بے حجابی کا نتیجہ

دنیا میں انقلابات پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ قوموں کی تعمیر و تخریب میں ’’ عورت‘‘ کا مقام کیا ہے۔جب کبھی کسی ملک میں صنف نازک بے حیائی، عریانی اور آزادی کی راہ پر چل نکلتی ہے تو اس ملک کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہیں بچتا۔ اس لیے اسلام جو دین فطرت ہے مرد کے ساتھ ساتھ عورت کی اصلاح اور تزکیہ پر بھی یکساں زور دیتا ہے۔ جس میں ’’پردہ ‘‘ ایک اہم کڑی ہے ۔ اس وجہ سے کم و بیش ہر دین دھرم نے دونوں کے آزادانہ میل جول اور اختلاط سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام پیغمبروں کے ذریعہ عورت اور مرد کے تعلقات کو جائز و ناجائز اور حلال و حرام کی اصطلاحوں میں بتایا ہے کہ انسان کی انفرادی، خاندانی اور سماجی زندگی پاکیزہ اور اخلاق مند رہ سکے۔

پردے کے احکام جو اسلام نے دیے ہیں ان پر تھوڑا سا بھی غور کیجئے تو سمجھ میں آسکتا ہے کہ انکے تین بڑے مقاصد ہیں۔

(۱) اول یہ کہ عورتوں اور مردوں کے اخلاق کی حفاظت کی جائے اور ان برائیوں کا دروازہ بند کیا جائے جو مخلوط سوسائٹی میں عورتوں اور مردوں کے آزادانہ میل جول سے پیدا ہوتی ہے۔ حقوق انسانی،آزادی نسواں اور تحریک نسواں کے ذریعہ مغربی نظریہ سازوں نے عورتوں کو حق دینے سے زیادہ حق کی آڑ میں عیش پرستی کے لیے عورتوں کو سربازار کھینچ لیا۔ جس کے نتیجے میں وہ خاتون خانہ نہیں سبھا کی پری بن کر رہ گئیں۔ حدیث نبوی میں ارشاد ہے:

’’ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے۔‘‘

’’اور جب انسان میں حیا نہیں تو جو جی چاہے کرے۔‘‘

نتیجہ یہ ہوا کہ بے حیائی، عیاشی اور عریانیت کا بازار تو ایک طرف گرم ہوا ہی دوسری طرف عورتوں کے حقوق اور اختیار و اقتدار میں ساجھے داری کے نام پر اسے بازاری اشتہار اور بکاؤ مال بنا دیا گیا۔

مخلوط سوسائٹی میں جہاں بن سنور کر عورتیں آزادانہ پھریں اور زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے ساتھ کام کریں وہاں اخلاق بگڑنے سے کیسے بچ سکتا ہے۔ جنسی جرائم بڑھتے جارہے ہیں۔ جنسی آوارگی کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب اس کے کھلے لائیسنس سے بھی دل نہیں بھر رہے ہیں۔ ایسے ایسے طریقے اور ایسی ایسی حرکتیں اختیار کی گئی ہیں جس میں ملحدانہ اور آزاد مزاج خواتین کی بھی مٹی پلید ہوکر رہ گئی ہے۔ ذیل میں چند عبرت انگیز نتائج درج کیے جارہے ہیں:

(الف) مغربی نظریہ سازوں اور عیاشوں نے Girl Friend اور Boy Friend سے آگے بڑھ کر بغیر نکاح کے آزاد جنسی رابطہ کو جائز قرار دیا۔ یعنی (Pre-marital sexual relation, Permessivness )۔

(ب) بغیر نکاح کے ایک ساتھ زندگی گذارنا رائج کیا جا رہا ہے ۔بعض مغربی ممالک کی طرح ہندوستان کی سپرم کورٹ نے بھی 23 مارچ 2010 ء کو نکاح سے پہلے لڑکا لڑکی ایک ساتھ رہنے کی حمایت کردی۔

(ج) بعض مغربی ملکوں اور نےGay Marriage یا (Homo Sexuality )۔ باالفاظ دیگر مرد کا مرد سے شادی کرنا اور عورت کا عورت سے جنسی تسکین بہم پہنچانا جائز قرار دے دیا او رہم ہندوستانی بھی اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ چناں چہ آج پورے ہندوستان میں ہم جنس پرستوں (Lesbian ) کی تعداد 25 لاکھ سے بھی زاید ہوچکی ہے۔

(د) ان حرکتوں نے معاملہ قائم مقام مادریت یا (Surrogate mother hood ) تک پہنچا دیا۔

(ہ)مادہ منویہ (Sprum bank )کی دکانیں کھول دی گئیں۔

(و)عیش پرستوں نے حمل ضائع کرنے (Foeticide) یا جنین کشی کی قانونی اجازت حاصل کرلی۔

