ کے دل میں اترے گا، راسخ ہوگا، ورنہ اس کے بغیر تو یہ آپ کے حلق سے نیچے ہی نہیں اترے گا۔ قرآن تو شوق سے، محبت سے، لگن سے، دل جمعی سے، یکسوئی سے، احترام اور جذبے سے پڑھنے کی چیز ہے، یہ تبھی آپ کو سمجھ آئے گا۔ بے خیالی سے، بے دلی سے قرآن سمجھ میں نہیں آئے گا۔ یہ آپ کو بوجھ لگے گا، آپ کی طبیعت پر گراں گزرے گا۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بن مانگے، بنا چاہے ہدایت نہیں دیتے۔

خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مثال دوں گی، عمرؓ اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی اچھی عادات، اچھی باتوں اور عمدہ اخلاق کو سراہتے تھے۔ اصول پسند تھے، وہ خود بھی حق کی تلاش میں تھے اور دوسری طرف نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ہدایت کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔

آخر ایک دن وہ حقیقت تک پہنچ ہی گئے۔ قرآن کی حقانیت کو جان گئے۔ قرآن ان کے دل میں اتر گیا۔ قرآن ان کے دل میں ایسا راسخ ہوا کہ اپنی پوری زندگی قرآن حکیم کی ہدایات کے سایے تلے گزار دی اور کامیاب ٹھہرے کہ شیطان ان کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتا تھا۔ انہوں نے دنیا کے تین براعظموں پر حکومت کی اور آج تک ان سے بڑا حکمراں دنیا میں نہیں آیا۔

آخر میں یہ کہوں گی کہ قرآن نے مجھے انسانیت سکھائی ہے۔ مجھے اس حقیقت کا ادراک ہوا ہے جو انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے۔ لفظ انسانیت اپنے اندر معنوں کی گہرائی لیے ہوئے ہے۔ قرآن نے مجھے بندگی سکھائی ہے، اس انسان کی پہچان سکھائی ہے، جو فرشتوں سے برتر ہے۔

ہر وہ انسان جس کو مذکورہ چیزوں کی تلاش ہے اور مسائل کا حل جاننا چاہتا ہے اسے قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہیے وہاں سے اس کو ہدایت ملے گی اور سکون قلب بھی!lll

شیئر کیجیے
Default image
ص-ن

Leave a Reply