(ز) جسم فروشی کو ایک سند بنا کر اس میں ملوث لوگوں کو Sex worker کہا جانے لگا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ حجاب کے خلاف محاذ آرائی کرکے دنیا نے عیاشی کو اس طرح فروغ دیا کہ انسانیت مسخ ہوکر رہ گئی اور عصر حاضر کی معلومات زدہ تہذیب نے عربوں کی جاہلیت کو بھی مات کردیا۔ قرآن میں سورۃ الاعراف آیت ۳۲ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے حرام کیا ہے بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور حق کے خلاف زیادتی۔‘‘

۲- پردے کا دوسرا بڑا مقصد یہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کا دائرہ عمل الگ کیا جائے۔ ان دونوں کا دائرہ عمل الگ کرنا خود فطرت تقاضا ہے۔ دونوں کی نفسیات، جسمانی ساخت اور احساسات و جذبات میں بنیادی فرق ہے۔ اس فرق اور امتیاز کی باریکی کو خدا سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے۔ فطرت نے ماں بننے کی خدمت عورت کے سپرد کرکے اسکی اصلی جگہ بتا دی تو باپ بننے کا فرض مرد کے ذمہ ڈال کر خود واضح کردیا ہے کہ اسے کن کاموں کے لیے مادری بوجھ سے سبکدوش کیا گیا ہے۔

اب اگر مغربی نظریہ ساز اس تقسیم کو مٹانا چاہتے ہیں تو پھر فیصلہ کرلینا ہوگا کہ دنیا کو اب ماؤں کی ضرورت نہیں۔ ذرا بھی وقت نہیں گذرے گا کہ انسان ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کے بغیر ہی ختم ہوجائے گا۔ٹھنڈے دل سے سوچنے کی بات یہ ہے کہ انسانیت کی خدمت میں آدھا حصہ تو وہ ہے جسے پورے کا پورا عورت سنبھالتی ہے۔ کوئی مرد اس میں ذرہ برابر بھی اسکا بوجھ نہیں بٹا سکتا۔ باقی آدھے میں سے آدھا بار بے چاری عورت اٹھائے کیا یہ انصاف ہے۔ عورت اس ظلم کو خوشی خوشی برداشت کرنے کے لیے اس لیے مجبور ہوئی کہ اسے مغربی تہذیب نے عورت ہوتے ہوئے اور عورت کی جگہ کام کرتے ہوئے اسے عزت دینے سے انکار کیا۔ بچوں والی کہہ کر اسکا مذاق اڑایا۔ گھر گرہستن کو ذلیل قرار دیا۔

اسلام نے اس پر یہ مہربانی کی کہ عورت رہتے ہوئے اسے پوری عزت مرد کے برابر بلکہ ماں ہونے کی حیثیت سے مرد سے کچھ بڑھ کردی۔ اور حجاب کے ذریعہ انکی عزت و ناموس کی حفاظت کا ٹھوس انتظام کیا۔

۳- تیسرا مقصد پردے کا گھراور خاندان کے نظام کو محفوظ اور مضبوط بنانا ہے۔ پردے کے بغیر جن لوگوں نے گھر اور خاندان کے نظام کو محفوظ کیا ہے انہوں نے عورت کو غلام بناکر انہیں تمام حقوق سے محروم کردیا۔ اور جنہوں نے عورت کو اس کے حقوق دینے کے ساتھ پردے کی پابندیاں بھی نہیں رکھی ہیں انکے یہاں گھر اور خاندان کا نظام بکھر گیا اور روز بروز بکھرتا چلا جارہا ہے۔

گھر اور خاندان جن کی اہمیت ہم ترقی کے جوش میں بھول گئے ہیں دراصل وہ کارخانے ہیں جہاں انسان تیار کیے جاتے ہیں۔ اور ان کارخانوں کو چلانے کے لیے جن صفات، نفسیات، قابلیت، محنت و مشقت اور فرض شناسی کی ضرورت ہوتی ہے فطرت نے سب سے بڑھ کر عورت کودی ہے۔ ان کارخانوں کو سکون و اطمینان اور اعتماد کے ساتھ چلانے کے لیے اسلام نے پردے کا ڈسپلن قائم کیا تاکہ عورت پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ اپنا کام کرسکے۔ اور غلط سمت کی طرف اسکی توجہ نہ بٹے۔ مگر مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں ہم ترقی کی خاطر اس ڈسپلن کو ختم کردینا چاہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اپنے ملک کے علاوہ مغربی ملکوں میں بھی جو تعلیم یافتہ لڑکے ، لڑکیاں اور عورتیں پردہ کی اہمیت اور حقیقت کو سمجھ لیتی ہیں تو کھلے دل سے اسلام قبول کرلیتی ہیں۔ چنانچہ دنیا میں قبول اسلام کی جو لہر چل رہی ہے اس میں عورتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ جب کہ پردے کے خلاف پروپیگنڈہ بھی سب سے زیادہ ہے۔ یہ اسلام کے دین فطرت ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

ضرورت اسی بات کی ہے کہ مسلم لڑکیاں اور عورتیں پردے کی حکمت، مصلحت اور حقیقت و اہمیت کو سمجھیں اور ان پر عمل پیرا ہوں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
غزالہ پروین (رانچی)

Leave a Reply